انسان کی فطری خواہشات میں سے ہے کہ اس کی بات کو اہمیت دی جائے اور توجہ کے ساتھ سنا جائے گفتگو میں مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے جیسا کہ حضرت لقمان حکیم کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی نصیحت اللہ پاک نے قرآن کریم میں سورہ لقمان آیت نمبر 18 میں بیان فرمائی ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

لوگوں کو حقیر جاننا، ان سے منہ موڑنا، انہیں نظرانداز کرکے ان کی تذلیل کرنا اسلام کی تعلیمات نہیں بلکہ ہمارا دین تو بہت پیارا دین ہے جو ہمیں احترام مسلم سکھاتا اور ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی عزت کا محافظ بناتا ہے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا: مسلمان کی سب چیزیں مسلمان پر حرام ہیں؛ اس کا مال اور اس کی آبرو اور اس کا خون، آدمی کو برائی سے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ (ابو داود، 4/354، حدیث: 4882)

نیز ایک اور حدیث مبارکہ میں فرمایا: مومن اللہ کے نزدیک فرشتوں سے زیادہ عزت رکھتا ہے۔ (شعب الایمان، 1/174، حدیث: 152)

کسی کو نظر انداز کرنے کا سبب تکبر بھی ہو سکتا ہے نیز اس کی ایک سب سے بڑی وجہ وہ خودپسندی ہے، چنانچہ متکبرین کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) 14، النحل: 23) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔

اسی طرح فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے: اللہ پاک متکبرین (یعنی مغروروں) کو اور اترا کر چلنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (کنز العمال، 3/210، حدیث: 7727)

اسی طرح خودپسندی کی مذمّت پر ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْؕ-(پ 27، الحدید: 23) ترجمہ کنز العرفان: اور اس پر اتراؤ نہیں جو تمھیں اللہ نے دیا۔

نیز فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے: اگرچہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف اور وہ عجب ہے، عجب یعنی خودپسندی۔ (احیاء العلوم، 3/453)

یہاں خود پسندی کا ایک علاج پیش خدمت ہے: خود پسندی اور تکبر انسان میں جسمانی خوبصورتی, مال و دولت، اعلی نسب، اور قوت و طاقت وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے انسان کو چاہیے کہ وہ اس بات میں غور و فکر کرے کہ اس میں اسکا اپنا کوئی کمال نہیں بلکہ اسے یہ نعمت اللہ پاک نے عطا فرمائی ہے اور اللہ پاک جب چاہے نعمت واپس لے لے وہ ہر چیز کا مالک ہے اپنی ملکیت میں جیسے چاہے تصرف فرمائے لہذا ہمیں اللہ پاک کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں یہ نعمت عطا فرمائی پس جب انسان کے پیش نظر یہ بات ہوگی اس میں سے تکبر اور خودپسندی جاتی رہے گی اور احترام مسلم نصیب ہوگا۔ انشاء اللہ الکریم

اسلام ایک ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو ہر میدان میں سچائی، دیانت داری اور امانت کا درس دیتا ہے۔ یہ دین صرف عبادات پر نہیں، بلکہ اعلیٰ اخلاق پر بھی قائم ہے۔ انہی اخلاقی خوبیوں میں سے ایک اہم صفت "دیانت" ہے، اور اس کی ضد "خیانت" ہے، جس کی قرآن کریم میں بار بار سخت مذمت کی گئی ہے۔

خیانت صرف مال یا امانت میں بددیانتی نہیں، بلکہ وعدے، ذمہ داری، اور علم میں بھی خیانت شامل ہے۔ یہ ایسا گناہ ہے جو نہ صرف انسانی اعتماد کو تباہ کرتا ہے بلکہ ایمان کو بھی مجروح کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے خیانت کو اللہ اور رسول کی نافرمانی کے مترادف قرار دیا ہے اور مومنوں کو اس سے واضح طور پر منع فرمایا ہے۔

خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔

خیانت کا حکم: ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

قرآنِ مجید میں خیانت کو نہایت سخت گناہ قرار دیا گیا ہے اور مختلف مقامات پر اس کی مذمت کی گئی ہے، کیونکہ یہ معاشرتی بگاڑ، اعتماد کی تباہی اور ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔

(1)اللہ اور رسول کے ساتھ خیانت کی ممانعت :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال (8:27)

اس آیت میں خیانت کو اللہ و رسول کی نافرمانی کے برابر قرار دیا گیا۔

(2)امانتوں کی ادائیگی کا حکم:"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا ترجمہ: یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کو ادا کرو۔(سورۃ النساء (4:58)

(3)خیانت کرنے والوں کا انجام:وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(سورۃ آل عمران:161)

قیامت کے دن خیانت کرنے والے شرمندگی کے ساتھ اپنی خیانت سامنے لائیں گے۔

رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے(اور) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔(بخارى ، 1 /24، حدیث: 33 )

حضور ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔ (مسلم، ص1184 ، حدیث:2865)

حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہےکہ سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند امام احمد ، 4 / 271، حدیث: 12386)

حضرت ابو اُمامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹا اور خیانت کرنے والا نہیں ہو سکتا ۔ (مسند امام احمد، 8 / 276، حدیث: 22232)اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس خیانت جیسے گناہ سے محفوظ فرمائے آمین ثم آمین۔


کسی بھی تعلق یا گفتگو کی بنیاد احترام اور توجّہ پر قائم ہوتی ہے۔ جب آپ کسی سے بات کریں اور وہ آپ کی بات سنے، دیکھے اور آپ کو محسوس کرے تو اس سے دل میں قدر اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے زندگی کے ہر معاملے میں یہ اصول نہایت اہم ہے کہ مخاطب کو ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے۔

‎‎نظر انداز کیا جانا انسان کے دل کو توڑ دیتا ہے۔ یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کی بات یا اس کی موجودگی کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھر، اسکول، دفتر یا کسی بھی ماحول میں جہاں لوگوں سے میل جول ہوتا ہے، وہاں مخاطب کو پوری توجہ دینا خوش اخلاقی ہی نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ توجہ کے چند لمحے نہ صرف دوسرے کے دل کی تسلی بن جاتے ہیں بلکہ تعلقات میں نرمی، قربت اور اعتماد بھی پیدا کرتے ہیں۔

قرآن کریم میں ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

یہاں سے حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنا۔ (مدارک، ص 919- خازن، 3/471 ملتقطاً)

اسلامی تعلیمات بھی یہی سکھاتی ہیں کہ کسی کو نظر انداز کرنا تکبّر اور بے رخی کی علامت ہے، جبکہ لوگوں کو عزت دینا نیکی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا اخلاق تھا کہ جب کوئی بات کرتا تو آپ ﷺ پوری طرف متوجہ ہو کر سنتے، یہاں تک کہ جس طرف سے سوال کیا جاتا، آپ ﷺ اسی سمت رخ فرما لیتے۔ یہ اسوہ ہمیں بتاتا ہے کہ مخاطب کو اہمیت دینا محبت اور اخلاق کا تقاضا ہے۔

اگر کسی وقت مصروفیت یا مجبوری ہو تو بہتر ہے کہ نرمی سے مخاطب کو بتا دیا جائے کہ آپ اس کی بات پوری توجہ سے سننا چاہتے ہیں، مگر اس وقت موقع مناسب نہیں۔ اس طرح نہ دل ٹوٹتا ہے، نہ رشتہ خراب ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ اس بے اعتنائی کا ہے جو دلوں میں فاصلے پیدا کرتی ہے۔

آخر میں یاد رکھئے:آپ کی گفتگو، آپ کی سماعت، آپ کی توجہ یہ سب کسی کے دل کی قدر بن سکتے ہیں۔ لہٰذا ہر بات کرنے والے کو یہ احساس دیجئے کہ وہ اہم ہے، اس کی بات اہم ہے اور اس کی موجودگی قابل احترام ہے۔

خیانت ،امانت و دیانت کی ضد ہے اور نہایت قبیح اور مذموم صفت ہے۔خیانت منافقت کی علامت ہے۔خیانت کی تعریف کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَهُوَ التَّصَرُّفُ فِي الأَمَانَةِ عَلَى خِلَافِ الشَّرْعِ ترجمہ: "شرعی اجازت کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔"

خیانت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ خیانت انسان کے کردار کو مجروح کرتی ہے ،خائن سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔خیانت صرف مال میں نہیں ہوتی بلکہ اللہ پاک نے جو نعمتیں عطا فرمائیں ان کو رضائے الٰہی کے خلاف کاموں میں استعمال کرنا ،کسی نے راز کی بات کی تو اس کا راز فاش کر دینا ،کسی نے مشورہ طلب کیا اسے غلط مشورہ دینا ،کسی کو ذمہ داری سونپی گئی اس ذمہ داری کو صحیح انجام نہ دینا بھی خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔غرض خیانت کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں خیانت کی مذمت میں مختلف قرآنی آیات نازل فرمائی ہیں جیسا کہ :

(1) ارشاد باری تعالیٰ : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (انفال:27)

اس آیت کے تحت صراط الجنان میں ہے :فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے (صراط الجنان،ج 3،ص 543)

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(انفال:58)

(3) مضمون کے شروع میں جیسا کہ بیان کیا گیا کہ اللہ پاک کی نعمتوں کو مرضی الٰہی کے خلاف استعمال کرنا بھی خیانت میں آتا ہے چنانچہ اللہ پاک کی نعمتوں میں سے ایک نعمت آنکھ کی خیانے کو بیان کرتے ہوئے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے۔(المؤمن:19)

آنکھ کی خیانت سے کیا مراد ہے اس بارے میں تفسیر خازن میں ہے: وَهِيَ مُسَارَقَةُ النَّظَرِ إِلَى مَا لَا يَحِلُّ یعنی آنکھ کی خیانت سے مراد یہ ہے کہ اس چیز کی طرف دیکھنا جس کا دیکھنا حلال نہیں۔(تفسیر خازن ،ج 4 ،ص 71 ،المکتبۃ الشاملہ)

(4)خیانت خود تو ایک برا کام ہے ہی بلکہ خائنوں کا ساتھ دینا بھی بر ا کام ہے۔ اللہ پاک نے خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے والوں کی مذمت بھی بیان فرمائی چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء:107)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں۔(صراط الجنان، ج2،ص 296،297)

(5)اللہ پاک خیانت کرنے والوں کا انجام بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :

وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان : اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل عمران:161)

اس آیت مبارکہ کے تحت علامہ عبد اللّٰہ بن محمود نسفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : يَأْتِ بِالشَّيءِ الَّذِي غَلَّهُ بِعَيْنِهِ حَامِلًا لَهُ عَلَى ظَهْرِهِ كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ، أَوْ يَأْتِ بِمَا احْتَمَلَ مِنْ وَبَالِهِ وَإِثْمِهِ۔ یعنی (خائن) بعینہ اس شے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر آئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہو گی جیسا کہ حدیث میں ہے یا اس خیانت کا جو وبال اور گناہ ہے وہ اٹھا کر آئے گا۔(تفسیر النسفی،ج 1،ص 307)

خیانت کے اسباب اور علاج: خیانت کے مختلف اسباب ہیں۔ ذیل میں چند اسباب اور علاج ذکر کیے جاتے ہیں۔

(1)خیانت کا پہلا سبب بد نیتی ہے:اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی نیت درست رکھےاور اپنا یہ ذہن بنائے کہ "اللہ عزوجل میری حسنِ نیت اور ایمان داری کی بدولت دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمانے پر قادر ہے لہذا خیانت کر کے دنیوی و اخروی نقصان کا کیا فائدہ؟۔

(2) خیانت کا دوسرا سبب دھوکہ دینے کی عادت ہے:اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے ذہن میں دھوکہ دہی کے نقصانات کو پیشِ نظر رکھے کہ دھوکہ دینا ایک نہایت قبیح اور برا عمل ہے، دھوکہ دینے والے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براءت کا اظہار فرمایا ہے۔

(3)خیانت کا تیسرا سبب توکل علی اللہ کی کمی ہے: کیونکہ بندہ اپنے کمزور اعتقاد کی بناء پر یہ سمجھتا ہے کہ خیانت کا راستہ اختیار کرنے میں ہی میری کامیابی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اللہ عزوجل پر کامل بھروسہ رکھے اور یہ مدنی ذہن بنائے کہ "دنیا میں جو بھی راستہ اللہ عزوجل کی نافرمانی کا سبب بنتا ہو اس پر چل کر مجھے کبھی بھی کامیابی نہیں مل سکتی، لہذا میں اس خیانت والے راستے کو چھوڑ کر دیانت والے راستے کو اپناوں گا۔"

(4)خیانت کا چوتھا سبب نفسانی خواہشات کی تکمیل ہے:اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے ،اس کے مکر و فریب سے آگاہی حاصل کرے ،اس کی نا جائز خواہشات کو ترک کرنے کا ذہن بنائے اور اس کیلئے کوشش بھی کرے تاکہ خیانت جیسے کبیرہ گناہ سے بچ سکے۔

(5)خیانت کا پانچواں سبب مسلمانوں کو نقصان دینے کی عادت ہے: یہ سبب جن دیگر باطنی امراض کا باعث بنتا ہے ان میں سے ایک خیانت بھی ہے اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے اندر مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرے اور مسلمانوں کی بدخواہی کے عذابات پیش نظر رکھے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،ص 177،178،179)

ان دنیاوی و اخروی کو نقصانات کو سامنے رکھ کر ہمیں خیانت جیسے مذموم کام سے بچنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے ،اپنے تمام معاملات میں دیانت داری سے کام لینا چاہیے ۔اللہ پاک ہمیں دیانت داری اپنانے اور خیانت سے بچنے کی سعادت عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


انداز گفتگو کسی حد تک انسان کی چھپی ہوئی خوبیوں اور خامیوں کو ظاہر کر دیتا ہے لہٰذا کس سے، کس وقت اور کس انداز میں کیا گفتگو کرنی ہے ؟ یہ گر سیکھنے سے آتا ہے، انسان جب بولتا ہے تو کبھی کسی کے دل میں اتر جاتا ہے اور کبھی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے دل سے اتر جاتا ہے، اسی طرح مشاہدے کی بات ہے کہ متکلم بسا اوقات مخاطب کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے جس سے سامنے والے کی حوصلہ شکنی اور بہت دل آزاری ہوتی ہے اور مایوسی پیدا ہونے لگتی ہے، لہٰذا گفتگو کے آداب سیکھنا نہایت ضروری ہے کیوں کہ یقیناً روز مرہ زندگی میں ہمیں گفتگو کی نوبت در پیش ہوتی ہی ہے تو انداز گفتگو درست نہ ہونے کی وجہ سے نجانے روزانہ ہی کی بنیاد پر ہم کتنوں کی دل آزاریاں کر جاتے ہیں اور ہمیں علم تک نہیں ہوتا، قرآن کریم ہماری اسی طرف رہنمائی فرماتا ہے جیسا کے الله رب العزت ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

یہاں تکبر کی بنا پر رخسار ٹیڑھا کرنے کی طرف اشارہ ہے، لہٰذا انسان چاہے امیر ہو یا غریب، کم عہدے والا ہو یا بڑے عہدے پر فائز ہو، یا پھر اعلیٰ نسب کا مالک ہی کیوں نہ ہو ہر کسی کو دوران گفتگو اپنا انداز گفتگو محبت والا رکھنا چاہیے خاص طور پر مذہبی لوگوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ محبتوں کی فضا قائم ہو اور لوگ دین کے قریب ہوں ڈانٹ ڈپٹ کرنے، جھڑکنے یا نظر انداز کرنے سے لوگ بیزار ہوتے اور دین سے دور ہوتے ہیں لہٰذا ہمیں چاہئے کے مخاطب کو نظر انداز مت کریں اور مکمل توجہ دیں اور الفاظ کے بہترین چناؤ کے ساتھ گفتگو کریں تاکہ ہم بیزاریوں، نفرتوں، بغض و کینہ سے بچتے ہوئے دین اسلام کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں کامیاب ہو جائیں۔

الله کریم سے دعا ہے ہمیں سیرت سرور کونین ﷺ کی چلتی پھرتی تصویر بنائے آقا ﷺ کے اخلاق کریمانہ سے حصہ عطا فرمائے۔ آمین

پیارے اسلامی بھائیو جس طرح کچھ گناہ باطنی ہوتے ہیں اسی طرح بعض گناہوں کا تعلق ظاہر کے ساتھ بھی ہوتا ہے ظاہری گناہوں میں سے ایک گناہ خیانت بھی ہے قران پاک میں خیانت کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے آئیے ہم بھی خیانت کا قرانی بیان پڑھتے ہیں:

(1) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النسا،پارہ 4، آیت نمبر 107)

(2) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (سورۃ الانفال، پارہ 8 ، آیت نمبر 71)

(3) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال پارہ 8 آیت نمبر 27)

(4) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف ،پارہ 12، آیت نمبر 52)

(5) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (سورۃالمومن، پارہ 24، آیت نمبر19)


ہمارا اسلام اتنا پیارا دین ہے کہ ہمیں ہر طرح کی تعلیم دیتا ہے چاہے اسکا تعلق دنیا سے ہو یا آخرت سے اور ہمارے دین نے ہمیں ہر ایک کے ساتھ اچھے برتاؤ کی ترغیب دلائی ہے یاد رکھیں۔ کہ انسان کی فطری خواہشوں میں سے ایک خواہش ہے کہ اسکی بات کو اہمیت دی جائے توجہ سے سنا جائے اور گفتگو میں مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے ہمارے پیارے اللہ پاک نے ہمیں قرآن پاک میں حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی اپنے بیٹوں کو دی جانے والی نصیحت کو ذکر فرما کر ایک مقام پر فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

یہ آیت حضرت القمان کی نصیحت کے متعلق جو انہوں جو انہوں نے اپنے بیٹوں سے فرمائی۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے جب آدمی سے بات کرے تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیر نے والا طریقہ اختیار نہ کر بلکہ مالدار فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی وانکساری کے ساتھ پیش آنا۔ بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے ولا کوئی بھی شخص الله پاک کو پسند نہیں۔

نظر انداز کرنے کی مثالیں: کسی کی بات توجہ سے نہ سننا۔ اچھے کام پر سراہنے کی بجائے حوصلہ شکنی کرنا۔ کسی کا درست مشورہ قبول نہ کرنا۔ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر جانتا۔ مخاطب اگر غریب یا کم درجہ والا ہو اسکی بات کو نظر انداز کرنا۔

نظر انداز کرنے کی وجہ: نظر انداز کرنے کی سب سے بڑی وجہ خود پسندی ہے۔ اسی طرح اگر انسان میں حسد،تکبر وغیرہ بیماریاں ہیں تو بھی وہ دوسروں کی بات کو نظر انداز کرتا ہے۔

