مجلس
انسان کی شخصیت اور اخلاق کا عکس ہوتی ہے۔ ایک باشعور اور باکردار انسان اپنی
گفتگو، بیٹھنے کے انداز اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ سے اپنی تربیت کا اظہار کرتا ہے۔
اسلام نے ہر پہلو میں رہنمائی کی ہے، حتیٰ کہ یہ بھی بتایا کہ کس طرح بیٹھنا، بات
کرنا اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہے۔ مجلس کے حقوق بیان کرنا دراصل انسان کو
باہمی عزت، محبت اور اتحاد کی طرف مائل کرنا ہے۔
وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ
بَیْنَهُمْؕ
ترجمہ:
اور میرے بندوں سے فرماؤ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو بےشک
شیطان ان کے آپس میں فساد ڈال دیتا ہے (سورۃ بنی اسرائیل: آیت 53)
مختصر
مفہوم:مجلس میں ہمیشہ اچھی اور مثبت گفتگو کرنی چاہیے تاکہ شیطان
کو اختلاف کا موقع نہ ملے۔
إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيهِ
لَغَطُهُ فَلْيَقُلْ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ
الخ
ترجمہ:
جب کوئی شخص مجلس میں بیٹھے اور وہاں لغو باتیں زیادہ ہو جائیں تو وہ اٹھنے سے
پہلے یہ دعا پڑھ لے: "سبحانک
اللہم وبحمدک"(سنن ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما یقول إذا قام من
مجلسہ، حدیث: 3433)
مفہوم:
مجلس میں ذکرِ الٰہی گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔
لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِترجمہ:
دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔ ( صحیح مسلم، کتاب السلام، باب النہی عن
تناجی اثنین دون الثالث، حدیث: 2184)
مفہوم:
مجلس میں سب کی عزت برابر ہے، کسی کو تنہا چھوڑنا منع ہے۔
اسلام
نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ مجلس کو محض دنیاوی باتوں کا مرکز نہ بنایا جائے بلکہ اسے
خیر، علم اور ذکرِ الٰہی سے آراستہ کیا جائے۔ اگر مسلمان قرآن و حدیث کی ان ہدایات
پر عمل کریں تو ان کی مجالس برکت، سکون اور اخوت کا ذریعہ بنیں گی، ورنہ وہ محض
وقت ضائع کرنے کا مقام رہ جائیں گی۔
Dawateislami