عورت
شوہر کے معاملے میں کسی دوسرے کی بات نہ مانے حتی کہ اپنے والدین کی بھی نہیں۔ والدین
کی اطاعت فرض ہے اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: اللہ کی عبادت کرو اور
والدین کی بات مانو۔ لیکن جب ایک عورت کی شادی ہو جاتی ہے تب اس کا اصل گھر اس کے
شوہر والا گھرہے اور اب اس کے لیے والدین کی اطاعت سیکنڈری ہے۔ اب پہلی اطاعت شوہر
کی ہے پہلے والدین کی تھی لیکن اب اس کی شادی ہو گئی تو اس کی کفالت اس کا شوہر کر
رہا ہے اب اس کا گھر شوہر والا گھر ہے اب اس کے ڈسپلن میں ہے کہ شوہر کی بات مانے
نا کہ مانکے والوں کی آج کل کی عورتیں اپنے سسرال کی ساری باتیں فون کر کے بتا
دیتی ہے اور مانکے والے اچھا مشوہر ہ دینے کی بجائے غلط مشورے دیتے ہیں جب ایک
دفعہ عورت اپنے مانکے سے ہو آئے تو اس کا موڈ ہی بدلا ہوا ہوتا ہے ایسی صورت میں
شوہر زیادہ اہم ہے اس کی ہر بات مانی جائے۔ اور یہ ایک ایساڈسپلن کیوں رکھا گیا کہ
جب تک ایک عورت کی وفاداری اس کے اپنے گھر سے نہیں ہو گی تب تک گھر نہیں بنے گا وہ
بات بات پر ادھر بھاگی جارہی ہے یہ گھرخراب ہو رہا ہے، اب اس کی اہمیت اس کی زیادہ
اہم ڈیوٹی کیا ہے کہ وہ اب نئے گھر کی تعمیر کریں اس لیے کہ شوہر نے مہر بھی دیا
ہے گھر بھی دیا ہے وہ سب ضروریات کو پورا کر رہا۔
اب
اللہ تعالی نے ایک نئی نسل لانی ہے ان کی تربیت ہے ان کا کام ہے اتنی ذمہ داریاں
آنے والی ہیں۔ اب چھوڑو دھیان پیچھے کا آگے کا سوچو۔
یہ مشورے
کون ہمیں دے رہا ہے جو بظاہر ہمیں کڑوی لگتی ہے لیکن اسی کڑوی گولی میں شفا ہے اور
دوسری چیز گھر کی مال کی حفاظت پیسا ضائع نہ کریں کہ شوہر کے گھر شوہر کے مال اس
کی تنخواہ مانکے والوں کو مت بھجتی رہے، کیوں کہ بہت سے فساد اس وجہ سے ہوتے ہیں،
کیوں کہ سسرال والوں کو دینے کے لیے دو نمبر مال ہے لیکن مانکے والوں کو دینے کے
لیے اچھا مال ہے۔ قدرتی بات ہے کہ انسان کی اٹیچمنٹ ماں باپ سے زیادہ ہوتی ہے اب
یہ نہیں کہ شوہر کما کے لائے اور عورت ہر وقت یہ شکوا کریں کہ یہ بھی ہیں وہ بھی
نہیں، اور پیسے چھپاکر پیچھے بھیجتی رہے۔