حافظ
حمزہ قادری ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی، پاکستان)
اسلام
نے زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کی ہے، چاہے وہ عبادات ہوں یا معاملات،
انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی۔ اسی سلسلے میں "مجلس" یعنی مل بیٹھنے کے
آداب بھی بڑی وضاحت سے بیان کیے گئے ہیں۔ انسان جب دوسروں کے ساتھ بیٹھتا ہے تو اس
کی گفت و شنید، رویہ اور اخلاق اس کی شخصیت کی اصل پہچان بن جاتے ہیں۔ اگر مجلس میں
ادب، محبت اور خیر ہو تو وہ دلوں کو جوڑتی ہے، ورنہ وہ نفرت اور اختلاف کا سبب بن
جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں مجالس کے حقوق کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔
مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ كَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، ثُمَّ
قَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا
أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ
ذَلِكَ ۔ ترجمہ: "جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور وہاں فضول
باتیں زیادہ کرے، پھر اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے: 'سبحانک اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك'
تو اس مجلس میں جو کچھ ہوا معاف کر دیا جاتا ہے۔"
مفہوم:
مجلس کے آخر میں دعا پڑھنا گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔ ( سنن ترمذی، کتاب
الدعوات، باب ما يقول إذا قام من مجلسہ، حدیث 3433)
إذا كنتُم ثَلاثةً فلا يَتَناجَى اثنانِ دونَ الآخَرِ ترجمہ: "جب تین آدمی ہوں
تو دو آدمی دوسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔"( صحیح مسلم، کتاب السلام، باب النهي عن تناجي
اثنين دون الثالث، حدیث 2184)
مفہوم:
مجلس میں کسی کو الگ کر دینا دل آزاری ہے۔
اسلام
نے مجالس کو خیر، محبت اور علم کا ذریعہ بنایا ہے۔ اگر ہم اپنی زبان کو قابو میں
رکھیں، دوسروں کی عزت کریں اور ہر مجلس کو ذکر اور دعا کے ساتھ ختم کریں تو یہ
محفلیں ہمارے لیے دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات کا سبب بنیں گی۔ جو لوگ ان
اصولوں کو نظر انداز کرتے ہیں وہ نہ صرف دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں بلکہ اپنی آخرت
بھی برباد کر لیتے ہیں۔ اس لیے آئیے ہم سب عہد کریں کہ ہماری ہر مجلس قرآن و سنت
کے نور سے منور ہوگی۔
Dawateislami