محمد محسن علی (درجۂ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
رسول اللہ ﷺ کا سوال فرمانا دین کی تعلیم کا
ایک طریقہ کار تھا، جس کے ذریعے آپ صحابہ کرام کو سوالات پوچھتے تھے تاکہ وہ جواب
دے سکیں. اگر صحابہ کسی سوال کا جواب نہ دے پاتے تو نبی کریم ﷺ خود ہی اس کا جواب
دیتے۔ یہ سوالات مختلف احادیث میں موجود ہیں اور یہ دین کی تعلیم و تدریس کا ایک
اہم ذریعہ تھے۔
چند احادیث
مبارکہ ملاحظہ فرماتے ہیں :
(1)حضرت
انس سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں پایا اور آپ کے
ساتھ کئی اور بھی لوگ تھے میں کھڑا ہو گیا تو مجھ سے حضور اکرم ﷺ نے
پوچھا کیا تجھے ابو طلحہ نے بھیجا ہے میں نے کہا جی ہاں آپ نے پوچھا کھانے کے لیے
بلایا ہے میں نے کہا جی ہاں پھر آپ نے اپنے پاس موجود تمام حضرات کو کہا چلیں اور
میں بھی چلنے لگا اور میں ان سب سے اگے تھا ۔(صحیح: البخاری :حدیث نمبر 422: باب
جسے مسجد میں کھانے کے لیے کہا جائے اور وہ اس کو قبول کر لے )
(2)محمود
بن ربیعہ میں عتبہ بن مالک سے پوچھا جو کہ نابینا تھے حضور اکرم ﷺ کے
گھر میں تشریف لائےتم اپنے گھر میں کس جگہ کو پسند کرتے ہو تو میں وہاں نماز پڑھوں
عتبہ نے کہا میں ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا حضور اکرم ﷺ نے
نماز شروع کی اور ہم نے آپ کے پیچھے ایک
صف باندھی تو حضور نے دو رکعت نفل ادا کیے۔
(صحیح البخاری:حدیث نمبر 424: باب :نماز
کا باب )
(3)عتبہ بن عامرفرماتے ہیں کہ میں دوران سفر میں
حضور اکرم ﷺ کی اونٹنی کی لگام تھام کر آگے آگے چلا کرتا
تھا حضور اکرم ﷺ نے فرمایا اے عتبہ کیا میں تمہیں دو بہترین
پڑھنے والے صورتیں نہ سکھاؤں حضور اکرم ﷺ نے مجھے سورۃ الفلق اور سورۃ
الناس سکھائی حضور اکرم ﷺ نے دیکھا کہ میں زیادہ خوش نہ تھا تو جب حضور
اکرم ﷺ صبح فجر کی نماز پڑھانے کے لیے آئے تو آپ نے ان دو سورتوں کی تلاوت فرمائی
کہ نماز کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا اے عتبہ تم میں ان دو سورتوں کی عظمت
کو کیسے جانا ۔(مشکوٰۃ المصابیح :حدیث نمبر 848 :باب نماز میں قرات کا باب )
(4)ام سلمہ
فرماتی ہیں جب ابوسلمہ فوت ہوئے میں نے کہا کہ پردیسی شخص پردیس میں ہی فوت ہو گیا
میں اس پر رونا چاہتی تھی اور میں نے اس پر رونے کی پوری تیاری کی اور ایک اور
بھائی جو میرے ساتھ اس میت پر رونے میں ساتھ دینا چاہتی تھی رسول اللہ ﷺ اس کی
طرف متوجہ ہوئے اور کہا کیا تم ایسے گھر میں شیطان داخل کرنا چاہتے ہو جہاں سے اسے
اللہ نے نکال باہر کیا اپ نے دو مرتبہ ایسے کہا کہ میں رونے سے رک گئی اور نہ روئے
(مشکوٰۃ شریف :حدیث نمبر 1744 فصل: جنازوں کا باب)
(5)عبداللہ
بن عمر سے روایت ہے کہ دور رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دو ادمی ائے اور
تقریر کی تو لوگ ان کی تقریر سن کر تعجب کرنے لگے حضور اکرم ﷺ ہماری
طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کچھ باتیں جادو بھی ہوتی ہے(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 2028
فصل: کچھ باتیں جادو ہیں)
اللہ عزوجل
سے دعا ہے کہ جو کچھ سنا اس پر عمل کرنے کی توفیق اور اس سے اگے تک پہنچانے کی توفیق
عطا فرمائے امین بجاہ نبیین ﷺ
Dawateislami