دینِ اسلام نے بہت سے گناہ کے کاموں کی ممانعت فرمائی ہے
اور ان کی بہت مذمت بیان فرمائی اور کرنے والوں کی لیے وعیدات بھی ارشاد فرمائی
ہیں ان میں سے ایک قتل ناحق بھی ہے۔
قتل ناحق کی مذمت قرآن کریم کی روشنی میں:
وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا
فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ
اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا(۹۳) (پ5، النساء: 93) ترجمہ کنز
الایمان: اور
جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے
اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیےتیار رکھا بڑا عذاب۔
قتل ناحق کی مذمت احادیث مبارکہ کی روشنی میں:
کسی مسلمان کو قتل
ناحق کرنا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے اور بہت سی احادیث مبارکہ میں اس کی شدید مذمت
ارشاد فرمائی گئی ہے:
1۔ بڑا کبیرہ گناہ: بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا ہے۔ (بخاری، 4/358، حديث:
6871)
2۔اللہ پاک جہنم میں ڈالے گا: اگر زمین و آسمان والے کسی مسلمان کے قتل پر جمع ہو جائیں
تو الله تعالیٰ سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے۔ (معجم صغیر، 1/ 205)
3۔قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں: جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے لڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں
جہنم میں جائیں گے۔ راوی فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: مقتول جہنم میں کیوں جائے گا؟
ارشاد فرمایا: اس لیے کہ وہ اپنے ساتھی کو قتل کرنے پر مصر تھا۔ (بخاری، 1/23،حديث:
31)
4۔ اللہ پاک کی رحمت سے مایوس شخص: جس نے کسی مومن کے قتل پر ایک حرف جتنی بھی مدد کی تو وہ
قیامت کے دن الله پاک کی بارگاہ میں اس حال میں آئے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے
درمیان لکھا ہوگا یہ الله تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہے۔ (ابن ماجہ، 3/262، حديث: 2620)
مسلمانوں کا باہمی تعلق کیسا ہونا چاہیے؟ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ تعلق کیسا ہونا چاہیے؟
اس بارے میں چند نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے
دیگر مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/15، حديث: 10)
مسلمانوں کو قتل کرنا کیسا ہے؟ اگر مسلمان کے قتل کو حلال سمجھ کر اسے قتل کیا جائے تو یہ
کفر ہے اور ایسا شخص ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور قتل کو حرام سمجھنے کے باوجود کوئی
ایسا کرے تو یہ کبیرہ گناہ ہے ایسا شخص ایک مدت دراز کے لیے جہنم میں رہے گا۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قتل ناحق جیسے گناہ کبیرہ سے
بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے اور اسلامی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے
باہمی حسن سلوک کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
کسی مسلمان کو ناحق قتلِ کرنا بہت بڑا گناہ ہے قرآن و حدیث
میں اس گناہ پر بہت سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ
خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا
عَظِیْمًا(۹۳) (پ5، النساء: 93) ترجمہ کنز
الایمان: اور
جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے
اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیےتیار رکھا بڑا عذاب۔
ناحق قتل: مَنْ
قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ
النَّاسَ جَمِیْعًاؕ- (پ 6، المائدۃ: 32) ترجمہ
کنز الایمان: جس
نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئے تو گویا اس نے سب لوگوں
کو قتل کیا۔
فرمانِ مصطفیٰ ﷺ: سب گناہوں سے بڑا گناہ کسی کو ناحق قتل
کرنا ہے۔ (نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں، ص 76)
نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: امید ہے کہ ہر گناہ کو الله بخش دے
گا مگر وہ شخص جو کفر کی موت مرا ہو جس شخص نے جان بوجھ کر ناحق قتل کیا ہو۔
(نسائی، 1/ 652، حدیث: 399)
کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا قیامت کے دن بڑے خسارے کا
شکار ہوگا، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر زمین و آسمان والے کسی مسلمان کے قتل
پر جمع ہو جائیں تو الله تعالیٰ سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے۔ (معجم صغیر، 1/
205)
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک
کسی جان کو ناحق قتل کرنا ہے۔ (بخاری، 4/358، حدیث: 6871)
موجودہ دور میں قتل کرنا بڑا معمولی کام ہو گیا ہے چھوٹی
چھوٹی باتوں پر جان سے مار دینا، جائیداد کے معاملے میں بھائی کو قتل کر دینا، دہشت
گردی، ڈکیتی، خاندانی لڑائیاں عام ہیں۔ مسلمان کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔
تعریف: کسی
مسلمان کو جان بوجھ کرنا حق قتل کرنا سخت ترین کبیرہ گُناہ ہے، الله پاک قرآن مجید
میں ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ لَا
یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ
حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ
یَلْقَ اَثَامًاۙ(۶۸) (پ 19، الفرقان: 68، 69) ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے
معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور
بد کاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا۔
قتلِ ناحق کی مذمت پر 5 فرامینِ مصطفیٰ:
1۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! بے شک
ایک مومن کا قتل کیا جانا الله کے نزدیک دنیا کے تباہ ہو جانے سے زیادہ بڑا ہے۔ (ترمذی،
3/98، حدیث: 1400)
2۔ امید ہے کہ ہر گناہ کو الله تعالیٰ بخش دے گا مگر وہ شخص
جو کفر کی موت مرا ہو یا جس شخص نے جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کیا ہو۔ (ابو داود،
4/139، حدیث: 4270)
3۔ سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو! ان گناہوں میں سے
رسولِ پاک ﷺ نے قتلِ ناحق کو بھی شمار فرمایا۔ (بخاری، 2/242، حدیث: 2766)
4۔ آدمی اپنے دین میں کشادگی و وُسْعَت میں رہتا ہے جب تک
حرام خون کو نہ پہنچے (یعنی جب تک کسی کو ناحق قَتَل نہ کرے۔(بخاری، 4/356، حدیث: 6862)
5۔ جس نے کسی مومن کے قتل پر ایک حرف جتنی بھی مدد کی تو وہ
قیامت کے دن الله تعالیٰ کی بارگاہ میں اس حال میں آئے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں
کے درمیان لکھا ہو گا یہ الله تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہے۔ (ابن ماجہ، 3/262،
حدیث: 2620)
ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اسلام کی نظر میں انسان
کی جان کی بڑی اہمیت ہے اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو اسلام کی اصل
تعلیمات کو پس پُشت ڈال کر دامنِ اسلام پر قتل و غارت گری کے حامی ہونے کا بد نما
دھبا لگاتے ہیں۔
یاد رہے! الله تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو ناحق
قَتَل کرنا اور زنا کرنا بہت بڑے گناہ ہیں۔
الله پاک سے دعا ہے کہ ہمیں مسلمانوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے
پیش آنے کی توفیق سے نوازے اور ہمیں صغیرہ و کبیرہ گُناہوں سے بچاتے ہوئے سنتوں کا
پیکر بنائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
کسی مسلمان بھائی کو ناحق قتل
کرنا یعنی بغیر کسی عذر یا وجہ سے قتل کرنا ناجائز اور کبیرہ گناہ اور جہنم میں لے
جانے والا کام ہے اور آج کے دور میں یہ عام ہو چکا ہے کہ ہر دوسرے روز خبر سننے کو
ملتی ہے کہ کسی نے کسی کو جگہ یا پیسے کی وجہ سے قتل کر دیا اور ایسا کرنا سخت
گناہ کا کام ہے اور یہ گناہ تمام گناہوں میں سے بڑا گناہ ہے افسوس آج کل یہ گناہ
سمجھا جاتا ہی نہیں اور یہ کام محض دنیا میں پیسہ اور شہرت کمانے کے لیے کیا جاتا
ہے یا خاندانی لڑائی میں جگہ یا وراثت کے لیے ایسا کیا جاتا ہے، پیارے آقا ﷺ کا
فرمان ہے: مسلمان بھائی کو گالی دینا فسق اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ (مسلم، ص52، حدیث:116)
حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات ناحق قتل کرنا کفر
تک چلا جاتا ہے اس کے بارے میں اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ
خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا
عَظِیْمًا(۹۳) (پ5، النساء: 93) ترجمہ کنز
الایمان: اور
جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے
اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیےتیار رکھا بڑا عذاب۔
آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جو کوئی مسلمان کو ناحق قتل کرے
اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔
قتل ناحق کی مذمت پر احادیث مبارکہ:
(1) بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک کسی جان کو (ناحق) قتل
کرنا ہے۔ (بخاری، 4/358، حدیث: 6871)
(2) کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا قیامت کے دن بڑے
خسارے کا شکار ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر زمین و آسمان والے کسی
مسلمان کے قتل پر جمع ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے۔ (معجم
صغیر، 1/ 205)
(3) جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے لڑیں تو قاتل اور مقتول
دونوں جہنم میں جائیں گے۔ راوی فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: مقتول جہنم میں کیوں
جائے گا؟ ارشادفرمایا: اس لئے کہ وہ اپنے ساتھی کو قتل کرنے پر مصر تھا۔ (بخاری، 1/23،
حدیث: 31)
(4) جس نے کسی مومن کے قتل پر ایک حرف جتنی بھی مدد کی تو
وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس حال میں آئے گا کہ اس کی دونوں
آنکھوں کے درمیان لکھا ہو گا یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہے۔ (ابن ماجہ،
3/262، حديث: 2620)
(5) ایک مؤمن کا قتل کیا جانا اللہ پاک کے نزدیک دنیا کے
تباہ ہو جانے سے زیادہ بڑا ہے۔ (نسائی، ص652، حدیث: 3992)
(6) بارگاہ الہی میں مقتول اپنے قاتل کو پکڑے ہوئے حاضر ہو
گا جبکہ اس کی گردن کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، وہ عرض کرے گا: اے میرے
پروردگار ! اس سے پوچھ، اس نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ اللہ پاک قاتل سے دریافت فرمائے
گا: تو نے اسے کیوں قتل کیا؟ وہ عرض کرے گا: میں نے اسے فلاں کی عزت کے لئے قتل
کیا، اسے کہا جائے گا: عزت تو اللہ ہی کے لئے ہے۔ (معجم اوسط، 1/224، حدیث: 766)
احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی مسلمان بھائی کو ناحق
قتل کرنا کس قدر گناہ کا کام ہے اور احادیث مبارکہ میں بھی اس کی مذمت کی گئی ہے
احادیث مبارکہ میں دومسلمانوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ دو
مسلمان بھائیوں کا تعلق کیسا ہونا چاہیے؟ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس
کے ہاتھ اور زبان سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/15، حديث: 10)
حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کو اپنے دوسرے
مسلمان بھائی کا خیال رکھنا چاہیے اللہ پاک ہر مسلمان کو اس گناہ کبیرہ سے بچائے
اور جہنم کی آگ سے بچائے اور مسلمانوں کو ہدایت نصیب فرمائے اللہ پاک سے دعا ہے کہ
ہمارا خاتمہ ایمان بالخیر ہو۔ آمین
مسلمان کا قتل ناحق کرنا جہنم میں لے جانے والا گناہ کبیرہ
ہے قرآن مجید میں اللہ پاک نے فرمایا: وَ مَنْ یَّقْتُلْ
مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ
عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا(۹۳) (پ5، النساء: 93) ترجمہ کنز
الایمان: اور
جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے
اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیےتیار رکھا بڑا عذاب۔
اگر مسلمان کا قتل اس کے ایمان کی عداوت سے ہو یا قاتل
مسلمان کے قتل کو حلال جانتا ہو تو یہ کفر ہوگا اور قاتل کافر ہو کر ہمیشہ ہمیشہ
کے لیے جہنم میں جلتا ہے گا۔اور اگر صرف دنیاوی دشمنی کی بناپر مسلمان کو قتل کر
دے اور اس قتل کو حلال نہ جانے جب بھی آخرت میں اس کی یہ سزا ہے کہ وہ مدت دراز
جہنم میں رہے گا۔
دنیا میں مقتول کے وار ثوں کو اختیار ہے کہ وہ چاہیں تو
قاتل کو قتل کر کے قصاص لے لیں اور اگر چاہیں تو قاتل کو معاف کر دیں۔
اب اس عنوان کے بارے میں چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے
جو بہت ہی رقت انگیز وعبرت خیز ہیں:
احادیث مبارکہ:
1۔ اگر تمام آسمان وزمین والے ایک مسلمان کا خون کرنے میں
شریک ہو جائیں تو اللہ پاک ان سب کو منہ کے بل اوندھا کر کے جہنم میں ڈال دے گا۔ (ترمذی،
3/100، حدیث: 1403)
2۔ ہر گناہ کے بارے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ پاک بخش دے
گا لیکن جو شرک کر کے مر گیا اور جس نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دیا ان
دونوں کونہیں بخشے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح، 2/289، حدیث: 3468)
3۔ جو شخص ایک مسلمان کے قتل میں مدد کرے اگر چہ وہ ایک لفظ
بول کر بھی مدد کرے تو وہ اس حال میں (قیامت کے دن) اللہ پاک کے دربار میں حاضر ہو
گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا کہ یہ اللہ پاک کی رحمت سے مایوس ہو
جانے والا ہے۔ (ابن ماجہ، 3/262، حدیث: 2620)
مروی ہے کہ دنیا کا ہلاک ہو جانا اللہ پاک کے نزدیک ایک
مسلمان کے قتل ہونے سے ہلکا ہے۔ (ترمذی، 3/98، حدیث: 1400)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ(قیامت کے دن) مقتول کی رگوں
سے خون بہتا ہوگا اور وہ اپنے قاتل کے سر کا اگلا حصہ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوے اور
یہ کہتے ہوئے خدا کے حضور حاضر ہوگا، اے میرے پروردگار! اس نے مجھ کو قتل کیا ہے
یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ کر خدا تعالیٰ کے دربار میں اپنا مقدمہ پیش کرے گا۔(
سنن ترمذی، 5/23، حدیث: 3040)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنا
گناہ کبیرہ ہے اللہ پاک ہم سب کو اس گناہ کبیرہ سے محفوظ رکھے اور اللہ پاک ہم سب
کی حفاظت فرمائے خیروعافیت والا معاملہ فرمائے۔
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ پروفیشنلز فورم کےزیر اہتمام 19 ستمبر 2023ء کو سافٹ ویئر ہاوس
لاہور میں اجتماع میلاد کا انعقاد کیا گیا جس میں C.O.O
اور دیگر آئی ٹی پروفیشنلز نے شرکت کی۔
نگران
مجلس پروفیشنلز فورم محمد ثوبان عطاری نے”Cinnova &
surface solutions “ کے موضوع پر
سنتوں بھرا بیان کیا اور شرکا کو آمد مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خوشی میں آقا کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت کو اپنانے اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے
کی ترغیب دلائی۔
یومِ اعلیٰ حضرت کے موقع پر حیدر آباد میں دستار فضیلت
اجتماع کا انعقاد
دعوت
اسلامی کے شعبہ جامعۃ المدینہ بوائز کے زیر اہتمام عرسِ اعلیٰ حضرت کے موقع پر 11
ستمبر 2023ء کو محبوب گراؤنڈ لطیف آباد حیدر آباد میں دستارِ فضیلت اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں
علمائے کرام، مختلف سیاسی و سماجی شخصیات، والدین و سرپرست اور جامعۃ المدینہ کے
طلبہ و اساتذہ کرام سمیت ناظمین نے شرکت کی۔
رکن
شوریٰ حاجی محمد امین عطاری نے ”علم و
علما کی فضیلت“ پر سنتوں بھرا بیان کیا اور فارغ التحصیل ہونے والے علمائے
کرام کو درسِ نظامی مکمل کرنے پر مبارکبار دی۔
آخر میں
رکن شوریٰ حاجی محمد امین عطاری اور سینئر اساتذۂ کرام نے مرکزی جامعۃ المدینہ حیدر
آباد سے درسِ نظامی (عالم کورس) مکمل کرنے والےعلمائے کرام کے
سروں پر دستار سجایا اور انہیں مبارکباد دیتے ہوئے دعاؤں سے نوازا۔
میمن گوٹھ، گڈاپ ٹاؤن کراچی میں مختلف اسکولوں
کا وزٹ، شارٹ کورسز شروع کروانے پر میٹنگ
دینی ماحول میں دنیاوی تعلیم دینے والی عاشقانِ
رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت شعبہ مدنی کورسز کے ذمہ دار اسلامی
بھائیوں نے کراچی کے میمن گوٹھ، گڈاپ ٹاؤن میں مختلف اسکولوں کا وزٹ کیا۔
اس موقع پر ڈسٹرکٹ ملیر 2 کراچی کے شعبہ مدنی
کورسز ذمہ دار اور یوسی نگران اسلامی بھائیوں نے اسکولوں کے ٹیچرز، پرنسپلز اور
اسکولز یونین ذمہ دار سے ملاقات کی۔
ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے تعلیمی اداروں میں
دعوتِ اسلامی کے تحت جزوقتی شارٹ کورسز
شروع کروانے پر پرنسپلز سے میٹنگ کی جس
میں انہوں نےدیگر مختلف دینی کاموں کے
حوالے سے بھی کلام کیا۔(رپورٹ: محمد
صابر عطاری کراچی سٹی ذمہ دار شعبہ مدنی کورسز، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
ہر طبقے کے لوگوں کو دین کی باتیں بتانے اور
انہیں ضروریاتِ دین سکھانے والی عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت
13 ستمبر 2023ء بروز بدھ نیوسوسائٹیز ڈیپارٹمنٹ لاہور کے ذمہ داران کا مدنی مشورہ
ہوا۔
اس مدنی مشورے میں نگرانِ ڈیپارٹمنٹ حاجی غلام الیاس
عطاری نے مختلف امور پر کلام کرتے ہوئے ڈیپارٹمنٹ کے سابقہ کاموں کا جائزہ لیا اور
آئندہ کے اہداف دیئے۔
حاجی غلام الیاس عطاری نے ذمہ دار اسلامی
بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں مزید بہتری لانے کی ترغیب دلائی جس پر
انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ:
محمد فاروق عطاری نیوسوسائٹیز ڈیپاٹمنٹ آفس ذمہ دار ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
ڈسٹرکٹ پاکپتن شریف میں شعبہ تحفظِ اوراقِ
مقدسہ کے اہم ذمہ داران کا مدنی مشورہ
ڈسٹرکٹ پاکپتن شریف میں دعوتِ اسلامی کے شعبہ تحفظِ
اوراقِ مقدسہ کے تحت مدنی مشورہ ہوا جس
میں اہم ذمہ داران بالخصوص نگرانِ ڈسٹرکٹ محمد طارق عطاری اور تحصیل ذمہ دار حافظ
امین عطاری نے شرکت کی۔
نگرانِ ڈسٹرکٹ اور تحصیل ذمہ دار نے دعوتِ
اسلامی کے 12 دینی کاموں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شعبہ تحفظِ اوراقِ مقدسہ کے
دینی کاموں کا جائزہ لیا اور ان میں مزید بہتری لانے کا ذہن دیا۔
لودھراں سٹی میں نئے تعینات ہونے والے ایس پی ران ناصر جاوید کو مبارک باد
14 ستمبر 2023ء بروز جمعرات شعبہ رابطہ برائےشخصیات دعوتِ اسلامی کے تحت دینی کاموں کے سلسلے میں ذمہ دار اسلامی بھائیوں
نے لودھراں سٹی میں S.P انویسٹی گیشن رانا ناصر جاوید ، ڈسٹرکٹ سیکیورٹی آفیسر چوہدری برکت علی سمیت دیگرسرکاری
افسران سے ملاقات کی۔
اس موقع پر شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے فدا علی
عطاری اور شعبہ FGRF کے محمد زاہد عطاری نے S.P انویسٹی گیشن رانا ناصر جاوید کو لودہراں تعیناتی
پر دعوتِ اسلامی کی جانب سے مبارک باد پیش کی ۔
علاوہ ازیں ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے انہیں
مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کا وزٹ کرنے کی دعوت دی جس پر S.P رانا ناصر جاوید نے خلوصِ دل کے
ساتھ دعوت قبول کرتے ہوئے بہت جلد وزٹ کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
فیضان اسلامک اسکول سسٹم کےکیمپسز میں عرس اعلی
ٰ حضرت کے موقع پراجتماعِ ذکر و نعت کا انعقاد
فیضان
اسلامک اسکول سسٹم دعوتِ اسلامی کے تحت
پاکستان بھر کے کیمپسز میں عرسِ اعلی ٰ حضرت رحمۃ اللہ
علیہ
کے موقع پر اجتماعِ ذکر و نعت کاانعقادکیا گیا۔
اس
اجتماعِ ذکر و نعت میں طلبہ نے تلاوتِ قرآن و نعت رسول صلی اللہ علیہ
وسلم پیش کی، بیانات کئے اور کلامِ اعلیٰ حضرت رحمۃ
اللہ علیہ
پڑھا۔ اس موقع پر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کوئز بھی
ہوا۔ یوم اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی مناسبت سے
ننھے منے طلباوطالبات نے نعرے بھی لگائے۔
یومِ
اعلیٰ حضرت رحمۃ
اللہ علیہ
کے موقع پر فیضان اسلامک اسکول سسٹم (پاکستان )کے پنجاب ،سندھ ، خیبرپختونخوا اور
بلوچستان ریجن کے کیمپسز کو سبز اور دیدہ زیب جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا۔
Dawateislami