فرحان
منیر(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک مکمل ضابطۃ حیات ہے جو زندگی کے ہر گوشے میں آداب اور حقوق کی تعلیم دیتا ہے۔
انسان جب معاشرتی زندگی گزارتا ہے تو وہ مختلف مجالس و محافل میں شریک ہوتا ہے۔ ان
مجالس کے بھی کچھ حقوق اور آداب ہیں جنہیں قرآن و حدیث نے واضح فرمایا ہے۔ ان پر
عمل کرنا معاشرتی زندگی کو خوشگوار اور بابرکت بناتا ہے۔
1.
داخل ہوتے اور جاتے وقت سلام کرنا:حدیث: "جب کوئی مجلس میں
آئے تو سلام کرے اور جب اٹھنے لگے تو بھی سلام کرے۔"(ابو داود: 5208، ترمذی:
2706)
2.
اجازت کے بغیر داخل نہ ہونا:قرآن: اے ایمان والو! اپنے
گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک اجازت نہ لے لو اور وہاں کے
رہنے والوں کو سلام نہ کر لو۔(النور: 27)
3.
کسی کو جگہ سے نہ اٹھاناحدیث: "کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے
اور نہ خود وہاں بیٹھے بلکہ جگہ کشادہ کر دو۔"(بخاری: 6270، مسلم: 2177)
4.
وسعت دینا:قرآن: "جب تمہیں کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ دو تو
جگہ دیا کرو، اللہ تمہیں کشادگی دے گا۔"
(المجادلہ:
11)
5.
اچھی بات یا خاموشی:حدیث: "جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی
بات کرے یا خاموش رہے۔"
(بخاری:
6475، مسلم: 47)
6.
سرگوشی سے اجتناب:حدیث: "جب تین ہوں تو دو تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی
نہ کریں۔" (بخاری: 6288، مسلم: 2184)
7.
بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت:حدیث: "وہ ہم میں سے نہیں
جو بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔"(ترمذی: 1920)
8.
ذکرِ خیر اور قرآن خوانی:حدیث: "جب لوگ اللہ کے گھروں میں قرآن پڑھنے اور
اس کا درس کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں تو سکون نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی
ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں۔" (مسلم: 2699)
9.
اختتام پر دعا:حدیث: "جو شخص مجلس میں بیٹھے اور لغویات ہو جائیں
تو یہ دعا پڑھ لے: سبحانک اللهم وبحمدک،
أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك تو اس مجلس کی لغویات معاف کر دی جاتی ہیں۔"(ابو
داود: 4859، ترمذی: 3433)
ایک
واقعہ (عملی نمونہ)حضرت عبداللہ بن عمرسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مجلس
میں تشریف فرما تھے، وہاں کچھ صحابہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک اور صحابی آئے،
لیکن مجلس بھری ہوئی تھی۔ جیسے ہی وہ داخل ہوئے تو کچھ صحابہ نے فوراً اپنی نشستوں
میں کشادگی پیدا کی اور ان کے لیے جگہ بنائی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ منظر دیکھا تو خوش
ہو گئے اور فرمایا:"اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے کشادگی فرمائے جو اپنے مسلمان
بھائی کے لیے جگہ کشادہ کرتا ہے۔"(سنن ابی داود: 4825)
اس واقعے سے چند سبق:
ایثار اور قربانی:مجلس میں
اپنے مسلمان بھائی کے لیے جگہ بنانا ایثار اور قربانی کی علامت ہے۔ جو اپنے آرام
کو چھوڑ کر دوسرے کو جگہ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کے لیے
آسانیاں پیدا فرماتا ہے۔
اللہ
کی رحمت کا وعدہ:جب بندہ اپنے بھائی کے ساتھ خیرخواہی کرتا ہے تو اللہ
تعالیٰ اپنی رحمت سے اسے نوازتا ہے۔ حدیث کے الفاظ "یُفَسِّحُ اللَّهُ لَهُ" (اللہ اس کے لیے کشادگی
کرے گا) نہ صرف دنیاوی زندگی میں سکون اور فراخی کا وعدہ ہیں بلکہ آخرت میں جنت کی
وسعت کی بھی بشارت ہیں۔
معاشرتی ہم آہنگی:اگر ہر
مسلمان مجلس میں دوسرے کے لیے جگہ بنائے، چھپ کر بات نہ کرے، بڑوں کا احترام کرے
اور ذکرِ خیر کرے تو معاشرہ محبت، بھائی چارے اور اخوت سے بھر جائے گا۔
مجالس
کی برکت:جہاں مجالس کے آداب ادا کیے جاتے ہیں، وہاں فرشتے آ کر بیٹھتے
ہیں، اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور مجلس نور اور سکون سے بھر جاتی ہے۔
مجلس میں سلام سے داخل ہونا،
اجازت لینا، جگہ دینا، بڑوں کی عزت کرنا اور آخر میں دعا کرنا یہ سب اسلامی آداب ہیں۔جو
دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔
رسول
اللہ ﷺ اور صحابہ نے عملی طور پر ہمیں دکھایا کہ ایک دوسرے کے لیے جگہ بنانا اللہ
کے قرب اور رحمت کا ذریعہ ہے۔"اللہ تعالیٰ اس شخص کو کشادہ کرے جو اپنے
مسلمان بھائی کے لیے جگہ کشادہ کرتا ہے۔" (سنن ابی داود: 4825)
یہ
واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ مجلس میں دوسروں کے لیے جگہ بنانا اور آسانی پیدا کرنا
کتنا بڑا عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دنیا و آخرت میں کشادگی عطا فرماتا ہے۔
Dawateislami