رسول اللہ  ﷺ نہ صرف خاتم النبیین ہیں بلکہ آپ کی ذات اقدس بہترین معلم و مربی بھی ہے۔ آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے مختلف طریقے اپنائے، جن میں ایک نہایت مؤثر طریقہ سوالیہ انداز تھا۔ آپ سوال کے ذریعے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سوچنے، غور کرنے اور سیکھنے کا موقع دیتے۔ اس انداز سے علم دلوں میں اتر جاتا اور دیرپا اثر چھوڑتا۔

حدیث 1:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ ۔(صحيح مسلم، حديث نمبر: 2581)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے" صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ مال ہو نہ سامان۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا، کسی کو مارا پھر اس کی نیکیاں ان مظلوموں میں بانٹی جائیں گی، اور اگر نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ لے کر اس پر ڈالے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔"

وضاحت: سوال سے صحابہ کی توجہ حاصل کی گئی، پھر عملی زندگی کا ایک بڑا سبق حقوق العباد کی اہمیت دیا گیا

حدیث 2: عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، هَلْ تَدْرِي حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ، وَمَا حَقُّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى العِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقَّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يُعَذِّبَ مَنْ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ: لاَ تُبَشِّرْهُمْ، فَيَتَّكِلُوا(صحيح البخاري، حديث نمبر: 2856)

ترجمہ: آپ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! اللہ پاک کا حق کیا ہے میں نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک کا بندوں پر حق یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور کسی شے کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ میں نے عرض کی: جب بندے ایسا کر لیں تو پھر ان کا اللہ پاک پر کیا حق ہےآپ ﷺ نے فرمایا: ان کا حق اللہ پاک پر یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ "

وضاحت:اللہ کے ساتھ تعلق کی بنیاد سکھائی گئی اور سوالیہ انداز نے بات کو دل میں بٹھا دیا ہے

حدیث 3: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ: أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ، مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَذْكُرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَوْ رُوعِيَ، أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا، فَإِذَا أَسْنَانُ الْقَوْمِ، فَأَهَابُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَلَمَّا سَكَتُوا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ النَّخْلَةُ (صحيح مسلم، حديث نمبر: 2811)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کون سا درخت مسلمان کی مثال کی طرح ہے" صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ کھجور کا درخت ہے۔"

وضاحت: یہ انداز علم سکھانے کا بھی ہے اور تفکر پر بھی مجبور کرتا ہے کہ مسلمان ہر موسم میں فائدہ دینے والا ہوتا ہے.

حدیث 4: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا، قَالَ:فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا، قَالَ: فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا، قَالَ: فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ(صحيح مسلم، حديث نمبر: ١٠٢٨)

ترجمہ: نبی ﷺ نے پوچھا: "آج تم میں سے روزہ کس نے رکھا ہے" ابو بکر نے کہا: میں نے۔ پوچھا: "جنازے کے پیچھے کون گیا" کہا: میں۔ پوچھا: "مسکین کو کھانا کس نے کھلایا" کہا: میں۔پوچھا: "کون بیمار کی عیادت کو گیا" کہا: میں۔آپ ﷺ نے فرمایا: "جس شخص میں یہ سب باتیں جمع ہوں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔"

وضاحت: یہ حدیث نیکیوں کی فضیلت اور ان کے جامع ہونے کا پیغام دیتی ہے

حدیث 5: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ قَالَ: «تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ، وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ (صحيح مسلم، حديث نمبر: 39)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ سے ایک آدمی نے سوال کیا "اسلام کا کون سا عمل سب سے بہتر ہے" صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "کھانا کھلانا اور سلام پھیلانا، چاہے جاننے والا ہو یا نہ ہو۔"

وضاحت: یہ حدیث اسلام کے حسنِ اخلاق اور سماجی محبت کو بیان کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کا انداز نہایت حکیمانہ، دلچسپ اور ذہن نشین ہوتا تھا۔ سوالیہ انداز میں آپ ﷺ نہ صرف توجہ کرتے بلکہ دلوں پر اثر بھی چھوڑتے۔ یہ انداز آج بھی تعلیم و تربیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