محمد
آصف رضا عطاری ( جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ،
پاکستان)
دین
اسلام نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے اصول و ضوابط عطا فرمائے ہیں۔دین اسلام کی
یہ خوبصورتی ہے کہ ہر کام کے لیے اور اس
کام کو سرانجام دینے کے لیے حقوق و ضوابط عطا فرمائے ہیں۔اگر بندہ ان حقوق کو ادا
کرتے ہوئے زندگی گزاریں اور ان عوامل کو ادا کرے تو وہ کام کامل طور پر ادا ہو
سکتا ہے۔
ان
حقوق میں سے مجلس کے حقوق بھی شامل ہیں۔چونکہ انسان کو مختلف اوقات میں مجلس میں بیٹھنے
کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے لہذا اللہ پاک نے قران پاک کے اندر اور حضور اکرم ﷺ نے
احادیث مبارکہ میں مجلس کے حقوق کو بیان فرمایا ہے۔اور ان حقوق پر عمل درآمد کرنا
نہ صرف دین کا حسن ہے بلکہ یہ ذات انسان کے لیے بہت ہی مفید عمل ہے۔مجلس کے حقوق
کو سیکھنا معاشرتی سکون اور بھائی چارے کی ضمانت دیتا ہے۔
احادیثِ
مبارکہ میں مجلس کے حقوق کا بیان :
ایسی بہت سی احادیث مبارک بھی ہیں جو کہ مجلس کے
حقوق کو بیان کرتی ہیں۔حضور پاک ﷺ نے کئی مقامات پر مجلس کے حقوق کو بیان فرمایا
ہے۔احادیثِ مبارکہ میں درج ذیل حقوق یہ بیان کیے گئے ہیں۔
1۔سلام
کرنا :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی مجلس میں
آئے تو سلام کرے اور جب اٹھے تب بھی سلام کرے۔(سنن ابی داود، حدیث: 5208)
لہذا
ثابت ہوا کہ مجلس میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت سلام کرنا اس کے بنیادی حقوق میں سے
ہے۔
2۔
دوسروں کو دھوکہ یا مذاق کا نشانہ نہ بنانا :رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:"کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو
ڈرائے۔"(سنن ابی داود، حدیث: 5004)
اب
معلوم ہوا کہ مجلس میں دوسروں کا مذاق اڑانا، چھیڑنا یا ڈرانا منع ہے۔
3۔
سرگوشی نہ کرنا :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب تین آدمی ہوں تو دو آدمی
آپس میں سرگوشی نہ کریں کہ تیسرے کو رنج ہو گا۔"(صحیح بخاری: 6290، صحیح
مسلم: 2184)
معلوم ہوا کہ مجلس میں سرگوشی سے اجتناب کرنا
چاہیے تاکہ دوسرے کو یہ احساس نہ ہو کہ اسے الگ کیا جا رہا ہے۔
4۔
مجلس میں ذکرِ الٰہی :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں
اور اللہ کا ذکر نہ کریں، تو وہ قیامت کے دن خسارے میں رہیں گے۔"(سنن ترمذی:
3380)
معلوم
ہوا کہ مجلس کو یادِ الٰہی سے خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
5۔مجلس
کا اختتام دعا پر کرنا :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو کسی مجلس میں بیٹھے اور
وہاں لغویات ہو جائیں، پھر وہ یہ دعا پڑھ لے: (سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ
إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ) تو اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"(سنن
ابی داود، حدیث: 4859)
لہذا
یہ معلوم ہوا کہ مجلس کے آخر میں یہ دعا پڑھنا سنت ہے۔
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں مجلس کے حقوق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور
ان آیات قرآنیہ اور احادیث مبارکہ پر عمل کرنے کی سعادت عطاء فرمائے ۔آمین یا رب
العالمین
Dawateislami