جنسی
بے راہ روی کے اسباب از بنت حافظ اللہ دتہ،جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
اس سے مراد
ایسے رویے اور اعمال جو معاشرے میں مقبول عام جنسی اصولوں اور روایات کے خلاف ہوں۔
یہ اصطلاح نہایت وسیع ہے۔ جس میں مختلف قسم کے جنسی اعمال شامل ہو سکتے ہیں۔ مثلا
ًغیرازدواجی تعلقات، جنسی زیادتی وغیرہ۔
قرآن پاک میں
ان افعال سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مثلا پارہ 18 سورۂ
نور آیت نمبر 30 میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ
یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ
اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰)ترجمہ کنز الایمان: مسلمان
مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ
ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔
یہاں مسلمانوں
کو پاکی کی طرف بلایا گیا اور ان برے اعمال سے بچنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ اسی
طرح پارہ 18 سورۂ مؤمنون آیت نمبر 5 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ هُمْ
لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵)ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی
شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
لہذا اس طرح
کے تمام اعمال سے ہمیں بچنا چاہئے کہ جو اللہ اور رسول کی نافرمانی کا سبب بنتے
ہوں۔ بعض اوقات انسان کو پتہ بھی نہیں ہوتا اور وہ ان اعمال کا شکار ہو چکا ہوتا
ہے۔ لہذا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنی چاہئے۔
حضرت عبداللہ
بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے قریش کے جوانو! اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو،زنا مت
کرو ،جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اس کے لئے جنت ہے۔ (ترغیب و ترہیب، 3/193، حدیث: 39)
اس سے بچنے کے
لئے کچھ اہم تدابیر یہ ہیں:
1۔
تربیت: بچوں
کو بچپن سے ہی پاکیزگی اور عفت کی تربیت دیں اور انہیں صحیح اور غلط کے درمیان فرق
بتائیں۔
2۔
نماز: نماز
کی پابندی کریں کہ یہ بے حیائی اور بری بات سے روکتی ہے اور نفس کو پاک رکھتی ہے۔
3۔
دوست: اس
سلسلے میں دوستوں کا انتخاب بہت اہم ہے۔ لہذا نیک دوست بنائیں۔
4۔
پردہ: مرو
اور عورت دونوں کو ہی اپنے غیر محارم سے پردہ کرنا چاہیے کہ یہ بے حیائی اور فحاشی
سے بچنے کا اہم ذریعہ ہے۔
4۔
وقت: اپنے
وقت کو اچھے کاموں میں صرف کریں جیسا کہ خارجی مطالعہ کہ امیر اہل سنت فرماتے
ہیں:کرنے والے کام کرو ورنہ نہ کرنے والے کاموں میں پڑ جاؤ گے۔
6۔
نکاح: جنسی
خواہشات کو پورا کرنے کا شرعی طریقہ نکاح ہے۔ جوانی میں نکاح کرنا سنت بھی ہے۔
7۔
دعا: اللہ
تعالیٰ سے دعا کرنا کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ان گناہوں سے بچائے اور صراط
مستقیم پر چلائے۔
نیز استغفار
کی عادت ڈالیں اور توبہ کا دروازہ کبھی بند نہ کریں۔
8۔
نگاہ: نگاہ
کی حفاظت بھی اس سے بچنے کا ذریعہ ہے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ جو لوگ اپنی
نگاہیں جھکا کر رکھتے ہیں وہ اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کر سکتے ہیں۔
9۔
اللہ کا خوف: یہ
