دعوتِ اسلامی کے تحت  18مارچ2022ء بروز جمعہ اسلام آباد زون فور کی ترلائی ڈویژن میں شخصیات اجتماع کا انعقاد ہوا جس میں شخصیات اسلامی بہنوں نے شرکت کی۔

پاکستان مشاورت نگران اسلامی بہن نے ’’دنیا و آخرت کی کامیابی ‘‘ کے موضوع پر سنتوں بھرابیان کیا ۔ بعدازاں دعوت اسلامی کے شعبہ جات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی جس پر شخصیات اسلامی بہنوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا ۔ آخر میں پاکستان نگران مشاورت اسلامی بہن نے آخر میں شخصیات سے ملاقات کی اور ان میں تحائف تقسیم کئے ۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ محبتیں بڑھاؤ کے زیر اہتمام 20 مارچ 2022ء  کو ڈویژن محمود آباد کراچی میں ایصالِ ثواب اجتماع کیا گیاجس میں ڈویژن و علاقائی سطح کے ذمہ داران و مقامی اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

مبلغ دعوت اسلامی خادم حسین عطاری نے ’’دینی ماحول کی برکتیں‘‘ کے موضوع پر بیان کیا اور اسلامی بھائیوں کو باقاعدگی سے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں آنے اور مدنی مذاکرہ میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی ۔(رپورٹ: محمد اشفاق علی عطاری ، کانٹینٹ: رمضان رضا )


قارئینِ کرام ! اچھے کام کرنے سے آپ لوگوں کی آنکھوں کے تارے بن سکتے ہیں جبکہ برے کام کرنے سے یا بری عادات اپنانے سے آپ لوگوں کی نظروں سے گِر بھی سکتے ہیں اور آپ کو ذلت و شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ اس مضمون میں ہم 16 ایسے کاموں کی نشاندہی کررہے ہیں جن سے اجتناب کرکے آپ شرمندگی سے بچ سکتے ہیں۔

(1)کسی کے فون میں جھانکنا بہت ہی نامناسب بات ہے یقین جانیں شریف اور سمجھدار لوگ ایسی حرکتیں نہیں کرتے، یہ عمل ذلیل بھی کرواسکتا ہے اور شرمندہ بھی ۔

(2)کسی کا نمبر اس کی اجازت کے بغیر کسی کو بھی نہ دیں کیا پتا جس کا نمبر آپ نے کسی کو دیا اس کو یہ بات سخت نا پسند ہو ۔ ہاں اگر اس کی طرف سے اجازت ہے تو ٹھیک ہے۔

(3)اگر آپ کے پاس کسی کا فون آئے تو اس طرح فون پر بات نہ کیجئے کہ جس سے اور لوگ ڈسٹرب ہوں اگر کمرے میں ہوں تو باہر چلے جائیں تاکہ دوسرے لوگوں کو پریشانی نہ ہو، نیز موبائل کی ٹون ایسی نہ رکھیں جس سے دوسرے لوگ ڈر جائیں یا پریشان ہوں ۔

(4)بعض لوگوں کو جب فون کیا جائے تو انہوں نے عجیب ٹونز سیٹ کی ہوتی ہیں کسی نے گانے کی ٹون معاذ اللہ سیٹ کی ہوتی ہے اور نہ جانے کیا کیا بعض اوقات کسی دینی ذہن رکھنے والے کو بھی جب فون کیا جائے تو میوزک یا گانے کی آواز آجاتی ہے حالانکہ ان کو خود بھی اس بات کا پتہ نہیں ہوتا اس پر بھی وقتاً فوقتاً غور کرلینا چاہیے شاید یہ کمپنی والے ایسا کردیتے ہیں یا کوئی اور وجہ ہوتی ہے۔

(5)اگر آپ کو کوئی کام دیا گیا اور آپ نہیں کرنا چاہتے تو اپنی جان چھڑانے کے لئے کسی اور کو اس میں خدارا نہ پھنسائیں کہ بھائی میں تو نہیں کرسکوں گا ایسا کرو وہ فلاں بندہ ہے نا اس کے پاس چلے جاؤ وہ تمہارا کام کردے گا جیسے اس کے پاس دنیا کا کوئی کام نہیں ہے وہ اسی لئے بیٹھا ہے کہ کہیں سے بھی کوئی بھی کیسا بھی کام اس کو دے اور وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسی کام میں مصروف ہوجائے۔لوگوں کے اپنے اپنے کام فکس ہوتے ہیں آپ کے ایسا کرنے سے کوئی آزمائش میں آسکتا ہے۔

(6)کسی کی چیز اس کی اجازت کے بغیر استعمال نہ کریں چاہے کوئی معمولی چیز ہی کیوں نہ ہو اگر آپ اس سے اجازت لے لیں گے تو اس کی نظر میں آپ کا مقام اور بڑھ جائے گا۔

(7)لوگوں سے چیزیں لے کر واپس نہ کرنا بہت ہی معیوب اور برا عمل ہے، اولاً کوشش کریں ایسی نوبت نہ آئے بصورت مجبوری وقت پر لوٹادیں، سکھی رہیں گے۔

(8)کھانے کے دوران منہ سے چبانے کی آوازیں نکالنے سے لوگوں کو الجھن ہوتی ہے اور یہ مہذب لوگوں کا طریقہ نہیں اس سے بچیں اور لوگوں کے سامنے بلند آواز سے ڈکار نے سے بھی گریز کریں نیز جمائی کے دوران منہ سے آواز نکالنا اور منہ پر ہاتھ نہ رکھنا بھی بری صفات میں شمار کیا جاتا ہے۔

(9)لوگوں سے ایسا مذاق کرنا جس سے ان کی دل آزاری ہو اور ان کی تحقیر ہو اسلام میں اس کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے اس عادت سے خود کو لازمی بچائیں۔

(10)بار بار کسی کے پاس بلاوجہ چلے جانے سے اہمیت کم ہوجاتی ہے اور سامنے والے کی نظر میں آپ کی وقعت بھی ختم ہوجائے گی،اگرچہ وہ آپ کا دوست یا ررشتہ دار ہو۔

(11)کسی سے کچھ بھی منگوائیں تو پیسے پہلے اس کے حوالے کریں تاکہ وہ بغیر کسی مشقت کے آپ کی چیز لے آئے بہت سے لوگوں میں یہ بری عادت موجود ہے کہ لوگوں کو آرڈر دیئے چلے جاتے ہیں کہ یار میرے لئے یہ لے آنا یا مجھے فلاں چیز لادینا پیسے میں د ے دوں گا وغیرہ جبکہ وہ بے چارہ کئی بار لوگوں کے لئے ان کا مطلوبہ سامان تو لے آیا لیکن جس کے لئے لایا اس نے پھر مڑ کر بھی اس کی طرف نہ دیکھا اور اس کا نقصان ہوگیا یاد رکھئے بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ انہیں خود سے مانگنا اچھا نہیں لگتا اگر کسی نے ان کے پیسے ادھار لئے ہوں تب بھی وہ اپنے پیسے واپس مانگنے میں شرم محسوس کرتے ہیں اس لئے خدارا لوگوں کی پرواہ اور فکر کریں ۔ ایسی حرکتوں کی وجہ سے ہی پھر سامنے والا بھی ٹال مٹول کرنا شروع کردیتا ہے کہ یار میں تمہاری چیز لانا بھول گیا ذہن میں نہیں رہا یاد نہیں رہا اب بتائیں اگر آپ کا کردار صاف ہوتا تو وہ کیوں آپ کی مدد نہ کرتا لہذا پیسوں کے معاملے میں سستی کاہلی کا مظاہرہ نہ کریں۔جس کے جو پیسے آپ کے ذمہ ہوں فورا لوٹانے کی کوشش کریں۔

(12)کسی سے قرض لیا یہ بول کر کہ دو دن بعد لوٹادوں گا تو اب لازمی لوٹادیں ورنہ یہ ہوگا کہ اس بار تو آپ نے اس سے پیسے لے لئے لیکن آئندہ پھر وہ کبھی بھی آپ کو اُدھار پیسے نہیں دے گا۔ لوگوں کا بھروسہ مت توڑیں۔

(13)لوگ دوسروں کی مدد کرناچاہتے ہیں ان کی مشکل میں کام آنے کا جذبہ رکھتے ہیں لیکن کم ظرفوں کی کوتاہیوں کی وجہ سے مستحقین بھی ان کی بھلائی سے محروم ہوجاتے ہیں۔

(14)کسی کے پاس جو کچھ بھی ہے اس سے جلنا ،چڑنا ،حسد کرنا ،بغض رکھنا چھوڑ دیں کیونکہ یاد رکھیں آپ کے ایسا کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑے گا لیکن ان کاموں کی نحوستیں آپ تک ضرور پہنچیں گی ہاں توبہ کرلیں تو ان شاء اللہ بچت ہوجائے گی۔بلکہ دوسروں کے پاس نعمتیں دیکھیں تو ان کے لئے مزید دعا کریں اس سے اللہ پاک آپ کی بھی نعمتوں میں اضافہ کردے گا۔

(15)اپنی چیزوں کو ترتیب سے رکھیں تاکہ وقت ضرورت دشواری کا سامنا نہ ہو اور غصے کی کیفیت سے بچ سکیں۔

(16)کوئی بھی ضروری کام ایسا ہو جو بعد میں کرنا ہو اور بھول جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو موبائل میں ایک فولڈر بنا کر نوٹ کرلیں ۔ تاکہ وقت ضرورت دیکھا جا سکے۔اسی طرح کسی کو کچھ دیں یا لیں تو اس کو نوٹ کرلیں تاکہ بعد میں جھگڑا نہ ہو۔

از: محمد بلال سعید عطاری مدنی

اسکالر اسلامک ریسرچ سینٹر ، دعوتِ اسلامی

02-03-2022


دعوتِ اسلامی کے تحت 20  مارچ 2022ء بروز اتوار پتوکی لاہور کے اطراف گاؤں تارا گڑھ میں جامع مسجد فیضان مدینہ و مدرسۃ المدینہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ رحمت علی اور جمیل احمد نے 45 مرلہ رقبہ پر مشتمل یہ جگہ دعوت اسلامی کو وقف کی رکن شوریٰ حاجی محمد منصور رضا عطاری نے اپنے ہاتھوں سے سنگ بنیاد رکھا۔

اس موقع پر رکن شوریٰ نے مسجد کی تعمیرات کے حوالے سے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے مقامی عاشقان رسول کواپنے بچوں کو مدرسہ میں داخلہ دلوانے اور مسجد کو آباد کرنے کے حوالے سے ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہا ر کیا۔(رپورٹ: علی ریاض عطاری تحصیل ذمہ دار سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ، کانٹینٹ: رمضان رضا )


دعوتِ اسلامی کے شعبہ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں صوبہ پنجاب میں مدنی مشورہ ہوا جس میں صوبہ پنجاب سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ ،سرکاری ڈویژن لاہور اور ڈویژن ایونٹ مینجمنٹ ٹیم کے ذمہ داران نے شرکت کی۔

نگران ڈیپارٹمنٹ ابو حامد محمد عادل عطاری نے شعبے کے تحت ہونے والے دینی کاموں کے حوالے سے اپڈیٹ نکات اسلامی بھائیوں کو بتائے اور ٹیکنیکلی کاموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں آئندہ کے لئے اہداف دیئے۔ (رپورٹ: احتشام نوید عطاری سکیورٹی آفس ، کانٹینٹ: رمضان رضا )


دعوتِ  اسلامی کے زیر اہتمام 20مارچ 2022ء کو اڈا جملیرا میں سیکھنے سکھانے کے حلقے کا انعقاد ہوا جس میں علاقہ کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں اور اہل محبت نے شرکت کی۔

نگران ڈویژن مشاورت ابو احمد محمد محسن رضا عطاری نماز کے مفسدات کے حوالے سے معلومات فراہم کیں اور اسلامی بھائیوں کو دعوت اسلامی کی دینی و فلاحی کاموں کے بارے میں بتاتے ہوئے انہیں ڈونیشن جمع کرنے کا ذہن دیا ۔ (رپورٹ: ابو احمد محمد محسن رضا عطاری، کانٹینٹ: رمضان رضا )


دعوتِ اسلامی کے شعبہ کفن دفن کے زیر اہتمام 20 مارچ 2022ء بروز اتوار اسلام آباد میں کفن دفن اجتماع کا انعقاد ہوا جس میں مقامی اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

صوبہ ذمہ دار ظہیر عباس عطاری نے ’’نماز جنازہ ‘‘ کے موضوع پرسنتوں بھرا بیان کیا اور اسلامی بھائیوں کو کفن کاٹنے، پہنانے کا پریکٹیکل طریقہ بتایا۔ بعدازاں نمازہ جنازہ کا طریقہ بھی بتایا ۔(رپورٹ: زبیر عطاری ، کانٹینٹ: رمضان رضا )


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام امریکہ کے شہر ہیوسٹن (HOUSTON USA) میں واقع مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں شبِ براءت کے موقع پر نوافل ادا کرنے کا اہتمام کیا گیا۔

بعد نوافل دعوتِ اسلامی کے ذمہ داران نے عاشقانِ رسول کے ہمراہ ہیوسٹن کے قبرستان میں تلاوت ِ قراٰنِ پاک اور فاتحہ خوانی کا سلسلہ کرتے ہوئے عاشقانِ رسول کے مرحومین کے لئے ایصالِ ثواب کیا۔

اس موقع پرمبلغِ دعوتِ اسلامی مولانا کاشف عطاری مدنی نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے وہاں موجود اسلامی بھائیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا ذہن دیا۔(رپورٹ: محمد ذیشان عطاری یو ایس اے سوشل میڈیا ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


گزشتہ دنوں مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ٹنڈو الہ یار میں مختلف ائمہ کرام و علمائے کرام کی آمد ہوئی جہاں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی محمد فاروق جیلانی عطاری نے ذمہ داران کے ہمراہ انہیں خوش آمدید کہا۔

اس دوران رکنِ شوریٰ نے علمائے کرام و ائمہ کرام سے دعوتِ اسلامی کی عالمی سطح پر ہونے والی دینی و فلاحی خدمات کے حوالے سے گفتگو کی جس پر انہوں نے دعوتِ اسلامی کی کاوشوں کو سراہا۔(رپورٹ:غلام یاسین عطاری دفتر ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری) 


ماہ رمضان المبارک 1443ھ میں دعوت اسلامی کے تحت  پاکستان بھرمیں پورے ماہ کا اجتماعی اعتکاف ہونے جارہا ہے

دعوت اسلامی کے زیر اہتمام سال 1399ھ بمطابق 1979ء میں نور مسجد کاغذی بازار میٹھا در کراچی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ الحمد للہ اب دنیا بھر میں پھیل چکا ہےجن میں ہزار ہا اسلامی بھائی پورے ماہ کا اجتماعی اعتکاف کرتے ہیں۔

ہر سال کی طرح اس رمضان المبارک 2022ء میں بھی پاکستان بھر میں پورے ماہ کا اجتماعی اعتکاف ہونےجارہاہے۔ اجتماعی اعتکاف میں نماز پنجگانہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ تحیۃ الوضو، تحیۃ المسجد، تہجد، اشراق و چاشت، اوابین، صلوۃ التوبہ اور صلوۃ التسبیح کے نوافل بھی ادا کئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ اجتماعی اعتکاف کرنے والے اسلامی بھائیوں کو وضو، غسل، نماز اور دیگر ضروری احکام سکھائے جاتے ہیں، مختلف سنتیں اور دعائیں یاد کروائی جاتی ہیں۔ افطار کے وقت رِقت انگیز مناجات اور دعاؤں کے پُرکیف مناظر ہوتے ہیں نیز نماز عصر اور تراویح کے بعد شیخ طریقت امیر اہلسنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ مدنی مذاکرے کے مدنی پھول ارشاد فرماتے ہیں جس میں اسلامی بھائی عقائد و اعمال، فضائل و مناقب، شریعت و طریقت، تاریخ و سیرت اور دیگر موضوعات سےمتعلق سوالات کے ذریعے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

اس سال رمضان المبارک 2022ء میں جن جن مقامات پر پورے ماہ کا اعتکاف ہونے جارہا ہے ان کی تفصیلات ملاحظہ کریں:

سندھ: ٭عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی ٭فیضان مدینہ آفنڈی ٹاؤن حیدر آباد ٭فیضان مدینہ عطار ٹاؤن میر پور خاص ٭فیضان مدینہ عمر کوٹ ٭فیضان مدینہ گلشن مدینہ نواب شاہ ٭فیضان مدینہ بیراج روڈ سکھر ٭فیضان مدینہ لاڑکانہ ٭فیضان مدینہ بھمبھور بدین

بلوچستان: ٭فیضان مدینہ نصیر آباد ڈیرہ اللہ یار ٭فیضان مدینہ کوئٹہ ٭فیضان مدینہ رخشان خاران ٭فیضان مدینہ لورالائی رکنی ٭فیضان مدینہ مکران گوادر

بہاولپور: ٭فیضان مدینہ خان پور ٭فیضان مدینہ خانقاہ ٭فیضان مدینہ بہاولپور ٭فیضان مدینہ بہاول نگر

ملتان: ٭فیضا ن مدینہ انصاری چوک ٭فیضان مدینہ پھاٹک لودھراں ٭فیضان مدینہ بورے روڈ نزد سپیریئر کالج وہاڑی ٭فیضان مدینہ خانیوال

ڈی جی خان:٭فیضان مدینہ لیہ ٭فیضان مدینہ ڈی جی خان ٭فیضان مدینہ جام پور ٭فیضان مدینہ روہیلانوالی

سرگودھا: ٭فیضان مدینہ سرگودھا ٭فیضان مدینہ میانوالی ٭فیضان مدینہ خوشاب ٭فیضان مدینہ بھکر

فیصل آباد: ٭فیضان مدینہ فیصل آباد مدینہ ٹاؤن ٭فیضان مدینہ جڑانوالہ ٭فیضان مدینہ گوجرہ ٭فیضان مدینہ چنیوٹ ٭فیضان مدینہ مدن شاہ جھنگ

ساہیوال: ٭فیضان مدینہ ساہیوال ٭فیضان مدینہ اوکاڑہ ٭فیضان مدینہ پاکپتن ٭فیضان مدینہ عارف والا

لاہور: ٭فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ٭فیضان مدینہ کاہنہ نو ٭فیضان مدینہ قصور ٭فیضان مدینہ چونیاں ٭فیضان مدینہ ننکانہ ٭فیضان مدینہ شیخوپورہ ٭کوٹ رادھا کشن ٭پھول نگر

گوجرانوالہ:٭فیضان مدینہ گوجرانوالہ ٭فیضان مدینہ سیالکوٹ ٭فیضان مدینہ گجرات ٭فیضان مدینہ نارووال ٭فیضان مدینہ منڈی بہاؤ الدین ٭فیضان مدینہ حافظ آباد

راولپنڈی: ٭فیضان مدینہ ڈھوک فتح اٹک ٭فیضان مدینہ جہلم ٭فیضان مدینہ چکوال

کشمیر: ٭فیضان مدینہ میر پور ٭فیضان مدینہ مظفر آباد ٭فیضان مدینہ پونچھ باغ

خیبر پختونخواہ: ٭فیضان مدینہ ڈیرہ اسماعیل خان ٭فیضان مدینہ مانسہرہ ٭فیضان مدینہ لکی مروت بنوں ٭فیضان مدینہ اسبنڈ مالاکنڈ ٭مسجد دربار پیر بابا بونیر مالاکنڈ ٭فیضان مدینہ پشاور

گلگت: ٭فیضان عبد الرحمن بن عوف مسجد گوری کوٹ

اسلام آباد: ٭فیضان مدینہ اسلام آباد جی 11


تنقیدوں کا مقابلہ

Tue, 22 Mar , 2022
3 years ago

زندگی کو کامیاب بنانے کیلئے کچھ مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارے اسکول اور مدرسے میں تعلیم اور ڈگری تو دی جاتی ہے۔ لیکن زندگی گزارنے کی بنیادی مہارتیں نہیں سکھائیں جاتیں۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ دنیا میں نیک اور بد ، لیڈر اور عالم ہر ایک کو بُرا بھلا ضرور کہا گیا ہے۔لیکن یہ تنقید ان بڑے لوگوں کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکی۔ اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ ان کے پاس دل بھی تھے اور ان کا دل ٹوٹ بھی جاتا تھا۔ لیکن یہ لوگ تنقید کا سامنا کرنے کی صلاحیت سے واقف تھے۔ کچھ صلاحتیں پیدائشی ہوتی ہیں۔ یہ خاص لوگوں کو ملتی ہیں۔اور کچھ صلاحتیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ اور پیدا اس وقت ہونگی جب” کوئی بھی انسان اگر سچے دل کے ساتھ چاہے تو کسی بھی صلاحیت کو محنت کرکے اپنے اندر پیدا کرسکتا ہے “۔

اب 6 ایسے نکات عرض کرتا ہوں کہ جن پر عمل کرکے آپ تنقیدوں کا مقابلہ کر سکیں گے۔

1) آپ کسی کی تنقید کو اہمیت نہ دیں۔

2) ہمیشہ اچھے لوگوں کی رائے کو ذہن نشین رکھیں۔ اور انہیں بار بار دہراتے اور یاد کرتے رہیں۔

3) آپ اپنے آپ کو پہچانیں۔ اپنی خوبیوں اور خامیوں پر نظر رکھیں۔ اپنی خامیوں کو خوبیوں میں بدلنے کی کوشش کریں۔

4) تنقید کرنے والوں کی فطرت تنقید کرنا ہے۔ تو آپ ان کو چھوڑ دیں۔ آپ ان کی وجہ سے اپنے آپ کو نہ بدلیں۔ ایک بات یاد رکھیں "کتے کی فطرت بھوکنا ہے"۔

5) آپ بڑا سوچیں ، چھوٹے جھگڑوں میں نہ پڑیں۔ کیونکہ ”بڑی منزل کے مسافر چھوٹے چھوٹے جھگڑوں میں نہیں پڑتے “۔

6) آپ اچھے لوگوں کی مجلس اختیار کریں۔ کیونکہ اچھا کام کرنے والوں پر تنقید کا اثر کم ہوتا ہے۔

آخری بات؛ جو سب باتوں سے اہم ہے۔ کبھی بھی کسی کی تنقید آپ کی زندگی بدل کر رکھ دیتی ہے۔کیونکہ تنقید کا کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو۔ لیکن ایک فائدہ سارے مانتے ہیں کہ تنقید ”آپ کے اندر سوئے ہوئے احساس کو جگاتی ہے “ کیونکہ جس کو احساس نہ جگائے اسے کون جگا سکتا ہے۔

از: ابو المتبسِّم ایاز احمد عطاری


جیت آپ کی ہے لیکن

Tue, 22 Mar , 2022
3 years ago

اس دنیا میں انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد جیسے آتی ہے۔ ویسے ہی چلی جاتی ہے۔ وہ یوں زندگی گزراتے ہیں گویا کبھی زندہ ہی نہ تھے۔ جبکہ بعض لوگ آتے ہیں اور ان کا نام ہمیشہ کے لئے  زندہ ہوجاتا ہے۔وہ کیوں زندہ رہتے ہیں؟ دونوں کی زندگیوں میں صرف ایک فرق ہے۔ وہ فرق کامیابی کا ہے۔ وہ کامیابیاں جو انہوں نے حاصل کی ہوتی ہیں۔ ان کی کامیابیوں میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ ان کا مضبوط تعلق بن جاتا ہے۔

اس دنیا میں کچھ لوگوں کے نام کے چرچے ہوتے ہیں۔ اور کچھ کے نام تو اپنے خاندان اور کچھ دوستوں تک رہتے ہیں۔ حالانکہ دونوں انسان ہیں۔ پھر ایسی کونسی بات ہے جس نے ایک کو عُروج دیا اور دوسرے کو زوال ؟ فرق صرف اپنی ذات کو سمجھنے کا ہے۔ جس نے اپنی ذات کو سمجھا ، اور اپنی زندگی کو اہمیت دی اُس کا نام باقی رہ گیا۔ اور جس نے نہ سمجھا اس کا نام مٹ گیا۔

زندگی کو جتنی اہمیت دینی چاہیے۔ ہم اسے اتنی اہمیت نہیں دیتے۔ سب سے قیمتی چیز زندگی ہے۔ افسوس سے یہ بات کہنی پڑرہی ہے کہ لوگ پیسوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ زندگی کو اہمیت نہیں دیتے۔

میرے بھائیو!! زندگی ایک بار ملی ہے۔ اس لیے جینے کا حق ادا کیجئے۔ اس زندگی کو محسوس کرکے شان دار بنا کر جائیں۔ جو شخص کہتا ہے کہ میں یہ کام کل سے کرونگا ، اس کا شان دار لمحہ کبھی نہیں آتا۔ اس کی زندگی کبھی شان دار نہیں ہو پاتی۔ اسی لمحے سے شروع کیجئے۔

غُبارے کالے ہوں ، نیلے ہوں الغرض غُبارے کسی بھی کلر کے ہوں وہ غُبارے کلر کی وجہ سے نہیں اُڑتے۔ بلکہ اندر موجود گیس کی وجہ سے اُڑتے ہیں۔ اسی طرح کامیابی کا تعلق امیری، غریبی شہری، دیہاتی اچھے، کالے سے نہیں ہوتا۔ بلکہ اندر موجود جذبے ، جنون سے ہوتا ہے۔

انسان کے اندر کچھ ہوگا تو وہ اُڑان کے قابل بنے گا۔ جس میں کوئی تڑپ ہے ، لگن ہے، آنسو ہیں۔ وہ زیادہ ترقی کرسکتا ہے۔

بس آپ سر جھکائے اپنی منزل کی طرف چلتے چلے جائیے۔ اس چیز کی پروا چھوڑ دیجئے۔ کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ صرف اپنی منزل کو فوکس رکھئیے۔ ایک دن جب آپ سر اٹھائیں گےتو زمانہ آپ کے ساتھ ہوگا۔ شرط یہ ہے کہ آپ لگے رہیں۔