نعمت
الله عطاری (دورہ حدیث مرکز ی
جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
مجلس
ایک مقدس موقع ہوتا ہے جہاں مجموعی طور پر علم، مشورہ اور اتحاد کے بہترین اندازمیں
مواقع فراہم کیے جاتے ہیں اور یہاں پہ(مجلس میں) ہر فرد مستحق ہوتا ہے کہ وہ
اپنی اپنی رائے آزادی سے بیان کرسکےاور اس پہ لازم ہے کہ وہ دوسروں کی عزت
اور حقوق کا خصوصا خیال بھی رکھے۔ اچھی مجلس وہ ہوتی ہے جس میں عدل (انصاف )
کے ساتھ ہر فرد کی تقریر کو اچھی طرح سے سنا اور سمجھا جائے ، نہ کہ صرف بولنے کی
جلدی ہو بلکہ اس کی احترام اور تعاون کے ساتھ بات مکمل طور پر سنی جاۓ کیونکہ اسی طرح ہی مجلس میں
برکت ہوتی اور خوشگوار فضا قائم رہتی ہے ۔
نوٹ : ہر رکن کو اپنی رائے پیش کرنے کا پورا حق حاصل ہے
مگر دوسروں کی راۓ کا بھی
احترام ضروری ہے وقت کی پابندی اور نظم و ضبط کا خیال رکھنا اہم ترین ذمہ
داری ہے ۔
مجلس کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ جو شخص مجلس کے اختتام
کی جگہ بیٹھے اور جو شخص حلقے میں کوئی خالی جگہ دیکھے اور وہاں بیٹھ جائے۔"
حدیث پاک میں ہے کہ حضرت ابو واقد الیثی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہﷺ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بھی حضورﷺ کے ساتھ تھے کہ تین شخص سامنے سے
گزرے دو شخص تو خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک چلا گیا، یہ دونوں آکر رسول اللہ صلی
علیہ السلام کے سامنے کھڑے ہوئے ان میں سے ایک نے حلقہ میں گنجائش دیکھی وہاں بیٹھ
گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیاں اور تیسرا چلا گیا جب رسول اللہ ﷺ فارغ
ہوئے تو فرمایا: کیا میں تمہیں ان تینوں کے بارے میں نہ بتاؤں ! ایک نے اللہ کی
طرف پناہ لی تو اللہ نے اسے پناہ دی، دوسرے نے حیاء کی تو الله تعالی نے بھی اس سے
حیا فرمائی، اور ایک نے منہ پھیرا تو الله تعالٰی نے بھی اس سے نظر رحمت پھیر لی۔
( حوالہ صحیح بخاری شریف جلد ١ صفحہ ٧٩ )
محفل وغیرہ میں بیٹھ کر موبائل میں مشغولیت :مجلس کے آداب میں سے ہے کہ انسان شرکاء مجلس اور مہمانوں
کو چھوڑ کر کسی اور چیز میں مشغول نہ ہو ،
آج کل لوگ محفل میں شرکاء کو چھوڑ کر دیر تک موبائل فون اور سوشل میڈیا میں مشغول
رہتے ہیں، ایسا کر نا خلافِ ادب ہے۔ حدیث پاک میں ہے : حضرت عبد اللہ
بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم نے ایک
انگوٹھی بنوائی اور اسے پہنا، اور فرمایا:اس
انگوٹھی نے آج سے میری توجہ تمہاری طرف سے بانٹ دی ہے، ایک نظر اسے دیکھتا ہوں اور
ایک نظر تمہیں "، پھر آپ نے وہ
انگوٹھی اتار دی۔(سنن
النسائي : 5289 باب طرح الخاتم و ترك لبسہ )
قرآن پاک میں بھی مجالس کا ذکر صراحتاً مذکور ہے درج ذیل
میں ملاحظہ فرمائیں
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا
فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ
اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اے
ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا
اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان
کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
تفسیر صراط الجنان:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:
اے ایمان والو!: شانِ نزول: نبی کریم ﷺ غزوہِ بدر میں حاضر ہونے والے صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہ مْ کی عزت کرتے تھے، ایک روز چند
بدری صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہ مْ ایسے
وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ،اُنہوں نے حضورِ اقدس ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا۔ حضورپُر
نور ﷺ نے جواب دیا، پھر اُنہوں نے
حاضرین کو سلام کیا تواُنہوں نے جواب دیا، پھروہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ
اُن کیلئے مجلس شریف میں جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ،سرکارِ دو
عالَم ﷺ کو یہ چیزگراں گزری توآپ
نے اپنے قریب والوں کو اُٹھا کر اُن کیلئے جگہ بنا دی، اُٹھنے والوں
کو اُٹھنا شاق ہوا تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایاگیا اے ایمان
والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ
کردو، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت میں جگہ کشادہ
فرمائے گا اور جب تمہیں اپنی جگہ سے کھڑے ہونے کاکہا جائے تاکہ جگہ کشادہ ہو
جائے تو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے حبیب ﷺ کی اطاعت کے باعث تم میں سے ایمان
والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴ / ۲۴۰-۲۴۱)
فضیلت اور مرتبے والوں کو اگلی صفوں میں
بٹھایا جا سکتا ہے: یاد رہے کہ مجلس کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ
جو شخص پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی
ضرورت کے یا یوں کہ اہم حضرات کیلئے نمایا ں جگہ بنادی جائے جیسے دینی
و دُنْیَوی دونوں قسم کی مجلسوں میں سرکردہ حضرات کواسٹیج پر یا
سب سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے
کیلئے زیادہ قریب بیٹھیں ۔ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نبی کریم صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم میں سے جو لوگ بالغ اور عقل مند ہیں
انہیں میرے قریب کھڑے ہونا چاہئے ،پھر جو ان کے قریب ہوں ،پھر جو ان
کے قریب ہوں ۔( ابو داؤد ، کتاب الصلاۃ، باب من یستحبّ ان یلی الامام فی
الصفّ وکراہیۃ التأخّر، ۱ / ۲۶۷،
الحدیث: ۶۷۴)
اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت
ہے،حضور پُر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’لوگوں سے ان کے مرتبے اور منصب کے مطابق معاملہ کرو۔( ابو داؤد ، کتاب
الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم ، ۴ / ۳۴۳،
الحدیث: ۴۸۴۲)
فضیلت اور مرتبے والے خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھیں
:فضیلت اور مرتبہ رکھنے
والے حضرات کو چاہئے کہ وہ خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھیں کیونکہ
کثیر اَحادیث میں حضورِ اقدس ﷺ نے اس سے
منع فرمایا ہے ،جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت
ہے،سرکارِ دو عالَم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود ا س کی جگہ پر نہ بیٹھے۔(
مسلم،کتاب السلام،باب تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ المباح الذی سبق الیہ،ص۱۱۹۸،الحدیث: ۲۷ (۲۱۷۷))
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مَا سے مروی دوسری روایت میں
ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی
جگہ سے اٹھا کر خوداس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں چاہئے کہ )دوسروں
کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو۔( بخاری، کتاب الاستئذان، باب اذا قیل لکم
تفسّحوا فی المجٰلس۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۷۹،
، الحدیث: ۶۲۷۰)
Dawateislami