بھی ایک نہایت اہم ذریعہ ہے اسکے ساتھ تو تمام گناہوں سے بچا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد کے علاقے شاہین ٹاؤن، زون 3 کی جامع مسجد میر عظیم میں دعوتِ اسلامی کے شعبہ کفن دفن کے تحت 6 جون
2026ء کو فیضانِ نماز کورس کے عاشقانِ رسول کے درمیان ”غسلِ میت و کفن کورس“
کا انعقاد کیا گیا۔
معلومات کے مطابق یہ شعبے کے صوبائی ذمہ دار
مولانا مزمل عطاری مدنی نے کروایا جس میں انہوں نے غسلِ میت کے دوران پانی کے بےجا
استعمال سے بچنے اور دیگر احتیاطوں کے بارے میں بتایا۔
اسی طرح صوبائی ذمہ دار نے حدیثِ پاک کی روشنی
میں غسلِ میت کی فضیلت کیا ہے؟، غسلِ میت کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور غسلِ میت میں کن
باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے اس حوالے سے عاشقانِ رسول کی رہنمائی کی۔
علاوہ ازیں صوبائی ذمہ دار نے غسلِ میت کو سنت
کے مطابق ادا کرنے کے سات مراحل بتائے اور
عوام الناس میں پائی جانے والی غلطیوں کی طرف نشاندہی کی جس کے بعد سوال و جواب کا
بھی سلسلہ ہوا۔
بعدازاں صوبائی ذمہ دار نے حاضرین کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں عملی طور
پر حصہ لینے بالخصوص سنتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں
کیں۔(رپورٹ: شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
کراچی سطح پر اسپیشل پرسنز کا سنتوں بھرا اجتماع
28 جون کو ہونے جا رہا ہے
دعوتِ اسلامی کے تحت اسپیشل پرسنز کے لیے (کراچی سطح پر) 28 جون 2026ء کو ایک اہم و روحانی اجتماع کا
انعقاد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد اسپیشل پرسنز کو دینی تعلیمات سے جوڑنا اور انہیں
سنتوں بھری زندگی اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔ یہ اجتماع دینی ماحول اور سنتوں کی تعلیمات
کو عام کرنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
اہم تفصیلات:
اجتماع
کا آغاز عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں دوپہر 2 بجے تلاوتِ قرآن اور نعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ہوگا جبکہ دوپہر تقریباً 3 بجے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد
عمران عطاری سلمہ الباری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
اس اجتماعِ پاک میں اسپیشل پرسنز ( اسلامی بھائی اور بہنیں)
جن کا تعلق پاکستان کے علاوہ بیرونِ ممالک سے بھی ہو سکتا ہے، وہ مدنی چینل کے ذریعے
براہِ راست شرکت کریں گے۔ یہ اجتماع انہیں دینی ماحول سے وابستہ رہنے کا موقع
فراہم کرے گا، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں۔
واضح رہے اس اجتماع کا بنیادی مقصد اسپیشل پرسنز
کو دین کے قریب کرنا، انہیں سنتوں کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور ان میں محبتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور سنت کی زندگی اپنانے کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔(رپورٹ: محمد عمیر ہاشمی عطاری نگران ِاسپیشل
پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
تحصیل کامونکی، ضلع گوجرانوالہ میں اسپیشل پرسنز
کے درمیان نیکی کی دعوت
گوجرانوالہ، 26 مئی 2026ء:
اسپیشل
پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے سلسلے میں پنجاب کے صوبائی ذمہ دار
محمد وقاص عطاری اور گوجرانوالہ ڈویژن کے ذمہ دار نعمان عطاری نے تحصیل کامونکی، ضلع
گوجرانوالہ میں مختلف مقامات پر اسپیشل پرسنز اور ان کے سرپرستوں سے ملاقاتیں کیں۔
اس دوران ذمہ داران نے اسپیشل پرسنز سے گفتگو کرتے
ہوئےانہیں دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہنے اور باقاعدگی سے ہفتہ وار
اجتماعات میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی۔
اس کے
علاوہ صوبائی اور ڈویژن ذمہ داران کی تحصیل ذمہ دار طاہر عطاری کے ہمراہ ایک میٹنگ ہوئی جس میں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت ہونے والے دینی سرگرمیوں کا
جائزہ لیا گیا اور ڈیپارٹمنٹ کے دینی کاموں کو مزید وسعت، مؤثر اور بہتر بنانے کے
حوالے سے چند اہم نکات پر مشاورت کی گئی۔(رپورٹ: اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
گوجرانوالہ، 21 مئی
2026ء :
مدنی مرکز فیضانِ مدینہ گوجرانوالہ میں عاشقانِ
رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس
میں اسپیشل پرسنز نے بھرپور شرکت کی نیز اُن کے لیے علیحدہ حلقے کا بھی اہتمام کیا
گیا ۔
اجتماع کے دوران اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ پنجاب
کے صوبائی ذمہ دار محمد وقاص عطاری اور گوجرانوالہ ڈویژن کے ذمہ دار نے اسپیشل
پرسنز کی آسانی کے لیے نعت خوانی، بیان، ذکر اور دعا کی اشاروں کی زبان میں ترجمانی
کی جس سے اسپیشل پرسنز نے دینی رہنمائی حاصل کی۔
اس موقع پر اسپیشل پرسنز نے اچھی اچھی نیتیں کیں
کہ وہ باقاعدگی سے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کریں گے اور دیگر اسپیشل پرسنز تک
دعوتِ دین پہنچا کر انہیں بھی اس اجتماعِ پاک میں لانے کے لیے کوششیں کریں گے۔ (رپورٹ: اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث
الدین عطاری)
بے
راہ روی کے معنی: بُری
عادت و اطوار، بھٹک جانا، راہ راست پر نہ آنا، بدکار ہونا کے ہیں۔ بے راہ روی وہ
حالت ہے جب انسان صحیح راستے سے ہٹ کر گمراہی، برائی اور اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہو
جائے۔ بے راہ روی انسان کے اخلاق، کردار اور معاشرتی زندگی میں ایسی خرابی کو کہا
جاتا ہے جو اسے خیر و بھلائی کے راستے سے ہٹا کر گمراہی، بے حیائی اور غیر اخلاقی
اعمال کی طرف لے جاتی ہے۔ اسلام نے انسان کو سیدھی راہ دکھائی ہے، مگر جب وہ ذکرِ
الٰہی، تعلیماتِ نبوی ﷺ اور اخلاقی اقدار سے دور ہوتا ہے تو بے راہ روی جنم لیتی
ہے۔
1۔
دینی تعلیم اور تربیت کی کمی: جب انسان کے پاس دینی تعلیمات کا شعور
نہ ہو تو وہ خیر و شر میں فرق نہیں کر سکتا۔ اسلامی تعلیم ہی وہ نور ہے جو انسان
کو خیر و شر کا شعور دیتی ہے۔ جب یہ نور بجھ جائے تو انسان خواہشات کا غلام بن
جاتا ہے۔ فَمَنِ اتَّبَعَ
هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى(۱۲۳) (پ 16، طٰہ:123)
ترجمہ کنز الایمان: تو جو میری ہدایت کا پیرو ہو ا وہ نہ بہکے نہ بدبخت ہو۔
2۔
والدین کی غفلت اور گھر کی تربیت کی کمی: گھر بچے کی پہلی درسگاہ ہے اگر
اس میں کمی ہوگی مثلاً والدین بچوں کی تربیت اور سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو
بچے غلط چیزوں میں پڑھ کر بےراہ روی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
3۔
بُری صحبت: انسان
