تلاوتِ قراٰن کے فضائل

Sun, 1 Mar , 2020
1 year ago

قراٰنِ حکیم وہ کتاب ہے جسے اس کائنات کے خالق و مالک نے اشرف الانبیاء حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نازل فرمایا۔ قراٰنِ پاک کی تلاوت کے بےشمار فضائل ہیں ۔

قراٰن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ-

ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔(پ15،بنی اسرآءیل:82)

قراٰنِ کریم میں ربِّ کعبہ نے خود فرمایا کہ قراٰن رحمت اور شفاء ہے۔ آج ہمارا کیا حال ہے؟ ہم بیماریوں کی دوا کرنے کے لئے طبیبوں (ڈاکٹروں) کے پاس تو جاتے ہیں لیکن قراٰن پاک پڑھتے تو کیا کھول کردیکھتے بھی نہیں ہیں، ہمیں دوا کے ساتھ ساتھ تلاوت قراٰن سے بھی لازمی برکتیں لینی چاہئیں۔ ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آج ہمارے گھر میں بیماریاں اور پریشانیاں قراٰن کی تلاوت نہ کرنے کے سبب تو نہیں؟

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-

ترجمۂ کنزالایمان:(قراٰن) دلوں کی صحت (پ11،یونس:57)

قراٰن دلوں کا سکون ہے، قراٰن دلوں کا چین ہے، قراٰن کی تلاوت کرنے سے بیماریوں سے شفا ملتی ہے نیز احادث مبارکہ میں بھی قراٰن کی تلاوت کے بے شمار فضائل ذکر کئے گئے جیساکہ بیھقی شریف کی ایک حدیثِ مبارکہ ہے: نبیِّ کریم علیہ السَّلام نے ارشاد فرمایا: قراٰن کریم کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کا اہتمام کیا کرو اس عمل سے آسمانوں میں تمہارا ذکر ہوگا اور یہ عمل زمین میں تمہارے لئے ہدایت کا نور ہوگا۔(بیھقی)

اب قراٰنِ پاک کی تلاوت کے فضائل پر فرضی حکایت پیش کی جاتی ہے:

اسد بہت بیمار رہنے لگا تھا، بہت سے ڈاکٹروں سے علاج کروایا مگر افاقہ نہ ہوا شب و روز گزرتے گئے اس کی بیماری میں اضافہ ہوتا گیا اور اس کی پڑھائی کا بھی کافی نقصان ہورہا تھا اس کے والدین بہت پریشان رہنے لگے کہ آیا ہم کیا کریں کہ ہمارا بیٹا پھر صحت مند ہوجائے اور پڑھائی کے میدان میں قدم رکھے ۔ اسد بھی بہت دعائیں کرتا تھا۔ آخر کار اس کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ ہوا کچھ یوں کہ اسد کا ایک دوست جوکہ اس کا پڑوسی بھی تھا وہ دعوتِ اسلامی کے جامعہ میں عالم بن رہا تھا اس نے اسد سے کہا کہ آپ سورۃ الفاتحہ پڑھا کریں کیونکہ سورۃ الفاتحہ ہر طرح کی جسمانی اور روحانی بیماریوں کی دوا ہے۔ اسد نے بلاناغہ ہر روز سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کرنا شروع کردیا اور اللہ کے فضل و کرم سے وہ دوبارہ سے تندرست ہوگیا بس یہی نہیں اسد نے اپنا اسکول چھوڑ کر جامعۃ المدینہ میں داخلہ لے لیا اور دین کی تعلیم حاصل کرنے لگا۔

دیکھا آپ نے اسد کو کس طرح سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کی برکت سے شفا ملی، ہمیں بھی چاہئے کہ قراٰن کی تلاوت کا معمول بنائیں اور ہر پریشانی و مشکلات میں قراٰن سے مدد لیں۔

اب قراٰن کی تلاوت کے وہ فضائل بیان کئے جاتے ہیں احادیث سے ثابت ہیں(بحوالہ تفسیر نعیمی):

حدیث شریف میں ہے: جس گھر میں روزانہ سورۃ البقرۃ پڑھی جائے وہ گھر شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔

سورۃ الواقعہ جو شخص ہر رات پڑھا کرے اللہ کے فضل سے کبھی فاقہ نہ ہوگا۔

الہٰی خوب دے دے شوق قراٰن کی تلاوت کا

شرف دے گنبدِ خضرا کے سائے میں شہادت کا