مصیبت سے متعلق آیتِ مبارکہ:

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)اَلَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) (پ2،البقرۃ:156،155)ترجمۂ کنزالعرفان:اور ہم ضرور تمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں:ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

مصیبت کے بارے میں احادیث :

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے:کاش! دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔(ترمذی ،4/180،حدیث:2410)

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:رسول اللہ ﷺنے فرمایا:مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اللہ پاک اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔(مسلم، ص 1067،حدیث:6562)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:مسلمان مرد و عورت کے جان و مال اور اولاد میں ہمیشہ مصیبت رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتا ہےکہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔(ترمذی ، 4 / 179، حدیث:2407)

مصیبت پر صبر کےآ داب :

1- جب مصیبت پہنچے تو اسی وقت صبر و اِستِقلال سے کام لیا جائے، جیسا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:صبر صدمہ کی ابتدا میں ہوتاہے۔(بخاری،1 /433، حدیث:1283)

2- حضرت مطرف رحمۃ اللہ علیہ کا بیٹا فوت ہوگیا۔ لوگوں نے انہیں بڑا خوش و خرم دیکھا تو کہا کہ کیا بات ہے کہ آپ غمزدہ ہونے کی بجائے خوش نظر آرہے ہیں۔ فرمایا: جب مجھے اس صدمے پر صبر کی وجہ سے اللہ پاک کی طرف سے درود و رحمت اور ہدایت کی بشارت ہے تو میں خوش ہوں یا غمگین؟

(مختصرمنہاج القاصدین، ص277)

امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں :حضرت فتح موصلی رحمۃ اللہ علیہ کی زوجہ پھسل گئیں تو ان کا ناخن ٹوٹ گیا،اس پر وہ ہنس پڑیں ،ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو درد نہیں ہو رہا؟ انہوں نے فرمایا: اس کے ثواب کی لذت نے میرے دل سے درد کی تلخی کو زائل کر دیا ہے۔ (احیاء العلوم،4 /90)

اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رٰجِعُوْن پڑ ھنے کے فضائل :

ایک مرتبہ نبیِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا چراغ بجھ گیا تو آپ نے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رٰجِعُوْن پڑھا۔ عرض کی گئی:کیا یہ بھی مصیبت ہے؟ارشاد فرمایا:جی ہاں!اور ہر وہ چیزجو مومن کو اَذِیَّت دے وہ اس کے لئے مصیبت ہے اور اس پر اجر ہے۔(تفسیر در منثور،1 /380)ایک اورحدیث شریف میں ہے:مصیبت کے وقت اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رٰجِعُوْن پڑھنا رحمت ِالہٰی کاسبب ہوتا ہے۔(کنز العمال،2/122، الجزء الثالث، حدیث:6646)

یاد رہے!ان مَصائب اور تکالیف میں اللہ پاک کی بے شمار حکمتیں ہیں۔ہمارا نفسِ اَمّارہ مست گھوڑا ہے۔ اگر اس کے منہ میں ان تکالیف کی لگام نہ ہو تو یہ ہمیں ہلا ک کردے گا کیونکہ ان تکالیف کی لگام کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ ظلم اور قتل و غارت گری انسان نے کی،چوری ڈکیتی کی وارداتوں کا مُرتکِب انسان ہوا،فحاشی و عُریانی کے سیلاب انسان نے بہائے ،نبوت کا جھوٹا دعویٰ حتّٰی کہ خدائی تک کا دعویٰ انسان نے کیا اور اگر ان تکالیف کی لگام ہٹا لی جائے تو انسان کا جو حال ہوگا وہ تصوُّر سے بالا تر ہے۔ اللہ کریم ہم سب کو مصیبت پر صبر کرنے کی توفیق دے۔آمین


موجودہ دور میں تمام مسلمانوں کو مصیبتیں پیش آتی رہتی ہیں مثلاًوہ کاروبار، اولاد، جان، مال، یا اس کے علاوہ کسی بھی حوالے سے ہوں ان مصیبتوں پر مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بعض مصیبتیں ہمارے گناہوں کی شامت سے آتی ہیں مگر آتی اللہ پاک کے حکم سے ہیں۔چنانچہ قرآنِ کریم میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-(پ28،التغابن:10)ترجمۂ کنزُالعِرفان:ہر مصیبت اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔

مصیبتیں آنے کے 5 اسباب :

1-رسولِ اکرم نورِ مجسم ﷺ نے فرمایا: مومن مرد و عورت کی جان ، اولاد اور مال میں مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ پاک سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔

(ترمذی ، 4/179، حدیث:2407)

2- حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا فرما دیتا ہے۔( بخاری 4/4، حدیث 5645)

3- حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور پُر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے اور جو گناہ اللہ معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔پھر رسولُ اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)25،الشوریٰ:30)(ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔)(ترمذی،5/169، حدیث:3263)

4-حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبیِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:مومن کی بیماری ا س کے گناہوں کے لئے کفارہ ہوتی ہے۔( شعب الایمان،7/158 ، حدیث:9835)

5-حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا:مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اللہ پاک اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔(مسلم، ص 1067،حدیث:6562)

ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ بندۂ مومن پر جو بھی مصیبت یا بیماری آتی ہے وہ اس کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔جب ہم پر کوئی مصیبت آن پڑے تو یہ ذہن بنانا چاہیے کہ اللہ پاک ہم پر اپنی نعمتوں کی چھما چھم برسات فرماتا ہے یہ مصیبت اسی کی جانب سے ہے اور اس میں ہماری بھلائی پوشیدہ ہے تو اس طرح مصیبت پر صبر کرنا آسان ہو جائے گا۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی اطاعت میں مصروف رہنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، مشکلات اور مَصائب سے ہماری حفاظت فرمائے اور آنے والی مشکلات پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


دنیا کی زندگی عارضی ہے،اس کے تمام معاملات و مشکلات عارضی ہیں،اس دنیا کی حیثیت ایک سفر کی سی ہے۔صحابہ کرام کی زندگیاں صبر کی مثالوں سے بھری پڑی ہیں۔ان کے ہاں تو یہ عالم تھا کہ دورانِ جہاد جسم کا کوئی حصہ کٹ جاتا تو فخر کرتے کہ ہمارا عضو اللہ پاک کے پاس ہے جو بہتر اجر دینے والا ہے۔پیارے نبی ﷺ نے اپنی زندگی میں بے شمار تکلیفیں اور آزمائشیں دیکھیں لیکن صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ،اونٹ کی اوجھڑی اُن پر رکھ دی گئی، پتھر برسائے گئے لیکن آپ نے صبر کیا اور اپنی اُمت کی بہتری کے لئے دعوت و تبلیغ کا کام کرتے رہے۔

تمام امتوں میں حکمتوں اور مصلحتوں کے پیشِ نظر اللہ پاک کا یہ طریقہ جاری رہا ہے کہ وہ ایمان والوں کو آزمائشوں میں مبتلا فرماتا ہے۔یادر ہے!اس امت سے پہلے لوگوں پر انتہائی سخت آزمائشیں اور مصیبتیں آئیں لیکن پہلے کے لوگوں نے ان مصیبتوں اور آزمائشوں پر صبر کیا اور اپنے دین پر استقامت کے ساتھ قائم رہے۔ یوں ہی ہم پربھی آزمائشیں اور مصیبتیں آئیں گی تو ہمیں بھی چاہئے کہ پچھلے لوگوں کی طرح صبر و ہمت سے کام لیں اور اپنے دین کے احکامات پر مضبوطی سے عمل کرتی رہیں۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْؕ-مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ(۲۱۴) (پ2،البقرۃ:214)ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تم پرپہلے لوگوں جیسی حالت نہ آئی۔ انہیں سختی اور شدت پہنچی اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہہ اُٹھے: الله کی مدد کب آئے گی؟ سن لو! بیشک الله کی مدد قریب ہے۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)(پ4،الِ عمرٰن:146)ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

بخاری شریف میں حضرت خَبّاب بن ارت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِّ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمخانہ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر مبارک سے تکیہ لگائے ہوئے تشریف فرما تھے ،ہم نے حضور اقدس ﷺ سے عرض کی:یارسول اللہ ﷺ!ہمارے لیے کیوں دعا نہیں فرماتے؟ہماری کیوں مدد نہیں کرتے؟ارشاد فرمایا: تم سے پہلے لوگ گرفتار کیے جاتے تھے، زمین میں گڑھا کھود کر اس میں دبائے جاتے تھے،آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کرڈالے جاتے تھے اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت نوچے جاتے تھے لیکن ان میں سے کوئی مصیبت انہیں ان کے دین سے روک نہ سکتی تھی۔(بخاری،2/503،حدیث:3612)

مصیبت میں صبر:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس بندے کو مصیبت پہنچے پھر وہ یہ دعا پڑھ لے: اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ اْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا ہم اللہ پاک کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طر ف لوٹنا ہے۔اے اللہ پاک!مجھے میری مصیبت میں اجرعطا فرمااور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما۔

تو اﷲ پاک اسے اس مصیبت کا ثواب عطا فرماتا ہے اور اسے اس سے بہتر بدلہ عطا فرماتاہے۔

(مسلم ،ص 356 ،حدیث :2127)

مصیبت چھپانے کی فضیلت:

فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے :جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر اُس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں کو اس کی شکایت نہ کی تو اللہ پاک پر حق ہے کہ اس کی مغفرت فرمادے۔(معجم اوسط،1/ 214 ،حدیث:737)

اللہ پاک ہمیں عافیت عطا فرمائے اور اگر مصائب و آلام آئیں تو ان پر صبر کرنے اور دینِ اسلام کے احکامات پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


مصیبتوں کے اسباب پر جب قرآن و سنت کی روشنی میں غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہےکہ  مختلف لوگوں پر آنے والی مصیبتوں کے مختلف اسباب ہوتے ہیں۔ہمارے معاشرے کے مختلف لوگ مختلف قسم کی مصیبتوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔مثلاً

1-کچھ نیک لوگوں کو اللہ پاک مصیبت میں مبتلا فرما کر اُنہیں اپنا قُرب نصیب فرماتا ہے۔نیکوکاروں کو لوگ مصیبت میں مبتلا دیکھ کر دُکھ اور غم کی کیفیات میں مبتلا ہو جاتے ان کے لئے اللہ پاک سے رحمت کے طلبگار بن جاتے ہیں۔

2 - کچھ گناہگاروں کو اللہ پاک دنیا میں ہی اُن کے گناہوں کے سبب مصیبت میں مبتلا کر کے اُن کے گناہ بخش دیتا ہے۔گناہگاروں کو لوگ مصیبت میں دیکھ کر اُن سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔مصیبتوں کے اَسباب پر غور کیا جائے تو مندرجہ ذیل وجوہات سامنے آتی ہیں:

01:پارہ2، سورۃالبقرہ، آیت نمبر 155 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)(پ2،البقرۃ: 155) ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرور تمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھا ہے:آزمائش سے فرمانبردار اور نافرمان کے حال کا ظاہر کرنا مراد ہے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول خوف سے اللہ پاک کا ڈر،بھوک سے رمضان کے روزے، مالوں کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات دینا، جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ اموات ہونا، پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے کیونکہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہے۔(تفسیر صراط الجنان،1/250)حدیث میں اولاد کو دل کا پھل کہا گیا ہے۔(ترمذی،2/313،حدیث:1023)

02:قرآنِ کریم کے پارہ25،سورۃالزخرف، آیت نمبر 48میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۴۸)ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے اُنہیں مصیبت میں گرفتار کیا کہ وہ باز آئیں۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے:یعنی جب فرعون اور اُس کی قوم نے سرکشی کی تو ہم نے اُنہیں مصیبت میں گرفتار کیاتاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں اور کُفر چھوڑ کر ایمان کو اختیار کر لیں۔یہ عذاب قحط سالی ،طوفان اور ٹڈی وغیرہ سے کئے گئے۔(تفسیر صراط الجنان،9/140)

03: قرآنِ کریم کے پارہ25،سورۃ الشوریٰ، آیت نمبر30 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)25،الشوریٰ:30)ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔

تفسیر صراط الجنان : اس آیت میں ان مُکَلَّف مومنین سے خطاب ہے جن سے گناہ سرزد ہوتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں اکثراُن کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں ،اُن تکلیفوں کو اللہ اُن کے گناہوں کا کفارہ کردیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف اس کے درجات کی بلندی کے لئے ہوتی ہے۔(تفسیر صراط الجنان،9/67)

04:قرآنِ کریم کے پارہ27،سورۃ الحدید، آیت نمبر22میں اللہ پاک فرماتاہے:مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ(پ27،الحدید:22)ترجمہ کنزالایمان: نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں ہے۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے:اس آیت میں اللہ پاک نے اپنی قضاء اور تقدیر کا بیان فرمایا ہے کہ اے لوگو! زمین میں قحط کی، بارش رک جانے کی، پیداوار نہ ہونے کی ،پھلوں کی کمی کی اور کھیتیوں کے تباہ ہونے کی ،اسی طرح تمہاری جانوں میں بیماریوں کی اور اولاد کے غموں کی جو مصیبت تمہیں پہنچتی ہے وہ ہمارے اسے (یعنی زمین کو یا جانوں کو یا مصیبت کو)پیدا کرنے سے پہلے ہی ہماری ایک کتاب لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی ہوتی ہے اور انہیں لوحِ محفوظ میں لکھ دینا ہمارے لئے آسان ہے۔( تفسیر نسفی،ص1211 )(تفسیر خازن،4 /231 ، ملتقطاً)

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَاؕ-(پ27،الحدید:22) ترجمۂ کنزُالعِرفان:زمین میں اور تمہاری جانوں میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ ہمارے اسے پیدا کرنے سے پہلے (ہی) ایک کتاب میں (لکھی ہوئی)ہے۔

مصیبتیں آنے کے اَسبَاب پر چند فرامینِ مصطفےٰ ﷺ ملاحظہ فرمائیے:

01: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے اور جو گناہ اللہ پاک معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔( ترمذی ،5/169 ، حدیث:3263)

02: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا فرما دیتا ہے۔( بخاری، 4/4، حدیث: 5645)

اِن آیاتِ مبارکہ اور احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مصیبتیں فقط گناہوں کے سبب نہیں آتی۔بلکہ اللہ پاک کچھ لوگوں کو اپنے قریب کرنے اور اپنے رحمت کے سائے میں کرنے کے لئے مصیبتوں میں مبتلا کرتا ہے۔لہٰذا ہر ایک کو چاہیےکہ جب بھی کوئی مصیبت، مشکل پیش آئے۔تو صبر کا دامن مضبوطی سے تھام لےکہ دنیا کی مصیبتیں اُخروی مصیبتوں کے سامنے کچھ بھی نہیں۔رب سے شکوہ و شکایت کرنے کے بجائے اللہ پاک کا شکر ادا کریں کہ جس حال میں رب رکھے وہ حال اچھا ہے ۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر حال میں شکر کرنے اورمصیبتوں کا صبر و تحمل سے سامنا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


جس طرح خوشیاں اللہ پاک کی طرف سے ہوتی ہیں اس طرح مصیبتیں بھی اللہ پاک کی طرف سے آتی ہیں۔  جس طرح ہم خوشی کو انجوائے کرتی ہیں یعنی خوشی کا اظہار کرتی ہیں اس طرح ہمیں مصیبتوں پر صبر و شکر سے کام لینا چاہیے اور اللہ پاک کے نزدیک ہو جانا چاہیے یہی امید و یقین کے ساتھ صبرِ اور دعائیں کرتی رہیں۔ جس مالک نے مصیبتوں میں ڈالا ہے وہ نکال بھی دے گا۔مصیبتیں آنے کے کئی اسباب ہوتے ہیں۔یاتو بندے کے گناہوں کے زیادہ ہونے کی وجہ سے آتی ہیں یا پھر اللہ پاک اس بندے کو بلندی عطا فرمانے کے لیے مصیبت میں ڈالتا ہے تاکہ بندہ اللہ پاک کا محبوب ہو جائے۔وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) (پ2،البقرۃ:155 )ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرور تمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔

ہمیں انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یاد کرنا چاہیے کہ انہوں نے کتنی مصیبتیں برداشت کیں اور صبرِ و دعا کا دامن نہیں چھوڑا۔

مصیبتیں آنے کے اسبابِ پر پانچ فرمانِ مصطفےٰﷺ :

(1)مومن کا معاملہ کس قدر اچھا ہے کہ اس کا ہر معاملہ بھلائی پر مشتمل ہے اور یہ بات صرف مومن ہی کے لئے ہے۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی دکھ یا تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے۔(مسلم، ص 1598، حدیث:2999)

(2)اپنے بھائی کی شماتت نہ کر یعنی اس کی مصیبت پر اظہار مسرت نہ کر کہ اﷲپاک اس پر رحم کرے گا اور تجھے اس میں مبتلا کردے گا۔(ترمذی،4/227، حدیث: 2514)

(3)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا:مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اللہ پاک اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔(مسلم، ص 1067،حدیث:6562)

(4)حدیثِ قدسی میں اللہ پاک فرماتا ہے:جب میں اپنے بندہ مومن کی دنیا کی کوئی پیاری چیز لے لوں پھر وہ صبر کرے تو میرے پاس اس کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔ (بخاری ، 4/ 225 ، حدیث :6424)

(5)حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی ِکریم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں:مومن کو کانٹاچبھےبلکہ اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچے تو اللہ پاک اس کے گناہ ایسے جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔

( بخاری،4/5 ،حدیث:5648بتغیر قلیل)

حدیثِ مبارک سے ہمیں معلوم ہوا کہ جب اللہ پاک کسی بندے کو مصیبتوں میں مبتلا کرتاہے تو اس کے بدلے بہت سارا اجر اور بلندیاں عطا کرتاہے۔اس لیے جب بھی کسی پر مصیبت آئے ہر کسی کو بتانے کے بجائے اللہ پاک سے عافیت کی دعا اور صبر مانگے،کیونکہ شور اور ہائے ہائے کرنے یا لوگوں کو بتانے سے مصیبت ختم نہیں ہو گی لیکن اس کے بدلے ملنے والا اجر ضائع ہو جائے گا ۔ا للہ پاک ہمیں کتنی ہی بڑی مصیبت کیوں نہ آجائے ہمیشہ صبرِ وشکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے بدلے بہترین اجراور دنیا و آخرت میں بھلائیاں نصیب کرے۔ آمین 


وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰) 25، الشوریٰ: 30) ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔

مسلمانوں پر آنے والی مصیبتوں کا ایک سبب ان کا اللہ پاک کی نافرمانی اور گناہ کرنا ہے۔اگر یہ اللہ پاک کی اطاعت کرتے رہیں تو مصیبتوں سے بچ سکتے ہیں۔گانے باجے،بے حیائی،ظلم و تشدد،فتنہ انگیزی،شراب نوشی،حلال و حرام میں فرق نہ ہونا،گناہ کو معمولی سمجھ کر کر لینا،دوسرے کو مصیبت میں دیکھ کر خوش ہونا وغیرہا انسان کے ہاتھوں ہی کیے ہوں اعمال ہوتے ہیں جو مصیبت کی صورت میں ان پر معلق کر دیے جاتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا:اے لوگوں!تمہارا رب ارشاد فرماتا ہے:اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں انہیں رات میں بارش سے سیراب کروں گا ، دن میں ان پر سورج طلوع کروں گا اور انہیں کڑک کی آواز نہ سناؤں گا۔

(مسند امام احمد،3/281،حدیث:8716)

اللہ پاک کے بہت ہی مقرب و عزیز بندے جنہوں نے دن رات ایک کر کے اپنے رب کریم کا قرب حاصل کیا۔دن رات کی آزمائشیں پھر ان پر صبر اور اپنے رب کریم پر پختہ یقین اور ثواب کی امید اللہ اکبر۔جیسا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور پُر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے اور جو گناہ اللہ معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔پھر رسولُ اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)25،الشوریٰ:30)(ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔)(ترمذی،5/169، حدیث:3263)

ادھر ہمیں مصیبت پہنچے تو ہمارا واویلا شروع ہو جاتا ہے۔جب تک 10 لوگوں کو اس تکلیف کا علم نہ ہو جائے تب تک قلب سکون نہیں پاتا،لیکن جب بندہ کو صبر پر ملنے والے ثواب پر پختہ یقین ہو تو مصیبت بڑی ہو یا چھوٹی اس پر صبر کرتا ہے۔تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا:مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اللہ پاک اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔(مسلم، ص 1067،حدیث:6562)

مسائل کے حل اور مصائب کو رفع کرنے کے سلسلہ میں شریعت نے تین کام کرنے کی ترغیب دی ہے جو غم کو ہلکا کرنے اور دل کی تسلی میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ صبر کیا جائے ،دوسرا صلوۃ الحاجت ادا کی جائے،تیسرا تمام آداب کی رعایت رکھتے ہوئے خوب عاجزی اور انکساری سے دعا مانگی جائے۔ پھر بھی اگر مصیبت دور نہ ہو تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ پاک نے اس کا اجر آخرت کے لئے ذخیرہ کر لیا ہے یا چھوٹی مصیبت دے کر بڑی مصیبت سے بچا لیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے:کاش!دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔(ترمذی،4 /180،حدیث: 2410)

حضرت ابی بن کعب نے فرمایا :بندۂ مؤمن کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو وہ اللہ پاک سے اس حال میں ملے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔(الزهد لہناد،1/235،حديث :397)اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں مصیبت پر صبر کرنے والے کی توفیق عطا فرمائےاور اپنے صابر عبادت گزار بندوں میں شامل فرمالے۔آمین


اہلِ علم اور دین داروں کا کہنا یہ ہے کہ مصیبتیں خدا کے حکم سے بہت سی حکمتوں کے پیشِ نظر آتی ہیں، ایک حکمت مصیبتوں میں لوگوں کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ صبر کرتے ہیں یا بے صبری؟ ایک حکمت نیک بندوں کے کردار و عمل کو سامنے لانا ہوتا ہے تاکہ عام لوگ ان کے حسنِ عمل کی پیروی کریں۔ایک حکمت نیک بندوں کے مراتب و درجات کی بلندی ہوتی ہے۔ایک حکمت گناہگاروں کو تنبیہ اور نصیحت ہوتی ہے کہ وہ گناہوں سے باز آ جائیں اور زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھائیں۔ایک حکمت گناہوں کی سزا ہے اور ان گناہوں میں سب سے بڑھ کر بے حیائی،بدکاری اور بے شرمی ہے۔یہ چند ایک حکمتوں کا بیان ہے جس پر مزید بھی بہت سے اسباب کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔بعض اوقات  مصائب وآلام کے پیچھے ہماری بداعمالیاں بھی کارفرماہوتی ہیں۔چنانچہ

مصیبتوں کا سبب ہمارے کرتوت ہیں:

امیرُالمومنین حضرت على المرتضى رضی اللہ عنہ نے فرمایا :مىں تم كواللہ پاک كى كتاب مىں سب سے افضل آىت كى خبر دیتا ہوں جو رسو لُ اللہ ﷺ نے بتائی ہے :وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)25،الشوریٰ:30)ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔

(حُضُور اکرم ، نُورِمجسم ﷺ نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کرنے کے بعد ارشادفرمایا:)اے علی!میں اِس كى تفسىر بیان کرتا ہوں ،تمہیں دنیا میں جو بیمارى ، سزا یا کوئی بَلا پہنچتی ہےوہ اس سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا ، تو اللہ پاک اس سے بہت زیادہ كریم ہےکہ آخرت مىں دوبارہ سزا دے۔اللہ پاک نے جب دنیا مىں تم سے گناہ معاف فرما دیئے تو وہ اس سے بہت زىادہ حلیم ہے كہ معاف كرنے كے بعد سزا دے۔

(مسند امام احمد ،1 /185 ، حدیث :649)

جو كچھ ہیں وہ سب اپنے ہى ہاتھوں كے ہیں كرتوت

شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلہ ہے

حدیثِ مبارک:حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور پُر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا: بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے اور جو گناہ اللہ پاک معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔پھر رسولُ اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)25،الشوریٰ:30)(ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو(اللہ)معاف فرما دیتا ہے۔)(ترمذی،5/169، حدیث:3263)

(3)حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے،رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:لکڑی کی خراش لگنا،قدم کا ٹھوکر کھانا اور رگ کا پھڑکنا کسی گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور جو گناہ اللہ پاک معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)25،الشوریٰ:30)(ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔)۔(کنزالعمال، 2/304، الجزء الثالث، حدیث:8666)

دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں اکثراُن کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں ،اُن تکلیفوں کو اللہ پاک اُن کے گناہوں کا کفارہ کردیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف اس کے درجات کی بلندی کے لئے ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اللہ پاک اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔(مسلم، ص 1067،حدیث:6562)

صوفیاء فرماتے ہیں:رنج و غم میں درود شریف زیادہ پڑھو کیونکہ اکثر رنج و غم گناہوں کی وجہ سے آتے ہیں۔ درود شریف کی برکت سے گناہ مٹتے ہیں جب گناہ گئے تو ان کا سامان یعنی رنج و غم بھی گیا۔

( مراۃ المناجیح،2/ 429)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:مومن کی بیماری ا س کے گناہوں کے لئے کفارہ ہوتی ہے۔( شعب الایمان،7/158 ، حدیث:9835)

