شوہر
کی نافرمانی از بنت محمد ذوالفقار، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
اللہ پاک
اور اس کے رسول ﷺ کے بعد عورت پر جس ذات کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے وہ اس کا
شوہر ہے، بیوی پر شوہر کا اہم ترین حق یہ ہے کہ بیوی اس کی اطاعت و فرمانبرداری
کرے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: فَالصّٰلِحٰتُ
قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- (پ 5، النساء: 34) ترجمہ کنز الایمان: تو نیک بخت
عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا
حکم دیا ۔
چنانچہ
پیارے آقا ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ اللہ کے سوا کسی
کو سجدہ کرے تو ضرور عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (ترمذی، 2/ 386،
حدیث: 1162)
اعلیٰ
حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عورت اگر شوہر کا حکم نہ مانے
گی تو وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہو گی۔ جب تک شوہر ناراض رہے گا عورت کی کوئی
نماز قبول نہ ہوگی، اللہ کے فرشتے اس عورت پر لعنت کریں گے۔ (فتاویٰ رضویہ،2/217)
حدیث
مبارکہ ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورت اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کا شوہر
اس سے راضی ہو وہ جنت میں جائے گی۔ (ترمذی،2/386، حدیث:1164)
حدیث
پاک میں ہے: اگر شوہر اپنی بیوی کو یہ حکم دے کہ وہ زرد رنگ کے پہاڑ سے پتھر اٹھا
کر سیاہ رنگ کے پہاڑ پر لے جائے اور سیاہ
پہاڑ سے پتھر اٹھا کر سفید پہاڑ پر لے جائے تو عورت کو
اپنے شوہر کا یہ بھی حکم بجا لانا چاہیے۔ (مسند امام احمد، 9/353،حدیث: 24565)
ایک
اور حدیث مبارکہ ہے کہ:اگر شوہر کے نتھنوں سے خون اور پیپ بہ کر اس کی ایڑیوں تک
جسم بھر گیا ہو اور عورت اپنی زبان سے اسے چاٹ کر صاف کرے تو بھی اس کا حق ادا نہ
ہو گا۔ (فتاویٰ رضویہ،24/380)
فرمان
مصطفیٰ ہے: اے عورتو! اللہ پاک سے ڈرو اور اپنے شوہر کی رضا کو لازم پکڑ لو، اگر
عورت جان لے کہ شوہر کا حق کیا ہے تو وہ صبح اور شام کا کھانا لے کر کھڑی رہے۔
(کنز العمال،جز 16، 2/145، حدیث: 4489)
حضرت
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر شوہر نے عورت کو بلایا اور اس
نے انکار کر دیا اور غصے میں اس نے رات گزاری تو صبح تک اس عورت پر فرشتے لعنت
بھیجتے رہتے ہیں۔ (بخاری،2/377، حدیث: 3237)
نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: بہترین عورت وہ ہے کہ اس کا شوہر جب اسے دیکھے تو اسے خوش کر دے
اور شوہر جب اسے حکم دے تو اس کی اطاعت کرے اور اپنی جانوں و مال میں شوہر کا
ناپسندیدہ کام نہ کرے اور اس کی مخالف نہ کرے۔ (ابن ماجہ، 2/414، حدیث: 2857)
حدیث
پاک میں ہے: بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کے حقوق ادا کرنے میں کوئی کمی نہ آنے دے،
چنانچہ معلم انسانیت ﷺ نے حکم فرمایا: جب شوہر بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو
وہ فوراً اس کے پاس آ جائے اگر چہ وہ
تنور پر ہو۔ (ترمذی،2/386،حدیث: 1163)
حدیث
پاک میں ہے: جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا دیتی ہے تو حورعین کہتی ہیں خدا
تجھے قتل کرے، اسے ایذا نہ دے یہ تو تیرے پاس مہمان ہے، عنقریب تجھ سے جدا ہو کر
ہمارے پاس آئے گا۔ (ترمذی،392/2،حدیث: 1177)