رسول اللہ  ﷺ نے تربیت کے کئی انداز اختیار فرمائے، جن میں سوالیہ انداز (سوالات کے ذریعے تربیت دینا) بھی نہایت مؤثر اور حکیمانہ طریقہ تھا۔ آپ ﷺ صحابۃ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فکری اور روحانی تربیت کے لیے اکثر سوالات کرتے، تاکہ ان کے ذہن کو جھنجھوڑا جائے، غور و فکر کی عادت ڈالی جائے، اور سیکھنے کا عمل مؤثر ہو۔

سوالیہ انداز کی حکمت: سوالات انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں، اور جب انسان خود جواب نکالتا ہے تو وہ بات دل و دماغ میں راسخ ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس انداز کو بارہا اپنایا۔

قرآن کریم میں سوالیہ انداز: اللہ رب العزت نے بھی قرآن مجید میں سوالیہ انداز اختیار فرمایا تاکہ بندے غور کریں۔ مثال کے طور پر: اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ(۱) ترجمہ (کنز الایمان): کیا ہم نے تمہارا سینہ نہ کھول دیا(سورۃ الشرح، آیت 1)

یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر اپنی نعمتوں کی یاد دہانی سوالیہ انداز میں کروائی۔ هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰) ترجمہ (کنز الایمان): نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی۔ (سورۃ الرحمن، آیت 60)

یہ آیت بھی تربیتی سوال ہے، جس کا جواب ہر شخص کو خود سوچنا ہے۔

نبی کریم ﷺ کا سوالیہ انداز:

(1) نیکی اور بدی کی پہچان:حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:"اے وابصہ! نیکی کیا ہے" پھر خود ہی فرمایا:"اپنے دل سے پوچھو، نیکی وہ ہے جس پر تمہارا دل مطمئن ہو اور بدی وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے. (مسند احمد، حدیث: 17302)

یہاں آپ ﷺ نے سوال کر کے پہلے متوجہ فرمایا، پھر جواب میں فطری معیار کو بنیاد بنایا۔

(2) صحابہ کے ایمان کو جِلا دینا:ایک مرتبہ آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا، تو اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی، اور اگر نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2581)

یہ سوال ایک عام مفہوم کو ایک نئے اور گہرے معنی میں تبدیل کرتا ہے۔

(3) افضل اعمال کے بارے میں سوال:ایک صحابی نے پوچھا:یا رسول اللہ! کون سا عمل افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا:"اللہ اور اس کے رسول پر ایمان، پھر جہاد، پھر حج مبرور۔ (صحیح بخاری، حدیث: 26)

یہاں بھی آپ ﷺ نے سوال کا جواب مرحلہ وار دے کر تربیت فرمائی۔

رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز:

فکری تحریک پیدا کرتا ہے۔

ذہن کو فعال کرتا ہے۔

دل میں بات راسخ کرتا ہے۔

سننے والے کو شاملِ گفتگو کرتا ہے۔

یہ انداز تعلیم، تربیت، اور تزکیہ کا بہترین طریقہ ہے، جسے جدید تعلیمی ماہرین بھی مؤثر مانتے ہیں۔

رسول اکرم ﷺ نے سوالات کے ذریعے جو تربیت کا طریقہ اپنایا، وہ نہ صرف صحابہ کرام بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے رہنمائی کا مینار ہے۔ یہ انداز قرآنِ مجید کے اسلوب کے بھی عین مطابق ہے۔

فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ

ترجمہ (کنز الایمان): تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے۔(آل عمران: 159)

یعنی آپ ﷺ کا نرم اور حکمت بھرا انداز، از خود ایک عظیم درس ہے۔