محمد فیضان علی عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ فیصل آباد ، پاکستان)
تعلیم
و تربیت انسانی معاشرے کی بنیاد ہے۔ تاریخِ انسانی میں بہترین معلم اور مربِّی
حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ تعلیم کے مختلف اسالیب میں سے ایک مؤثر اور کار
آمد اُسلوب "سوالیہ انداز بھی" ہے۔ یہ طریقہ انسان کی فطری جستجو، غور و
فکر اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔ سوال کے ذریعے معلم شاگرد کے
ذہن کو متوجہ کرتا ہے، اس کی فکر کو ایک سمت دیتا ہے اور معلومات کو دل و دماغ میں
راسخ کر دیتا ہے۔
سوالیہ
انداز کی چند نمایاں خصوصیات :
سامع کی توجہ مرکوز کر دینا۔
ذہن کو سوچنے اور غور کرنے پر آمادہ کرنا۔
سامع کو جواب سوچنے کی طرف راغب کر کے اس کی علمی
صلاحیت بڑھانا۔
سیکھے گئے مضمون کو یادداشت میں پختہ کرنا۔
رسول
الله ﷺ کے تعلیمی اسلوب کی خصوصیات :
رسول
اللہ ﷺ کا تعلیمی اسلوب بے حد جامع اور حکیمانہ تھا۔ آپ ﷺ نے کبھی خطبہ دے کر، کبھی
تمثیل کے ذریعے اور کبھی سوالیہ انداز اپنا کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت
فرمائی۔ آئیے تین احادیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے:
1۔مفلس
کون ہےآپ ﷺ نے صحابہ کرام سے استفسار فرمایا: کیا تم جانتے
ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ کرام نے عرض کی، یا
رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہم میں مفلس وہ کہلاتا ہے جس کے پاس نہ درہم
ہوں نہ کوئی مال ہو۔ " تو آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری
امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، زکوۃ اور روزے لے کر حاضر ہوگا اور اس نے
کسی کو گالی دی ہوگی کسی کا مال چھینا ہوگا تو یہ اس کی نیکیوں میں سے کچھ نیکیاں
لے لے گا اسی طرح دوسرا شخص بھی اس کی نیکیاں لے لے گا، اگر پورا حق ادا کرنے سے پہلے
اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو یہ شخص ان لوگوں کے گناہ اپنے سر لے لے گا، پھر اسے
اوندھے منہ جہنم میں گرا دیا جائے گا۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، باب تحریم
الظلم الحدیث 2581، ص1000)
2:
بہادر کون ہے نبی کریم ﷺ کا فرمان عالیشان ہے : " کیا تم جانتے
ہو کہ بہادر کون ہے بے شک کامل بہادر تو
وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو پا لے، کیا تم جانتے ہو کہ بانجھ کون ہے
بانجھ تو وہ ہے جس کی اولاد تو ہو مگر وہ ان میں سے کسی کو آخرت کے لئے ذخیرہ نہ
کرے، کیا تم جانتے ہو کہ فقیر کون ہے فقیر
تو وہ ہے جس کے پاس مال تو ہو مگر وہ اس میں سے آگے کچھ نہ بھیجے۔ (شعب الایمان، باب فی الزکاة، التحریض علی صدقۃ
التطوع ، الحدیث: 3341، ج3، ص 210)
3:
کیا تم جانتے ہو کہ تمہار ا رب کیا فرماتا ہے حضرت سیدنا
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار ﷺ ایک مرتبہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے قریب سے
گزرے تو فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا رب تبارک و تعالیٰ کیا فرماتا ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا ،
الله پاک اور اسکا رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم بہتر جانتے ہیں۔
سرکار ﷺ نے تین مرتبہ یہی سوال کیا پھر فرمایا: ' الله پاک فرماتا ہے: کہ مجھے اپنی
عزت اور اپنے جلال کی قسم جو بھی نماز کو اس کے وقت میں ادا کرے گا میں اسے جنت میں
داخل فرماؤں گا اور جو ان کو وقت گزار کر ادا کرے گا اگر میں چاہوں گا تو اس پر
رحم فرماؤں گا اور اگر چاہوں گا تو اسے عذاب دوں گا۔(طبرانی کبیر ، رقم 10555،
ج10، ص 338)
پیارے
اسلامی بھائیو! رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز تعلیم و تربیت کا ایک زندہ اور جاوید
اسلوب ہے۔ یہ صرف علمی فائدہ ہی نہیں دیتا بلکہ ذہن و فکر کو جِلا بخشتا ہے، یادداشت
کو مستحکم کرتا ہے اور انسان کو عملی زندگی کے لیے تیار کرتا ہے۔ عصرِ حاضر کے
اساتذہ اور والدین اگر اس اسلوب کو اپنائیں تو تعلیم زیادہ بامقصد اور تربیت زیادہ
مؤثر ہو سکتی ہے۔ الله پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین
صلی الله علیہ وآلہ وسلم!
Dawateislami