ہماری زندگی کا بہت بڑا حصہ اجتماعیت میں گزرتا ہے جس میں ہم مختلف لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں . چند لوگوں کے درمیان بیٹھنے کو  عربی میں مجلس کہتے ہیں. اور اردو میں بیٹھک کہتے ہیں ہماری مجلس ہمارے لئے یا تو سعادت کا ذریعہ بن سکتی ہیں . یا محرومی کا اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ مجلس کے حقوق ہوتے ہیں اگر انکو مدنظر رکھا جائے تو مجلس رحمت اور سکوں سبب بنتی ہے۔

پہلا حق جگہ کشادہ کرنا :اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔ ( پارہ 28المجادلۃ آیت نمبر 11)

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگان دین کے لیے جگہ چھوڑنا اور ان کی تعظیم کرنا جائز بلکہ سنت ہے حتی کہ مسجد میں بھی ان کی تعظیم کر سکتے ہیں کیونکہ یہ واقعہ مسجد نبوی میں بھی ہوا تھا یاد رہے کہ حدیث پاک میں بزرگان دین اور دینی علماء کی تعظیم اور توقیر کا باقاعدہ حکم بھی دیا گیا ہے چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جن سے تم علم سیکھتے ہو ان کے لیے عاجزی اختیار کرو اور بد زبان عالم نہ بنو (الجامع لاخلاق الراوی باب توقیر المحدث العلم الخ تواضعہ لھم ص 430 الحديث 8061)

لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ بزرگان دین کی تعظیم کرتا رہے اور ان کی بے ادبی سے گریز کرے اللہ تعالی ہمیں ادب اور تعظیم کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

سلام :مجلس میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت سلام کرنا سنت ہے یہ محبت اور اخلاص کی بنیاد ہے

جگہ :نئے آنے والے کے لیے جگہ بنانا ایمان کی علامت ہے اللہ پاک فرماتا ہے اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کشادگی پیدا کرو تو کشادگی پیدا کر دو

آداب: بزرگان دین اور علماء کا ادب کرنا نرمی سے بات کرنا اور بات کاٹنے سے گریز کرنا ضروری ہے

برائیوں سے بچاؤ: غیبت چغلی گالی گلوچ جھوٹ اور فحش باتوں سے مجلس کو پاک رکھنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے

ذکر الہی :جو مجلس اللہ پاک کے ذکر سے خالی ہو وہ خالی برتن کی طرح ہے ذکر اللہ کی برکت سے اللہ پاک رحمت کے دروازے کھولتا ہے

دعا :مجلس کے آخر پر اجتماعی دعا کرنا بھی سنت ہے جس سے مجلس برکت اور رحمت کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے

ابھی ہم نے جن حقوق کا مطالعہ کیا اگر ہم ان حقوق پر عمل کرنے والے ہوں جائے تو ہماری مجلسیں ہمارے لیے دنیا اور آخرت میں بھلائی کا سبب بنے گے اچھی مجلسوں کو اپنائیے اور بری بیٹھکوں سے پرہیز کیجئے اللہ کریم ہم سب کو نیک مجلسوں میں بیٹھنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین