اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اس نے زندگی کے ہر شعبے میں انسان کو اخلاق سکھائیں ہیں تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں ایک اچھے فرد کی طرح زندگی گزارے ۔ہر انسان پر خود کے حقوق کے علاوہ دوسروں کے حقوق کی بھی پاسداری کا اسلام حکم دیتا ہے اور اس کے مطابق رہنمائی فراہم کرتا ہے انہیں حقوق میں سے ایک بہت اہم حقوق"مجلس کے حقوق"ہیں۔آئیں ہم اس کے حوالے سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

1. لغو باتوں اور بے ہودہ گفتگو سے پرہیز کرنا: مجالس کے حسن یہ ہے کہ وقت ضائع کرنے، غیبت، چغلی یا فضول باتوں سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ ایک مومن کی مجلس تعمیری ہونی چاہیے۔

2. مجلس میں بیٹھنے والوں کو اذیت نہ دینا:حدیثِ نبوی ﷺ:عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ آذَى الْمُسْلِمِينَ فِي طُرُقِهِمْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ لَعْنَتُهُمْ.ترجمہ:حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو مسلمانوں کو ان کی راہوں (مجالس یا راستوں) میں اذیت دیتا ہے، اُس پر ان کی لعنت واجب ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی: حدیث نمبر 3050)

اس حدیث مبارکہ میں اس چیز کا تذکرہ ہے کہ مجلس میں بیٹھنے کے انداز، گفتگو، یا کسی بھی طرزِ عمل سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائی جائے جس کی وجہ سے ایک مسلمان کو تکلیف پہنچے۔

3. درمیان میں بات کاٹنا اور شور کرنا منع ہے۔فرمانِ نبوی ﷺ:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں بیٹھ کر تفریق پیدا کرے مگر ان کی اجازت سے۔(جامع ترمذی: باب: بغیر اجازت دو ادمیوں کے درمیان میں بیٹھنے کی کراہت کا بیان, حدیث نمبر:2752)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مجلس کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے اور نہ تو دو شخصوں کے درمیان بیٹھا جائے اور نہ ہی ان کے ہے کہ درمیان میں بیٹھنے یا بولنے سے پہلے اجازت لی جائے۔

اللہ تبارک و تعالی ہمیں حضور اکرم ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام حقوق پر کامل طور پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین