مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت محمد
اقبال، جامعۃ المدینہ موسی لین کراچی
اکثر اوقات دل
ایک لمحہ کی توجہ سے جیتے جاتے ہیں! متكلمين وسامعين! یاد رکھئے کہ گفتگو صرف
الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوتی بلکہ دلوں کی ملاقات ہوتی ہے۔ مخاطب کو اہمیت دینا اسکی
بات کو توجہ سے سننا اور اسکے احساسات کا احترام کرنا اسلامی اخلاق کا روشن نمونہ
ہے کہ انسان جب خود کو قابل توجہ محسوس کرتا ہے تو دل کھلتا ہے، محبت بڑھتی ہے،
اور تعلق مضبوط ہوتا ہے اسيطرح مخاطب بھی ان تمام حسين احساسات کا امیدوار ہوتا ہے
کہ اگر مخاطب کو نظر انداز کر دیا جائے تو دین کی اشاعت وتبليغ و تدریج کس طرح
ممكن ہوگی ؟ جو کہ سنت انبيا و صحابہ واولیاء الله ہے۔
لہذا متکلم
ومبلغ کو چاہیے کہ وہ مخاطب کے فکری، علمی اور ذہنی پس منظر کو سمجھے۔ رسول اللہ ﷺ
کی سیرت ہمیں اس اصول کی کامل مثال فراہم کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے ہر فرد، قوم یا قبیلے
کو اس کے مزاج، علمی درجے اور ذہنی افق کے مطابق دعوت دی۔
رسول اللہ ﷺ کی
سیرت طیبہ میں حکمت عملی کی بےشمار مثالیں ہیں۔ جیسا کہ ایک نوجوان نبی کریم ﷺ کے
پاس آ کر زنا کی اجازت طلب کرتا ہے۔ صحابۂ کرام اسے جھڑکنے لگے لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسے قریب بلایا، نرمی سے سوالات کیے:کیا تو
یہ اپنی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کے لیے پسند کرے گا؟ نوجوان نے ہر بار نہیں کہا،
تو آپ نے فرمایا:تو بھی دوسروں کے لیے وہی پسند کر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (2)
یہ اسلوب
نفسیاتی اور ذہنی درجہ فہم کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کیا گیا۔ (3)
مبلغ کا شخصی
کردار مدعو کے ذہنی رویوں کو بدلنے میں اہم رول ادا کرتا ہے، کیونکہ دعوت دین یا
دعوت عمل دونوں ہی گویا کردار سازی کرنا ہے؛ مبلغ کا کردار ہی مدعو کےلیے نمونہ
نہیں ہوگا تو اس کی دعوت بے فیض اور رسمی ہوکر رہ جائے گی۔
مخاطب کو حق
پر لانے میں، داعی کا یہ خیال ہونا چاہئے کہ مخاطب کو کمتر نہ سمجھے بلکہ عاجزی اور
احترام کے ساتھ معاملہ کرے، کیونکہ تکبر دعوتی کام میں رکاوٹ بن سکتا ہے، لہذا
ہمیں ان تمام ظاہری و باطنی اسباب جیسے تکبر حسد ریاکاری، حب جاہ ومدح و خود پسندی
جیسی سنگین بیماریوں کی طرف غور کرنا چاہیے کہ کہیں یہ سب اسباب کسی کو نظر انداز
کرنے اور توجہ نہ دینے اور دین کی تبلیغ میں رکاوٹ کا سبب تو نہیں بن رہے اگر ایسا
ہے تو ہمیں ان اسباب سے خلاصی حاصل کرنے کیلئے ہمیں چاہیے کہ خوب علم دین حاصل
کریں اور اس پر عمل کرنے کی کوششیں کرتے رہیں اور خوب دعائیں کریں۔
الله كريم سے
دعا ہے کہ ہمیں اخلاص کے ساتھ دین کی تبلیغ و اشاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
بجاه خاتم النبیین ﷺ
حوالہ
جات:
(1)
پ14،النحل: 125
(2)مسند امام احمد،8/285،
حدیث:22274
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت محمد انور،
جامعۃ المدینہ جھمرہ سٹی فیصل آباد
انسان کی فطری
خواہش میں سے ہے کہ اس کی بات کو اہمیت دی جائے توجہ سے سنا جائے، گفتگو میں مخاطب
کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے قرآن کریم میں حضرت
لقمان رضی اللہ عنہ کی نصیحت کو ذکر کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو فرمائی
چنانچہ فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ
فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک
الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔
اس آیت مبار
کہ سے گفتگو کرنے کا انداز صاف جھلک رہا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کو حقیر
جانتے ہوئے اس کی طرف سے رخ پھیرنا متکبرین کا طریقہ ہے لہذا گفتگو کے آداب میں سے
ہے کہ مخاطب کی بات کو خوب توجہ سے سنے اور صرف اپنی ہی نہ کہتا چلا جائے زبان
سامنے والے کے منہ میں بھی ہے، یہ پیش نظر رکھئے اور اس کی بھی سنئے کیونکہ گفتگو
اسی کا نام ہے کہ کبھی ایک بولے اور دوسرا سنے تو کبھی دوسرا بولے اور پہلا سنے۔
اگر آپ اپنی ہی سناتے چلے جائیں گے تو وہ دوبارہ آپ کو دیکھتے ہی راستہ بدل سکتا
ہے۔
نظر
انداز کرنے کی مثالیں: بات توجہ سے نہ سننا، بات کاٹ کر اپنی بات شروع
کردینا، ا چھا کام کرنے پر سراہنے کی بجائے حوصلہ شکنی کرنا، درست مشورہ قبول نہ
کرنا، اپنی غلط رائے کو بھی درست ثابت کرنے کی کوشش کرنا وغیرہ۔
نظر
انداز کرنے کی وجوہات اور ان کا حل: نظر انداز کر نے کی سب سے بڑی وجہ خود
پسندی ہے لہذا خود پسندی تکبر اور دوسروں کو حقیر جاننے جیسی بری صفات سے بچے اور
حدیث مبارکہ میں موجود ان کی مذمت کو پیش نظر رکھے، چنانچہ الله کے محبوب ﷺ کا
فرمان ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادم ہونے
والا الله کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خود پسندی کرنے والا الله کی ناراضگی کا
منتظر ہوتا ہے۔(شعب الایمان، 5/436، حدیث: 7178)
سیرت کے
پہلوؤں کو بھی پیش نظر رکھے اور دوسروں کو خود کمتر خیال کرنے سے بچنے کا ذہن
بنائے۔ ترغیب کے لئے یہاں لوگوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے سید المرسلین ﷺ کی سیرت
کے چند پہلو ملاحظہ ہوں، چنانچہ قاضی عیاض مالکی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں:
تاجدار رسالت ﷺ لوگوں سے الفت فرماتے اور ان سے نفرت نہ کرتے تھے۔ آپ ہر قوم کے با
اخلاق فرد کی عزت فرماتے اور اسے اس کی قوم پر حاکم مقرر کر دیتے تھے۔ (بداخلاق)
لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا خوف دلاتے، ان سے احتراز فرماتے، نہ یہ کہ ان سے منہ پھیر
لیں اور بد اخلاقی سے پیش آئیں۔ آپ کی بارگاہ میں حاضر کوئی شخص یہ گمان نہیں کرتا
تھا کہ کوئی اور بھی اس سے بڑھ کر آپ کے نزدیک عزت والا ہے۔ جو شخص بھی آپ کے پاس
بیٹھتا یا کسی ضرورت سے زیادہ قریب ہوتا تو آپ صبر فرماتے یہاں تک کہ وہ شخص خود
ہی اٹھ کر چلا جاتا۔ جو شخص بھی اپنی حاجت کے لئے آپ سے سوال کرتا تو اسے دے کر
بھیجتے یا اس سے نرم بات کرتے۔ غرض یہ کہ آپ کا اخلاق اس قدر وسیع تھا کہ وہ تمام
لوگوں کا احاطہ کئے ہوئے تھا۔ (الشفا، 1/120)
نظر
انداز کرنے کے دینی اور دنیاوی نقصانات: اپنے دلی حسد یا تکبر کی بنا پر
اپنے سے کم درجہ شخص کی بات کو اہمیت نہ دینا اللہ اور اس کےرسول کی ناراضگی کا
باعث ہے اور جب دوسروں کو ترجیح نہیں دی جائیگی تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس کی
بھی بات سننے کو کوئی تیار نہیں ہوگا اور لوگوں کی نظر میں اس کی کوئی عزت نہ ہوگی
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مخاطب کی بات توجہ سے سننا حقوق العباد میں سے ہے لہذا حق
عبد ضائع کر نے اور مسلمان کی دل آزاری کرنے کا وبال لازم آئے گا۔
اگر
کوئی ہمیں نظر انداز کرے تو کیا کریں؟ جس جگہ آپ کی عزت نہ ہو بات کو
اہمیت نہ دی جائے وہاں سے اٹھ جائیں وہ آپ کا مقام ہی نہیں اور دوبارہ اس جگہ نہیں
جانا چاہیے۔
ہاں اگر کوئی
نیکی کی دعوت دیتے ہوئے نظر انداز کیا جائے اور اس کی دعوت کو قبول نہ کرے تو مبلغ
کو چاہیے کہ وہ اپنی کوشش جاری رکھے اور اللہ پاک پر توکل کرے اور یہ یاد رکھے کہ
وہ کس نبی ﷺ کا امتی ہے انہوں نے نیکی کی دعوت کو پھیلانے کیلئے کس قدر تکالیف کا
سامنا کیا لیکن پھر بھی مد مقابل سے ہمیشہ درگزر فرمایا۔
اللہ پاک ہمیں
حضور ﷺ کی سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت محمد
ارشد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
انسان کی فطری
خواہشات میں سےہے کہ اس کی بات کو اہمیت دی جائے اسکی بات کو توجہ سے سنا جائے بات
کرنے والےکو نظر انداز کرنا اخلاقی طور پر برا رویہ ہے یہ بات اسلامی تعلیمات کے
خلاف ہےہمیں اس طرح مخاطب کونظرانداز نہیں کرنا چاہیے نظر انداز کرنا صرف یہ ہی
نہیں کہ اس کی بات کو اہمیت نہ دینا بلکہ اس کی چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔
کسی کی بات کو اچھی طرح نہ سننا، اچھےکام پر
حوصلہ افزائی کی بجائے اس کی حوصلہ شکنی کرناہے، اگر وہ کسی بھی قسم کا مشورہ دے تو قبول نہ کرنا،
اسکی عزت نفس کاخیال نہ رکھنا
خودپسندی کی وجہ سے بات نہ سننا وغیرہ۔
کسی
کونظرانداز کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ شخص خودپسندی کا شکار ہے لہذا
تکبر،انا،حسد،وغیرہ کی وجہ سے بھی دوسروں کو اہمیت نہیں دی جاتی۔
نظر
انداز کرنے کےبارے میں مذمت:
قران پاک میں
سورت لقمان میں ارشاد ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ
فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل،
بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔
تفسیر صراط
الجنان میں ہے: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر) یہاں سے حضرت
لقمان کی وہ نصیحت ذکر کی گئی ہے کہ جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے
حوالےسے فرمائی چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے! جب آدمی بات کرے تو تکبر کرنے والوں
کی طرح انہیں حقیر جان کران کی طرف سے رخ پھیر لینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا
بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنا اور زمین پر
اکڑتے ہوئے نہ چلنا بے شک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والاکوئی بھی شخص اللہ کو پسند
نہیں۔ (مدارک، ص 919- خازن، 3/ 471ملتقطا)
اکڑ
کی وجہ سے نظر انداز کرنے کی مذمت: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے: جو آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور اکڑ کر چلتا ہے وہ اللہ سے اس طرح
ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔ (مسند امام احمد، 2/461، حدیث:6002)
اس سے معلوم
ہوا کہ کوئی شخص امیر ہویا غریب اسےحقیر نہیں جاننا چاہیے اور اچھے انداز میں اس
سے بات کرنی چاہیے کسی کو حقارت کی نظر سے دیکھنا تکبر کی علامت ہے ان وجوہات کی
بنا پر اسے نظر انداز کرنا اخلاقی طور پر برا رویہ ہے۔
ذاتی
کمال پر فخر کرنے وعید: یاد رہے کہ اندرونی عظمت پر اکڑنا فخر ہےجیسے حسن،خوش
آوازی،نسب اور بیرونی عظمت پر اکڑنا اختیال ہے جیسےنوکر،مال وغیرہ۔
ان تمام چیزوں
کی وجہ سےکسی کم درجے والے کو نظرانداز کرنے سے منع کیا گیا ہے یہ چیزیں رب کی عطا
کی ہوئی ہیں اور وہ جب چاہے لے لے، تاجدارِ رسالت ﷺ لوگوں سے الفت فرماتے ان سے
نفرت نہ کرتے۔
خودپسندی کی
وجہ سے لوگوں کو نظرانداز کرنے کے بارے میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: فَلَا تُزَكُّوْۤا
اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲) (پ 27، النجم:
32) ترجمہ: تو اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں۔
حدیث پاک میں
ہے: گناہوں پرنادم ہونےوالا اللہ کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خودپسندی کرنے
والا اللہ کی ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے۔ (شعب الایمان، 5/436، حدیث: 7178)
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت علی
احمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
مخاطب سے
گفتگو کرنا ایک فن ہے جو کہ ہر کسی کو آتا نہیں ہے۔ اگر آپ مخاطب سے صحیح طریقے سے
گفتگو کریں گے تو آپ مخاطب کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں لیکن جب آپ مخاطب کو نظر
انداز کرتے ہیں تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ آپ اسے اہمیت نہیں دے رہے۔ قرآن شریف میں
رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ
فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل،
بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔
یہاں سے حضرت
لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی
اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو
تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ
اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنااور
زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ
تعالیٰ کو پسند نہیں۔ (مدارک، ص 919-
خازن، 3/471 ملتقطاً)
مخاطب
کو نظر انداز کرنے کے نقصانات:
1۔
بےعزتی: جب
آپ مخاطب کو نظر انداز کرتے ہیں تو اس کی عزت کو نقصان پہنچتا ہے۔ مخاطب کو محسوس
ہوتا ہے کہ آپ اس کی بات کو اہمیت نہیں دیتے ہیں۔
2۔
تعلقات میں بگاڑ: مخاطب
کو نظر انداز کرنے سے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ مخاطب آپ سے دور ہو جاتا ہے اور آپ کے
ساتھ بات کرنے سے گریز کرتا ہے۔
3۔
حوصلہ شکنی: مخاطب
کو نظر انداز کرنے سے اس کی خود اعتمادی کم ہوتی ہے۔ مخاطب کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ
کسی قابل نہیں ہے۔
4۔
قلبی بیزاری: مخاطب
کو نظر انداز کرنے سے اس کے دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔ مخاطب آپ سے نفرت کرنے لگتا
ہے اور آپ کے خلاف ہو جاتا ہے۔
مخاطب
کو نظر انداز نہ کرنے کے طریقے: مخاطب کی بات کو سننے کی کوشش کریں
اور اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔مخاطب کے ساتھ احترام سے پیش آئیں اور اس کی
عزت کریں۔ مخاطب کی بات کو رد نہ کریں بلکہ اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور
اس پر اپنی رائے دیں۔ مخاطب کے ساتھ گفتگو میں صبر کریں اور اس کی بات کو سننے کی
کوشش کریں۔
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت صغیر احمد بھلی،فیضان
ام عطار گلبہار سیالکوٹ
انسان کی سب
سے حساس جگہ دل ہے اور دل کو زخمی کرنے کے ہزار طریقوں میں سے
سب سے خاموش
مگر سب سے تیز وار کسی کو نظر انداز کرنا ہے۔ اکثر اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے
کوئی برا لفظ نہیں کہا کوئی سخت جملہ نہیں بولا لہٰذا ہم نے کسی کا دل نہیں توڑا۔ لیکن
حقیقت یہ ہے کہ کئی بار لفظوں سے زیادہ خاموشی نقصان کرتی ہے۔ کسی کو مفہوم دے
دینا کہ وہ اہم نہیں اس کی بات کی قدر نہیں اس کی موجودگی معنی نہیں رکھتی یہ بھی
دل آزاری کی شدید شکلوں میں سے ایک ہے۔ اسی لئے دین اسلام میں انسان کے احترام، اس
کی عزت، اس کے احساسات اور اس کی توجہ کی قیمت مقرر ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی
تعلیمات میں مسلمان کے ساتھ حسن سلوک، نرم روی اور عزت دینے پر بار بار تاکید ملتی
ہے۔
اسی بنیاد پر مخاطب
کو نظر انداز کرنا صرف اخلاقی غلطی نہیں بلکہ ایک ایمان related
چیز ہے۔ اور اسی حقیقت کو مضبوط کرنے کیلئے ہمارے سامنے ایک حدیث مبارکہ پیش کی
جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان
محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 10)
کسی کو نظر
انداز کرنا لفظوں کی چوٹ سے بھی زیادہ تکلیف دیتا ہے، کسی کی کسی کی گفتگو، درد،
پیغام، احساس یا موجودگی کو ignore کرنا اسے یہ feel
کروانا ہوتا ہے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ایک مسلمان
دوسرے مسلمان کے ساتھ عزت احساس اور توجہ کے ساتھ پیش آئے۔ لہذا مخاطب کو اگنور
کرنا بھی اس کے دل کی تکلیف میں شامل ہے اور یہ بھی ایذا کی ایک شکل ہے اس لیے جب
کوئی آپ سے بات کرے تو present رہیں، توجہ دیں، آگے سے جواب
دیں اور اسے یہ احساس ضرور دیں کہ وہ اہم ہے، کیونکہ کبھی کسی کا صرف سنجیدہ جواب اس
کے اندر ٹوٹنے کو روک دیتا ہے۔
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از اخت ثناء
اللہ،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
کلام کرنے والے کو مخاطب کہتے ہیں۔ مخاطب کی بات کو مکمل توجہ سے سننا،
سمجھنا اور مثبت انداز میں جواب دینا اچھے اخلاق میں شامل ہے جبکہ مخاطب کو نظر
انداز کر نا منہ موڑ لینا انسان کی عظمت کے خلاف اور مکروہ کام ہے شریعت میں
بلاوجہ ایسا کرنے کو سخت ناپسندیدہ کیا گیا ہے قرآن واحادیث میں ایسا کرنے والے کی
وعید بھی بیان کی گئی ہے چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ
لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار
ٹیڑھا نہ کر۔
اس آیت کی
تفسیر میں صراط الجنان میں ہے کہ کسی کو حقیر جان کر اس کی طرف سے رخ پھیر لینے
والا طریقہ احتیار نہ کرنا یہ تکبر کی علامت ہے اور اللہ تکبر کو پسند نہیں فرماتا۔
نیز یہ کام
سنت کے بھی خلاف ہے کہ کلام کرنے والے کو نظر انداز کیا جائے اس کی طرف سے رخ پھیر
لیا جائے۔
صحابہ کرام
بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پوری طرح متوجہ ہو کر بات سنتے تھے۔ (ابن ماجہ، 4/210،
حدیث: 3716)
نیز صحابہ
کرام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سے مصافحہ یا گفتگو کرتے تو پورے جسم کے
ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔
آج کل ہمارے
معاشرے میں اس طریقے کو بہت فروغ دیا جا رہا ہے بعض اوقات محض انا تکبر کی وجہ سے
لوگ ایسا کرتے ہیں جو کہ ناجائز ہے سنت پر عمل کرتے ہوئے معاشرے سے اس چیز کو ختم
کیا جانا چاہیے یہ ایک انتہائی مذموم فعل ہے۔
اللہ کریم سے
دعا ہے ہمیں بلاوجہ شریعت نظر انداز کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت رزاق احمد،
جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
انسان ایک
سماجی مخلوق ہے، جسے دوسروں کے ساتھ تعلقات میں زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ کسی بھی
معاشرے میں باہمی ربط و ضبط، حسن سلوک، گفتگو کا سلیقہ، اور مخاطب کا احترام وہ
بنیادی ستون ہیں جن پر ایک خوشحال اور مہذب معاشرہ قائم ہوتا ہے۔
لیکن افسوس کہ
موجودہ دور میں ہم ایک ایسی روش کو اختیار کر چکے ہیں جو اسلامی تعلیمات سے سراسر
متصادم ہے۔ ہم نہ صرف دوسروں کو سننے سے کتراتے ہیں بلکہ بعض اوقات ایسا رویہ
اختیار کرتے ہیں جو سامنے والے کے وجود کو ہی نظر انداز کر دیتا ہے۔
اسلام ہمیں
سکھاتا ہے کہ مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے۔ یہ محض ایک سماجی آداب کی بات نہیں،
بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور انسانیت پر مبنی اصول ہے۔
قرآن
مجید کی روشنی میں:
1۔
حسن گفتار اور دوسروں کو اہمیت دینا: وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ
مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ- (پ 5، النساء:86)
ترجمہ کنز الایمان: اور جب تمہیں کوئی کسی طرح سلام کرے تو تم اس سے بہتر طریقہ پر
جواب دو یا وہی لوٹا دو۔
یہ آیت ہمیں
بتاتی ہے کہ نہ صرف سلام کا جواب دینا لازم ہے، بلکہ بہتر طریقے سے دینا بہتر ہے۔
اگر سلام کا جواب نہ دیا جائے، یا مخاطب کو نظر انداز کر دیا جائے، تو یہ اسلامی
تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔
2۔
ملنے والے کی طرف چہرہ رکھئے: پارہ 21سورۃ لقمٰن آیت18میں ارشاد
الٰہی ہے: وَ
لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار
ٹیڑھا نہ کر۔حضرت علامہ سیدنعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کی
تفسیر میں لکھتے ہیں: جب آدمی بات کریں تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان
کو) حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرنا، جیسا متکبرین (یعنی مغروروں) کا طریقہ
ہے، اختیار نہ کرنا، غنی و فقیر(یعنی امیر وغریب) سب کے ساتھ بتواضع (یعنی عاجزی
سے) پیش آنا۔ (خزائن العرفان، ص 761)
حضرت علامہ
اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام وکلام
اورملاقا ت کے وقت بطور تواضع(یعنی عاجزی کے طور پر) اپنا پورا چہرہ لوگوں کے
سامنے لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ اس کا کچھ حصہ چھپائیے، متکبرین کی عادت
ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ہی حقار ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقراو مساکین کو
غصے سے دیکھتے ہیں، بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچّھے سلوک کے معاملے میں
برابر ہوں۔ (روح البیان، 7/84)
اعلی حضرت
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
شربت
نہ دیں نہ دیں وہ کریں بات لطف سے یہ
شہد ہو تو پھر کسے پروا شکر کی ہے
مخاطب کو نظر
انداز کرنا بعض اوقات غرور اور تکبر کی علامت بن جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم
خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں، جو کہ اسلامی اخلاقیات کے سراسر خلاف ہے۔
معاشرتی
پہلو:
1۔
تعلقات میں دراڑ: جب
ہم کسی کو نظر انداز کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس شخص کی دل آزاری ہوتی ہے بلکہ باہمی
تعلقات میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔ خاندان، دوست، ہمسائے، یا دفتری ساتھی سب ہماری توجہ
اور احترام کے مستحق ہیں۔
2۔
ذہنی صحت پر اثرات: کسی کو مسلسل نظر انداز کرنا اس کی ذہنی صحت پر برا
اثر ڈال سکتا ہے۔ ایسے لوگ خود کو غیر اہم، ناپسندیدہ اور تنہا محسوس کرنے لگتے
ہیں، جو کہ ڈپریشن اور اضطراب کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
3۔
نفرت اور بدگمانی: نظر انداز کیا جانا اکثر نفرت اور بدگمانی کو جنم
دیتا ہے۔ ایک چھوٹی سی بات یا رویہ بڑے فتنے کا سبب بن سکتا ہے، جسے قرآن نے بارہا
منع کیا ہے۔
انسان کی
بنیادی ضروریات میں سے ایک یہ ہے کہ اسے سنا جائے اور اہمیت دی جائے۔ ماہرین
نفسیات کے مطابق کسی کو سننا محبت کی ایک قسم ہے۔ جب ہم کسی کو سننے سے انکار کرتے
ہیں یا مسلسل اسے نظر انداز کرتے ہیں تو درحقیقت ہم اس کی شخصیت کو مجروح کر رہے
ہوتے ہیں۔
مخاطب
کو اہمیت دینے کے عملی طریقے: جب کوئی بات کر رہا ہو تو اس کی طرف
متوجہ ہو کر دیکھنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ اس کی بات سن رہے ہیں۔ بات کاٹنے سے
گریز کریں، مخاطب کی بات مکمل ہونے دیں، چاہے آپ کو اس سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔ جواب
ضرور دیں، کسی کی بات کا جواب نہ دینا، یا صرف خاموش رہنا اس کی توہین کے مترادف
ہے۔ کم از کم سر ہلا کر یا مختصر لفظوں میں جواب دینا ضروری ہے۔ موبائل یا دیگر
مشغلے چھوڑ دیں، جب کوئی بات کر رہا ہو، تو موبائل یا دیگر کاموں میں مشغول رہنا
نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: بیشک تم میں سے مجھے سب سے زیادہ پیارے اور قیامت کے دن میرے نزدیک تر وہ
لوگ ہو ں گے جو تم میں سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہیں۔ اور تم میں سے مجھے سب سے
زیادہ ناپسند اور قیامت کے دن مجھ سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو برے اخلاق والے
ہیں، جو زیادہ باتیں کرنے والے منہ پھٹ، باچھیں کھول کر اور منہ بھر کر باتیں کرنے
والے ہیں۔ (شعب الایمان، 6/234، حدیث: 7989)
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو انسان کو عزت، احترام اور حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ مخاطب کو نظر
انداز کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ غیر اسلامی بھی ہے۔ ہمیں اپنے رویوں پر نظر
ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم چاہے جتنے بھی مصروف ہوں، جتنے بھی تھکے ہوں، کسی کو
نظر انداز کرنا ایک منفی عمل ہے، جو آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کرتا ہے۔
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از نور فاطمہ،
جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
گفتگومیں
مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے، ارشاد باری
تعالیٰ ہے: وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ
اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ
یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴) (پ 4،
آل عمران: 104) ترجمہ کنز الایمان: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی
کی طرف بلائیں اور اچّھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں اوریہی لوگ مراد کو
پہنچے۔
سارے مسلمان
مبلغ ہیں، سب پر ہی فرض ہے کہ لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم دیں اور بری باتوں سے
روکیں۔ (تفسیر نعیمی، 4/72)
حضرت قبلہ
مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر نعیمی میں بخاری شریف کی یہ حدیث پاک نقل
کی ہے کہ محسن انسانیّت ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری طرف سے پہنچا دو اگر چہ ایک ہی
آیت ہو۔ (بخاری، 2/462، حدیث: 3461)
مفسّر شہیر
حکیم الامّت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ
رحمۃ الحنّان مزید فرماتے ہیں: اسلام میں تبلیغ بڑی ا ہم عبادت ہے کہ تمام عبادتوں
کا فائدہ خود اپنے کو(یعنی اپنی ذات کو) ہوتا ہے مگر تبلیغ کا فائدہ دوسروں کو
بھی۔ لازم (یعنی صرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے والے عمل)سے متعدی(ایسا عمل جو
دوسروں کو بھی فائدہ دے وہ) افضل ہے۔
حضرت حسن بصری
فرماتے ہیں کہ جو اچّھی باتوں کا حکم دے،برائیوں سے روکے وہ اللہ تعالی کا بھی
خلیفہ ہے، اس کے رسول کا بھی اوراس کی کتاب (یعنی قرآن کریم)کا بھی۔
امیرالمومنین حضرت
مولائے کائنات علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تبلیغ بہترین جہاد
ہے۔ (تفسیر کبیر، 3/316) جیسے تبلیغ
کرنا بہترین عباد ت ہے ایسے ہی تبلیغ چھوڑ دینا بدترین جرم اور چھوڑنے والا ذلیل
وخوار۔ (تفسیر نعیمی، 4/72)
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: وَ
لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل،
بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔
یہاں حضرت
لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی
اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو
تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ
اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنااور
زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص
اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ (مدارک، ص 919-
خازن، 3/471 ملتقطاً)
کسی شخص کو
حقیر نہیں جاننا چاہئے کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ
جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے
بات چیت کرنی چاہئے۔غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے
دوران ایسا انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح امیر لوگوں
کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب تکبر کی علامات ہیں،ان سے ہر ایک کو بچنا چاہئے۔حدیث
پاک میں بھی اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے،چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے
حسد نہ کرو،ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرواورسب اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن
جاؤاورکسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کوتین دن سے زیادہ چھوڑے
رکھے۔ (بخاری، 4/117، حدیث: 6065)
محمد
عدنان عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ
فیضان مدینہ ، کراچی، پاکستان )
اللہ پاک کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں سیدھی راہ کی
ہدایت عطا فرمائی اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم پر نازل ہونے والے قرآن میں ہمارے لیے گناہوں اور برائیوں کے اندھیروں سے
نکلنے کے لیے مکمل روشنی اور نور موجود ہے ۔
اسی نور کی ایک کرن یہ بھی ہے کہ خیانت جیسی برائی کی
مذمت بیان فرما کر مومنوں کو اس سے بچنے کا حکم دیا چنانچہ رب کریم ارشاد فرماتا:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورت انفال
پارہ 9آیت 27 )
اللہ پاک نے اس آیت مبارکہ میں بطورِ خاص ایمان والوں کو
مخاطب کرکے تین طرح کی خیانتوں سے منع فرمایا :(1)اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں ہم پر
فرض کی ہیں ان کو چھوڑنے کے ذریعے خیانت نہ کرو۔(2)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی سنتوں کو چھوڑ کر خیانت نہ کرو۔(3)اور آپس کی امانتوں میں خیانت نہ کرو۔
ایک شخص کے لیے اس سے بڑھ کر ناکامی کیا ہوسکتی ہے کہ
اسکا رب ہی اسکو ناپسند کرتا ہواور خیانت کرنے والے کو رب تعالیٰ کو پسند نہیں
فرماتا ۔جیسا کہ ارشاد فرمایا :-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(پارہ 5 سورۃ
النساء آیت 107)
یاد رکھیں!مکار کا انجام خراب ہی ہوتا ہے کہ
قرآن پاک میں ہے:وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ
كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ دغا
بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا ۔(پارہ 12 سورۃ یوسف آیت 52)
تو غور کریں
خیانت کرنے والے کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں تو ایک مسلمان کی شان یہ نہیں ہوسکتی
کہ کسی سے خیانت کرےکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ مؤمن تمام
خصلتوں پر پیدا کیا جاسکتا ہے سوائے جھوٹ اور خیانت کے۔(تفسیر در منثور جلد 4صفحہ
318)
اللہ پاک ہمیں اس بری خصلت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
عظیم
خان (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ ، کراچی، پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق کی
تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں امانت داری کو ایمان کی علامت اور خیانت کو سخت
گناہ قرار دیا گیا ہے۔ خیانت فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہے، اسی لیے
قرآن نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔
خیانت کا مفہوم:خیانت کے معنی ہیں امانت
میں کمی کرنا، وعدہ توڑنا یا اعتماد کو ٹھیس پہنچانا۔ شریعت میں مال، راز، ذمہ داری
اور عہد میں بددیانتی سب خیانت میں شامل ہیں۔
قرآنِ مجید میں خیانت کی ممانعت:اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے:ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور
نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال: 27)
ایک اور مقام پر فرمایا:بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔
(سورۃ الانفال: 58)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ خیانت اللہ تعالیٰ کی ناراضی
کا سبب ہے۔
خیانت اور امانت داری:قرآنِ کریم میں امانت ادا کرنے کا حکم دیا گیا
ہے۔ امانت داری کے بغیر معاشرے میں عدل و اعتماد قائم نہیں رہ سکتا۔
خیانت کا انجام:قرآنِ مجید میں خیانت
کرنے والوں کے انجام کے بارے میں فرمایا گیا:ترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے
وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا (سورۃ آلِ عمران: 161)
قرآنِ مجید کی روشنی میں خیانت ایک سنگین اخلاقی برائی
ہے۔ ایک صالح معاشرے کی بنیاد امانت داری اور دیانت پر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کی
تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہر قسم کی خیانت سے بچیں اور اللہ کی رضا حاصل کریں۔
محمد
ثقلین (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
انسانی
معاشرہ اعتماداور امانت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔جب یہ بنیاد کمزور ہو جائے تو
انسانی معاشرہ بگڑنے
لگتا ہے۔انسانی معاشرے کے بگڑنے کے بہت سے اسباب ہیں جیسے
جھوٹ، غیبت، حسد، بغض، کینہ ،تکبر اور خیانت وغیرہ۔ خیانت انسانی معاشرے کے بگڑنے
کا بہت بڑا سبب ہے خیانت کی مذمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔چنانچہ
سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع
اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔ (مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا
واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)
(1)بڑا دغاباز:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ
-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (پارہ،5 سورۃ النساء، آیت نمبر 107)
(2)اعمال کا پورا پورا بدلا:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا
كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ کنز العرفان: اور
کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو
لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا
بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(پارہ4، سورۃ آل عمران،آیت نمبر
161)
ایک جنگ میں
مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے
لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ:
۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
(3)اللہ جانتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(پارہ
24، سورۃ المؤمن ،آیت نمبر 19)
یَعْلَمُ
خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے۔ آنکھوں کی خیانت
سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں
میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ
دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت
الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)
(4)خیانت نہ کرو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ
کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(پارہ 9، سورۃ الانفال، آیت نمبر 27)
لَا
تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ
کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ
اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
محمد
مبشر (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضانِ مدینہ کراچی، پاکستان )
پیارے اسلامی بھائیو! خیانت ایک ایسا اخلاقی جرم ہے جو
فرد، خاندان، معاشرہ اور امت کے اعتماد کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔ یہ صرف امانت میں
بددیانتی ہی نہیں بلکہ قول، فعل، نیت، وعدہ، اور تعلقات میں بھی جھلک سکتی ہے۔
قرآن و حدیث میں خیانت کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، کیونکہ یہ عمل انسان کی
شخصیت کو داغدار کر دیتا ہے اور دوسروں کے اعتماد کو توڑ دیتا ہے۔ جب ایک فرد خیانت
کرتا ہے تو وہ نہ صرف اللہ کی نافرمانی کرتا ہے بلکہ انسانی رشتوں کی حرمت کو بھی
پامال کرتا ہے۔ چاہے معاملہ مال کا ہو، راز داری کا ہو، یا رشتوں کا خیانت ہر صورت
میں ناپسندیدہ اور نقصان دہ ہے۔ایک دیانت دار معاشرہ ہی بااعتماد، باوقار اور ترقی
یافتہ ہو سکتا ہے، جبکہ خیانت معاشرتی انتشار، بداعتمادی اور اخلاقی زوال کی علامت
ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے معاملات، وعدوں، تعلقات اور ذمہ داریوں میں
امانتدار رہیں، اور خود کو ہر طرح کی خیانت سے محفوظ رکھیں۔پیارے اسلامی بھائیو !اللہ
تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ خیانت کرنے سے دور رہنے کا حکم ارشاد فرمایا
چنانچہ ان میں سے کچھ آیات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں:
(1) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل
عمران:161)
(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(انفال:27)
(3) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان:
اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک
اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء:107)
پیارے اسلامی بھائیو!خیانت نہ صرف ایک اخلاقی برائی ہے
بلکہ یہ انسان کے ایمان اور کردار پر بھی سوالیہ نشان چھوڑتی ہے۔ ایک دیانت دار
انسان دوسروں کے لیے باعثِ اطمینان ہوتا ہے، جبکہ خائن شخص پر نہ دنیا اعتماد کرتی
ہے نہ آخرت میں اس کے لیے کامیابی کی کوئی ضمانت ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر
معاملے میں سچائی، امانتداری اور وفاداری کو اپنا شعار بنائیں، تاکہ نہ صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا حاصل ہو بلکہ ایک صالح، پرامن اور بااعتماد معاشرے کی بنیاد بھی
مضبوط ہو۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں امامت دار ، صالح مؤمن بنائے( آمین)۔
Dawateislami