رسول اللہ ﷺ  نے اپنی امت کی ہر بہتر سے بہترین طریقے کے مطابق تربیت فرمائی ان میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ آپ سوال کے ذریعے صحابہ کی تربیت فرماتے تھے ۔

جہنم کی آگ حرام:عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ أَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ، عَلَى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ سَهْلٍ. عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے شخص کی خبر نہ دوں جو جہنم کی آگ پر حرام ہے یا جس پر جہنم کی آگ حرام ہے جہنم کی آگ ہر اس شخص پر حرام ہے جو لوگوں کے قریب رہنے والا، آسانی کرنے والا، نرم خو اور سہل مزاج ہوتا ہے۔ (سنن الترمذی ت بشار ، ابواب الصفۃ القیامۃ و الرقائق والورع ،ج4 ص235 حدیث 2488)

مفلس کون: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے"صحابہ نے عرض کیا: "ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ کوئی سامان۔آپ ﷺ نے فرمایا:"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس حال میں کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا پیٹا ہوگا۔ پس اس کی نیکیاں لے کر ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی۔ اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اس سے پہلے کہ اس کے سارے حساب چکائے جائیں، تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔"(صحيح مسلم،کتاب البر والصله والاداب ،باب تحریم الظلم،ج 4،ص1994،حدیث2581)

سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَرْضَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ، وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ، وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ، وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: ذِكْرُ اللَّهِ وَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ:مَا عَمِلَ امْرُؤٌ بِعَمَلٍ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ.

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی تمہیں خبر نہ دوں وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی ۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے“، معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی اور چیز نہیں ۔(سنن الترمذی ت بشار،ابواب الدعوات ،باب منہ ،ج 5،ص 320,حدیث3377)

اللہ پاک ہمیں نبی پاک ﷺ کی دی گئی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