عقیدۂ ختمِ نبوت ضروریاتِ دین سے ہے کہ جس میں ذرہ برابر شک انسان کو گمراہی کی گہری کھائی میں پھینک دیتا ہے۔ختم کا معنی ہے:مہر کرنا“ اور یہ ہر عام سے عام شخص جان سکتا ہے کہ کسی شے پہ مہر تب ہی کی جاتی ہے جب اس میں مزید کسی شے کی حاجت نہ ہو۔اس اعتبار سے ختمِ نبوت کا معنی ہوا نبوت  پہ مہر لگ جانا یعنی اب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ،آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے نبوت کے رجسٹر پہ بھی مہر کردی گئی، اب نہ کسی نبی کی حاجت ہے نہ نئی شریعت کی کہ اللہ پاک نے اس دین ِمحمدی کو قیامت تک کے لیے مقرر کردیا لہٰذا اب اگر کوئی شخص ختم ِنبوت پہ حرف اٹھاتا ہے یا اس کا انکار کرتا ہے یا اتنا بھی کہتا ہے کہ اگر کوئی نیا نبی بھی آجائے تب بھی نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پہ کوئی حرف نہیں آتا تو یہ محض باطل عقیدہ اور دائرہ اسلام سے خارج کردینے والا فعل ہے۔ختمِ نبوت پہ قرآنِ پاک میں صریح آیت اور بے شمار صحیح احادیث موجود ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:01۔ حضرت ابو زید عمر بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قالا لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا ابا زید ادن منی فامسح ظھری فمسحت ظھرہ فوقعت اصابعی علی الخاتم قلت وما الخاتم وقال شعرات مجتمعات نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو زید! میرے قریب ہوجاؤ میری پشت پہ ہاتھ پھیرو میں نے آپ کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو میری انگلیاں مہر نبوت پر پڑیں۔راوی کا بیان ہے:میں نے دریافت کیا: وہ کیا تھی؟ ابو زید نے جواب دیا :کچھ بال تھے جو اکھٹے موجود تھے۔( ترمذی وفی آخر شمائل ترمذی، جلد دوم، باب ما جاء فی خاتم النبوہ)2۔حضرت ابراھیم بن محمد رضی اللہ عنہ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہیں فرماتے ہیں: میرے والد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا حلیہ یوں بیان کرتے تھے۔پھر طویل حدیث بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: بین کتفیہ خاتم النبوہ وھو خاتم النبیین مہر نبوت آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دونوں کاندھوں کے درمیان تھی اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم انبیائے کرام علیہم السلام کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں۔( ترمذی و فی آخری شمائل ترمذی، جلد دوم،باب ماجاء فی خاتم النبوہ)3۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کا ملکی انتظام ان کے انبیائے کرام علیہم السلام کرتے تھے ،جب کوئی نبی فوت ہوجاتا تو اس کا قائم مقام دوسرا نبی ہوجاتا۔ بےشک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا البتہ بکثرت خلیفہ ہونگے۔( بخاری ،حدیث:3455۔ مسلم،حدیث: 1842۔ ابن ماجہ، حدیث:2871)4۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام کو ہند میں اتارا گیا تو وہ گھبرائے، پس جبریل امین علیہ السلام نے نازل ہو کر اذان دی: اللہُ اکبر، اشہد ان لا الہ الا اللہ دو دفعہ اشہد ان محمدا رسول اللہ دو دفعہ کہا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے پوچھا:محمد(صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ) کون ہیں؟ حضرت آدم علیہ السلام نے کہا: وہ آپ کی اولاد میں سے آخر الانبیاء ہیں۔(تاریخ دمشق ،7/319 ،حدیث:979)ان احادیث میں ختمِ نبوت کی وضاحت از خود موجود ہے ۔کسی وضاحت کی حاجت نہیں۔اللہ پاک ہمارا جینا مرنا عقائدِ اہلسنت پہ رکھے۔ آمین۔


قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی توصیف میں خاتم النبیین ارشاد فرمایا: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا(۴۰)ع (پ22،الاحزاب:40)خاتم کا لغوی معنی ہے :کسی شے کاآخری، اس آیتِ مبارکہ میں اللہ پاک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا ہے، جس کا مطلب ہے: تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زمانے میں یا آپ کے وصالِ ظاہری کے بعد کسی بھی شخص کو نبوت نہیں مل سکتی، اس لئے کہ نبوت کا سلسلہ آپ پر منقطع ہو چکا ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:تمام اُمّتِ مرحومہ نے سلفا و خلفا یہی معنی سمجھے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بلاتخصیص تمام انبیاء میں آخری نبی ہوئے، حضور کے ساتھ یا حضور کے بعد قیامِ قیامت تک کسی کو نبوت ملنی مُحال ہے۔(فتاویٰ رضویہ، ج14، ص332)یہ عقیدہ بہت سی احادیث سے بھی ثابت ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک میری مثال اور مجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں، ان کی مثال یہ ہے کہ کسی نے بڑا بہترین خوبصورت محل تعمیر کیا ہو، سوائے ایک اینٹ کے، لوگ اس کے اِرد گرد گھوم کر اسے دیکھتے ہوں اور (اس کی خوبصورتی دیکھ کر) حیرت میں مبتلا ہوجاتے ہوں اور کہتے ہوں: کاش! اس جگہ اینٹ رکھ دی جاتی، پس محلِ نبوت کی وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔(بخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین، ص873، رقم الحدیث3535)امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک نے چھ چیزوں کے ساتھ انبیائے کرام علیہم السلام پر مجھے فضیلت دی۔1۔مجھے جوامع الکلم عطا کیا گیا۔2۔رعب سے میری مدد کی گئی۔3۔میرے لئے غنیمتوں کو حلال کیا گیا۔4۔میرے لئے ساری زمین کو مسجد اور پاک کرنے والی بنایا گیا۔5۔مجھے ساری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا۔6۔مجھ پر انبیائےکرام علیہم السلام بھیجنے کا سلسلہ ختم فرما دیا گیا۔( مسلم، کتاب المساجد و موضع الصلاۃ، ص237، حدیث523)ترمذی میں ہے: پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میرے کچھ نام ہیں، میں محمد ہوں،میں احمد ہوں،میں ماحی ہوں کہ اللہ پاک میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے اور میں حا شر ہوں،میرے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں گے،میں عاقب ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(ترمذی،ابواب الادب،ج5،ص135، حدیث2840) ایک اور جگہ فرمایا:بے شک رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، اب میرے بعد کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی۔( ترمذی، ابواب الرؤیا، ج4، ص533،حدیث2272) امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں:نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میری امت میں تیس جھوٹے دجال ہوں گے، ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔( ابو داؤد، کتاب الفتن والملاحم، ج4، ص97، حدیث4252) ایک اور روایت ہے:تمام بنی آدم حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں شفاعت کی درخواست لئے حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: حضور! آپ اللہ پاک کے رسول ہیں اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔(بخاری، کتاب التفسیر، بنی اسرائیل، ص1170، حدیث4712)


نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تشریف لانے سے نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ بند کر دیا گیا، اب کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی، بس جن کو نبوت ملنی تھی، مل چکی ہے، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا دور سب نبیوں کے بعد رکھا گیا، جو قیامت تک چلتا رہے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی قیامت کے قریب بحیثیت آپ کے اُمّتی کے آئیں گے، تمام نبیوں اور ہر مرسل نے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری کی خوشخبری سنائی، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نبوت و رسالت اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ختمِ نبوت کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا، اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ولادت اور بعثت آخر میں ہوئی۔استدلال بالحدیث:عقیدۂ ختمِ نبوت سے تقریباً 210 سے زائد احادیثِ مبارکہ ثابت ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:1۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ قَالَ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم: کَانَتْ بَنُو اِسْرَائِیْلَ تَسُوسُھُمْ الْاَنبِیَاءُ کُلَّمَا ھَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہٗ نَبِی وَاِنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَاءُ فَیَکَفُرُوْنَ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیائے کرام علیہم السلام کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تو دوسرا نبی اس کی جگہ آ جاتا تھا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔(بخاری، باب ذکر عن بنی اسرائیل ، حدیث: 3455)2۔عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ، قَالَ رَسُوْل اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:وَاِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فی اُمَّتِی ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ کُلُّھُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ نَبِیّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّینَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میری اُمّت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک کہے گا:میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(ترمذی،باب ما جاءلا تقوم الساعہ حتی یخرج کذابون، حدیث: 2219) 3۔ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت:عَنْ اَنَسِ بِن مَالِک قَالَ، قَالَ رَسُوْل اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:اِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنَّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ، فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:رسالت و نبوت ختم ہو چکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے، نہ نبی۔(ترمذی، باب ذھبت النبوہ وبقیت البعثرات ، حدیث: 2272)4۔لو کان بعدی نبی:عَنْ عُقْبَہَ بِنْ عَامِرٍ قَالَ، قَالَ رَسُوْل اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:لَوْ کَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ مَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔(ترمذی،مناقب ابی حفص عمر بن خطاب، حدیث: 3686)5۔لیس بعدہ نبی:عَنْ جُبَیْرِبْنِ مُطْعِمٍ، اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم قَالَ:اَنَا اَحْمَدُ، وَاَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یُمْحَی بِیَ الْکُفْرُ وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی عَقَبِیْ، وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ۔ حضرت جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں، میرے ذریعے سے اللہ پاک کفر کو مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں، لوگ میرے پیچھے حشر کے میدان میں لائے جائیں گے اور میں عاقب(آخر میں آنے والا) ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے، جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔(مسلم ، باب اسماء النبی، حدیث6105)

حاصل الکلام:ان جیسی کثیر احادیث سے ختمِ نبوت کے ثبوت ملتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم رُتبے اور زمانے، ہر حیثیت سے خاتم النبیین ہیں اور جن کو بھی نبوت ملی ہے، آپ ہی کی مہر لگ کر ملی ہے، اب کوئی جگہ باقی نہیں رہی، جسے پُر کرنے کے لئے کسی نبی کی ضرورت ہو۔

آتے رہے انبیاء کَمَا قِیْلَ لَھُمْ وَالْخَاتَمَہٗ حَقَّکُمْ کہ خاتم ہوئے تم

یعنی جو ہوا دفتر تنزیل تمام آخر میں ہوئی مہر کہ اَکْمَلْتُ لَکُمْ


On the occasion of ‘Dawat-e-Islami Day’, an online Sunnah-inspiring Ijtima’ was conducted in Belgium. 16 Islamic sisters from Antwerp and Brussels had the privilege of attending the spiritual Ijtima’.

Kabinah Zimmadar Islamic sister delivered a Bayan on the topic ‘Dawat-e-Islami and Amir Ahl-e-Sunnat’ and provided the attendees (Islamic sisters) the essential points regarding the actual mission of this movement. Moreover, she provided them the information about the religious activities of Dawat-e-Islami and motivated them to keep associated with the religious environment Dawat-e-Islami and take part in the religious activities.


Under the supervision of ‘Majlis Islah-e-A’maal (Islamic sisters)’, an online ‘Islah-e-A’maal Ijtima’ was conducted on 4th September 2021 in Belgium. 18 Islamic sisters from Antwerp and Brussels had the privilege of attending the spiritual Ijtima’.

Kabinah Zimmadar Islamic sister (Majlis short courses) delivered a Bayan on the topic ‘blessings of Islam’ and provided the attendees (Islamic sisters) the essential point regarding this topic. Moreover, she gave them the mindset of spending their day and night in accordance with the booklet, ‘Nayk A’maal’ and making accountability of their deeds daily.


Under the supervision of Dawat-e-Islami, a Sunnah-inspiring Ijtima’ was conducted on 5th September 2021 in Den Haag, Holland. Approximately, 12 Islamic sisters had the privilege of attending the spiritual Ijtima’.

Kabinah Nigran Islamic sister (Majlis shrouding and burial) delivered a Sunnah-inspiring Bayan and provided the attendees (Islamic sisters) the points regarding the Amir Ahl-e-Sunnat’s way of ‘call towards righteousness’. Moreover, she motivated them to give ‘call towards righteousness’.


Under the supervision of Dawat-e-Islami, online Sunnah-inspiring Ijtima’at were conducted in Caspe, Taragona, etc. (Tartosa Division, Spain) in the first week of September 2021. Approximately, 11 Islamic sisters had the privilege of attending the spiritual Ijtima’at.

The female preachers of Dawat-e-Islami delivered Bayans on the topic ‘Dawat-e-Islami and Amir Ahl-e-Sunnat’s sacrifices’ and motivated the attendees (Islamic sisters) to keep associated with the religious environment of Dawat-e-Islami and take part in religious activities practically.


Under the supervision of Dawat-e-Islami, an online Sunnah-inspiring Ijtima’ was conducted in Sweden in the first week of September 2021. Approximately, 18 Islamic sisters had the privilege of attending the spiritual gathering.

Zimmadar Islamic sister (Majlis short courses) delivered a Bayan on the topic ‘wise preacher’ and explained the attendees (Islamic sisters) the manner and importance of ‘call towards righteousness’. Moreover, she motivated them to attend the weekly Sunnah-inspiring Ijtima’ with punctuality and fulfil the booklet, ‘Nayk A’maal’.


Under the supervision of Dawat-e-Islami, a monthly religious Halqah was conducted in Oslo, Norway in previous days. Approximately, 11 Islamic sisters had the privilege of attending the spiritual Halqah.

Alami Majlis Mashwarat (Majlis Islah-e-A’maal) delivered a Sunnah-inspiring Bayan and conducted a revision of the questions and answers of Madani Muzakrah. Moreover, she taught the attendees (Islamic sisters) the method of Wudu and persuaded them to improve the religious activities of Dawat-e-Islami.


Under the supervision of ‘Majlis short courses’, a Madani Mashwarah of Zimmadar Islamic sisters was conducted in West Midlands Kabinah, Birmingham Region (UK) in previous days. Division Zimmadar Islamic sisters had the privilege of attending the spiritual Mashwarah.

Kabinah Zimmadar Islamic sister explained the attendees (Islamic sisters) the Madani points regarding the course, namely ‘exegesis of Surah al Mulk’ and gave the Ahdaaf [targets] of conducting this course in their divisions.


On the occasion of ‘Dawat-e-Islami Day’, online Sunnah-inspiring Ijtima’at were conducted in Ireland Region, UK. Approximately, 32 Islamic sisters had the privilege of attending the spiritual gathering.

The female preachers of Dawat-e-Islami presented the ‘introduction of Dawat-e-Islami’ and gave the attendees (Islamic sisters) the mindset of keeping associated with the religious environment of Dawat-e-Islami and improving the religious activities.


On the occasion of ‘Dawat-e-Islami Day’, an online Sunnah-inspiring Ijtima’ was conducted in West London Kabinah, London Region (UK). Approximately, 42 Islamic sisters had the privilege of attending the spiritual gathering.

The female preachers of Dawat-e-Islami presented the ‘introduction of Dawat-e-Islami’ and gave the attendees (Islamic sisters) the mindset of keeping associated with the religious environment of Dawat-e-Islami and improving the religious activities.