ان سب باتوں سے پتا چلتا ہے کہ لوگوں سے بات کرتے ہوئے منہ ٹیڑھا نہ کرے۔ بات کرتے ہوئے ہمارا انداز خوبصورت ہونا چاہیے کہ مسلمان کا اخلاق جتنا اچھا ہو گا لوگ اسکے اتنے ہی قریب آیئنگے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے لہجوں میں حسن پیدا کریں، محبت پیدا کریں، محبت کو فروغ دیں۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مومن کو بااخلاق ہونا چاہیے اور یہ چیز اخلاق میں شامل ہے کہ سامنے والے کی بات کو اہمیت دی جائے توجہ سے سنی جائے۔

کسی سے بات کرتے وقت اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور نہ اس سے رخ پھیرنا چاہیے۔ اسی بات کا ذکر قرآن پاک میں ہے، اللہ پاک فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)(پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کے تحت فرماتے ہیں: جب آدمی بات کریں تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرنا، جیسا متکبرین (یعنی مغروروں کا طریقہ ہے) اختیار نہ کرنا، غنی و فقیر (یعنی امیر و غریب) سب کے ساتھ بتواضع (یعنی عاجزی) سے پیش آنا چاہیے۔ (خزائن العرفان، ص 761)

حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام و کلام اور ملاقات کے وقت بطور تواضع یعنی عاجزی سے اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ کچھ حصہ چھپائیے۔

فخر و اختیال میں فرق: یاد رہے کہ اندرونی عظمت پر اکڑنا فخر ہے جیسے علم، حسن، خوش، آوازی، نسب، وعظ وغیرہ اور بیرونی عظمت پر اکڑنا اختیال کہلاتا ہے۔ جیسے مال، جائیداد، لشکر، نوکر چاکر وغیرہ مراد یہ ہے کہ نہ ذاتی کمال پر فخر کرو نہ بیرونی کمال پر اتراو کیونکہ یہ چیزیں تمہاری اپنی نہیں رب کی عطا سے ملی ہے۔

کسی شخص کو حقیر نہ جائیں: اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جانتا چاہیے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تو اس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہیے اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہیے، غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز رکھنا جس سے حقارت کا پہلو نمایاں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا، سب تکبر کی علامات ہے ان سے بچنا چاہیے۔

حدیث پاک میں ہے: ایک دوسرے سے بعض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور سب اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جائےاور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (بخاری، 4/117، حدیث: 6065)

سرور عالم ﷺ کا کریمانہ انداز: سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ حضور مسجد میں تشریف فرما ہوتے تو اپنے دربار میں سب سے پہلے حاجت مندوں کی طرف توجہ فرماتے اور قبائل کے نمائندوں سے ملاقاتیں فرماتے سرکار علیہ السلام کی بارگاہ میں امیر غریب سب برابر تھے کوئی شخص اگر بولتا خواہ وہ غریب ہوتا تو اسکی بات کاٹ کے دوسرے کی طرف توجہ نہ فرماتے، ہر وفد آپکیﷺ بارگاہ میں حاضر ہوتا اور آپﷺ سے ملاقات کرتا، اپنی حاجت پیش۔ کرتا حضور انور ﷺ اسے بغور سنتے اور انکی تربیت فرماتے اور انکے درجات کے مطابق تحائف عطا فرماتے۔

کسی کو نظر انداز کرنے کے چند اسباب: خودپسندی، تکبر، دوسروں کو حقیر جاننا، حسد، کینہ، بغض۔

ایک مدنی پھول: جب تک دوسرا بات کر رہا ہو، ادھر ادھر دیکھے بغیر اس کی طرف متوجہ ہو کر اطمینان سے سننا چاہیے، بیچ میں بولنا بھی نہیں چاہیے کہ بیچ میں بات کا ٹنا خلاف ادب ہے۔

سرکار ﷺ کسی کی بات کو نہ کاٹتے البتہ اگر کوئی حد سے تجاوز کرنے لگتا تو اسے روک دیتے یا وہاں سے اٹھ جاتے۔ (شمائل ترمذی، ص 200 ملخصاً)

اللہ پاک سب مسلمانوں کو ان مذموم افعال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جس نے اپنے متعلقہ افراد کی ہر طرح سے رہنمائی کی ہے اور ہر ایک چیز کو تفصیلاً بیان کیا ہے چاہے اس کا تعلق عبادت سے ہو یا معاملات سے ہو یا اخلاقیات سے ہو انہی میں سے ایک چیز خیانت بھی ہے یہ ایک باطنی بیماری ہے اور ایسا برا وصف ہے جو نہ تو شرعاً اچھا ہے نہ ہی عقلاً درست ہے۔

سب سے پہلے ہم خیانت کی تعریف ذکر کرتے ہیں پھر اس کی مذمت پر قرآنی آیات پیش کرتے ہیں ۔

خیانت کی تعریف:’’اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ175)

خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات ص176)

اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام قرآن مجید میں متعدد جگہ خیانت کی مذمّت کو بیان فرمایا ہے چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔

(1) جو خیانت کی روز قیامت اس کے ساتھ آئے گا:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران آیت 161)

اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل بروز قیامت اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے خیانت کرنے سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

(2)خیانت کرنے سے بچنے کا حکم:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر

اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الانفال آیت 27)

(3)خیانت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء آیت 107)

(4)خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں امین بنائے۔


حضرت لقمان رحمہ الله نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں فرمائیں قرآن مجید میں سورۂ لقمان میں اس کا ذکر آیا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ الله پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸)ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں کچھ یوں ہے: یہاں سے حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی اعمال کے حوالے سے فرمائی، چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے!جب آدمی بات کریں تو تکبر کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرلینے والا طریقہ اختیار نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آنااور زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا، بیشک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ (مدارک، ص 919- خازن، 3/471 ملتقطا)

یہاں آیت میں رخسار ٹیڑھا کرنے سے مراد یہ ہے کہ آدمی جب کسی سے بات کرے تو متکبر کی طرح دوسرے کو اپنے سے کم تر جان کر ان سے منہ پھیر کر بات کرنے والا طریقہ اختیار نہ کرے،بلکہ امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ عاجزی کے ساتھ ہی سے پیش آئے۔

اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو بھی اپنے سے کمتر نہیں جاننا چاہیے، چاہے امیر ہو یا غریب جس سے بھی ملاقات ہو اس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہیے اور سب کے ساتھ ہی اچھے انداز سے بات کرنی چاہیے کیونکہ غریب لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا یہ تکبر کی علامت ہے اورتکبر کی قرآن و حدیث میں مذمت آئی ہے، اللہ پاک کو تکبر کرنے والے پسند نہیں۔

لوگوں کو اپنے سے کمتر جان کر ان سے برا سلوک کرنا بات کرتے وقت ایسا رویہ اختیار کرنا جس سے سامنے والے کے کمتر ہونے کا گمان ہو یہ تکبر کی علامات ہیں، تکبر کا مطلب ہی یہ ہے کہ خود کو دوسروں سے افضل جانا جائے اور تکبر کی ایک قسم بندوں کے مقابلے میں تکبر بھی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ بندوں میں سے اپنے آپ کو سب سے بہتر جانے اور باقی سب کو اپنے سے حقیر جانے۔ تکبر کی یہ صورت بھی حرام ہے۔

آج کل تکبر کا مرض عام ہوتا جا رہا ہے ہر کوئی خود کو دوسروں سے افضل سمجھتا ہے اور خود کو دوسروں سے بڑا سمجھنے لگ گیا ہے یہاں تک کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی عزت نفس کا خیال بھی نہیں رہتا بعض اوقات یہ تکبر طاقت و قوت کے سبب ہوتا ہے اور کہیں مال و دولت تکبر کا سبب بنتا ہے جس کی وجہ سے بندہ اپنے سے کم مرتبہ شخص سے بات کرنے کو اچھا نہیں سمجھتا ان کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا اور انہیں نظر انداز کرتا ہے۔

تکبر کی مذمت پر حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں جہنم کے بولس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی، انہیں طینۃ الخبّال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 276، 277)

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتاہے: اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) 14، النحل: 23) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔

نظر انداز کرنے کی مثالیں:

توجہ سے بات نہ سننا: نظر انداز کرنے کی ایک وجہ مرتبے میں خود کا بڑا ہونا بھی ہے انسان خود کو دوسرے سے بہتر سمجھتا ہے اپنی رائے اور اپنی ہی بات کو زیادہ اہم سمجھتا ہے، اپنی طاقت و قوت پر غرور کرتے ہوئے بھی دوسروں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا، یہ وجہ ہے کہ دوسروں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا،ان سے بات کرنے کو اہم نہیں سمجھتا، خود کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے دوسروں کو نظر انداز کرتا ہے اور توجہ سے ان کی بات نہیں سنتا۔

اچھے کام پر حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی: دوسروں کو نظر انداز کرنے کی ایک صورت حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی بھی ہے کہ کسی کے کام پر اس کو حوصلہ بڑھانے کے بجائے اس کا حوصلہ توڑنا، اسے جھاڑنا،کوشش کی ہو پھر بھی کام میں غلطیاں نکالنا،منفی جملے کہنا، صرف اس کی خامیاں بیان کرنا، ایسے دل آزار جملے کہنا کہ جس سے سامنے والا ڈپریشن،نا امیدی،احساس کمتری اور ناکامی کا شکار ہو۔

اس کے علاوہ کوئی صحیح مشورہ دے اس کے مشورے کو قبول نہ کرنا بلکہ اس کا مذاق اڑانا، اسے نظروں سے گرانا، اسے ناپسند جاننا، بے پروائی کا مظاہرہ کرنا یہ سب نظر انداز کرنے کی مثالیں ہیں۔

وجوہات: دوستوں کو نظر انداز کرنے کی ایک بڑی وجہ خود پسندی بھی ہے کہ انسان خود پسندی کی وجہ سے بھی اس میں مبتلا ہوتا ہے، خود پسندی کے حوالے سے اللہ کے محبوب ﷺ کا فرمان ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادم ہونے والا اللہ کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ کی ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 38)

لہذا ہمیں چاہیے کہ خود پسندی کے اسباب پر غور کریں اور خود کو ان سے بچانے کی کوشش کریں۔

خود پسندی کا ایک سبب طاقت و قوت کا ہونا بھی ہے انسان طاقت و قوت کے سبب خود پسندی مبتلا ہو جاتا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ سوچے کہ اگر اللہ پاک چاہے تو ایک آن میں ہماری طاقت و قوت واپس لے سکتا ہے لہذا اس پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔

اسی طرح اس کا ایک سبب مال کی زیادتی بھی ہے کہ انسان مال کی زیادتی کے سبب خود پسندی میں مبتلا ہوتا ہے اور خود کو دوسروں سے افضل جانتا ہے اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ مال کی آفات اور مذمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مال کی لالچ سے بچے اور قناعت اختیار کرے نیز خود پسندی سے بچنے کی دعا بھی کرتا رہے۔

اگر کوئی ہمیں نظر انداز کرے تو ہمیں صبر کا دامن تھامے رہنا چاہیے اور اس کی وجوہات پہ غور کرنا چاہیے، اگر تو ہماری کسی غلطی کی وجہ سے وہ ہمیں نظر انداز کر رہا ہے تو ہمیں خود سے اس چیز کو دور کرنا چاہیے،بعض اوقات انسان مصروفیت کی وجہ سے بھی وقت نہیں دے پاتا لہذا مثبت ہی سوچنا چاہیے،اور نظر انداز کرنے کی وجہ تلاش کرنی چاہیے اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا بھی کرتے رہیں کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔

لیکن اگر پھر بھی کوئی آپ کو بلا وجہ نظر انداز کرے،تو پھر بھی اپنے ذہن کو برے خیالات سے بچائیے، اس کے ساتھ حسن سلوک کیجیے اور ساتھ ہی ساتھ اللہ پاک سے دعا کرتے رہیئے ان شاءاللہ الکریم آپ کو اس کا اجر خوب ملے گا۔

تمام تعریفیں اُس ربِ عظیم کے لیے ہیں جو دلوں کے حال جانتا ہے، اور درود و سلام ہو اُس نبیِ کریم ﷺ پر جو امانت و دیانت کا اعلیٰ ترین نمونہ تھے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق، سچائی، وفا اور امانت داری کا درس دیتا ہے۔ جہاں صدق و دیانت کو جنت کی کنجی کہا گیا ہے، وہیں خیانت کو جہنم کا راستہ بتایا گیا ہے۔ خیانت صرف امانت میں بددیانتی نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا زہر ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے خیانت ایک باطنی بیماری اور ایسا برا ومذموم وصف ہے جو نہ تو شرعاً درست ہے نہ ہی عقلاً درست ہے۔سب سے پہلے ہم خیانت کی تعریف کرتے ہیں پھر اس کی مذمت پر قرآنی آیات پیش کرتے ہیں

خیانت کی تعریف:’’اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ175)

خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات ص176)

(1)خیانت کو ترک کرنے کا حکم :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الانفال،آیت:27)

فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ فرائض وسنت کوترک کرنا مؤمن کی شان کے لائق نہیں۔ مؤمن کو چاہیے کہ فرائض وسنت کو ادا کرکے اللہ ورسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو امانت و دیانت داری کا ثبوت دےاور لوگوں کی امانتوں میں خیانت نہ کرکے امین ہونے کا ثبوت دے ۔

(2)خیانت کرنے والوں کو اللہ جانتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(المؤمن،آیت:19)

آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

پتا چلا خیانت بہت برا وصف خیانت انسان کے مختلف اعضاء سے واقع ہوتی ہے جیسے اس آیت میں آنکھوں اور سینوں کی خیانت کا پتا چلا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ جل مجدہ ہر اعضاء کی خیانت کو جانتا ہے مؤمن کو چاہیے کہ اللہ پاک کہ ڈر سے اپنے اندر امانت و دیانتداری جیسے پیارے وصفوں کو پیدا کرے اسکا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے روز کہ اعمال جائزہ لے سوچے کہ کہیں میں نے آج اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت تو نہیں کی کہیں لوگوں سے انکی امانتوں میں خیانت تو نہیں کی امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے ہم گنہگاروں کو سنت کا پابند بنانے کے لیے ہمیں نیک اعمال جیسا بہترین رسالہ عطا فرمایا ہے جس میں ہم اپنے روز کے اعمال کا جائزہ لے سکتے ہیں باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دیتے ہوئے اس رسالہ کو خریدیں اسکے مطابق اپنے شب وروز گذاریں۔

(3) اللہ کو خیانت کرنے والے پسند نہیں :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء،آیت،107)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔

خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں سوچیں سمجھیں اور خیانت جیسے برے وصف سے بچیں۔

(4) اللہ خائن کے مکر کو چلنے نہیں دیتا :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنزالعرفان: یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یُوسف،آیت:52)

تفسیر صراط الجنان:ذٰلِكَ:یہ۔ بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے، اس پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے اس قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی، مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔ اَخلاقی خیانت مذموم وصف اور اخلاقی امانتداری قابلِ تعریف وصف ہے:اس سے یہ بھی معلوم ہوا اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداریایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئےیہ تمام آیات اسی بات کو ثابت کرتی ہیں کہ مسلمان صرف نام کا مسلمان نہ ہو بلکہ عملی اعتبار سے بھی مسلمان لگنا چاہیے کہ ہر عمل اس بندہ کے سچے مؤمن ہونی کی نشان دہی کرے۔مسلمانوں کو چاہیے کہ ان آیات اور ان جیسی دیگر آیات کا بار بار مطالعہ کریں تاکہ خیانت جیسے برے ومذموم وصف سے بچیں کیونکہ خیانت جہاں دنیا میں انسان کی رسوائی کا سبب بنتی ہے وہیں اسکی آخرت کو بھی برباد کر دیتی ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو امانت و دیانت کا اعلیٰ نمونے بنائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔


خیانت اس کو کہتے ہیں کہ کسی کی امانت، بھروسہ، وعدہ یا ذمہ داری کو جان بوجھ کر توڑ دیا جائے یا اس کے خلاف عمل کیا جائے، چاہے وہ مال میں ہو، بات میں ہو، راز میں ہو یا کسی کام میں۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ امانت میں خیانت کرنا اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی ہے ۔

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)خیانت کرنے والا اللہ کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے، اور یہ بہت بڑا نقصان ہے۔

(3) وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا(سورۃ آلِ عمران، آیت 161)خیانت کا انجام آخرت میں رسوائی اور حساب ہے۔

(1)رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ ترجمہ:جو تمہیں امانت دے، اس کی امانت ادا کرو، اور جو تم سے خیانت کرے تم اس سے خیانت نہ کرو۔(سنن ابوداؤد، حدیث: 3534)یہ حدیث بتاتی ہے کہ مسلمان کا کام ہر حال میں امانت داری ہے، چاہے سامنے والا خیانت کرے، تب بھی ہمیں خیانت کی اجازت نہیں۔

(2)حضور نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا:لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُجس میں امانت داری نہیں، اس کا (کامل) ایمان نہیں۔خیانت کرنا ایمان کی کمزوری کی علامت ہے، سچا مومن وہی ہے جو امانت دار ہو۔ (مسند احمد، حدیث: 12567)

(3)نبیِّ پاک ﷺ نے فرمایا:آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَترجمہ :منافق کی تین نشانیاں ہیں… اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 33،صحیح مسلم، حدیث: 59)خیانت منافقت کی علامت ہے، اس لیے مسلمان کو اس بری عادت سے بچنا لازم ہے۔

رُوِيَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ مُوَكَّلًا بِشَيْءٍ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي زَمَنِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا لِنَفْسِهِ، فَلَمَّا بَلَغَ ذٰلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هٰذِهِ خِيَانَةٌ، وَإِنَّ الْخَائِنَ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِمَا خَانَ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَدِّهِ إِلَى بَيْتِ الْمَالِ وَنَبَّهَهُ تَنْبِيهًا شَدِيدًا

روایت ہے کہ امیرُالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص بیتُ المال کے ایک کام پر مقرر تھا۔ اس نے اس میں سے کوئی چیز اپنے لیے لے لی۔ جب یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا:“یہ خیانت ہے، اور بے شک خیانت کرنے والا قیامت کے دن اپنی خیانت کو ساتھ لے کر آئے گا۔”پھر آپ نے وہ چیز بیتُ المال میں واپس کرنے کا حکم دیا اور اسے سخت تنبیہ فرمائی۔

(فیضانِ سنت،باب: امانت داری اور خیانت کی مذمت، ناشر: مکتبۃُ المدینہ، دعوتِ اسلامی)