عبدالرحمن عطّاری مدنی (تخصص فی اللغۃ العربیۃ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو
لاہور ، پاکستان)
تعلیم
و تربیت کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ شخصیت کو سنوارنا، کردار کو مضبوط
بنانا اور ذہن کو فکری بلندی پر لے جانا ہے۔ اس مقصد کے لیے استاد مختلف طریقے
اختیار کرتا ہے، مگر سب سے مؤثر اور دیرپا طریقہ سوال و جواب ہے۔ سوال انسان کے
ذہن کو بیدار کرتا ہے، اس کی توجہ کو مرکوز کرتا ہے اور اسے محض سننے والے کی
بجائے سوچنے اور سمجھنے والا بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے ماہرینِ تعلیم بھی
اس بات پر متفق ہیں کہ سوالیہ انداز تدریس کا بہترین ذریعہ ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے
کہ سب سے کامل اور مؤثر نمونہ ہمیں معلمِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس
میں ملتا ہے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کی
تعلیم و تربیت کے لیے سوالیہ انداز اختیار فرمایا، تاکہ وہ محض سننے والے نہ رہیں
بلکہ جواب سوچ کر زیادہ بہتر طریقے سے حقیقت کو سمجھ سکیں اور اپنی زندگی میں نافذ
کر سکیں۔ آئیے احادیث مبارکہ سے چند مثالیں سنتیں ہیں۔
مسلمان
کی مثال کس درخت کی مثل ہے:عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ
وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ قَالَ: فَوَقَعَ النَّاسُ
فِي شَجَرِ الْبَوَادِي. قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ،
فَاسْتَحْيَيْتُ. ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: هِيَ
النَّخْلَةُ
ترجمہ:نبی کریم ﷺ نے فرمایا :درختوں میں سے ایک درخت
ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی بھی یہی مثال ہے بتلاؤ وہ کون سا
درخت ہے یہ سن کر لوگوں کے خیالات جنگل کے درختوں میں چلے گئے۔ عبداللہ نے کہا کہ
میرے دل میں آیا کہ بتلا دوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن (وہاں بہت سے بزرگ موجود
تھے اس لیے) مجھ کو شرم آئی۔ آخر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! آپ ہی بیان فرما
دیجیئے۔ آپ ﷺ نے بتلایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔(صحيح البخاری : 62)
یہ مثال واضح کرتی ہے کہ سوال سے سامع کی توجہ کھینچی جاتی ہے
اور سوچنے کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔ کھجور کا درخت مسلمان کی علامت بنا کر ذہنوں
میں ایک گہری تصویر بٹھا دی گئی۔
مفلس
کون ہے: عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، قَالَ:
أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ
وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ
الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا،
وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا،
فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ
حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ، فَطُرِحَتْ
عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے“ صحابہ نے کہا: ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم
ہو، نہ کوئی سازوسامان۔ آپ نے فرمایا: ”میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ
لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ (دنیا میں) اس نے اس کو گالی دی ہو گی، اس پر
بہتان لگایا ہو گا، اس کا مال کھایا ہو گا، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا
ہو گا، تو اس کی نیکیوں میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا
اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی
تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے
گا۔(صحیح مسلم، حدیث: 2581)
یہ سوال ذہنوں میں موجود مفلس کے تصور کو بدل دیتا ہے اور ایک
اخلاقی حقیقت واضح کرتا ہے کہ اصل مفلس وہ ہے جس کے اعمال حقوق العباد کی پامالی
سے ضائع ہو جائیں۔
سب
سے بہتر عمل کون سا ہے: عَنْ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ قَالَ:سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه
وسلم أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا قَالَ قُلْتُ: ثُمَّ
أَيٌّ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ
قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَا تَرَكْتُ أَسْتَزِيدُهُ إِلَّا إِرْعَاءً
عليه۔
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ میں نے
رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ پاک کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے آپﷺ نے
فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا فرمایا: ”پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا فرمایا: ”پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ (حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آپﷺ نے مجھے یہ باتیں
بتائیں اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آپ مجھے مزید بتاتے۔(صحیح مسلم، حدیث: 85)
آج کے جدید دور میں معلمِ کائنات ﷺ کے سوالیہ انداز سے کئی سبق
ملتے ہیں۔
والدین کے لیے یہ پیغام ہے کہ بچوں کو محض حکم دینے کے بجائے
سوالات کے ذریعے سوچنے اور غور کرنے پر آمادہ کریں۔اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے
ساتھ سوال و جواب کا ماحول پیدا کریں تاکہ ان کی ذہنی صلاحیتیں ابھریں اور تعلیم
دلچسپ بن جائے۔خطباء اور واعظین اگر اپنے خطابات میں سوالات شامل کریں تو سامعین
کی دلچسپی بڑھتی ہے اور وہ بیدار رہتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں نصاب کی تدریس کے
ساتھ سوالیہ تدریس کو بنیاد بنایا جائے تاکہ طلبہ رٹہ لگانے کے بجائے فہم و شعور
کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔
مختصر یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے میدان میں سوالیہ
انداز کو بطور حکمت استعمال فرمایا۔ یہ اسلوب سامع کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتا،
ذہن کو جلا بخشتا اور تعلیم کو یادگار بنا دیتا ہے۔ جدید دور کے تعلیمی اصول بھی
اسی بات کی تائید کرتے ہیں۔ لہٰذا آج کے والدین، اساتذہ اور خطباء اگر اس سنتِ
نبوی کو اپنائیں تو تعلیم بوجھ نہیں بلکہ شعور اور عمل کا ذریعہ بنے گی۔ معلمِ
کائنات ﷺ کا یہ اسلوب ہماری نسلوں کے لیے ایک روشن چراغ اور کامیاب زندگی کا راستہ
ہے۔
Dawateislami