محمد
حسان (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
الحمدللہ
ہم انسان ہیں جنہیں زندگی کو جینے کے لیے کچھ معاملات کے ساتھ تعلق رکھنا پڑتا ہے
جن میں اگر دیکھا جائے تو کھانا پینا، رہنا سہنا اور سونا وغیرہ اور بہت سے
معاملات ہیں جن کی طرف ہمیں محتاجی ہوتی ہے۔ ان معاملات میں سے ایک اہم امر لوگوں
سے میل جول رکھنا، ہم مجلس ہونا بھی ہے۔ ہمارا دین اسلام ہر شے کے حقوق کے بارے میں
ہمیں بیان کرتا ہے، تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ مصاحبت اور ہم نشینی کے حقوق کیا ہیں۔
جب ہم اس کے حقوق کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان شاءاللہ ہماری مجلسوں میں حسن اور
دوستوں کی تعداد میں اضافہ نظر آئے گا کیونکہ ہر بندہ حق کی طلب میں بے تاب ہے۔
اگر آپ اسے اس کا حق دے دیں گے تو ان شاءاللہ وہ آپ کے ساتھ تا دمِ حیات مربوط رہے
گا۔
ہم
مجلس کے حقوق:
1۔
سلام کرنا:جب ہم مجلس میں آئے تو سلام کرنا چاہیے جیسے کہ حدیث میں آیا؛رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:
إذا انتهى أحدُكم إلى مجلسٍ فليسلِّمْ، فإن بدا له أن
يجلسَ فليجلسْ، ثم إذا قامَ فليسلِّمْ، فليستِ الأولى بأحقَّ من الآخرةِ۔(ابوداؤد،
حدیث 5208) ترجمہ: "جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں آئے تو سلام کرے، پھر اگر
بیٹھنا چاہے تو بیٹھے، اور جب اٹھے تو بھی سلام کرے۔ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق
دار نہیں۔"
2۔
مجلس میں آنے والے کے لیے جگہ بنانا:اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی خوبصورت
کلام پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ
ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا ۔
یہ
آیت مبارکہ جہاں حقوقِ مجلس کا بیان ہے وہیں اتباعِ مصطفی ﷺ پر واضح اشارہ ہے۔ اس
کی تفصیل آپ صراط الجنان سے پڑھ سکتے ہیں، لیکن میرا اس آیت کو ذکر کرنے کا مقصد
اس مجلس کے حق کو بیان کرنا ہے جسے قرآن نے بیان کیا کہ آنے والے کو جگہ دو۔ کیونکہ
جب بندہ کسی کے لیے تعظیماً سرک جاتا ہے، اس کے لیے جگہ بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس فعل
کے سبب جگہ بنانے والا شخص آنے والے کے دل میں گھر کر جاتا ہے۔ یہ معمولی فعل محبت
کے رشتے کو تقویت دینے کے لیے پہلا زینہ ہوتا ہے۔
3۔
قائل کی بات کو غور سے سننا:الحمدللہ ہمارا دین ہماری تربیت
فرماتا ہے کہ ہمیں مقابل کی بات غور سے سننی چاہیے۔ جب وہ بات کر رہا ہو تو اسی کی
طرف متوجہ ہونا چاہیے، ادھر ادھر دیکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے یا ایسے اظہار سے بھی
بچنا چاہیے جو اسے ایسا تاثر دے کہ یہ شخص میری بات کو سننا نہیں چاہ رہا۔
حضور
ﷺ کا قائل سے سننے کا انداز ملاحظہ کیجیے:حدیث میں آیا ہے:
كانَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ إذَا
استقبلَهُ الرجلُ صافحَهُ لا ينزِعُ يدَهُ حتَّى يكونَ هو الذِي نزعَ ولا يصرفُ
وجهَهُ عَنْ وجهِهِ حتَّى يكونَ الرجلُ هو الذي يصرفُه.(ترمذی:
2490، ابن ماجہ: 3716)
یعنی
رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کے سامنے آتے تو اس سے مصافحہ فرماتے، اور اپنا ہاتھ اس
وقت تک نہ کھینچتے جب تک دوسرا شخص خود نہ کھینچ لیتا، اور اپنا چہرہ بھی اس کے
چہرے سے نہ پھیرتے جب تک وہ شخص خود اپنا چہرہ نہ پھیر لیتا۔ سبحان اللہ! ہمارے
حضور ﷺ کیسے عظیم اخلاق والے ہیں۔ تو ہمیں بھی انہی کے راستے پر چلنا چاہیے۔
4۔
قائل کی بات نہ کاٹنا:الحمدللہ ہمارا دین دینِ فطرت ہے اور ہماری فطرت و جبلت
میں یہ بات شامل ہے کہ دوسروں کو تکلیف نہ دی جائے۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں، ان میں
سے ایک دوسرے کی بات کاٹنا بھی ہے۔ جب بندہ دوسرے کی بات کاٹتا ہے تو وہ اس کے
کلام کو اپنے کلام سے افضل بتاتا ہے، اور جب یہ مجلس میں لوگوں کے سامنے ہو تو اس
عمل سے وہ بے عزتی محسوس کرتا ہے اور احساسِ کمتری کا شکار ہو سکتا ہے۔
حدیث
میں آیا ہے:مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ
اٰذَانِیْ، وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰهَ ترجمہ: جس نے مسلمان کو تکلیف دی
اس نے مجھے تکلیف دی، اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔(معجم
الاوسط، باب السین، من اسمہ: سعید، ۲/۳۸۶،
الحدیث: ۳۶۰۷)
لہٰذا
ہمیں اس عمل سے بچتے ہوئے لوگوں کے کلام کو مکمل ہونے تک غور سے سننا چاہیے، کیونکہ
ممکن ہے اس کے کلام سے ہماری سوچ کا زاویہ بدل جائے۔ جو ہم سطحی طور پر سوچ رہے
تھے، گہرائی میں سوچنے والے ہو جائیں۔ ہو سکتا ہے یہی ہماری مشکل کا حل ہو۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں مجلس کے حقوق سمجھنے اور انہیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami