1۔اُخوت سے مراد آپس میں محبت و ہمدردی کرنا،غمگساری کرنا،ایک دوسرے کا غم بانٹنا،مشکل وقت میں کام آنا اور اس کی امداد کرنا وغیرہ۔دینِ اسلام میں اُخوت و بھائی چارے کو بڑی اہمیت حاصل ہے،چنانچہ اللہ پاک اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا الْمُوْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ۔ ترجمۂ کنزالایمان :مسلمان مسلمان بھائی ہیں ۔ (پ26،الحجرات:10 )یعنی مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، کیونکہ یہ آپس میں دینی تعلق اور اسلامی محبت کے ساتھ مربوط ہیں اور یہ رشتہ تمام دنیاوی رشتوں سے مضبوط ہے، لہٰذا جب کبھی دو بھائیوں میں جھگڑا واقع ہو تو ان میں صلح کرادو اور اللہ پاک سے ڈرو، تاکہ تم پر رحمت ہو، کیونکہ خوفِ خدا ایمان والوں کی آپس میں محبت و الفت کا سبب ہے۔(تفسیرصراط الجنان،9/159)2۔ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی مثل : فرمانِ مصطفٰے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہے،جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔(مسلم،ص 1396،حدیث: 2585)یعنی مومنوں کے دینی و دنیوی کام ایک دوسرے سے مل جل کر مکمل ہوتے ہیں،جیسے مکان کی دیوار ایک دوسرے مل کر مکان مکمل کرتی ہے۔(مراۃ المناجیح،6/549)اس کے علاوہ بھی دیگر احادیث میں مسلمانوں کی اس صفتِ محبت کو اُجاگر کیا گیا ہے،چنانچہ فرمانِ مصطفے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم :مومن محبت کرتا ہے اور اس سے محبت کی جاتی ہے اور جو شخص نہ خود محبت کرے، نہ اس سے محبت کی جائے تو اس میں کوئی بھلائی نہیں۔(احیاء العلوم،2/5713)مواخاۃِ مدینہ:ہجرتِ مدینہ کے بعد حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا انصار و مہاجرین کے درمیان اُخوت کا رشتہ قائم کردینا اور انصار صحابہ کا مہاجرین صحابہ کے لئے ایثار و فیاضی کا ثبوت دینا اسلامی و عالمی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھنے کے قابل ہے، چنانچہ مسجدِ نبوی کی تعمیر کے بعد ایک دن حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انس بن مالک رَضِیَ اللہُ عنہ کے مکان میں انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا، اس وقت مہاجرین کی تعداد پینتالیس یا پچاس تھی،حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انصار کو مخاطب کرکے فرمایا:یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں،پھر مہاجرین و انصار میں سے دو شخص کو بلا کر فرمانے لگے یہ اور تم بھائی ہو۔حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ارشاد فرماتے ہی یہ رشتہ اُخوت بالکل حقیقی بھائی جیسا رشتہ بن گیا،یہاں تک کہ حضرت سعد بن ربیع انصاری رَضِیَ اللہُ عنہ جو حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ عنہماکے بھائی قرار پائے تھے،ان کی دو بیویاں تھیں،حضرت سعد بن ربیع رَضِیَ اللہُ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ عنہ سے کہا:میری ایک بیوی جسے آپ پسند کریں،میں اسے طلاق دے دوں اور آپ اس سے نکاح کرلیں۔ (بخاری،2/555،سیرت مصطفٰی،ص1864)۔بھائی چارہ کس سے کیا جائے؟حضرت علی رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرمایا:فاجر سے بھائی بندی نہ کرو کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لئے مزین کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہو جائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا اور بے وقوف سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ وہ خود کو مشقت میں ڈال دے گا اور تجھے نفع نہ پہنچائے گا،اس کی خاموشی بولنے سے بہتر ہے،اس کی دوری نزدیکی سے بہتر ہے اور موت زندگی سے بہتر ہے۔(تاریخ مشق، ص516، رسالہ وہ ہم میں سے نہیں،ص21)کامل مومن نہیں ہوسکتے:فرمانِ مصطفے صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے، جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ (شرح مسلم للنووی،2/36، فیضانِ ریاض الصالحین،4/91)5۔بھائی بھائی ہوجاؤ:فرمانِ مصطفےصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:اے اللہ پاک کے بندو! بھائی بھائی ہوجاؤ یعنی بدگمانی، حسد، بغض وغیرہ وہ چیزیں ہیں، جن سے محبت ٹوٹتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ محبت چاہتا ہے، لہٰذا یہ عیوب چھوڑو ، تاکہ بھائی بھائی بن جاؤ۔(مراۃ المناجیح،ج6،ص608)6۔مسلمان کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت:حضرت فضیل بن عیاض رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:انسان کا محبت و مہربانی کے ساتھ اپنے مسلمان کے چہرے کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے۔(احیاء العلوم،2/582) اللہ پاک مسلمانوں کو اپنے باہمی تعلقات سمجھنے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اخوت وبھائی چارہ اور آپس میں میل جول کے ساتھ زندگی گزارنے کا   احسن انداز میں تعلیم دی ہے، مہاجرین صحابہ بے سروسامانی کے عالم میں مدینہ منورہ پہنچے تھے، ان کے پاس کھانے کے لئے سامان، رہنے کے لئے مکان اور کمانے کے لئے کوئی انتظام نہیں تھا، اس موقع پر انصار صحابہ نے ان کی جس طرح سے نصرت و اعانت کی ہے اور بھائی چارے کا جو ثبوت دیا ہے تاریخ عالم میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے ۔

اللہ پاک نے دنیا میں سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، پھر ان کے بائیں پسلی سے حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو پیدا فرمایا۔پھر ان کے ذریعے اللہ پاک نے پوری دنیا کے لوگوں کو پیدا فرمایا ۔پھر ان میں سے جو ایمان والے ہوئے وہ سب آپس میں بھائی ہیں۔

قرآن کریم نے ایمان والوں کو بھائی سے تعبیر فرمایا ہے، ارشادِ ربانی ہے:اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ترجمہ:’’مسلمان آپس میں ایک دُوسرے کے بھائی ہیں۔‘‘

(پ 26،الحجرات:10 )

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوتِ اسلامیہ اور اُس کے حقوق کے بارے میں ارشاد فرمایا:الْمُسْلِمُ أَخُوْ الْمُسلِمِ، لَا یَظْلِمُہٗ وَلَا یَخْذُلُہٗ، وَلَا یَحْقِرُہٗ۔ اَلتَّقْوٰی ھَاہُنَا وَیُشِیْرُ إِلٰی صَدْرِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ یَّحْقِرَ أَخَاہُ الْمُسلِمَ، کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُہٗ، وَمَالُہٗ، وَعِرْضُہٗ۔‘‘ (صحیح مسلم ،حدیث: 2564،صحیح بخاری،حدیث 6064)

ترجمہ: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اُس پر نہ خود ظلم کرتا ہے اور نہ اُسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اُسے حقیر جانتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قلب مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار یہ الفاظ فرمائے: تقویٰ کی جگہ یہ ہے۔ کسی شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان پر دُوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔اس وجہ سے اپنے مومن بھائی کے مال و دولت پر نگاہیں نہیں گاڑنی چاہئے، بلکہ ہمیں اس کے عزت و آبرو کا خیال رکھنا چاہئے اور اگر اس کو برائی کی طرف مائل دیکھو تو اس کو نیکی کا حکم دیا کرو تاکہ وہ راہ راست پر آ جائے، چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجَمۂ کنزُالایمان:اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا بےشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔(پ 10،التوبہ : 71)

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا دوست اور غم خوار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مومن ایک مومن کے لئے دیوار کی طرح ہے، جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ سے پیوستہ ہے یعنی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔

(صحیح مسلم: 2585،صحیح بخاری:6026)

اس حدیث سے گویا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں درس دے رہے ہیں کہ مومن کا اپنے مومن بھائی سے محبت کرنا اور اس کے لئے بھلائی کا سوچنا کتنا ضروری ہے اس سے ایمان کی مضبوطی کا بھی پتا چلتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک نے مومنوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے محبت پیدا کردی، چاہے ان کا تعلق مشرق و مغرب یا شمال و جنوب سے ہو، الله پاک ارشاد فرماتاہے:وَ  اذْكُرُوْا  نِعْمَتَ  اللّٰهِ  عَلَیْكُمْ  اِذْ  كُنْتُمْ  اَعْدَآءً  فَاَلَّفَ  بَیْنَ  قُلُوْبِكُمْ  فَاَصْبَحْتُمْ  بِنِعْمَتِهٖۤ  اِخْوَانًاۚ (پ 4،آل عمران ، 103)

ترجَمۂ کنزُالایمان:اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا (دشمنی تھی)اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک ہی وہ ذات ہے جس نے ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کی ۔ایک جگہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْؕ-لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْؕ-اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۶۳)ترجَمۂ کنزُالایمان:اور ان کے دلوں میں میل کردیا (اُلفت پیدا کر دی ) اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتے ان کے دل نہ ملا سکتے لیکن اللہ نے ان کے دل ملادئیے بےشک وہی ہے غالب حکمت والا(پ 10، الانفال : 63)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ آپس میں بھائی چارہ کے ساتھ رہیں، اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے ۔ اللہ کریم ہم سب کو توفیق خیر عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔


اسلام ایک عالمی دین ہے ، عالم کے اطراف و اکناف میں پھیلے مسلمان کسی بھی ملک ،‌ کسی بھی قوم و قبیلہ ، کسی بھی رنگ ونسل سے تعلق رکھنے والے ہوں کوئی بھی زبان بولنے والے ہوں بھائی بھائی ہیں۔ کیونکہ  اس بھائی چارے کی بنیاد ایمانی رشتہ ہے۔ یہ بھائی چارہ ‌اسلامی معاشرے کا حسن ہے ، اس بھائی چارے کا قیام و دوام شریعت کو مطلوب ہے۔ اسی لئے اخوت کے اس رشتے کے قائم کرنے کو اللہ پاک نے بطور احسان ذکر فرمایا :

وَ  اذْكُرُوْا  نِعْمَتَ  اللّٰهِ  عَلَیْكُمْ  اِذْ  كُنْتُمْ  اَعْدَآءً  فَاَلَّفَ  بَیْنَ  قُلُوْبِكُمْ  فَاَصْبَحْتُمْ  بِنِعْمَتِهٖۤ  اِخْوَانًاۚ ترجَمۂ کنزُالایمان:اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا (دشمنی تھی)اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے۔(پ 4،آل عمران ، 103)

قرآن نے مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ مسلمان توآپس میں بھائی بھائی ہی ہیں۔(پ 26،الحجرات : 10)

صحابہ کرام کی آپس میں رحم دلی کو بیان فرمایا: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ ،محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ، آپس میں نرم دل ہیں ۔ (پ 26،الفتح:29)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے مابین بھائی چارے کو تفصیل سے ذکر فرمایا۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’مسلمان ،مسلمان کابھائی ہے وہ اس پر نہ ظلم کرے نہ اس کو بے یار و مددگار چھوڑے ،جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں مشغول رہتاہے اللہ پاک اس کی ضرورت پوری کرتاہے اورجوشخص کسی مسلمان سے مصیبت کودورکرتاہے تواللہ پاک قیامت کے دن اس کے مَصائب میں سے کوئی مصیبت دُورفرمادے گااورجوشخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ پاک اس کاپردہ رکھے گا۔( بخاری، کتاب المظالموالغصب :2442)

النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ "

(صحيح البخاري ، كِتَابٌ الْإِيمَانُ 13)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’لن تدخلوا الجنۃ حتی تؤمنوا ولن تؤمنوا حتی تحابوا أَوَ لا أدلکم علی شئی لو فعلتموہ تحاببتم ، أفشوا السلامَ بینکم۔‘‘

(صحیح مسلم،1/ 54، باب بیان لایدخل الجنۃ الاالمؤمنون)

مسلمانوں کے مابین اخوت کا رشتہ قائم کرنےاور اسے دائم ‌رکھنے‌ کے لئے اسلام نے‌مسلمانوں پر کئ امور کے انجام دینے کو لازم قرار دیا ‌اور اخوت کے اس رشتے کو ختم کرنے والے افعال سے اجتناب ‌کرنے‌کی‌ بڑی شدومد سے تاکید فرمائی۔ یہاں پر ان افعال کا ہم اجمالاً ذکر کرتے ہیں۔

جن کاموں کی ترغیب و فضیلت بیان ہوئی:

1۔ ایثار ‌سلام‌کو عام کرنا، خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا، مسلمان کے‌ عیب کی پردہ پوشی کرنا ، وعدوں کو پورا ‌کرنا ، صلہ رحمی کرنا ، مہمان نوازی کرنا ، بڑوں کا ادب ‌کرنا چھوٹوں پر شفقت کرنا ، مخلوق خدا پر رحم کرنا ، 10۔ ہر ایک سے حسن اخلاق سے پیش آنا ، 11۔ نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا ۔

وہ کام جن سے اجتناب ‌کرنے‌کی‌ تاکید فرمائی ‌گئی:

مسلمان ‌کو تکلیف دینا ، جھوٹ بولنا ، امانت میں خیانت کرنا ، مسلمان ‌کو حقیر سمجھنا ، لڑائی جھگڑا اور قتال سے کرنا ، نفرت اور کینہ ، حسد ،‌غصہ ، خود غرضی اور مفاد پرستی ، غیبت ، بدگمانی ،‌تجسس کرنا۔

یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی

اخوت کی جہاں گیری، محبت کی فراوانی

(ڈاکٹر ‌اقبال)

اللہ پاک ہمیں بھائی بھائی بننے اور اس اُخوت کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اللہ پاک کے پیارے رسول ، گلشنِ آمنہ رضی اللہ عنہا کے مہکتے  پھول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین ، دین اسلام میں بھائی چارے کی بڑی قدر و منزلت اور اہمیت ہے چنانچہ پارہ 26 سورہ حجرات آیت نمبر 10 میں ہمارا رب ارشاد فرماتا ہے : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ترجمہ کنزالایمان : مسلمان مسلمان بھائی ہیں ۔

بھائی چارے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے احادیث کریمہ سنئے : چنانچہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے دوسرے علاقے میں گیا، اللہ پاک نے اس کے راستے پر ایک فرشتہ بٹھا دیا ۔ جب وہ فرشتے کے پاس آیا تو اس نے دریافت کیا : کہاں کا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا : اس علاقے میں میرا بھائی ہے اس سے ملنے جارہا ہوں ۔ فرشتے نے کہا : کیا اس پر تیرا کوئی احسان ہے جسے لینے جارہا ہے ؟اس نے کہا : نہیں ، صرف یہ بات ہے کہ میں اسے اللہ پاک کے لئے دوست رکھتا ہوں ۔ فرشتے نے کہا : مجھے اللہ پاک نے تیرے پاس بھیجا ہے تاکہ تجھے یہ خبردوں کہ اللہ پاک نے تجھے دوست رکھا جیسے تو نے اللہ پاک کے لئے اس سے محبت کی ہے ۔

( مسلم، کتاب البر والصلہ والاٰداب، ص:1388، الحدیث : 38(2567))

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ پاک قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا : ’’وہ لوگ کہاں ہیں جو میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھتے تھے ، آج میں انہیں اپنے (عرش کے ) سائے میں رکھوں گا، آج میرے (عرش کے ) سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ۔

( مسلم، کتاب البر والصلۃ والاٰداب، ص1388، الحدیث : 2566)

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : ’’جو کسی سے اللہ پاک کے لئے محبت رکھے ، اللہ پاک کے لئے دشمنی رکھے ، اللہ پاک کے لئے دے اور اللہ پاک کے لئے منع کرے تو اس نے اپنا ایمان کامل کرلیا ۔

( ابو داؤد، کتاب السنّہ، باب الدلیل علی زیادة الایمان ونقصانہ، 4 / 290، الحدیث : 4681)

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں جس طرح بھائی چارے کے فضائل ہیں اسی طرح مسلمان کو تکلیف دینے کے عذاب بھی عذاب بھی ہیں ۔

ایک روایت میں ہے کہ سرکارِدو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا : کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے(دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ ارشاد فرمایا: تم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: ’’مؤمن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانیں اور اموال محفوظ سمجھیں۔‘‘

(مسند احمد،2/654،حدیث:6942)

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں دوسروں کو تکلیف دینا ،ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔مشہور تابِعی مُفَسِّرحضرت مجاہد رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: جہنّمیوں پرخارش مُسلّط کردی جائے گی۔ تو وہ اپنے جسم کوکھجلائیں گے حتّی کہ ان میں سے ایک کی (کھال اور گوشت اُترنے سے) ہڈی ظاہر ہو جائے گی۔ اُسے پکارکر کہا جائے گا:اے فُلاں!کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ پکارنے والا کہے گا: تُو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اس کی سزا ہے۔(احیاء العلوم،2/242)

نبی کریم رءوف رحیم صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : من اٰذی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اذی اﷲ (المعجم الاوسط ،4/373،حدیث 3632، مکتبۃ المعارف الریاض ، الترغیب والترھیب من تخطی بہ الرقاب یوم الجمعۃ مصطفی البابی مصر ،1/504)

مسلمانوں کو ایذا پہنچانے کی مثالیں :

· شادی اور یومِ پیدائش (birthday) کے موقع پر پوری پوری رات ناچ گانے اور پٹاخے فوڈ کر شور شرابا کرنا ۔

· بہت ہی اونچی آواز میں میوزک بجاکر محلے کے بیماروں ، بوڑھوں اور بچوں کو رات بھر تکلیف دینا ۔

· بنا سائلنسر کی بائک کے شور سے لوگوں کو تکلیف دینا ۔

· کچرا اور غلاظت ڈال کر دوسروں کو اذیت دینا ۔

· پڑوسیوں کو تکلیف دینے میں تو اچھے خاصے دين دار لوگ ملوث ہیں ، دین سے دور لوگوں کا تو پوچھنا ہی کیا !!

· اپنے نوکروں کو گالیاں دینا عام ہوگیا ہے ۔

· غریب آدمی کو ذلیل کرنا ، غریب رشتےداروں کو دعوتوں میں مدعو(invite) نہ کرنا ، کتنی تکلیف کا سبب ہے ۔

حالانکہ پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی اِس قدر اہم ہے کہ ایک مرتبہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابۂ کرام سے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! وہ شخص مومن نہیں، خدا کی قسم! وہ شخص مومن نہیں، خدا کی قسم! وہ شخص مؤمن نہیں۔ صحابۂ کرام نے پوچھا: یارسول اللہ! کون؟ فرمایا: جس کی آفتوں سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔ (یعنی جو شخص اپنے پڑوسیوں کو تکلیفیں دیتا ہو)۔(بخاری،4/104،حدیث:6016)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!! غور تو کریں جس دین میں ایک عام مسلمان کو بھی ایذا دینا ، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے کے مترادف ہے ، جس دین میں کسی کو گھور کر دیکھنا تک جائز نہیں ، جو دین انسان تو انسان بلا ضرورت ایک چیونٹی کو بھی تکلیف دینے سے منع کرتا ہے حتٰی کہ جس دین میں ذکر اللہ ، اوراد و وظائف اور دیگر عبادات بھی اتنی بلند آواز سے کرنے کی اجازت نہ ہو کہ دوسروں کو تکلیف پہنچے ۔ آج اسی دین کے ماننے والے مسلمانوں کا حال نا گفتہ بہ ہے ۔

جس دین نے غیروں کے تھے دل ایک ملائے

اس دین میں اب بھائی خود بھائی سے جدا ہے

چھوٹوں میں اطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میں

پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے

آپس میں محبت بڑھانے کا طریقہ :

تحفہ دینا : چنانچہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’آپس میں تحفہ دو محبت بڑھے گی ۔ ‘‘

دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1393صفحات پرمشتمل کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘ جلد دوم ، صفحہ 655پر ہے : ” خلیفہ دوم امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تین باتیں ایسی ہیں جنہیں اپنانے سے تمہارے دل میں مسلمان بھائی کی محبت بڑھے گی : ( 1 ) جب اس سے ملاقات کرو تو سلام میں پہل کرو ۔ ( 2 ) اس کے لئے مجلس کشادہ کرو اور ( 3 ) اسے پسندیدہ نام سے پکارو ۔ ‘‘ زبان کے اعتبار سے دوست کے حقوق یہ بھی ہیں کہ اسے جس شخص کے سامنے اپنی تعریف پسند ہو اس کے سامنے اس کی وہ تمام خوبیاں بیان کرو جو تمہیں معلوم ہیں ۔ محبت بڑھانے کا یہ ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ اسی طرح اس کے اہل وعیال ، ہنر ، افعال حتّٰی کہ اس کی عقل ، اخلاق ، شکل وصورت ، تحریر ، اشعار ، تصنیفات اور اس کی ہر اس چیز کی تعریف کرنی چاہیے جس سے وہ خوش ہوتا ہے لیکن یہ سب جھوٹ اور مبالغہ کے بغیر ہو ، ہاں اس کی جو خوبی لائق تحسین ہو اسے ضرور بیان کیا جائے ۔ اس سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ جو اس کی تعریف کرے تم بخوشی اسے اس کے سامنے بیان کرو ۔

اللہ پاک اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے مسلمانوں میں محبت اور اتحاد پیدا فرمائے ۔

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے

امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے

پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے

جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے

اس دین میں خود تفرقہ اب آ کے پڑا ہے

فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہباں

بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے

کر حق سے دعا امت مرحوم کے حق میں

خطروں میں بہت جس کا جہاز آ کے گھرا ہے


ہمارا اسلام ایک مکمل اور خوبصورت دین ہے جہاں ہمارا دین اسلام ہمیں میں نماز ،روزہ، حج ، زکوة  کا درس دیتا ہے۔وہی ہمیں اخوت (یعنی بھائی چارے) کا بھی درس دیتا ہے چنانچہ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰)ترجمہ کنزالعرفان :صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادو اور اللہ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو۔(پ 26، الحجرٰت:10)

اس کے علاوہ ہمارے پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی موجود ہیں۔

مسلمانوں  کے باہمی تعلق کے بارے میں  اَحادیث :

یہاں  آیت کی مناسبت سے مسلمانوں  کے باہمی تعلق کے بارے میں  4 اَحادیث ملاحظہ ہوں ،

(1)…حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’مسلمان ،مسلمان کابھائی ہے وہ اس پرظلم کرے نہ اس کورُسواکرے ،جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں  مشغول رہتاہے اللہ پاک اس کی ضرورت پوری کرتاہے اورجوشخص کسی مسلمان سے مصیبت کودورکرتاہے تواللہ پاک قیامت کے دن اس کے مَصائب میں  سے کوئی مصیبت دُورفرمادے گااورجوشخص کسی مسلمان کاپردہ رکھتاہے قیامت کے دن اللہ پاک اس کاپردہ رکھے گا۔

( بخاری، کتاب المظالم والغصب، 2 / 126، الحدیث: 2442)

(2)…حضر ت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’سارے مسلمان ایک شخص کی طرح ہیں  ،جب اس کی آنکھ میں  تکلیف ہوگی توسارے جسم میں  تکلیف ہوگی اور اگراس کے سرمیں  دردہوتوسارے جسم میں  دردہوگا۔( مسلم، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب، ص:1396، الحدیث: 67(2586)

(3)…حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔

(مسلم، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب، ص:1396، الحدیث: 65(2585)

(٤)نبی پاک ،صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن کے لئے مومن مثل عمارت کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔

(صحیح بخاری ،کتاب الصلوة ،1/181، الحدیث :481)

پیارے اسلامی بھائیوں ہمیں بھی مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی کرتے رہنا چاہئے اور اس کا سب سے اچھا موقع دعوت اسلامی کا مدنی ماحول ہے جس میں سب سے زیادہ مدنی قافلوں میں سفر کرکے اسلامی بھائیو کے ساتھ مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ساتھ بھائی چارے کا موقع ملتا ہے۔


اخوّت کے معنی بھائی چارہ کے ہیں۔ اخوت کا رشتہ تمام مسلمانوں کے درمیان قائم ہوتا ہے کوئی مسلمان خواہ دنیا کے کسی گوشے میں آباد ہو خواہ اس کا تعلق کسی بھی نسل رنگ قبیلے سے ہو اور وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو وہ دوسرے مسلمانوں سے اخوت اور بھائی چارے کا رشتہ رکھتا ہے ۔تمام مسلمان رشتہ اخوت میں پروئے ہوئے ہیں۔ اور یہ رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ اگر کوئی توڑنا بھی چاہے تو نہیں توڑ سکتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل اہل عرب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی بدولت وہ آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین میں رشتہ اخوت قائم کیا۔ انصار نے ایثار و قربانی کا اعلی نمونہ پیش کیا۔ اس بھائی چارے کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں کی مثال ایک انسانی جسم سے دیتے ہوئے فرمایا کہ: باہمی شفقت اور مہربانی میں تم اے اہل ایمان کو ایک جسم کی طرف پاؤ گے۔ اگر جسم کا ایک عضو تکلیف میں ہو تو سارا جسم اس تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

مسلمانوں کے باہمی رشتے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان آپس میں ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔

خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ اخوت کے متعلق فرمایا: لوگوں میری بات غور سے سنو اور جان لو ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کسی شخص کے لئے اپنے بھائی کا مال جائز نہیں، جب تک وہ اپنی مرضی سے نہ دے اور ایک دوسرے سے حسن سلوک کرو ۔

اسلام نے رنگ و نسل کے امتیازات کو ختم کر کے، دین اسلام کی بنیاد پر سارے مسلمان کو بھائی بھائی بنا دیا ہے اور اخوت ایک ایسی نعمت ہے جسے ساری دنیا کی دولت خرچ کر کے بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا مگر اسلام کی بدولت اللہ پاک نے مسلمانوں کو اس سے نواز رکھا ہے۔

اخوت کے رشتہ نے امت مسلمہ میں اتحاد پیدا کر دیا ہے، پوری امت کا ایک کلمہ پڑھنا ،باجماعت نماز ادا کرنا ،رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور سال میں ایک بار حج کرنا، ملت اسلامیہ کا اتحاد کی واضح مثالیں ہیں۔ رشتہ اخوت سے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ اسی لئے اللہ پاک نے دو مسلمانوں کے درمیان لڑائی کی صورت میں فوراً صلح کروانے کا حکم دیا ہے۔ اور دو مسلمانوں کا آپس میں تین دن سے زیادہ ناراض رہنا ناجائز قرار دیا ہے۔

اللہ پاک کی بارگاہ عظیم میں دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کے رشتہ اخوت اور بھائی چارے کو قائم و دائم رکھےاور مسلمانوں کے آپس میں اتحاد کو مضبوط سے مضبوط تر بنائے۔(اٰمین) 


ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو اپنا بھائی سمجھے اور اسے حقیقی بھائی جیسے سلوک کریں۔اور ایک دوسرے کے لئے ہر طرح کے جانی و مالی قربانی کرے اور مصیبت کے وقت اس کی مدد کرے۔ ایک درد دوسرے کا ٹیس بن جائے۔ یہ ہے اسلامی اخوت۔

لیکن افسوس خاندان قبیلے اور قوم کی تخصیص نے اولاد آدم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا، اختلافات کی بنیاد اسی روز رکھی گئی، اور انہیں اختلافات کی وجہ سے ایک خاندان دوسرے خاندان کا ایک قبیلہ دوسرے قبیلے کا ایک قوم، ایک قوم دوسرے قوم کی دشمن بن گئی ہے۔ کالا گورے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگا اور گورا کالےکو ۔اور آپس میں ایک دوسرے کو زیر کرنا شروع کر دیا ۔آپس میں جنگیں شروع ہو گئی حالانکہ ہم بھول گئے کہ ہم ایک آدم کی اولاد ہیں۔ اور اپنی اپنی برتری دکھانے کے لئے انسان کے ہاتھ انسان کا خون بہنے لگا۔

اسلام ہمیں اخوت یعنی بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ، ترجمہ کنزالایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہے۔( پ 26، الحجرات 10)

صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ تمام مسلمان آپس میں دینی رابطہ اور اسلام میں محبت کے ساتھ مربوط ہیں۔یہ رشتہ تمام دنیوی رشتوں سے قوی تر ہے۔

حدیث: سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ خود اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ وہ اسے کسی ظالم کے حوالے کرتا ہے۔

( بخاری شریف،4/389،حدیث:6951)

حدیث : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا’’مسلمان ،مسلمان کابھائی ہے وہ اس پرظلم کرے نہ اس کورُسواکرے ،جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں  مشغول رہتاہے اللہ  پاک اس کی ضرورت پوری کرتاہے اورجوشخص کسی مسلمان سے مصیبت کودورکرتاہے تواللہ پاک قیامت کے دن اس کے مَصائب میں  سے کوئی مصیبت دُورفرمادے گااورجوشخص کسی مسلمان کاپردہ رکھتاہے قیامت کے دن اللہ پاک اس کاپردہ رکھے گا۔

( بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب لا یظلم المسلم... الخ، 2 / 126، الحدیث: 2442)

حدیث: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔

(مسلم، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب،ص:1396، الحدیث: 2585)

اللہ پاک مسلمانوں کو اپنی باہمی تعلقات سمجھنے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اللہ نے اپنے پیارے حبیب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان ایک پائیدار اور مستحکم رشتہ قائم کیا جسے قرآن کریم نے" رشتہ اخوت اسلامی" کا نام دیا ہے اس کی فضیلت اور اہمیت کے حوالے سے قرآن کی آیات اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث موجود ہیں۔

اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو"۔(پ 26،الحجرات:10)

احادیث مبارکہ :۔

(1) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے ،نہ اس کی مدد چھوڑے اور جو شخص اپنے بھائی کی حاجت (پوری کرنے کی کوشش) میں ہو اللہ پاک اس کی حاجت پوری فرما دیتا ہے اور جو شخص مسلمان سے کسی ایک تکلیف کو دور کرے اللہ پاک قیامت کی تکالیف میں سے اس کی ایک تکلیف دور کرے گا اور جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا،اللہ پاک قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ (بخاری، کتاب المظالم والغصب، 2 / 126، الحدیث: 2442)

(2) حضرتِ سیِّدُنانعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتےہیں:پیارے مصطفےٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کی مثال شخْصِ واحد(ایک جسم) کی طرح ہے کہ جب اس کے سر میں درد ہو تو پورے جسم میں درد ہوتا ہے اور جب آنکھ میں تکلیف ہو تو پورا جسم ہی تکلیف میں ہوتا ہے۔( مسلم،کتاب البر والصلہ ، باب تراحم المؤمنین ...الخ،ص:1369،حدیث:2586)

(3) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔

(مسلم ، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب ، ص:1396، الحدیث: 65(2585))

اخوت اسلامی اللہ کی مہربانی ہے:

امت مسلمہ سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ آپس میں بھائی بھائی ہیں اور تمام مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں کی طرح رہتے ہیں اور جس طرح ایک بھائی دوسرے بھائی کے کام آتا ہے اسی طرح تمام مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔غریب مسلمانوں کی مدد کی جاتی ہے۔ غم و دکھ اور خوشی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔اس طرح اتحاد کی فضا قائم ہوتی ہے۔

مواخات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایثار :

انصار صحابہ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آنے والے مہاجرین کو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ ان کو اپنی ہر چیز میں برابر کا حصہ دار بنایا۔ جس کے پاس دو مکان، دو بکریاں تھیں، اس نے ایک اپنے مہاجر بھائی کو دے دیا۔ اس طرح انہوں نے اپنے تمام مملوکوں کو برابر تقسیم کیا ۔اس طرح کے انوکھے اور حیرت انگیز ایثار اور قربانی کی مثال شاید ہی دنیا میں مل سکے، یہ تو صرف آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اصحاب کا عمل و کردار ہے ۔

اخوت اسلامی کے ثمرات اور فوائد:

· اخوت اسلامی کی وجہ سے مسلمان جہاں کہیں بستہ ہے وہ اپنے آپ کو معاشرے کا حصہ سمجھتا ہے۔

· اخوت سے باہمی اختلافات اور تنازعات کو ختم کیا جاتا ہے۔

· مسلمان ایک دوسرے کی مدد کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔

· نیکیوں کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

· اتحاد و یکجہتی کی فضا قائم ہوتی ہے، جس کو دیکھ کر کفار کے دل پر دہشت طاری ہو جاتی ہے۔

· جب مسلمان مالی مدد کرتے ہیں تو اس سے معاشی استحکام پیدا ہوتا ہے اور امن و سکون اور جذبہ ہمدردی پیدا ہوتا ہے۔

جائزہ: اگر ہم اپنے مسلم ممالک اور مسلمان کے تعلقات دیکھیں تو اخوت کی کمی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ جس کی وجہ سے مسلمان پستی کا شکار ہیں۔اللہ ہمیں اخوت کا رشتہ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر دنیا پر اسلام غالب آ جائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم



والدین کے ساتھ ساتھ دیگر اہلِ خاندان مثلاً بھائی بہنوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ والد صاحب کے بعد دادا جان اور بڑے بھائی کا رتبہ ہے کہ بڑا بھائی والد کی جگہ ہوتا ہے۔ مصطفےٰ جان رحمت شمع بزمِ ہدایت، تاجدارِ رسالت، صاحب جودو سخاوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان رحمت نشان ہے: بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائی پر ایسا ہے جیسے والد کا حق اولاد پر۔

( شعب الایمان، 6 / 210 ،حدیث: 7929)

اخلاق مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جھلکیاں:

میٹھے میٹھے آقا مکے مدینے والے مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقیناً تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ مکرم ، معظم اور محترم ہیں اور ہر حال میں آپ کا احترام کرنا ہم پر فرض اعظم ہے۔ اب آپ حضرات کی خدمت میں سیدالمرسلین، جناب رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ کی چند جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کروں گا جو بالخصوص احترام مسلم کے لئے ہماری رہنما ہیں۔

سلطان دو جہان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت اپنی زبان کی حفاظت فرماتے اور صرف کام ہی کی بات کرتے آنے والوں کو محبت دیتے، ایسی کوئی بات یا کام نہ کرتے جس سے نفرت پیدا ہو قوم کے معزز فرد کا لحاظ فرماتے اور اس کو قوم کا سردار مقرر فرما دیتے، لوگوں کو اللہ پاک کے خوف کی تلقین فرماتے ،صحابہ کرام علیہم الرضوان کی خبر گیری فرماتے ، لوگوں کی اچھی باتوں کی اچھائی بیان کرتے اور اس کی تقویت فرماتے ، بری چیز کو بری بتاتے اور اس پر عمل سے روکتے، ہر معاملے میں اعتدال ( یعنی میانہ روی) سے کام لیتے ، لوگوں کی اصلاح سے کھبی بھی غفلت نہ فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھتے بیٹھتے ( یعنی ہر وقت ) ذکر آللہ کرتے رہتے، جب کہیں تشریف لے جاتے تو جہاں جگہ مل جاتی وہیں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین فرماتے، اپنے پاس بیٹھنے والے کے حقوق کا لحاظ رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والے ہر فرد کو یہی محسوس ہوتا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سب سے زیادہ چاہتے ہیں۔ خدمت بابرکت میں حاضر ہو کر گفتگو کرنے والے کے ساتھ اس وقت تک تشریف فرما رہتے جب تک وہ خود نہ چلا جائے جب کسی سے مصافحہ فرماتے ( یعنی ہاتھ ملاتے ) تو اپنا ہاتھ کھینچنے میں پہل نہ فرماتے، سائل ( یعنی مانگنے والے) کو عطا فرماتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت وخوشی خلقی ہر ایک کے لئے عام تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس علم ، بردباری،حیا، صبر اور امانت کی مجلسِ تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں شوروغل ہوتا نہ کسی کی تذلیل ( یعنی بے عزتی )، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں اگر کسی سے کوئی بھول ہو جاتی تو اس کو شہرت نہ دی جاتی ، جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل توجہ فرماتے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کسی کے چہرے پر نظر یں نہ گاڑتے تھے۔(حوالہ احترام مسلم، ص 5 )

فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : جو مسلمان اپنے بھائی سے مصافحہ کرے اور کسی کے دل میں دوسرے سے عداوت نہ ہو تو ہاتھ جدا ہونے سے پہلے اللہ پاک دونوں کے گزشتہ گناہوں کو بخش دے گا اور جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی طرف محبت بھری نظر سے دیکھے اور اس کے دل میں کینہ نہ ہو تو نگاہ لوٹنے سے پہلے دونوں کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔

( کنزالعمال ، 9 / 57، حدیث 25358 )


 اسلام میں اخوت و بھائی چارگی ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو ساری دنیا کے مسلمانوں کو متحد اور ان کی صفوں کو باہم پیوست اور ان سب کو ایک جسم کے مانند رکھتی ہے چاہے ان کے رنگ، زبانیں، حسب و نسب اور ان کے علیحدگی ممالک میں کتنی ہی عدم یکسانیت ہو۔

تاریخ گواہ ہے کہ اسی اسلامی بھائی چارگی نے عربی کو عجمی سے،عجمی کو عربی سے، فارسی کو عربی سے عربی کو فارسی سے ،ترکی کو افریقی سے ، اور افریقی کو ترکی سے فقیر کو مالدار سے اور کالے کو گورے سے اس طرح باہم جوڑ دیا کہ یہ سارے فرق و اختلاف بالکل ختم کر دیئے اور اس طرح یہ امت مسلمہ ، ایک بالکل ہی ممتاز قوم کے طور پر ساری دنیا پر چھاگئی۔

اِسلام ایک عالمی دِین ہے اور اُس کے ماننے وَالے عرب ہوں یا عجم، گورے ہوں یا کالے، کسی قوم یا قبیلے سے تعلق رَکھتے ہوں، مختلف زبانیں بولنے وَالے ہوں، سب بھائی بھائی ہیں اور اُن کی اس اخوت کی بنیاد ہی اِیمانی رِشتہ ہے۔

کیوں کہ آج بھی مشرق و مغرب اور دُنیا کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے مسلمان جب موسم حج میں سرزمینِ مقدس حرمین شریفین میں جمع ہوتے ہیں تو ایک دُوسرے سے اس گرم جوشی سے ملتے ہیں جیسے برسوں سے ایک دُوسرے کو جانتے ہوں حالاں کہ اُن کی زبانیں، اُن کے رَنگ اور اُن کی عادَات مختلف ہوتی ہیں، لیکن اِس سب کے باوجود جو چیز اُن کے دِلوں کو مضبوطی سے جوڑے ہوئے ہے وہ اِیمان اور اِسلام کی مضبوط رَسی ہے۔

قر آن مجید میں اللہ پاک نے مؤمنوں کو بھائی بھا ئی کہا ہے چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ، ترجمہ کنز العرفان:"صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں۔"

( الحجرات : 10 )

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِؕ "پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نمازقائم رکھیں اور زکوٰة دیں تو وہ تمہارے دین میں بھائی ہیں۔"(پ 10، التوبۃ :11)

حدیث اور اخوت و بھائی جارہ:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوتِ اِسلامیہ اور اُس کے حقوق کے بارے میں اِرشاد فرمایا:ترجمہ: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اُس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ اُسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اُسے حقیر جانتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَپنے قلب مبارک کی طرف اِشارَہ کرتے ہوئے تین بار یہ اَلفاظ فرمائے: تقویٰ کی جگہ یہ ہے۔ کسی شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اَپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان پر دُوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔“(صحیح مسلم:2/317، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ)

گویا کہ اخوت و محبت کی بنیاد اِیمان اور اِسلام ہے۔ یعنی سب کا ایک رَب، ایک رسول، ایک کتاب، ایک قبلہ اور ایک دِین ہے، جو کہ دِینِ اِسلام ہے۔

اُمت میں اخوتِ اِسلامی پیدا کرنے کے لئے محبت، اِخلاص، وحدت اور خیر خواہی جیسی صفات لازمی ہیں، کیوں کہ اِیمان والوں کی آپس کی محبت، رحم دِلی اور شفقت کی مثال ایک اِنسانی جسم جیسی ہے کہ اَگر جسم کا کوئی حصہ تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے تو (وہ تکلیف صرف اُسی حصہ میں منحصر نہیں رہتی، بلکہ اُس سے) پورَا جسم متاثر ہوتا ہے، پورَا جسم جاگتا ہے اور بخار و بے خوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

اللہ پاک اُمت اِسلامیہ کو بھائی بھائی بننے اور اس اخوت کے حقوق اَدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !


اللہ پاک اپنی عظیم نعمت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْؕ ترجمہ کنزالایمان: ”اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر دیتے تو ان کے دل نہ ملا سکتے لیکن اللہ نے ان کے دل ملا دیے“۔ ( پ10، الانفال:63)

اللہ پاک کا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے جس نے اسلام جیسی نعمت سے اپنے بندوں کو نوازا تو وہ اس نعمت سے بھائی بھائی بن گئےاور ان کے سینوں سے بغض وکینہ نکل گیا جس سے وہ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست اور راز دار بن گئے اور آخرت میں ایک دوسرے کے رفیق اور خلیل ہونگے۔

رضائے الہی کے لئے کسی سے محبت کرنا اور دین کی خاطر بھائی چارہ اور اخوت قائم کرنا اعلٰی ترین نیکی اور افضل عبادت ہے ۔اس کی اہمیت کا اندازہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے لگایاجاسکتاہے، فرماتے ہیں کہ:”اللہ پاک کی قسم! اگر میں دن میں روزہ رکھوں اور افطار نہ کروں رات بھر بغیر سوئے قیام کروں اور وقفے وقفے سے اللہ پاک کی راہ میں مال خرچ کرتا رہوں لیکن جس دن مروں اس دن میرے دل میں اللہ پاک کے نیک بندوں کی محبت نہ ہو تو یہ تمام چیزیں مجھے کچھ نہ دیں گے۔(احیا العلوم(مترجم) 2/579 )

بھائی چارگی دو شخصوں کے درمیان ایک رابطہ وتعلق ہے جیسے مرد وعورت کے درمیان نکاح رابطہ و تعلق ہوتا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ،” دو بھائیوں کی مثال دو ہاتھوں کی طرح ہے کہ ایک دوسرے کو دھوتا ہے“

( الترغیب فی فضائل الاعمال،1/493،حدیث:433)

حدیث پاک میں دو بھائیوں کو دو ہاتھوں سے تشبیہ دی ہے کیوں کہ دونوں ہاتھ ایک ہی کام اور مقصد میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اسی طرح دو بھائیوں کے درمیان اخوت و بھائی چارہ تب مکمل ہوتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کے تمام تر معاملات میں معاون و مددگار ہوں گویا کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں اور اسی وجہ سے ہر خوشی و غمی میں ایک دوسرے کا ساتھ ہونا معاشرے کو خوبصورت اور ماحول کو خوشگوار بناتا ہے اور تمام ہی دینی و دنیاوی معاملات اعلی طرز پر جاری رہتے ہیں اللہ پاک ہمارے معاشرے کو اخوت و بھائی چارگی جیسی نعمت سے مالامال فرمائے۔آمین


ہمارا اسلام ایک مکمل اور خوبصورت دین ہے جہاں ہمارا دین اسلام ہمیں میں نماز ،روزہ،حج ،زکوة کا درس دیتا ہےوہی ہمیں اخوت (یعنی بھائی چارے) کا بھی درس دیتا ہے چنانچہ اللہ پاک قرآن الکریم میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰)ترجمہ کنزالعرفان: صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادو اور اللہ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو۔(پ 26، الحجرٰت:10)

اس کے علاوہ ہمارے پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی موجود ہیں:

مسلمانوں  کے باہمی تعلق کے بارے میں  اَحادیث :

یہاں  آیت کی مناسبت سے مسلمانوں  کے باہمی تعلق کے بارے میں  4 اَحادیث ملاحظہ ہوں :

(1) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا’’مسلمان ،مسلمان کابھائی ہے وہ اس پرظلم کرے نہ اس کورُسواکرے ،جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں مشغول رہتاہے اللہ پاک اس کی ضرورت پوری کرتاہے اورجوشخص کسی مسلمان سے مصیبت کودورکرتاہے تواللہ پاک قیامت کے دن اس کے مَصائب میں سے کوئی مصیبت دُورفرمادے گااورجوشخص کسی مسلمان کاپردہ رکھتاہے قیامت کے دن اللہ پاک اس کاپردہ رکھے گا۔

( بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب لا یظلم المسلم... الخ، 2 / 126، الحدیث: 2442)

(2) حضر ت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’سارے مسلمان ایک شخص کی طرح ہیں ،جب اس کی آنکھ میں تکلیف ہوگی توسارے جسم میں تکلیف ہوگی اور اگراس کے سرمیں درد ہوتو سارے جسم میں دردہوگا۔(مسلم، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب، باب تراحم المؤمنین... الخ، ص:1396، الحدیث: 67) 2586)

(3) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔

(مسلم، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب،ص:1396، الحدیث: 65(2585)

(٤)نبی پاک ،صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بیشک مؤمن کے لئے مؤمن مثل عمارت کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔

(صحیح بخاری ،کتاب الصلوة ،1/181، الحدیث :481)

پیارے اسلامی بھائیوں ہمیں بھی مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی کرتے رہنا چاہئے اور اس کا سب سے اچھا موقع دعوت اسلامی کا مدنی ماحول ہے جس میں سب سے زیادہ مدنی قافلوں میں سفر کرکے اسلامی بھائیوں کے ساتھ مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ساتھ بھائی چارے کا موقع ملتا ہے ۔