اللہ پاک ہمیں اپنی اطاعت میں مصروف رہنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،مشکلات اور مَصائب سے ہماری حفاظت فرمائے اور آنے والی مشکلات پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین


ہر وہ نا پسندیدہ چیز جو انسان کو آزمائش میں ڈالے وہ مصیبت ہے۔

(لمعات التنقیح،4/19،تحت الحدیث:1536)

مصیبت سے اولاد،بیماریاں اور مال کی صورت میں پہنچنے والی آزمائش بھی مراد ہے یعنی بندے کو کبھی بیماری،کبھی اولاد اور کبھی مال کے ذریعے آزمایا جاتا ہے،یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے اور بندہ اللہ پاک کی بارگاہ میں گناہوں سے پاک ہو کر حاضری دیتا ہے۔(الکوثر الجاری،9/231،تحت الحدیث:5645)

مصیبتوں کے آنے کی بہت سی حکمتیں ہوتی ہیں مثلاً

بعض اوقات مصیبتوں کے آنے کا سبب گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے جیسا کہ حدیثِ مبارک کا خلاصہ ہے کہ مومن کو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے تاکہ یہ آزمائش اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے۔(شرح بخاری لابن بطال،9/372)ایک حدیثِ پاک کا خلاصہ ہے کہ جان و مال،مصیبت و پریشانی سے محفوظ ہوں تو بسا اوقات غفلت کا مرض بھی لگ جاتا ہے ،ایسی صورت میں آنے والی مصیبت نفس کے لئے لگام کا کام دیتی ہے جس سے بندہ اللہ پاک کی باگاہ کی طرف لوٹ آتا ہے اور ثواب کا حق دار پاتا ہے۔(کشف المشکل من احادیث الصحیحین،3/529،تحت الحدیث:2039 ماخوذاً)اس سے معلوم ہوا کہ کبھی مصیبت کا سبب یہ ہوتا ہے کہ بندہ غفلت کو چھوڑ کر اللہ پاک کی بارگاہ کی طرف رجوع کرے۔

اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا :وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)25،الشوریٰ:30)ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔

ایک حکمت یہ ہے کہ مصیبتوں میں لوگوں کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ صبر کرتے ہیں یا بے صبری؟

ایک حکمت نیک بندوں کے کردار و عمل کو سامنے لانا ہوتا ہے تاکہ عام لوگ ان کے حسنِ عمل کی پیروی کریں۔

ایک حکمت نیک بندوں کے مراتب و درجات کی بلندی ہوتی ہے۔

ایک حکمت گناہگاروں کو تنبیہ اور نصیحت ہوتی ہے کہ وہ گناہوں سے باز آ جائیں اور زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھائیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم پر اپنے ہی اعمال کی وجہ سے جو مصیبتیں آتی ہیں ان میں بے صبری اور شکوہ و شکایت کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ انہیں اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھتے ہوئے صبر و شکر سے کام لیں۔

ترغیب کے لئے چند احادیث ملاحظہ ہوں:

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پرنور ﷺ نے ارشاد فرمایا:بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے اور جو گناہ اللہ پاک معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔( ترمذی،5/129 ،حدیث:3263)

ارشاد فرمایا:مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اللہ پاک اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔(مسلم، ص 1067،حدیث:6562)

اللہ پاک ہمیں نیک اعمال پر عمل اور مصیبتوں پر صبر و شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


یقیناً اللہ پاک کےہر کام میں ہزار ہا حکمتیں ہوتی ہے جو ہمیں پتہ نہیں ہوتیں۔کبھی کبھار تو اللہ پاک مصیبتیں نازل فرما کر اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور جب وہ صبر کرتے ہیں تو اُن کے  گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند فرماتا ہے۔لہٰذا ہم پر بھی جو مصیبتیں آتی ہیں ہمارے ہی بھلے اور بہتری کے لیے آتی ہے اگر چہ ہمیں اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔چنانچہ ایک روایت ہےکہ آقاﷺ نے فرمایا :اللہ پاک جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا فرما دیتا ہے۔( بخاری 4/4، حدیث 5645)ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے کہ نبیِ کریمﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اللہ پاک اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔(مسلم، ص 1067،حدیث:6562)

سبحان اللہ!اس حدیثِ مبارک میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر کسی مسلمان کو معمولی سی مصیبت بھی در پیش آ جائے گی تو اللہ اس کا ایک گناہ مٹا دے گا۔لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس حدیثِ پاک پر عمل کرتے ہوئے مصیبت کے وقت صبر کا مظاہرہ کرے کیونکہ ہر مصیبت کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہیں جیسا کہ قرآنِ پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ(۵) (پ30 ،الانشراح:5)ترجمہ :توبے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے ۔

بعض اوقات تو مصیبتیں ہمارے بُرے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں۔چنانچہ امیر المومنین حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں تم کو اللہ پاک کی کتاب میں سب سے افضل آیت کی خبر دیتا ہوں جو ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتائی ہے۔چنانچہ اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)25،الشوریٰ:30)ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔

بعض مسلمان مصیبت کے موقع پر معاذ اللہ کفریہ کلمات بول کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ان میں سے ایک مثال تو یہ ہے کہ اگر کسی نے بیماری،بے روزگاری،غربت یا کسی مصیبت کی وجہ سے اللہ پاک پر اعتراض کرتے ہوئے کہا:اے میرے رب! تو مجھ پر کیوں ظلم کرتا ہے؟ حالانکہ میں نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں!تو وہ کافر ہے۔اسی طرح معاذ اللہ اس طرح کہنا کہ اللہ پاک نے ہمیشہ برے لوگوں کا ساتھ دیا ہےیا اللہ پاک نے مجبوروں کو اور پریشان کیا ہےتو یہ سب کلماتِ کفر ہیں۔اللہ پاک ہمیں مصیبت کے وقت صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


اہلِ علم اور دین داروں کا کہنا ہے کہ مصیبتیں خدا کے حکم سے بہت سی حکمتوں کے پیشِ نظر آتی ہیں۔چنانچہ

1. ایک حکمت مصیبتوں میں لوگوں کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ صبر کرتے ہیں یا بے صبری۔

2. ایک حکمت نیک بندوں کے کردار و عمل کو سامنے لانا ہوتا ہے تاکہ عام لوگ ان کے حسنِ عمل کی پیروی کریں۔

3. ایک حکمت نیک بندوں کے مراتب و درجات کی بلندی ہوتی ہے۔

4. ایک حکمت گناہگاروں کو تنبیہ اور نصیحت ہوتی ہے کہ وہ گناہوں سے باز آ جائیں اور زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھائیں۔

5. ایک حکمت گناہوں کی سزا ہے اور ان گناہوں میں سب سے بڑھ کر بے حیائی ، بدکاری اور بے شرمی ہے۔

دوسری طرف آزاد خیال ، دین بیزار ،مغربی فلسفے کے اسیر اور خود کو عقلِ کُل سمجھنے والے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے قلموں کو تیر بنا کر اہلِ ایمان کے دلوں کو چھلنی کرنے اور مسلمانوں کے دین و ایمان کا شکار کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔طرح طرح سے ان باتوں کا مذاق اڑانے ، عذابِ الٰہی پر مزاحیہ جملے کسنے کے لئے کمر کَس لیتے ہیں۔بہرحال مسلمان کی حیثیت سے ہم مسلمانوں کی تسلی کے لئے مسلمانوں کے قرآن اور احادیث سے دلائل پیش کرتے ہیں کہ مصیبتوں کے اسباب کیا ہوتے ہیں:

بعض مصیبتیں بعض وجوہات کی بنا پر بھی آتی ہیں اور یہ وجوہات بھی لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں،ان وجوہات میں سے ایک وجہ گناہ کرنا ہے۔چنانچہ ارشادِ باری ہے:وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)25،الشوریٰ:30)ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر آنے والی مصیبتوں کا ایک سبب ان کا اللہ پاک کی نافرمانی اور گناہ کرنا ہے۔اگر یہ اللہ پاک کی اطاعت کرتے رہیں تو مصیبتوں سے بچ سکتے ہیں۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے اور جو گناہ اللہ پاک معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔( ترمذی ،5/169 ، حدیث:3263)

مصیبتوں کے ذریعے درجات میں بلندی :

دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں اکثر اُن کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں۔اُن تکلیفوں کو اللہ پاک اُن کے گناہوں کا کفارہ کردیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف اس کے درجات کی بلندی کے لئے ہوتی ہے۔جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا:مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اللہ پاک اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔(مسلم، ص 1067،حدیث:6562)

امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:حضرت فتح موصلی رحمۃ اللہِ علیہ کی زوجہ پھسل گئیں تو ان کا ناخن ٹوٹ گیا،اس پر وہ ہنس پڑیں ،ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو درد نہیں ہو رہا؟انہوں نے فرمایا:اس کے ثواب کی لذت نے میرے دل سے درد کی تلخی کو زائل کر دیا ہے۔(احیاء العلوم، 4/90)

جب مصیبت پہنچے تو اسی وقت صبر و اِستِقلال سے کام لیا جائے، جیسا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:صبر صدمہ کی ابتداء میں ہوتاہے۔

(بخاری،1/433، حدیث:1283)

صبر کی سب سے بہترین صورت یہ ہے کہ مصیبت زدہ پر مصیبت کے آثار ظاہر نہ ہوں جیسا کہ مسلم شریف میں ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:حضرت ام سُلَیم رضی اللہ عنہا کے بطن سے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا فوت ہو گیا۔حضرت ام سُلَیم رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں سے کہا:حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے بیٹے کے انتقال کی خبر اس وقت تک نہ دینا جب تک میں خود انہیں نہ بتا دوں۔جب حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آئے تو حضرت ام سُلَیم رضی اللہ عنہا نے انہیں شام کا کھانا پیش کیا،انہوں نے کھانا کھایا اور پانی پیا،پھر حضرت ام سُلَیم رضی اللہ عنہا نے پہلے کی بہ نسبت زیادہ اچھا بناؤ سنگھار کیا۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ازدواجی عمل کیا۔جب حضرت ام سُلَیم رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ وہ سیر ہو گئے اور اپنی فطری خواہش بھی پوری کر لی ہے تو پھر انہوں نے کہا:اے ابو طلحہ! یہ بتائیں کہ اگر کچھ لوگ کسی کو عاریت کے طور پر کوئی چیز دیں پھر وہ اپنی چیز واپس لے لیں تو کیا وہ ان کو منع کر سکتے ہیں ؟ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا :نہیں۔حضرت ام سُلَیم رضی اللہ عنہا نے کہا:تو پھر آپ اپنے بیٹے کے متعلق یہی گمان کر لیں (کہ وہ ہمارے پاس اللہ پاک کی امانت تھا جو اس نے واپس لے لی یعنی اس کا انتقال ہو چکا ہے۔) (مسلم، ص1333،حدیث:2144)

حضرت مطرف رحمۃ اللہ علیہ کا بیٹا فوت ہوگیا۔لوگوں نے انہیں بڑا خوش و خرم دیکھا تو کہا کہ کیا بات ہے کہ آپ غمزدہ ہونے کی بجائے خوش نظر آرہے ہیں؟ فرمایا:جب مجھے اس صدمے پر صبر کی وجہ سے اللہ پاک کی طرف سے درود و رحمت اور ہدایت کی بشارت ہے تو میں خوش ہوں یا غمگین؟

(مختصرمنہاج القاصدین، ص277۲۷۷)

اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) (پ2،ا لبقرۃ:156)ترجمہ:جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔

اس آیت میں یہ بتایاگیا کہ صبر کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں:ہم اللہ ہی کے مملوک اور اسی کے بندے ہیں وہ ہمارے ساتھ جو چاہے کرے اور آخرت میں ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔(تفسیر جلالین، ص22) کثیر احادیث میں مسلمانوں پر مصیبت آنے کا جو ثواب بیان کیا گیا ہے ان میں سے چند احادیث درج ذیل ہیں:

1۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا فرما دیتا ہے۔( بخاری 4/4، حدیث 5645)

2۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:مسلمان مرد و عورت کے جان و مال اور اولاد میں ہمیشہ مصیبت رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتا ہےکہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔(ترمذی ، 4 / 179، حدیث:2407)

3۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے:کاش! دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔(ترمذی ،4/180،حدیث:2410)

یاد رہے! بندے کو پہنچنے والی ہر مصیبت ا س کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے۔ ہر مصیبت اللہ پاک کے حکم سے ہی پہنچتی ہے جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-(پ28،التغابن:10)ترجمۂ کنزُالعِرفان:ہر مصیبت اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔

مصیبت آنے پر کون سی دعا پڑھنی چاہیے ؟

1۔ایک مرتبہ نبیِ اکرم ﷺ کا چراغ بجھ گیا تو آپ نے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَپڑھا۔عرض کی گئی:کیا یہ بھی مصیبت ہے ؟ ارشاد فرمایا:ہاں ! اور ہر وہ چیزجو مومن کو اَذِیَّت دے وہ اس کے لئے مصیبت ہے اور اس پر اجر ہے۔(تفسیردر منثور،1 /380)

2۔ایک اور حدیث شریف میں ہے:مصیبت کے وقت اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَپڑھنا رحمت ِالٰہی کا سبب ہوتا ہے۔(کنز العمال،2/122، الجزء الثالث، حدیث:6646)

لہٰذا جس پر کوئی مصیبت آئے تواسے چاہئے کہ وہ اس بات پر یقین رکھے کہ یہ مصیبت ا س کے نصیب میں لکھی ہوئی تھی اور ا س بات پر غور کرے کہ کہیں اس سے کوئی ایسا گناہ صادر نہ ہو ا ہو جس کے نتیجے میں ا س پر یہ مصیبت آئی!نیزاللہ پاک سے یہ امید رکھے کہ وہ اس مصیبت کے سبب اس کے گناہ مٹا دے اور اس کے درجات بلند فرما دے۔ایسا کرنے سے ذہن کو سکون نصیب ہو گا،دل کو تسلی حاصل ہو گی اور مصیبت پر صبر کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے :اللہ پاک جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا فرما دیتا ہے۔( بخاری 4/4، حدیث 5645)ہر وہ ناپسندیدہ چیز جو انسان کو آزمائش میں ڈالے وہ مصیبت ہے۔مصیبت  سےاولاد،بیماریوں اورمال کی صورت میں پہنچنےوالی آزمائش بھی مراد ہے یعنی بندے کو کبھی بیماری،کبھی اولاد اور کبھی مال کے ذریعے آزمایا جاتا ہے،یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہتا ہے اور بندہ اللہ پاک کی بارگاہ میں گناہوں سے پاک ہوکر حاضری دیتا ہےیہاں تک کہ قرب پا چُکا ہوتا ہے۔

نزول ِ مصائب کی پہلی وجہ مومن بندے کی آزمائش ہوتی ہے۔اللہ پاک کی ذات علام الغیوب ہے لیکن وہ اہلِ دنیا پر واضح کرنے کے لئے کہ اس کا بندہ مصیبت آنے پر صبر کرتا ہے یا بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے،مختلف طریقوں سے آزماتا رہتا ہے۔ارشادِ باری ہے :وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-(پ2،البقرۃ:155)ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرور تمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے۔

دوسرا سبب مسلمان کے گناہوں کا کفارہ ہے۔اللہ پاک مصیبت میں مبتلا فرماکر گناہوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے کرآخرت کی سزا سے بچا لیتا ہے،چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:رسول اللہ ﷺنے فرمایا:مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اللہ پاک اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔(مسلم، ص 1067،حدیث:6562)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی ِکریم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں:مومن کو کانٹاچبھےبلکہ اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچے تو اللہ پاک اس کے گناہ ایسے جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔

( بخاری،4/5 ،حدیث:5648بتغیر قلیل)

تیسرا سبب نیک اور متقی لوگوں کے درجات کو بلند کرنا ہے۔انبیائے کرام علیہم السلام اور بزرگانِ دین کی سیرت پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میں بڑے کٹھن حالات اور دشوار گزار مراحل آئے۔چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے نبیِ کریم ﷺ کا ارشاد منقول ہے:سب سے زیادہ مصیبتیں انبیائے کرام علیہم السلام پر آئیں،پھر ان کے بعد جولو گ بہتر ہیں پھر ان کے بعد جوبہتر ہیں۔

(ابن ماجہ،4/369، حدیث:4023)

ان جلیل القدر شخصیات کے اللہ پاک کے مقرب و محبوب ہونے کے باوجود ان پر تکالیف اس لئے آئیں تاکہ اللہ پاک انہیں اپنے ہاں مزید بلندیِ درجات سے نوازے۔

نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا:جب اللہ پاک کی طرف سے کسی بندے کے لیے کوئی درجہ مقدر ہوچکا ہو جہاں تک یہ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتاتو اللہ پاک اسے اس کے جسم یا مال یا اولاد کی آفت میں مبتلا کردیتا ہے، پھر اسے اس پر صبر بھی دیتا ہے حتی کہ وہ اس درجے تک پہنچ جاتا ہے جو اللہ پاک کی طرف سے اس کے لیے مقدر ہوچکا۔( ابوداؤد،3/246،حدیث:3090)

چوتھا سبب غافل انسان کو خبردار کرنا ہے۔اللہ پاک بندے سے غفلت کی چادر کو اتارنے اور اسے اپنی بندگی اور اطاعت کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اس پر مصائب اتارتا ہے۔چنانچہ فرمانِ باری ہے:وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۲۱)(پ21،السجدۃ:21)ترجمۂ کنزُ العِرفان:اور ضرور ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے قریب کا عذاب چکھائیں گے(جسے دیکھنے والا کہے) امید ہے کہ یہ لوگ باز آجائیں گے۔

زندگی کی الجھنوں،مشقتوں اور مصیبتوں کا آخری اور عمومی سبب انسان کی بد عملی،فسق و فجور،خدا کی حکم عدولی اورشریعت کے احکام سے روگردانی ہے۔اللہ پاک جب گناہوں کی وجہ سے اپنے بندے پر ناراض ہوتاہے تو اس پر اپنی رحمت کے دروازے بند کر دیتا ہے اور اس کی زندگی سے راحت و سکون ختم کر دیتا ہے جس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ مسرت و شادمانی کے تمام اسباب و وسائل کے ہوتے ہوئے بھی دل بے چین رہتا ہے۔خلاق ِ عالم نے اپنے مقدس کلام میں بارہا اس حقیقت کو آشکار کیا ہے۔ارشادِ خداوندی ہے:وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰)25،الشوریٰ:30)ترجمۂ کنزالعرفان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔

دوسری جگہ ارشاد ہے :وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى(۱۲۴)(پ16،طہ:124)ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔

قرآن ِ کریم میں گزشتہ ہلاک شدہ اقوام و امم کا متعدد مقامات پر تذکرہ ہے،اس کا سبب بھی ان کی سرکشی، نافرمانی اور وقت کے نبی کی تعلیمات سے انحراف کو بیان کیا گیا ہے۔نبیِ کریم ﷺ نے بھی اپنے ارشادات میں مختلف گناہوں کو مختلف مصیبتوں کے نازل ہونے کا سبب بتایا ہے۔چنانچہ

