ابتدا ہے رب ذوالجلال کے بابرکت نام سے جس نے تمام جہانوں کو پیدا کیا جس میں سب سے عظیم شخصیت محمد رسول اللہ  ﷺ کو مبعوث فرما کر عالم آفتاب کو جگمگ جگمگ کر دیا۔ اسی محبوب ﷺ کو کہ جس نے نوع انسانی کو نہ صرف جینے کا سلیقہ سکھایا۔

حضور ﷺ وہ عظیم ہستی ہیں کہ جو کبھی کوئی کلام فرماتے تو وہ اس انداز میں بیان فرماتے کہ سامنے بیٹھے سامعین اسے اچھی طرح یاد کر لیتے کہیں بات سمجھ نہ آتی تو مصطفیٰ جان رحمت ﷺ سے عرض کرتے یا رسول اللہ ﷺ یہ بات دوبارہ ارشاد فرمائیے تو مصطفی جان رحمت ﷺ وہ بات اس انداز میں بیان کرتے اور کسی ایسی چیز کے ساتھ تشبیہ دے کر بیان کرتے کہ سامنے بیٹھے سامعین کو بات اچھی طرح سمجھ آ جاتی ۔

اور ویسے بھی جو بات تشبیہات کے ذریعے یا کسی چیز کی طرف اشارہ کر کے سمجھائی جائے وہ نہ صرف سمجھ آتی ہے بلکہ عرصہ دراز تک وہ بات یاد بھی رہتی ہےاور وہ سمجھایا ہوا انداز بھی یاد رہتا ہے۔ چنانچہ کثیر احادیث طیبہ میں مصطفی جان رحمت ﷺ کا تشبیہات کے ذریعے مثال بیان فرمانا اور کسی بات کو سمجھانا یہ مذکور ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر وبن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے مومن کی مثال اس سونے کی ڈلی کی سی ہے جس کے مالک نے اس کو تپایا پھر نہ تو اس کا رنگ بدلا اور نہ وزن گھٹا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے مومن کی مثال ٹھیک اس شہد کی مکھی کی سی ہے جس نے عمدہ پھول چوسے، اچھا شہد بنایا اور جس شاخ پر وہ بیٹھی نہ تو اپنے وزن سے اس کو توڑا نہ خراب کیا۔ (مسند احمد ۱۱/۴۵)

اسی طرح کثیر تشبیہات و تمثیلات کے ذریعے حضور ﷺ نے کلام فرمایا جو کہ طویل ہے المختصر یہ کہ حضور ﷺ کا تشبیہات و تمثیلات کے ذریعے سے کلام فرمانا نہایت ہی موثر اور سمجھانے والا کلام ہوتا ۔ہمیں بھی چاہیے کہ جب کبھی کلام کریں تو مصطفی جان رحمت ﷺ کی اس سنت کو اپناتے ہوئے کلام کیا کریں۔

اللہ تبارک و تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین