شادی کے ذریعے میاں بیوی زندگی کے سفر میں ایک دوسرے کے رفیق سفر بن جاتے ہیں اور چونکہ یہ سفر طویل ہے تو ان کی رفاقت بھی طویل ہی ہوتی ہے شاید اسی لئے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا رفیق حیات یعنی زندگی بھر کا ساتھی کہا جاتا ہے۔اس طویل سفر میں زندگی کو خوشگوار گزارنے کیلئے میاں بیوی میں سے ہر ایک کو دوسرے کے حقوق کے بارے میں معلومات ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اس معلومات کی روشنی میں اپنے رفیق حیات کے حقوق کا خیال رکھے۔عموماً ایک دوسرے کے حقوق ادا نہ کرنے اور ایک دوسرے کو اہمیت نہ دینے ہی کی وجہ سے باہم ناچاقیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔جو میاں بیوی میں فاصلوں اور دوریوں کو بڑہانے کا سبب بنتی ہیں۔دین اسلام میں میاں بیوی کے حقوق کو بہت اہمیت حاصل ہے کثیر احادیث میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔آئیے! بیوی پر شوہر کے حقوق کی اہمیت کے بارے میں احادیث مبارکہ ملا حظہ کیجئے:

اُم المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا۔عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا: شوہر کا حق میں نے پوچھا مرد پر سب بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا: اُس کی ماں کا حق۔(مستدرک، حدیث: 7418)

پیارے آقا، مکی مدنی مصطفى صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: لَوْ كُنْتُ أَمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَن تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا ترجمہ: اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ اللہ پاک کے سوا کسی کو سجدہ کرے تو ضرور عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔(ترمذی، کتاب الرضاع ، باب ماجاء فی حق الزوج، 386/2 ، حدیث: 1163)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خاوند کے حقوق بہت زیادہ ہیں اور عورت اس کے احسانات کے شکریہ سے عاجز ہے اسی لیے خاوند ہی اس کے سجدے کا مستحق ہوتا۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ خاوند کی اطاعت و تعظیم اشد ضروری ہے اس کی ہر جائز تعظیم کی جائے ،(مرآۃ المناجیح، شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد:5 حدیث نمبر:3255)

نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: عورت جب تک شور کا حق ادا نہ کرے وہ ایمان کی مٹہاس حاصل نہیں کر سکتی۔(معجم کبیر، ۵۳/۲۰، حدیث: ۹)

حضرت حصین بن محصن رضی اللہ عنہ اپنی پھوپھی کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ کسی کام سے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، جب رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان کی حاجت پوری فرما چکے تو ارشاد فرمایا: کیا تم شوہر والی والی (یعنی شادی شدہ) ہو؟ نے عرض کی جی ہاں۔فرمایا۔تم (خدمت کے اعتبار سے) شوہر کیلئے کیسی ہو؟ عرض کی جو کام میرے بس میں نہ ہو اُس کے علاوہ میں اُن کی خدمت میں کوتاہی نہیں کرتی۔ارشاد فرمایا: اس بارے میں غور کر لینا کہ شوہر کے اعتبار سے تمہارا کیا مقام ہے کیونکہ وہی تمہاری جنت اور دوزخ ہے۔(سن الكبرى للنسائی، حدیث: ۸۹۶۳)

مزید اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں کہ بیوی پرشوہر کے چند حقوق یہ ہیں: (1)ازدواجی تعلقات میں مُطْلَقاً شوہر کی اطاعت کرنا (2) اس کی عزت کی سختی سے حفاظت کرنا، (3) اس کے مال کی حفاظت کرنا (4) ہر بات میں اس کی خیر خواہی کرنا (5) ہر وقت جائز امور میں اس کی خوشی چاہنا (6) اسے اپنا سردار جاننا (7) شوہر کونام لے کر نہ پکارنا (8) کسی سے اس کی بلا وجہ شکایت نہ کرنا (9) اور خداتوفیق دے تو وجہ ہونے کے باجود شکایت نہ کرنا (10) اس کی اجازت کے بغیر آٹہویں دن سے پہلے والدین یا ایک سال سے پہلے دیگر محارم کے یہاں نہ جانا (11) وہ ناراض ہو تو اس کی بہت خوشامد کرکے منانا۔(فتاوی رضویہ، ۲۴/۳۷۱، ملخصاً)

شوہر کے حقوق کی پاسداری کے فضائل :حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسولﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو عورت مر جائے اس حال میں کہ اس کا خاوند اس سے راضی ہوا تو جنت میں جائے گی ۔

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہاں خاوند سے مراد مسلمان عالم متقی خاوند ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ،جلد:5 حدیث نمبر:3256)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسولﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:عورت جب اپنی پانچ نمازیں پڑھے اور اپنے ماہ رمضان کا روزہ رکھے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازہ سے چاہے داخل ہو جائے۔(ابونعیم ،حلیہ)

حکیم الامت مفتی احمد یار نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ یہاں شرمگاہ کی حفاظت سے مراد ہے کہ زنا اور اسباب زنا سے بچے بے پردگی گانا ناچنا وغیرہ حرام کام کے اسباب بھی حرام ہیں ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد:5 حدیث نمبر:3254)

اللہ پاک تمام بیویوں کو اپنے شوہروں کے حقوق کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین