عبدالشکور
عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
اسلام
نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے اصول و ضوابط عطا کئے ہیں
تاکہ معاشرہ ایک پرامن اور با اخلاق فضا میں پروان چڑھے انسان جب کسی مجلس یا
اجتماع میں بیٹھتا ہے تو وہاں کے کچھ حقوق اور آداب ہیں جنہیں قران و حدیث میں بیان
کیا گیا ہے ان کی پاسداری نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ معاشرتی سکون اور بھائی چارہ
کی ضمانت بھی ہے ۔
مجلس
میں جگہ دینا اور تنگی نہ کرنا:اللہ عزوجل قرآن مجید میں
ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا
فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ
اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا
جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ
فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان
والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں
سے خوب خبردار ہے۔ ( سورۃ المجادلہ آیت
نمبر 11)
یہاں
پر اللہ تعالی کے اس فرمان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے مجلس میں
جگہ دینا اور تنگی نہ کرنا اس کے بارے میں فرمایا تاکہ لوگوں کو دشواری نہ ہو اور
لوگوں کا آپس میں باہمی بھائی چارہ قائم ہو اپس میں محبت قائم ہو اور نفرتوں سے
بچا جائے۔
مجلس
میں گناہ اور برائی کی تائید نہ کرنا:چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد
فرماتا ہے:
وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ
اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا
فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ ﳲ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ
الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ (۱۴۰)
ترجمۂ کنز العرفان: اور بیشک اللہ تم پر کتاب میں
یہ حکم نازل فرماچکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور
ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ کسی دوسری بات میں
مشغول نہ ہوجائیں ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو جاؤ گے۔ بیشک اللہ منافقوں اور
کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے ۔(النساء،140)
یہاں اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں ایسی مجلس سے
بھی بچنا چاہیے جہاں پہ قران پاک کو جھٹلایا جائے یا جس میں اسلام کے بارے میں نازیبہ
گفتگو کی جائے۔کیونکہ اگر ہم اس مجلس میں بیٹھ کر ایسے گفتگو سنیں گے تو ہم بھی اس
کا حصہ بن جائیں گے لہذا اس سے ہمیں دوسروں کو بھی اور خود کو بھی بچنا چاہیے۔
اسی
طرح مجلس کے آداب کے پیش نظر کثیرر احادیث بھی نقل کی گئی ہیں آئیں ان میں سے
چند احادیث سنتے ہیں۔
مجلس میں سلام کرنا:رسول
اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں ائے تو سلام کرے۔اور جب اٹھے تب
بھی سلام کرے۔ ( سنن ابی داؤد 5208۔)
اس
حدیث مبارکہ میں رسول اکرم ﷺ نے سلام کے تبلیغ فرمائی ہے کہ جب بھی تم میں
سے کوئی مجلس میں آؤ تو سب سے پہلے سلام کرے اسی طرح جب مجلس سے اٹھنے لگے تب بھی
سلام کرے۔
مجلس میں ادب اور خاموشی اختیار کرنا:رسول
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کے ساتھ اچھے انداز میں بیٹھا کرو اور ان کی بات
توجہ سے سنا کرو۔ ( مسند احمد )
اس
حدیث مبارکہ میں حضور نبی کریم رؤف الرحیم ﷺ نے مجلس کے آداب بیان کرتے ہوئے
فرمایا کہ مجلس میں خاموشی اختیار کرنا اور جو بات کی کہی جا رہی ہے اس کو توجہ کے ساتھ سننا۔اسی طرح مجلس کے آداب
کو بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے تو امت مسلمہ کو بہت کچھ سکھایا ہے ان میں
سے یہ بھی ہے کہ مجلس میں جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جانا چاہیے دوسرے لوگوں کو دھکا
دینا یا اس کو ادھر ادھر یا اس کو کھڑا کرنا یہ مجلس کے آداب کے خلاف ہے اس سے بھی
بچنا چاہیے۔
اللہ
عزوجل سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی قران و احادیث کی تعلیمات پر عمل
کرنے اور اسی طرح جس طرح نبی کریم رؤف الرحیم ﷺ نے مجلس کے آداب کی تبلیغ فرمائی
ہے جو انہوں نے ہمیں آداب سکھائے ہیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین یارب
العالمین ۔
Dawateislami