دین اسلام میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے حقوق دو قسم کے ہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد حقوق العباد بندوں سے معاف کروائے بغیر معاف نہیں ہوتے آئے ہم بھی حقوق العباد میں سے مجلس کے حقوق پڑھتے ہیں اور عمل کی کوشش کرتے ہیں۔

(1)مجلس میں سلام کریں:وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهٗ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولٰى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ ۔ ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرے کیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ۔ ( شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4660)

معلوم ہوا کہ آنے والا سلام کرے بیٹھے ہوؤں کو۔ یعنی اگر وہاں بیٹھنا نہ بھی ہو صرف گزر جانا ہو جب بھی سلام کرے اور اگر بیٹھنا ہو تب بھی سلام کرے۔ معلوم ہوا کہ راہ گیر یعنی گزرنے والا صرف ایک سلام کرے اور جو مجلس میں کچھ دیر ٹھہرے وہ دو سلام کرے ایک آنے کا دوسرا جانے کا۔ (حوالہ شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4660)

(2) امیروں کی مجلس سے خود کو بچانا :وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ إِنْ أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ وَلَا تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتّٰى تُرَقِّعِيهِ۔

ترجمہ :روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ اگر تم مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو تم کو دنیا سے اتنا کافی ہو جیسے سوار مسافر کا توشہ اور امیروں کی مجلس سے اپنے کو بچا ؤ اورکسی کپڑے کو پرانا نہ سمجھو حتی کہ اسے پیوند لگالو۔(حوالہ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4344)

(3)دوسروں کے لیے جگہ کشادہ کرنا:پہلے مجلس موجود لوگوں کو چاہے کے وہ آنے والوں کے لیے جگہ کشادہ کریں یہ پیار ومحبت و اخوت کا باعث ہے ۔

(4)دعا کرنا:مجلس کے آخر میں دعا کرنا کوتاہیوں اور لغزشوں کے لیے کفارہ ہے ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان کو پڑھ کر آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یارب العالمین