اسلام ایک کامل دین ہے جس نے انسان کی تعلیم و تربیت کے تمام اصول و ضوابط واضح فرمائے ہیں۔ نبی کریم  ﷺ بحیثیتِ معلمِ انسانیت اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے مختلف اسالیب اختیار فرمایا کرتے تھے۔ انہی اسالیب میں سے ایک نہایت مؤثر اور بلیغ اسلوب سوالیہ انداز ہے۔ آپ ﷺ سوال کر کے صحابۃ کرام رضی اللہ عنہم کی توجہ حاصل فرماتے، ان کے فکر کو بیدار کرتے اور جواب کے ذریعے ان کے ذہنوں میں بات کو اچھی طرح راسخ فرما دیتے۔ اس طریقۃ تعلیم کا تذکرہ قرآن، احادیث، اور سلف صالحین کے اقوال و واقعات میں کثرت سے ملتا ہے۔

قرآنی دلائل:قرآن مجید میں بھی بارہا سوالیہ اسلوب کے ذریعے غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ ترجمہ کنز الایمان:تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں۔(پارہ 5، سورۃ النساء، آیت 82)

یہاں سوالیہ انداز میں تنبیہ ہے کہ اگر وہ لوگ غور کرتے تو ان پر حق واضح ہوجاتا: هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰) ترجمہ کنز الایمان: نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی۔(پارہ 27، سورۃ الرحمن، آیت 60)

یہاں بھی سوالیہ اسلوب سے سبق دیا گیا کہ نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے، تاکہ سننے والے کے دل میں یہ بات گہرائی کے ساتھ اتر جائے۔

نبی کریم ﷺ کا سوالیہ انداز: احادیثِ مبارکہ میں بکثرت ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو سوالیہ انداز سے تعلیم دی۔

حدیثِ جبرائیل:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ ﷺ ایک دن صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا:ایمان کیا ہےآپ ﷺ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، اس سے ملاقات پر اور قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے۔ اسلام کیا ہےآپ ﷺ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے، نماز قائم کرے، فرض زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔ احسان کیا ہےآپ ﷺ نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ نہ ہو تو (یقین رکھ کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ قیامت کب آئے گی آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے بارے میں پوچھنے والا جواب دینے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ ہاں! اس کی کچھ نشانیاں یہ ہیں کہ باندی اپنے آقا کو جنم دے گی اور ننگے پاؤں، ننگے بدن چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ قیامت کی گھڑی کا علم صرف اللہ کو ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ترجمہ کنز الایمان: بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔(لقمان: 34) پھر وہ شخص چلا گیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ۔ لیکن وہ نظر نہ آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ (امام مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 8، دار احیاء التراث العربی بیروت، سن اشاعت 1991ء، جلد 1، ص 36)(امام بخاری، صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب سوال جبریل، حدیث نمبر 50، دار ابن کثیر دمشق، سن اشاعت 1987ء، جلد 1، ص 19)

تم جانتے ہو مفلس کون ہے:نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا:"کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہےصحابہ نے عرض کیا: مفلس وہ ہے جس کے پاس مال نہ ہو۔آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے لیکن کسی کو گالی دی ہو، کسی پر تہمت لگائی ہو، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون بہایا ہو، تو اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی، اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (امام مسلم، صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث 2581، دار احیاء التراث العربی بیروت، 1991ء)

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ سوال کے ذریعے ذہن میں بات کو بٹھایا گیا۔

بزرگانِ دین کے اقوال:

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:تعلیم میں سوالیہ انداز نہ صرف ذہن کو بیدار کرتا ہے بلکہ سامع کو عملی طور پر غور و فکر کرنے پر مجبور کر دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات میں سوال و جواب کا انداز نمایاں ہے۔ (امام غزالی، احیاء علوم الدین، کتاب العلم، جلد 1، ص 45، دار الکتب العلمیہ بیروت، 2005ء)

حکایت:حضرت امام حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس ایک نوجوان آیا اور پوچھا: میں کیسے پہچانوں کہ میں اللہ کے قریب ہوں یا دورآپ رحمہ اللہ نے سوالیہ انداز میں فرمایا: جب تو نیکی کرتا ہے تو تیرے دل کو سکون ملتا ہے یا بے سکونی اس نے کہا: سکون ملتا ہے۔ فرمایا: یہی قرب الٰہی کی علامت ہے۔(امام ابو نعیم اصفہانی، حلیۃ الاولیاء، جلد 2، ص 147، دار الکتب العلمیہ بیروت، 1988ء)

یہ حکایت بھی بتاتی ہے کہ سوالیہ انداز سے اصلاح و تربیت زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