اسلام
نے جو رشتہ ہماری بھلائی ہماری خیر خواہی اور ہمارے سکون کے لئے بنائے ہیں ان میں
ایک خوبصورت رشتہ بیوی اور شوہر کا رشتہ ہے جسے رشتہ ازدواجیت کہا جاتا ہے۔یوں تو ہر
رشتہ ہی پوری وفاداری خلوص اور محبت سے نبھایا جاتا ہے ان جذبوں کے بغیر ہر رشتہ
نا مکمل ہے۔ لیکن میاں بیوں کا جو رشتہ ہے اس رشتے میں جہاں ان جذبوں کا ہونا
ضروری ہے وہیں ایک دوسرے کو سمجھنا ایک دوسرے کی عزت کرنا ایک دوسرے کے مقام و
مرتبے کا لحاظ رکھنا ایک دوسرے کے حقوق پورے کرنا بھی لازم طور پر شامل ہے۔
مرد
کے عورت پر جو حقوق ہیں مرد وہ پورے کرے اور عورت اپنے شوہر کی ہر طرح سے
فرمانبرداری کرے جیسا کہ رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر اللہ پاک کے بعد کسی کو سجدہ
کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (ابن ماجہ،2/411،
حدیث: 1853)
بیوی
پر اس قدر شوہر کی فرمانبرداری فرض ہے عورت چاہ کر بھی اپنے شوہر کا حق ادا نہیں
کر سکتی اگر شوہر ناراض ہو جائے تو شیطان خوش ہوتا ہے اور بیوی عبادات بھی قبول
نہین ہوتی اسے اپنے شوہر کی ہر ہر کہی ہوئی بات کو حکم کا درجہ دیتے ہوئے ماننا
چاہیے۔
عورت
اگر شوہر کا حکم نہ مانے گی تو اللہ کے غضب میں گرفتار ہو گی۔جب تک شوہر ناراض رہے
گا عورت کی کوئی نماز قبول نہ ہوگی۔اللہ کہ فرشتے عورت پر لعنت کرینگے اگر طلاق
مانگے گی تو منافقہ ہو گی اور جو لوگ عورت کو بھڑکاتے شوہر سے بگاڑ پر ابھارتے ہیں
وہ شیطان کے پیارے ہیں۔ (فتاوی رضویہ، 22/217)
بزرگان
دین فرماتے ہیں کہ جب شوہر عورت کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ بغیر عذر کے
انکار کرے اور خاوند ناراض ہو کر رات گزارے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت
بھیجتے ہیں۔ (بخاری، 3/462، حدیث: 5193)
عورت
پر مرد کا حق خاص امور متعلقہ زوجیت میں اللہ اور رسول علیہ السلام کے بعد تمام
حقوق یہاں تک کہ ماں باپ کے حق سے زائد ہے اور ان امور میں عورت پر شوہر کے احکام
کی اطاعت اور اس کی عزت کی حفاظت عورت پر فرض اہم ہے وہ شوہر کی اجازت کے بغیر
کہیں آ جا نہیں سکتی جہاں اسکا شوہر جانے سے منع کرے عورت کو اس جگہ جانا بھی نہیں
چاہئے یہی اسکے احکام کی بجا آوری کا تقاضا ہے۔
عورت
کو چاہیے کہ تہہ دل سے شوہر کی عزت کی حفاظت کرے اسکے حکم کا مانے اللہ کا خوف دل
میں رکھتے ہوئے اس کی اطاعت کرے جس کام کی وہ اجازت دے وہ کام سر انجام دے اور جس
کام سے وہ روکے عورت پر لازم ہے کہ رک جائے اس شرط پر کہ وہ کام اللہ اور اس کے
رسول ﷺ کی نافرمانی کا سبب نہ ہو جس کام میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی
شامل ہو اور شوہر وہ کام کرنے کا حکم دے تب اس صورت میں شوہر کی اطاعت واجب نہیں۔