تشبیہ ہر زبان میں تعبیروتفہیم
اور اظہاروبیان کا ایک مؤثر ذریعہ رہا ہےیہ ہی وجہ ہے کہ کوئی کتاب خواہ وہ انسانی ہو یا آسمانی اس سے خالی نظر نہیں
آتی ۔ کلام اللہ میں بھی بکثرت تشبیہات کو بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کے بعد سب
سے اہم کلام کلام نبوی ہے حضور علیہ السلام نے بھی تبلیغ میں اس طریقے کو اختیار کیا
ہے بکثرت ایسی احادیث موجود ہیں جس میں نبی پاک علیہ السلام نے امت کو تشبیہات کے
ذریعے سمجھایا ہے کیونکہ جو چیز اس طرح سمجھائی جائے وہ ذہن میں پختہ ہو جاتی ہےاور جلدی سمجھ آ جا تی ہے۔
اس مضمون میں ہم ایسی احادیث کو
بیان کریں گے کہ جس میں حضور علیہ السلام نے امت کو تشبیہات کے ذریعے تعلیم فرمائی
اور ان احادیث کی کچھ وضاحت بھی کریں گے۔
(1) مومن کو کھجور کے درخت
سے تشبیہ دی: ترجمہ: عبداللہ بن عمر سے روایت
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: درختوں میں سے ایک ایسا درخت ہے جس کے پتے نہیں
جھڑتے اور وہ درخت مومن کے مشابہ ہے مجھے بتاو وہ کونسا درخت ہے؟ تو لوگ باغات کے درختوں میں کھو گئے ( راوی
فرماتے ہیں ) میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں شرم کی وجہ سے
خاموش رہا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ اس درخت کے
بارے میں ہمیں بتا دیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا : وہ کھجور کا درخت ہے ۔(
صحيح بخاری كتاب العلم باب الحیاء فی العلم حديث نمبر 131 مکتبہ انعامیہ)
اس حدیث میں آپ نے مسلمانوں کو کھجور کے درخت سے اس لیے تشبیہ
دی کہ کھجور کا درخت ہمیشہ ہرا بھرا رہتا
ہے اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس درخت کے پتے
نہیں گرتے گویا کہ اس تشبیہ سے مسلمانوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ مسلمانوں کو بھی
ذکر اور تسبیح کے ذریعے سے ہرا بھرا رہنا چاہیے۔
دوسری بات یہ کہ کھجور کا درخت
بڑا ہی نافع درخت ہے کھجور کے درخت کا پورا وجود انسان کے لیے نفع بخش ہے گویا کہ
اس کو مومن سے تشبیہ دیکر اس کے نفع مند ہونے کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ مومن
کو سماج اور معاشرے کے لیے نافع ہونا چاہیے۔
(2) قرآن کی تلاوت کرنے
اور نہ کرنے والوں کو مختلف اشیاء سے تشبیہ:ترجمہ: حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی پاک علیہ السلام سے روایت
کرتے ہیں حضور علیہ السلام نے فرمایا : اس(مومن)کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنگترے کی
طرح ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور اس (مومن)کی
مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی طرح ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس کی
خوشبو نہیں ہوتی اور اس فاجر کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحانہ پھول کی طرح ہے جس کی
خوشبو تو ہوتی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ایک جڑی بوٹی کی طرح
ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔(صحيح بخارى، كتاب
القران ، باب فضل القران على سائر الكلام، حديث نمبر 5020 ، مكتبہ انعامیہ)
اس حدیث میں چار افراد کا تذکرہ
ہے:(1) مومن جو قرآن پڑھتا ہے اس کو
سنگترے کے ساتھ تشبیہ دی سنگترے میں دو خوبیاں ہیں ایک تو اس کا ذائقہ بھی عمدہ
ہوتا ہے دوسرا اس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے۔ اسی طرح قرآن پڑھنے والے مومن میں بھی
دو صفات ہوتی ہیں ایک باطنی یعنی دلی اعتقاد جو کہ ایمان ہے یہ گویا میٹھا ذائقہ
ہے دوسری صفت ظاہری جس کا اثر لوگوں تک پہنچتا ہے اسے خوشبو سے تشبیہ دی گویا قرآن
پڑھنے والا مومن ظاہر و باطن کے لحاظ سے بہتر ہے۔
(2) وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا اسے کھجور کے ساتھ
تشبیہ دی کھجور میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ اس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے مگر اس میں
خوشبو نہیں ہوتی اس طرح قرآن نہ پڑھنے والا مومن ہے کہ ایمان کی بدولت اس کا باطن
تو اچھا ہےلیکن اس کے ظاہر میں کوئی اثر نہیں۔
(3) فاجر(منافق)جو قرآن
پڑھتا اسے گل ریحانہ کے ساتھ تشبیہ دی گل ریحانہ کی جوشبو تو ہوتی ہے مگر اس کا
ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، قرآن پڑھنے والے منافق میں ظاہری اثر تو ہے لیکن باطن یعنی ایمان
کی دولت سے وہ خالی ہےدیکھنے میں وہ مسلمان نظر آتا ہے مگر اندر سے مسلمان نہیں۔
(4) فاجر( منافق) جو قرآن
نہیں پڑھتا اسے حنظلہ بوٹی کےساتھ تشبیہ دی جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی
خوشبو بھی نہیں ہوتی اس طرح وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا نہ اس کا ظاہر اچھا ہے نہ
اس کا باطن اچھا ہے۔
(3) قرآن کو اونٹ کے ساتھ
تشبیہ دی :حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:قرآن کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے
جس کے گھٹنے بندھے ہوئے ہوں اگر اس کا مالک ان بندھنوں سے اس کی حفاظت کرے تو اس
کو اپنے پاس روکے رکھے گا اور اس کےبندھنوں کو کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔(صحیح
بخاری، کتاب فضائل قرآن،باب استذکار القرآن،حدیث نمبر 5031،مکتبہ انعامیہ)
مطلب یہ ہے کہ جب تک قرآن کی
تلاوت کی جاتی رہے گی وہ یاد رہے گا اور
جب اس کی تلاوت چھوڑ دی ج آئے گی تو وہ
بھولا دیا جائے گا اس لیے قرآن کو مسلسل پڑھتے رہنا چاہیے بالخصوص حافظ قرآن کو
چاہیے کہ حفظ کے بعد روزانہ باقاعدگی سے اس کو پڑھے ۔
رسول اللہ سے پوچھا گیا کونسا صدقہ افضل ہے؟ ارشاد فرمایا: جو تندرستی کی حالت میں کیا جائے اس کا تمہیں لالچ بھی ہونیز اس کی وجہ سے مالدار ہونے کی امید اور تنگدستی کا خوف بھی ہو ، صدقہ کرنے میں اتنی تاخیر نہ کی جائے کہ جب روح حلق تک پہنچ جائے تو کہنے لگے فلاں کے لیے اتنا ، فلاں کے لیے اتنا حالانکہ اب تو وہ فلاں کا ہی ہے ۔( صحیح بخاری حدیث نمبر 2748 مکتبہ انعامیہ)
Dawateislami