عرفان
علی عطّاری (درجہ دورہ حدیث جامعۃُ المدینہ فیضان غوث اعظم کراچی ، پاکستان)
رسول اللہ ﷺ نے
اپنی دعوت و تربیت کے دوران مختلف مواقع پر تشبیہات کا استعمال فرمایا، تاکہ
مخاطبین کو پیچیدہ مفاہیم آسانی سے سمجھائے جا سکیں۔ آپ ﷺ کی یہ حکمت عملی تعلیم و
تربیت کے میدان میں بے مثال ہے۔
تشبیہات کی تعریف: تشبیہ سے مراد کسی چیز کو اس کی مشابہت کی بنا پر کسی دوسری چیز سے
تشبیہ دینا ہے، تاکہ مفہوم کو واضح اور قابل فہم بنایا جا سکے۔
(1) مومن کی مثال کھجور کے درخت سے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مومن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہے، جس
کا ہر حصہ فائدہ مند ہوتا ہے۔(صحیح بخاری: 5444)
یہ تشبیہ مومن کی نفع بخشی اور
استقامت کو ظاہر کرتی ہے۔
(2) علم و ہدایت کی مثال بارش سے: آپ ﷺ نے فرمایا: میری اور اس ہدایت کی مثال جو اللہ نے
مجھے دے کر بھیجی ہے، اس بارش کی مانند ہے جو زمین پر برسی۔(صحیح بخاری: 79)
یہ تمثیل علم و ہدایت کے اثرات
کو واضح کرتی ہے ۔
(3) نیک اور برے ساتھی کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا: نیک ساتھی کی مثال عطار
کی مانند ہے، اور برے ساتھی کی مثال لوہار کی بھٹی کی مانند ہے۔(صحیح بخاری: 2101)
یہ تشبیہ صحبت کے اثرات کو بیان
کرتی ہے۔
(4) پانچ نمازوں کی مثال بہتی نہر سے: آپ ﷺ نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال اس بہتی نہر کی مانند ہے جو کسی کے دروازے کے سامنے ہو، وہ
اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے۔(صحیح مسلم: 668)
یہ تمثیل نماز کی روحانی صفائی
اور گناہوں کی معافی کو ظاہر کرتی ہے۔
(5) مومن کی مثال خوشبودار پھل سے: آپ ﷺ نے فرمایا: قرآن پڑھنے والا مومن خوشبودار پھل کی مانند ہے، جس کی خوشبو اور ذائقہ
دونوں اچھے ہیں۔(صحیح بخاری: 5020)
یہ تشبیہ قرآن کی تلاوت اور اس
پر عمل کرنے والے مومن کی فضیلت کو بیان کرتی ہے۔
(6) میری اور انبیا کی مثال ایک عمارت کی مانند: آپ ﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیا کی مثال اس شخص کی مانند
ہے جس نے ایک خوبصورت عمارت بنائی، مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔(صحیح بخاری:
3535)
یہ تمثیل آپ ﷺ کے خاتم النبیین
ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔
(7) سیدھا راستہ اور دیواروں کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے ایک سیدھا راستہ بنایا، جس کے دونوں طرف دیواریں ہیں، ان دیواروں
میں دروازے ہیں جن پر پردے لٹکے ہوئے ہیں۔ (مسند احمد: 17634)
یہ تمثیل شریعت کی حدود اور ان
کی حفاظت کو بیان کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے
تشبیہات کے ذریعے تعلیم و تربیت کا جو طریقہ اپنایا، وہ نہایت مؤثر اور حکیمانہ
تھا۔ ان تشبیہات کے ذریعے آپ ﷺ نے گہرے مفاہیم کو آسان اور قابل فہم انداز میں
بیان فرمایا، جو آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
Dawateislami