اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے برگزیدہ انبیاء علیہم السلام کو بھیجا جو وحی کے نور سے دلوں کو روشن کرتے اور عملی زندگی میں معلم و مربی بن کر انسانیت کی تربیت فرماتے۔ان سب ہستیوں کے سردار ہمارے آقا و مولا محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے  معلمِ اعظم کا شرف عطا فرمایا۔ آپ ﷺ کا اسلوبِ تعلیم نہایت حکمت بھرا اور انسانی فطرت کے مطابق تھا۔ آپ ﷺ مشکل سے مشکل حقیقت کو بھی ایسی مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے واضح فرماتے کہ سننے والا نہ صرف فوراً سمجھ جاتا بلکہ وہ بات ہمیشہ کے لیے دل میں نقش ہو جاتی ۔ اسی اندازِ مبارک کی روشنی میں ہم ”نبی کریم ﷺ کا تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانا“ کے چند روشن نمونے پیش کرتے ہیں۔

(1)مومن مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک مومن ، دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرکے اشارہ فرمایا ۔ (صحیح بخاری ، کتاب المظالم ، باب: نصر المظلوم ، جلد 02 ، ص: 863 ، حدیث نمبر: 2314، دار ابن کثیر )

یعنی مومن ایک دوسرے کے ساتھ ایسے جُڑے رہتے ہیں جیسے دیوار کی اینٹیں، جو ایک دوسرے کو سہارا دیتی ہیں۔

(2) میری امت کی مثال: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے ۔ معلوم نہیں کہ اس کی پہلے والی اچھی ہے یا بعد والی ۔ ( مسند احمد ، جلد 19 ، ص: 334،حدیث نمبر: 12327، مؤسسۃ الرسالۃ ) یعنی جیسے بارش کا ایک ایک قطرہ برکت والا ہوتا ہے ، اسی طرح میری ساری کی ساری امت خیر والی ہے ۔ (مراۃ المناجیح ،ج 08 ، حدیث نمبر: 6287 ملخصاً)

(3) پانچوں نماز کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے دروازے پر نہر ہو اور وہ روزانہ اُس نہر سے پانچ بار نہائے تو کیا اس پر کوئی کچھ میل رہ جائے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانچ نمازیں اسی طرح ہیں ، اللہ تعالی ان کے ذریعے خطاؤں کو مٹا دیتا ہے ۔ ( سنن ترمذی ،ابواب امثال عن رسول اللہ ﷺ ، جلد 05 ، ص: 146 ، حدیث نمبر: 3084، دار الرسالۃ العالمیہ )

یعنی جس طرح گھر کے دروازے پر موجود نہر تک تم بآسانی پہنچ سکتے اور اس میں نہاکر اپنا میل کچیل دور کرسکتے ہو ، اسی طرح نماز تک پہنچنے کے لیے تمہیں کوئی مشکل جھیلنے کی ضرورت نہیں ، تم بآسانی نماز پڑھ کر اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرسکتے ہو ۔ ( فیضان ریاض الصالحین ، جلد 07 ، حدیث نمبر: 1043 )

(4) قرآن سے خالی دل کی مثال: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔ ( سنن ترمذی ، ابواب فضائل القرآن، جلد 05 ، ص: 177 ، حدیث نمبر: 2913، شرکۃ مکتبۃ و مطبعۃ مصطفی البابی الحلبی، مصر )

جس دل میں قرآن نہ ہو، وہ دل ایسے ہے جیسے انسانوں اور سامان سے خالی ویران مکان۔

(5) حسد اور خرچ کرنے کی مثال: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو ۔ (الترغیب و الترہیب ، ‌‌باب في الترهيب من الحسد وذم الحاسد جلد 02 ، ص: 56 ، حدیث: 1134 ، دار الحدیث، القاہرۃ )

یعنی حاسد ایسے کام کر بیٹھتا ہے جس سے نیکیاں ضبط ہوجائیں گی ، حاسد اور بغض والے کی نیکیاں محسود(جس سے حسد کیا جائے ) کو دے دی جائیں گی ،یہ خالی ہاتھ رہ ج آئے گی ۔ ( مراۃ المناجیح ، جلد 06 ، حدیث نمبر: 5040)

الغرض نبی کریم ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے نہ صرف بات کو آسان بنایا بلکہ ہمیشہ کے لیے یادگار بھی کردیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپ کی سنت کے مطابق سیکھنے اور سکھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین