محمد اسامہ عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
سوال
کرنا علم کے فروغ کا بڑا ذریعہ ہے۔جیساکہ کہا جاتا ہے کہ اَلْعِلمُ بَابٌ مُقْفلٌ مِفتَاحُه المْسئَلُۃ یعنی
علم ایک بند دروازہ ہے اور سوال کرنا اس کی چابی ہے۔ جس طرح تالا بغیر چابی کے نہیں
کھلتا اسی طرح علم کا دروازہ بغیر سوال کے نہیں کھلتا۔
نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا
انداز بہت ہی نرالا اور حکمت بھرا ہوتا اور انہیں انداز تربیت میں سے ایک انداز
سوال کرکے تربیت فرمانا بھی ہوتا تھا جو حکمت سے بھرپور اور جامع ہوتا تھا اور وہ
اپنے اندر بہت سے علم کے خزانے سمیٹے ہوئے ہوتا تھا۔ بہت سی ایسی احادیث مبارکہ ہے
جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ نے سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی۔
آئیے
چند احادیث مبارکہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
(1)سلام
کرنے کو رائج کرنا: عَنْ أَبِی
ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی شَیْئٍ إِذَا
فَعَلْتُمُوہُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ ترجمہ:حضرت
ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ
والسلام نے فرمایا کہ کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو تمہارے درمیان
محبت بڑھے اور وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو رواج دو۔ (انوار الحدیث باب المصالحہ
ص،377 مکتبۃ المدینہ)
(2)
قضاء و قدر میں بحث نا کرنا :حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ہم لوگ تقدیر کے مسئلہ میں بحث کررہے تھے کہ
رسولِ خداصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے
آئے تو شدتِ غضب سے آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا کہ گویا انار کے دانے آپ کے عارضِ اقدس
پر نچوڑ دیئے گئے ہوں۔ پھر فرمایا کیا تم کو اسی کا حکم دیا گیا ہے کیا میں تمہاری
طرف اسی چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔ تم سے پہلے قومیں ہلاک نہیں ہوئی مگر جب کہ
قضا و قدر کے مسئلہ میں انہوں نے مباحثہ کیا۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں اور مکرر قسم
دیتا ہوں کہ آئندہ اس مسئلہ میں بحث نہ کرنا۔ (انوار الحدیث کتاب ایمان حدیث نمبر
5)
(3)اللہ
عزوجل کا عطاء کردہ مال:ابو اسحاق ابو احوص سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ
ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس میلے کپڑوں کے ساتھ آیا تو اس شخص کے لیے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس مال ہے عرض کی جی ہاں
ہر طرح کا مال ہے تو آپ نے فرمایا کون سا مال ہے تو عرض کی کہ اللہ تعالی نے مجھے
اونٹ گائے بکریاں گھوڑے اور غلام عطا کیے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ تبارک و تعالی
تجھے مال عطا فرماتا ہے تو وہ آپ پر اپنی نعمت کے اثر کو پسند فرماتا ہے۔(سنن
النسائی ج،2 باب زینت ، الجلاجل ، حدیث 5224، ص 751)
(4)صلہ
رحمی کرنا:امیر المومنین حضرت سیدنا مولا مشکل کشا شیر خدا کرم
اللہ وجہ الکریم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا میں اگلوں
اور پچھلوں کے بہترین اخلاق کے متعلق تمہاری رہنمائی نہ کروں میں نے عرض کی یا
رسول اللہ ﷺ ضرور ارشاد فرمائیے نبی کریم ﷺ نے
فرمایا جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کر دو
جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو۔(شعبۃ الایمان باب تہداریوں کو برقرار
رکھنے کے بارے میں ج 6 ص 222)
(5)
سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ
تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں
تمہیں یہ بات نہ بتا دوں کہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ میری نگاہوں میں
محبوب اور میرے قریب تر مجلس والا کون ہوگالوگ خاموش رہے نبی کریم ﷺ نے
دو تین مرتبہ اس بات کو دہرایا تو لوگ کہنے لگے جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ نبی
کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔ (مسند امام احمد بن
حنبل مترجم ج،3 ص، 390 حدیث 1194 مکتبہ کتب خانہ امام احمد رضا خان )
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو :مذکورہ احادیث سے پتا چلا کہ سوال کرنے کی بہت اہمیت ہے اس
سے علم میں اضافہ ہوتا ہے بہت سی نئی نئی معلومات حاصل ہوتی ہے لہذا ہمیں بھی چاہیے
کے ہم بھی اپنے اساتذہ کرام اور اپنے بڑوں سے اچھے اور مثبت سوال کرے اور اپنے علم
میں اضافہ کرے۔اللہ عزوجل ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami