راہِ ہدایت پر چلنے کے لیے گناہوں اور گمراہی والی اندھیری زندگی میں علم چراغ کی  روشن لو اور علما اس روشن چراغ کے تیل کی مانند ہیں کہ چراغ میں تیل نہ ہو تو وہ روشن بھی نہ ہو اور نہ بندہ ہدایت پا سکے ۔اللہ پاک کے نیک اور علم والے بندے ہی اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی معرفت رکھتے ہیں اور وہ ہی امت کے لیئے راہنما ہوتے ہیں ۔ علمائے کرام کو اللہ پاک نے کس قدر بزرگی اور مرتبہ عطا فرمایا ہے کہ اس کا مکمل بیان کرنا مشکل ہے۔ ان کی فضیلت و عظمت قیامت کے دن کھلے گی جب عام لوگوں کو روکا ہوگا حساب کتاب کے لیئے اور علما کو شفاعت کے لیئے۔اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں اور حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے علما کے کثرت سے فضائل بیان کیےقرآنِ پاک میں ہے:اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعلماءُ۔ترجمۃ:اللہ پاک سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔ بندےکے دو احوال ہیں دنیاوآخرت اور علما ئے کرام دونوں احوالوں میں نہ صرف عام لوگوں پرفضیلت رکھنے والے ہیں بلکہ عابدین پر بھی فضیلت رکھتےہیں چنانچہ سرکار صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:ایک فقیہ(علم فقہ جاننے والا) ایک ہزار عابدوں سے زیادہ شیطان پر بھاری ہے۔ (فیضان امہات المؤمنين،ص:118) ،بلکہ ان کے دواتوں کی روشنائی اور شہدا کے خون کا وزن کیا جائے گا۔ فرمایا ہے:عالموں کی دواتوں کی روشنائی قیامت کے دن شہیدوں کے خون سے تولی جائے گی اور اس پر غالب ہو جائے گی ۔(فیضان امہات المؤمنين،ص:118)اس کے لئے دعائےمغفرت کی جاتی ہے۔سرکاردوعالَم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک،اس کے فرشتے،آسمانوں اور زمین کی مخلوق یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے سوراخوں میں اور مچھلیاں لوگوں کو دین کا علم سکھانے والے پر درود بھیجتے ہیں۔(مشكواةالمصابیح ،کتاب العلم ،ج 1، ح:202)۔اور ان کو مقام شفاعت عطا ہو گا۔حضورِ انور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’(قیامت کے دن) عالم اور عبادت گزار کو لایا جائے گا اور عبادت گزار سے کہا جائے گا:’’ تم جنت میں داخل ہو جاؤ جبکہ عالم سے کہا جائے گا کہ تم ٹھہرو اور لوگوں کی شفاعت کرو کیونکہ تم نے ان کے اَخلاق کو سنوارا ہے۔(شعب الایمان، السابع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضل العلم وشرفہ، 2 / 268، حدیث: 1717) اور جنتی جنت میں علمائے کرام کے محتاج ہونگے۔آپ کا فرمان عالیشان ہے:جنتی جنت میں علمائے کرام کے محتاج ہونگے اس لئے کے وہ ہر جمعہ کو اس لئے کے وہ ہر جمعہ کو اللہ پاک کے دیدار سے مشرف ہونگے۔اللہ پاک فرمائے گا:یعنی مجھ سے مانگو جو چاہواور وہ جنتی علمائے کرام کی طرف متوجہ ہونگے کہ اپنے رب کریم سے کیا مانگیں؟یہ مانگو وہ مانگو!جیسے وہ لوگ دنیا میں علما کے محتاج تھے جنت میں بھی ان کے محتاج ہونگے۔(مدنی پنج سورہ،ص:118) یاد رہے! یہ تمام فضائل علمائے حق کے لیئے ہیں جنہوں نے اخلاص کےساتھ علمِ دین پھیلایا ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بھی علمِ دین حاصل کرنے اور اس کو پھیلانے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین