اسلام ایک مکمل ، جامع اور
فطری دین ہے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات کو اس دین میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔نبی
اکرم ﷺ کی ذات اقدس انسانیت کے لیے سب سے کامل اور بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے دین
پہنچانے کے تمام تر تقاضوں کو پورا کیا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف دین اسلام کی تعلیم دی
بلکہ انسانی ذہن، فطرت اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر بات کو ایسے انداز میں
سمجھایا کہ سننے والے کے دل پر اثر ہوا۔ تعلیم دینے کے جو اسالیب آپ ﷺ نے اپنائے ان میں سے ایک نہایت مؤثر اور حکیمانہ
اسلوب سوالات کے ذریعے سمجھانا تھا۔ اس طرزِ تعلیم میں سامعین کی توجہ بھی بڑھتی
اور بات دل میں اتر بھی جاتی۔
چونکہ آپ ﷺ کی
ذات مبارک کامل اور اکمل نمونہ ہے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوا : اللہ پاک نے قران
پاک میں ارشاد فرمایا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ
رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان:" بیشک
تمہیں رسولُ الله کی پیروی بہتر ہے۔(الاحزاب: 21)
یہ آیت اس حقیقت کی طرف
رہنمائی کرتی ہے کہ دین کے ہر پہلو میں نبی ﷺ کا طریقہ اور طرز عمل کامل اور مکمل
ہے، حتیٰ کہ تعلیم دینے کے انداز بھی۔
سوال کر کے کسی چیز کو
سمجھانا ایک نہایت ہی دلچسپ انداز ہے اس سے جواب اکثر طور پر یاد رہتا ہے ۔
اب آئیے کچھ ایسی احادیث ملاحظہ کرتے ہیں جن میں رسول
اللہ ﷺ نے سوال پوچھ کر صحابہ کرام کو تعلیم دی اور امت کو واضح رہنمائی فراہم
فرمائی:رسول اللہ ﷺ نے
ایک دن صحابہ سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہےصحابہ نے عرض کیا: ہمارے
نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و اسباب نہ ہو۔آپ ﷺ نے فرمایا:میری امت کا مفلس وہ
ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے لیکن ساتھ ہی کسی کو گالی دی
ہو، کسی پر تہمت لگائی ہو، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون بہایا ہو، اور کسی کو
مارا ہو۔ پھر اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دی جائیں گی، اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں
گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(صحیح
مسلم: 2581)
یہ اندازِ تعلیم نہایت
اثرانگیز ہے کہ سوال پوچھ کر ذہن کو متوجہ کیا اور پھر مفلس کی حقیقی تعریف بیان
فرمائی۔
اس سوال و جواب کے ذریعے آپ ﷺ
نے شرک کی سنگینی کو واضح فرمایا۔
سب سے افضل عمل کون سا ہےحضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ آپ ﷺ نے پوچھا: "کیا تم جانتے ہو اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل کیا
ہے" پھر فرمایا:"ایمان باللہ اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔" (صحیح
بخاری: 2518، صحیح مسلم: 83)
یہاں بھی سوال کرکے جواب دیا
گیا تاکہ سننے والوں کے ذہن میں بات ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے۔
ان احادیث سے صاف ظاہر ہوتا
ہے کہ رسول اکرم ﷺ کا اسلوب تعلیم نہایت حکیمانہ، مؤثر اور فطرتِ انسانی کے عین
مطابق تھا۔ سوال کرنے سے سننے والے کی دلچسپی بڑھتی اور جب جواب ملتا تو وہ دل و
دماغ میں راسخ ہو جاتا۔ آج ضرورت ہے کہ ہم بھی اپنے تعلیمی اور دعوتی اسالیب میں
اس نبوی طریقے کو اپنائیں تاکہ دین کی بات زیادہ مؤثر اور دلنشین انداز میں دوسروں
تک پہنچ سکے۔
Dawateislami