کی شخصیت اس کی صحبت سے بنتی ہے صحبت ہی انسان کو اچھا یا برا بناتی ہے بری صحبت
ہی برے خیالات اور برے اعمال کی طرف لے جاتی ہے اسی لیے کہا گیا ہے کہ انسان اپنی
مجلس کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ بُری صحبت انسان کو ہلاکت کے کنارے پہنچا دیتی ہے۔
4۔
بے حیائی اور فحاشی کا عام ہونا: جب معاشرے میں حیا ختم ہو جائے تو
اخلاقی بگاڑ بڑھتا جاتا ہے اور بے راہ روی جنم لیتی ہے۔ حدیث پاک میں ہے: حیا
ایمان کا حصہ ہے۔ (مسند ابی یعلی،6/291، حدیث: 7463)
فحاشی، بے پردگی اور غیر اخلاقی مواد بے راہ روی کی بڑی وجہ ہیں۔
5۔
معاشرتی ناانصافی اور برائی کا فروغ: جب معاشرے میں جھوٹ، دھوکا اور حرام
عام ہو جائے تو نیکی کمزور ہو جاتی ہےاور معاشرے کی بے عملی اور بدعنوانی نوجوانوں
کو غلط راستوں کی طرف لے جاتی ہے۔
6۔
اخلاقی و سماجی بے حسی: معاشرے میں جب برائی کو برائی نہ سمجھا جائے اور
لوگ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑ دیں تو بے راہ روی بڑھتی ہے۔ مَنْ
رَاٰى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهٖ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ
فَبِلِسَانِهٖ فَاِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ وَذٰلِكَ اَضْعَفُ
الْاِيْمَانِ
ترجمہ: تم میں سے جو کوئی برا کام دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنےہاتھ سے روک دے، اگر
اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل سے (بُرا
جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ (مسلم، ص 49،
حدیث:177)
7۔
حرام مال اور ناجائز کمائی: حرام کمائی انسان کے دل کو سیاہ کرتی
ہے اور اعمال پر برا اثر ڈالتی ہے اور بے راہ روی کا سبب بنتی ہے۔
8۔
سوشل میڈیا اور میڈیا کا منفی استعمال: غیر اخلاقی اور مغربی نظریات سے
بھرپور مواد ذہنوں کو آلودہ کرتا ہے۔
اسلام ہمیں
نگاہ، کان اور دل کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال
سے بے راہ روی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
9۔
خواہشاتِ نفس کی پیروی: انسان کے دل میں دو راستے ہیں حق اور نفس۔ اگر نفس
غالب ہو جائے تو انسان بے راہ روی میں ڈوب جاتا ہے۔
بے راہ روی کے
اسباب بہت ہیں، مگر ان سے بچنے کا واحد راستہ اسلامی تعلیمات سے وابستگی ہے۔
اگر معاشرہ
قرآن و سنت، حیا، اخلاق اور دینی تربیت کو اپنائے تو بے راہ روی کا خاتمہ ممکن ہے۔
حُقُوق العباد
کا معنیٰ و مفہوم: حقوق جمع ہے حق کی، جس کے معنیٰ ہیں:فردیا جماعت کا ضروری
حصہ۔(المعجم الوسیط، ص 188)
جبکہ حقوقُ
العباد کا مطلب یہ ہوگاکہ وہ تمام کام جوبندوں کو ایک دوسرے کے لئے کرنے ضروری
ہیں۔ان کا تعلق چونکہ بندے سے ہے اسی لئے ان کی حق تلفی کی صورت میں اللہ
عَزَّوَجَلَّ نے یہی ضابطہ مقرر فرمایا ہے کہ جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے معاف نہ
ہوں گے۔ (فتاویٰ رضویہ،ج 24،ص459تا 460ملخصاً)
حقوق
العباد کی اہمیت: حقوق
اللہ کے ساتھ ساتھ حقوقُ العباد کی ادائیگی درحقیقت راہِ نجات ہے۔اللہ نے کئی
مقامات پر حقوق العباد کی ادائیگی کا حکم فرمایا ہے، ایک جگہ فرمایا: وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى
حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ (پ15،بنی
اسرائیل:26) ترجمۂ کنز الایمان: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے اورمسکین اور
مسافر کو۔
حقوق العباد
ادا کرنا اللہ کے نیک اور صالح بندوں کی صفت ہے۔کامل مسلمان ہمیشہ دوسروں کے حقوق
دبانے یا انہیں تلف کرنے سے بچتا ہے۔تاجدارِ مدینہ ﷺ کافرمان ہے: مسلمان کی سب
چیزیں (دوسرے) مسلمان پرحرام ہیں، اس کا مال،اس کی آبرو اور اس کا خُون۔ (ابوداود،
4/354، حدیث:4882)
حقوق العبادکی
ادائیگی میں غفلت برتنے سے معاشرے کا امن و سکون برباد ہو جاتا ہے۔ ہر کسی کا حق
اِسی دنیا میں ہی ادا کرنا آخرت میں ادا کرنے کی نسبت بہت آسان ہے کیونکہ اگرحقوق
معاف کروائے بغیر اس دنیا سے چلے گئے تو ایک روپیہ دبانے،کسی کو ایک ہی گالی بکنے،
محض ایک بار کے گھورنے،جھڑکنے اور الجھنے کے سبب ساری زندگی کی نیکیوں سے ہاتھ
دھونے پڑ سکتے ہیں۔مزید یہ کہ صاحبِ حق کے گناہ بھی سر ڈالے جاسکتے ہیں جیساکہ
فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے:جس کے ذِمّے اپنے بھائی کی عزّت یا کسی اور شے کے معاملے میں
ظُلم ہو،اُ سے لازِم ہے کہ( قیامت کا دن آنے سے پہلے) یہیں دنیا میں اس سے معافی
مانگ لے،کیونکہ وہاں (یعنی روزِ محشر اس کے پاس ) نہ دینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم،
اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی، تو بقَدَر اُس کے حق کے،اِس سے لے کر اُسے دی
جائیں گی، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو اُس(مظلوم ) کے گناہ اِس (ظالم)پررکھے
جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث:2449)
معاشرے کا چین
و سکون، تعمیرو ترقی،فلاح وبہبود اس میں بسنے والے افراد کےاخلاق و کردار کی حفاظت
اور باہمی تعلقات کی مضبوطی کامرہونِ منت ہوتاہے۔اس لئےمختلف تہذیبوں اور معاشروں میں
انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے مختلف قوانین رائج ہیں مگر دین ِاسلام کو اِنسانی
حقوق کے تحفظ میں سب پر برتری حاصل ہے کیونکہ اسلام وہ واحد مذہب ہےجس نے نہ صرف
حقوق العباد کی اہمیت پر زور دیا بلکہ ان کی ادائیگی نہ کرنے والے کودنیوی و
اُخروی طور پر نقصان اور سزا کا مستحق بھی قرار دیا۔حقوق العباد کو جس قدر تفصیل و
تاکید سے اسلام نے بیان کیا ہے، یہ اسی کا خاصہ ہے۔ان حقوق میں والدین،
اولاد،زوجین یعنی میاں بیوی، رشتہ دار،یتیم، مسکین، مسافر، ہمسایہ، سیٹھ،نوکر اور
قیدی وغیرہ کےانفرادی حقوق کے ساتھ دیگر اجتماعی و معاشرتی حقوق کا وسیع تصور بھی
شامل ہے۔منقول ہے: حضرتِ عبدُ اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کو سفر پر روانہ ہوتے
وَقْت کسی نے دوسرے کو پہنچانے کے لیے خط پیش کیا، آپ نےفرمایا: اُونٹ کرائے پر
لیا ہے، لہٰذا سُواری والے سے اِجازت لینی ہوگی کیونکہ میں نے اس کو سارا سامان
دِکھا دیا ہے اور یہ خط زائد شے ہے۔ (احیاء العلوم، 1/353 ماخوذاً)
حضرتِ عبدُ
اللہ بن مُبارَک کا حق الْعَبْد کی اَدائیگی کا جذبہ صدکروڑ مرحبا! اُونٹ والے کو سارا
سامان دِکھانے کے بعد معمولی سے کاغذ کا وَزْن رکھنے کیلئے بھی اُونٹ والے سے
اجازت لینے کا ذہن رکھتے ہیں تاکہ اس کی حق تلفی نہ ہو جائے۔حقوق العباد کی اقسام
کو مختلف ذرائع میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے، لیکن عام طور پر انہیں دو
بڑی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: قریبی لوگوں کے حقوق اور عام لوگوں کے حقوق۔
حقوق
العباد کی اقسام:
قریبی
لوگوں کے حقوق:
والدین
کے حقوق: ان
کی اطاعت کرنا، ان کی خدمت کرنا، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔
اولاد
کے حقوق: ان
کی اچھی تربیت کرنا، ان کی ضروریات پوری کرنا، اور ان کے ساتھ شفقت کا سلوک کرنا۔
میاں
بیوی کے حقوق: ایک
دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھنا، اور ایک دوسرے
کی عزت کرنا۔
رشتہ
داروں کے حقوق: ان
کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا، اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ
کرنا۔
دوستوں
کے حقوق: ان
کے ساتھ سچائی اور ایمانداری کا سلوک کرنا، ان کی مدد کرنا، اور ان کے ساتھ وفادار
رہنا۔
اساتذہ
اور طلباء کے حقوق: اساتذہ کا احترام کرنا، ان کی بات ماننا، اور طلباء
کو اچھی تعلیم دینا۔
عام
لوگوں کے حقوق:
ملازمین
کے حقوق: ان
کے ساتھ انصاف کا سلوک کرنا، ان کی اجرت وقت پر دینا، اور ان کے ساتھ احترام کا
سلوک کرنا۔
تاجروں
کے حقوق: سچائی
اور ایمانداری سے کاروبار کرنا، ناپ تول میں کمی نہ کرنا، اور صارفین کے ساتھ اچھا
سلوک کرنا۔
مسافروں
کے حقوق: ان
کی مدد کرنا، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا۔
مخالفین
کے حقوق: ان
کے ساتھ بھی انصاف اور حسن سلوک کا رویہ اپنانا، ان کی غلطیوں کو معاف کرنا، اور
ان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم کرنا۔
مزید برآں،
حقوق العباد میں شامل ہیں:
معاف
کرنا: دوسروں
کی غلطیوں کو معاف کرنا اور ان کے ساتھ درگزر کا رویہ اپنانا۔
مدد
کرنا: ضرورت
مندوں کی مدد کرنا اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرنا۔
سچائی
اور ایمانداری: ہمیشہ
سچ بولنا اور دوسروں کے ساتھ ایمانداری کا سلوک کرنا۔
عاجزی
اور انکساری: دوسروں
کے ساتھ عاجزی اور انکساری کا رویہ اپنانا اور تکبر سے بچنا۔
حقوق العباد
کی ادائیگی ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس میں دنیا اور آخرت دونوں میں
کامیابی ہے۔
احادیث
میں حقوق العباد کی اہمیت:
بخاری اور
مسلم میں روایت ہے: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ
اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (مسلم، ص 42،
حدیث: 45)
جو شخص کسی
مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے
گا۔
احادیث میں
حقوق العباد کی ادائیگی پر بہت زور دیا گیا ہے اور اس کی خلاف ورزی سے سختی سے منع
کیا گیا ہے۔ حقوق العباد کی ادائیگی سے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہوتی ہے اور
اس کی خلاف ورزی سے دنیا و آخرت میں نقصان ہوتا ہے۔
مبشر
حسین (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
اسلام میں معاشرتی زندگی کے اصول
بڑے واضح ہیں۔ مجلس (بیٹھک/نشست) انسان کی زندگی کا اہم حصہ ہے، جہاں لوگ آپس میں
گفتگو، مشاورت اور میل جول کرتے ہیں۔ شریعت نے مجالس کے کچھ حقوق و آداب مقرر
فرمائے ہیں، تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اور سب کو عزت و سکون میسر آئے۔ ان آداب میں
سے:مجلس میں سلام کرنا، مجلس میں وسعت پیدا کرنا، کسی کو حقیر نہ سمجھنا،گفتگو میں
عدل و انصاف،اور غیر ضروری باتوں سے اجتناب شامل ہیں.
1.
مجلس میں سلام کرنا: عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ، فَلْيُسَلِّمْ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ
يَقُومَ، فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ . ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب
تم میں سے کوئی کسی مجلس میں آئے تو سلام کرے، اور جب وہاں سے اٹھنے لگے تو بھی
سلام کرے۔ پہلی بار کا سلام دوسرے سلام سے زیادہ ضروری نہیں۔" (سنن ابی داود،
کتاب الأدب، باب فيمن جلس ثم قام، حدیث: 5208، مکتبہ: دار الرسالة العالمية)
2.
مجلس ختم کرتے وقت دعا: عَنْ
أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بِأَخَرَةٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ مِنَ
الْمَجْلِسِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا
أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ترجمہ:
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ ﷺ جب مجلس سے اٹھنا چاہتے تو یہ
دعا پڑھتے:"اے اللہ! تو پاک ہے اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں، میں گواہی دیتا
ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ
کرتا ہوں۔" (سنن ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما يقول إذا قام من مجلسه، حدیث:
3433، مکتبہ: دار الغرب الاسلامي)
3.
مجلس میں فضول باتوں سے اجتناب:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ:مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ
الْمَرْءِ، تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا:"آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان باتوں کو چھوڑ دے جو اس کے کام
کی نہیں۔"(سنن ترمذی، کتاب الزهد، باب ما جاء فی ترك ما لا يعنيه، حدیث:
2317، مکتبہ: دار الغرب الاسلامي)
5.
مجلس ذکر سے خالی نہ ہو: عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ، وَلَمْ
يُصَلُّوا عَلَى نبيهم إلا كان عليهم ترة يوم القيامة، فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ
وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں اللہ کا ذکر نہ
کریں اور نہ اپنے نبی پر درود بھیجیں، تو وہ مجلس ان کے لیے نقصان (وبال) بن جاتی
ہے۔ پھر اللہ چاہے تو ان کو سزا دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔"(سنن ترمذی،
کتاب الدعوات، باب ما جاء فی القوم يجلسون ولا يذكرون الله، حدیث: 3380، مکتبہ:
دار الغرب الاسلامي)
اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
فیصل آباد: 10 جنوری کو طلبہ کے لئے
"دستارِ فضیلت و تقسیمِ اسناد اجتماع" منعقد ہوگا
دعوتِ اسلامی نے تعلیمِ قراٰن عام کرنے، لوگوں
کے عقائد و نظریات کی حفاظت کرنے، انہیں دینی و شرعی مسائل سکھانے اور اُن کی
اخلاقی تربیت کرنے کے لئے مختلف شعبہ جات قائم کئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شعبہ جامعۃالمدینہ بوائز، شعبہ
مدرسۃالمدینہ بوائز، شعبہ مدرسۃالمدینہ بالغان، شعبہ امامت کورس اور شعبہ فیضان آن
لائن اکیڈمی بوائز سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبۂ کرام کے اعزاز میں ”دستارِ
فضیلت و تقسیمِ اسناد اجتماع“ کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔
واضح رہے طلبۂ کرام کے اعزاز میں ہونے والا یہ ”دستارِ
فضیلت و تقسیمِ اسناد اجتماع“ 10 جنوری 2026ء کو دھوبی گھاٹ گراؤنڈ، فیصل آباد
پنجاب میں 10:30 AM تا 1:00 PM کے
درمیان منعقد ہوگا۔
اس اجتماعِ پاک میں تلاوت و نعت، منقبت اور
مختلف کلام پڑھے جائیں گے جبکہ خصوصی بیان مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری فرمائیں
گے۔
ٹھاکرہ اسٹیڈیم مانسہرہ میں عاشقانِ رسول کا عظیم
الشان ہفتہ وار اجتماع منعقد
مانسہرہ کے تاریخ ساز اسٹیڈیم، ٹھاکرہ اسٹیڈیم میں
ہفتہ وار اجتماع کی خوشیوں بھری محفل سجی، جہاں عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے
شرکت کی۔ اس روحانی تقریب میں ہزاروں عاشقانِ رسول نے جمع ہوکر اپنے محبت بھرے
جذبات کا اظہار کیا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا پیغام
عام کیا۔
اس اجتماع کے دوران معروف مذہبی رہنما، رکن
شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری نے اپنے انداز میں محبت اور عقیدت کے جذبات کو بیان کیاجس
سے حاضرین کے دل مزید عشقِ رسول میں ڈوب گئے۔ انہوں نے پیغام دیا کہ محبتِ رسول ہی
ایمان کی اصل تقویت ہے اور ہمیں اپنی زندگیوں میں حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی سیرت کو اپنانا چاہیے۔
اجتماع کے انتظامات نہایت مضبوط اور منظم تھے،
جس میں ہر قسم کی حساس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھرپور تیاری کی گئی تھی۔ خصوصی
طور پر، ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے بائیبرگیڈ کی گاڑیاں اور ایمبولینس بھی موجود تھیں،
تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طبی اور حفاظتی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اس انتظامات کو عوام نے سراہا اور یہ ثابت کیا کہ یہ
اجتماع ہر لحاظ سے محفوظ اور خوشگوار ماحول میں منعقد ہوا۔
یہ ہفتہ وار اجتماع نہ صرف ایک روحانی محفل تھی
بلکہ اس میں عوامی محبت، اتحاد اور امن کا پیغام بھی پھیلا۔ اس طرح کے اجتماعات سے
معاشرہ میں محبت اور رواداری کو فروغ ملتا ہے اور نوجوان نسل کے دلوں میں محبتِ
رسول کا جذبہ مزید بڑھتا ہے۔
حکومتی اور انتظامی اداروں کی جانب سے بھی اس
تقریب کی نگرانی کی گئی اور یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ آئندہ بھی اسی طرح کے
پروگرام کامیابی سے منعقد ہوتے رہیں گے تاکہ عوام کے دلوں میں محبتِ رسول اور
اسلام کی تعلیمات کو زندہ رکھا جا سکے۔
دعوتِ
اسلامی کے زیرِ اہتمام ہر ہفتہ ہونے والا مدنی مذاکرہ آج بروز ہفتہ، یکم صفرالمظفر
1447ھ مطابق 26 جولائی 2025ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں منعقد کیا
جائے گا۔ اس مدنی مذاکرے کا آغاز ان شاء اللہ رات 09:45 بجے ہوگا۔
مدنی
مذاکرے میں بانی دعوتِ اسلامی، شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد
الیاس عطّار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ خصوصی
شرکت فرمائیں گے۔ اس روحانی اجتماع میں دینی و اصلاحی
موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی جائے گی نیز شرکا کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے
جوابات بھی دیے جائیں گے۔
عاشقان
رسول سے مدنی مذاکرے میں شرکت کی درخواست ہے۔
03 اگست کو نشتر پارک میں استقبال ماہ ربیع الاول اجتماع
ہوگا ، نگران شوریٰ خصوصی بیان فرمائیں گے
دینِ اسلام کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے
تحت استقبالِ ماہِ ربیع الاول کے سلسلے میں ”1500 سالہ جشنِ ولادت“ کے
عنوان سے ایک عظیم الشان سنتوں بھرا اجتماع 03 اگست 2025ء بروز اتوار، نشتر پارک،
نمائش چورنگی کراچی میں منعقد ہوگا۔
اس روح پرور اجتماع کا آغاز رات 10:00 بجے ہوگا
جبکہ بیان کا وقت 10:30 بجے مقرر کیا گیا ہے۔ اجتماعِ پاک سے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے
نگران و عالمی اسلامک اسکالر مولانا حاجی محمدعمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
اس
پروگرام کو مدنی چینل پر براہِ راست نشر کیا جائے گا جس سے دنیا بھر کے عاشقانِ
رسول اس روحانی اجتماع سے فیض یاب ہو سکیں گے۔
عاشقان
رسول سے اس اجتماع میں بھرپور شرکت کی درخواست ہے۔
Dawateislami