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ نبیِ کریم ﷺ کا ارشاد ہے:اے مہاجرین کے گروہ! جب تم پانچ باتوں میں مبتلا کر دئیے جاؤ (تو اس وقت تمہاری کیا حالت ہو گی) اور میں اللہ پاک سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ تم انہیں پاؤ۔(1)جب کسی قوم میں اعلانیہ فحاشی عام ہو جائے گی تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں ظاہر ہو جائیں گی جو ان سے پہلوں میں کبھی ظاہر نہ ہوئی تھیں(جیسے آج کل ایڈز، Aidsوغیرہ)(2) جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جائیں گے تو قحط سالی، شدید تنگی اور بادشاہ کے ظلم کا شکار ہوجائیں گے۔(3)جب زکوٰۃ کی ادائیگی چھوڑ دیں گے تو آسمان سے بارش روک دی جائے گی اور اگر چوپائے نہ ہوتے تو ان پر کبھی بارش نہ برستی۔(4)جب لوگ اللہ پاک اور اس کے رسول کا عہد توڑنے لگیں گے تو اللہ پاک ان پر دشمن مسلط کر دے گا جو ان کا مال وغیرہ سب کچھ چھین لے گا۔(5)جب حکمران اللہ پاک کے قانون کو چھوڑ کر دوسرا قانون اور اللہ پاک کے احکام میں سے کچھ لینے اور کچھ چھوڑنے لگ جائیں گے تو اللہ پاک ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ڈال دے گا۔(ابن ماجہ، 4 /367،حدیث:4019)

مسائل کے حل اوردورکرنے کے سلسلہ میں شریعت نے تین کام کرنے کی ترغیب دی ہے جو غم کو ہلکا کرنے اور دل کی تسلی میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں:(1)صبر کیا جائے(2)صلوۃ الحاجت ادا کی جائےاور (3)تمام آداب کی رعایت رکھتے ہوئے خوب عاجزی اور انکساری سے دعا مانگی جائے۔پھر بھی اگر مصیبت دور نہ ہو تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ پاک نے اس کا اجر آخرت کے لئے ذخیرہ کر لیا ہے یا چھوٹی مصیبت دے کر بڑی مصیبت سے بچا لیا ہے۔چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے:کاش!دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔(ترمذی،4 /180،حدیث:2410)

اللہ پاک ہمیں نفسِ امّارہ کے وار اور شیطان سے محفوظ رکھے،قربِ مصطفےٰ عطا کرے،ریاکاری سے بچائے، ہمارا خاتمہ ایمان پے ہو،رسول اللہ ﷺ کا دیدار کرتے ہوئے جان نکلے اور اللہ پاک ہم سب کو مدینے پاک کی با ادب حاضریاں نصیب فرمائے۔آمین 


انسان مختلف حالات و واقعات کے زیرِاثر زندگی گزارتا ہے۔کچھ حالات اس کے لیے بہت ہی خوشگوار ثابت ہوتے ہیں اور کچھ نہایت ہی کٹھن۔کٹھن حالات مختلف پریشانیوں اور مشکلات کی صورت میں ہوتے ہیں، مثلاً صحت کے مسائل، جاب نہ ملنا،کاروبار میں بندش،رشتےاورشادی میں رکاوٹ یا گھریلو ناچاقیاں وغیرہ۔انسان ان تمام مصائب سے رہائی تو حاصل کرنا چاہتا ہے مگر عموماً ان کے اسباب کی طرف توجہ نہیں دیتا۔آئیے! اس کے کچھ اسباب ملاحظہ کیجئے:

(1) رب کریم کی طرف سے آزمائش:

اللہ پاک انسان کو مختلف پریشانیوں اور مسائل میں مبتلا فرما کر آزماتا ہے تاکہ کامل ایمان والوں اور فقط زبانی ایمان کے دعویداروں میں فرق ظاہر ہو جائے، جیسا کہ ارشادِ باری ہے:وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) (پ2،البقرۃ:155)ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرور تمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔

لہٰذا ہمیں چاہئے کہ آزمائش میں اللہ پاک کے فرمانبرداروں کی طرح صبر سے کام لیں۔

(2)درجات کی بلندی یا گناہوں کی بخشش:

مصائب آنے کا سبب مومنین کے درجات بلند فرمانا بھی ہے۔اللہ پاک اپنے محبوب بندوں اور بندیوں پر مصیبت نازل فرما کر ان کے درجات بلند فرماتا ہے یا گناہگاروں کے گناہ معاف فرماتا ہے۔جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:رسول اللہ ﷺنے فرمایا:مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اللہ پاک اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔

(مسلم، ص 1067،حدیث:6562)

انبیائےکرام گناہوں سے معصوم اور متقی و پرہیزگار گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں،ان پر جو مشکلات آئیں اس کا سبب ان کے درجات کی بلندی ہے جبکہ عام مسلمانوں کے یا تو گناہ مٹائے جاتے ہیں یا درجات بلند کیے جاتے ہیں۔

(3)غفلت سے بیداری:

بعض اوقات انسان دنیا کی رنگینیوں میں اس قدر گم ہو جاتا ہے کہ اپنے اُخروی انجام کو بالکل فراموش کر بیٹھتا ہے۔چنانچہ اسے مختلف مسائل میں مبتلا کر کے خبردار کیا جاتا ہے جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۲۱) (پ21، السجدۃ: 21) ترجمہ کنز الایمان:اور ضرور ہم انہیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب اس بڑے عذاب سے پہلے جسے دیکھنے والا امید کرے کہ ابھی باز آئیں گے۔

ہمیں چاہئے کہ گناہوں سے بچیں اور آخرت کی زیادہ سے زیادہ تیاری کریں۔

(4)اعمال کی سزا:

مصیبتیں آنے کا ایک اہم سبب انسان کے اعمال ہیں۔جب کوئی حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی پروا نہیں کرتا، شریعت کے اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا یا اسلام سے ہی لاتعلق ہوجاتا ہے تو بعض اوقات اسے اس کے اعمال کے سبب دنیا میں ہی مشکلات اور پریشانیوں میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ ارشادِ باری ہے:وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰) 25،الشوریٰ:30)ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔

ہمیں چاہئے کہ اللہ پاک کی نافرمانی سے بچیں اور نیک اعمال کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔اللہ پاک متقین کے صدقے ہمیں تمام آزمائشوں،مشکلات،مصائب و آلام میں صبرِ جمیل اور صبرِ جمیل پر اجرِ عظیم عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین