عورت جب تک اس کی شادی نہیں ہوتی وہ اپنے ماں باپ۔ کہلاتی ہے ہے مگر شادی ہو جاتی ہے۔ تو وہ اپنے شوہر کے پابند ہو جاتی ہے۔ اُسے چاہیے کہ شوہر کے ہر طرح اسے حقوق ادا کرے۔ شوہر سے ساونچی آواز سے بات نہ کریں۔ اجو کام اُسے ناپسند ہو اُس کام سے اجتناب کریں۔ شوہر کے ماں باپ کا خیال رکھیں۔ شوہر کے حقوق کو عورت ادا نہ کرے گی۔ تو اُس کی زندگی تباہ برباد ہو جائے گی۔ اور آخرت میں وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں جلتی رہے گی۔ اور اس کی قبر میں سانپ بچھو اس کو ڈستے رہیں گے اور دونوں جہاں میں ذلیل و خوار اور طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار رہے گی۔

شوہر کے پانچ حقوق:

1۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس عورت کی موت ایسی حالت میں آئے کہ مرتے وقت اُس کا شوہر اس سے خوش ہو وہ عورت جنت میں جائے گی۔

2۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: جب کوئی فرد اپنی بیوی کو کسی کام کے لیے بلائے تو وہ عورت اگرچہ چولہے کے پاس بیٹھی ہو اس کو لازم ہے کہ وہ اٹھ کر شوہر کے پاس چلی آئے۔

3۔ شوہر کا مکان، مال اور سامان سب امانت ہیں اور بیوی ان سب چیزوں کی امین ہے اگر عورت نے اپنے شوہر کی کسی چیز کو جان بوجھ کر برباد کر دیا تو عورت پر امانت میں خیانت کرنے کا گناہ لازم ہو گا اور اس پر خدا کا بہت بڑا عذاب ہوگا۔

4۔ بیوی کو لازم ہے کہ ہمیشہ اٹھتے بیٹھتے بات چیت میں ہر حالت میں شوہر کے سامنے با ادب رہے اس کے اعزاز و اکرام کا خیال رکھے۔ شوہر جب کبھی بھی باہر سے گھر میں آئے تو عورت کو چاہیے کہ سب کام چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہو اور شوہر کی طرف متوجہ ہو جائے اس کی مزاج پرسی کرے اور فوراً اس کے آرام و راحت کا انتظام کرے اور اسکے ساتھ دلجوئی کی باتیں کرے اور ہرگز ایسی بات نہ سنائے نہ کوئی ایسا سوال کرے جس سے شوہر کا دل دکھے۔ (جنتی زیور، ص6)

5۔ ہر عورت شوہر کے گھر میں قدم رکھتے ہی اپنے اوپر یہ لازم کرے کہ وہ ہر وقت اور ہر حال میں اپنے شوہر کا دل اپنے ہاتھ میں لیے رہے اور اس کے اشاروں پر چلتی رہے اگر شوہر حکم دے کہ دن بھر دھوپ میں کھڑی رہو یا رات بھر جاگتی ہوئی مجھے پنکھا جھلتی رہو تو اس عورت کے لیے دنیاو آخرت کی بھلائی اسی میں میں ہے کہ ایسا کرے۔ (جنتی زیور، ص52)

الله پاک ہر بیوی کو اپنے شوہر کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