تفہیم یعنی کسی کو بات سمجھانا ایک ایسا فن ہے اللہ پاک جس کو عطا فرمادے۔ اس کو تسخیر قلوب کی دولت نصیب ہو جاتی اور اس کائنات میں سب سے بہتر جس کو فنِ تفہیم عطا کیا گیا وہ سرکارِ دوعالم ﷺ کی ذات ہے آپ ﷺ نے مختلف اندازِ تفہیم میں سے ایک تشبیہ کے ذریعے بات سمجھانا بھی ہے جو کہ نہایت قابلِ اثر ہے۔ آئیے سرکارِ دوعالم ﷺ کے تشبیہات سے بات سمجھانے کی چند مثالیں پڑھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے ہیں:

(1) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے گرد پروانے اور کیڑے مکوڑے جمع ہونے لگے اور وہ اس میں گرنے لگے، تو وہ انہیں اس سے بچانے لگا، لیکن وہ اس کی بات نہ مانے اور آگ میں گرتے رہے۔(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث نمبر 6)

اللہ اکبر کتنا پیارا انداز ہے کہ اپنے آپ کو مہربان شخص کے ساتھ تشبہ دی اور جہنم کو دنیا کی آگ سے اور لوگوں کو کیڑے مکوڑوں کے ساتھ کہ جس طرح یہ شخص آگ سے بچا رہا ہے اسی طرح آپ اپنی امت کو گناہوں اور جہنم سے روکنے کے نصیحت،دعوت اور محنت فرماتے ہیں،لیکن بعض لوگ اپنی خواہشات اور گناہوں کی وجہ سے خود کو نقصان پہنچاتے ہیں، اسی انداز کو اپناتے ہوئے آپ نے اپنی ختم نبوت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :

(2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی مانند ہے جس نے ایک خوبصورت عمارت بنائی، مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے ہیں، اسے پسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو فرمایا: وہ اینٹ میں ہوں، اور میں خاتم النبیین ہوں۔( صحیح البخاری: حدیث نمبر 3535)

(3) قربان جاؤں حضور کے انداز تفہیم پر کہ آپ نے منافق کا تذبذب ،بے یقینی اور دوغلی پالیسی کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان بھٹکتی ہے، نہ اس ریوڑ میں جاتی ہے نہ اس میں۔(صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، حدیث نمبر 27) یعنی جس طرح یہ بکری کسی کی نہیں ہوتی اسی طرح منافق بھی نہیں ہوتا۔

اللہ پاک ہم سب کو حضور کے فرامین کو پڑھ کر ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین