اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت و شرف سے نوازا اور اسے ایک سماجی مخلوق بنایا ہے۔ انسان کا دوسروں کے ساتھ میل جول رکھنا ضروری ہے، لیکن اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ میل جول کے دوران کچھ آداب ملحوظِ خاطر رکھے جائیں۔ انہی کو مجلس کے آداب کہا جاتا ہے۔

1. مجلس میں کشادگی کرنا:قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔ (سورۃ المجادلہ: آیت 11)

2. گفتگو میں نرمی اور اچھے الفاظ کا استعمال:قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا ترجمہ کنزالایمان:"اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔"(سورۃ البقرہ: آیت 83)

3. سلام کا اہتمام :نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "چھوٹا بڑے کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور کم تعداد والے کثیر تعداد والوں کو سلام کرے۔" (صحیح بخاری، کتاب الاستئذان، جلد 8، صفحہ 14، حدیث نمبر 6234)

اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ مجلس کا مقصد صرف بیٹھنا اور وقت گزارنا نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت، عزت اور نیکی پھیلانا ہے۔ اگر ہم قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے یہ آداب اپنائیں تو ہماری محفلیں خیر و برکت سے معمور ہوں گی اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہو گی۔