انسان کی فطرت ہے کہ وہ محض الفاظ سے کم اور تصویری و تمثیلی انداز سے زیادہ اثر لیتا ہے۔ جب کوئی بات مثال کے قالب میں ڈھل کر سامنے آتی ہے تو وہ نہ صرف ذہن میں اترتی ہے بلکہ دل پر نقش اور عمل میں ڈھل  جاتی ہے۔ اور جب یہ مثال کسی ایسے معلم اکمل کی زبانِ مبارک سے نکلے ، جو خود ”یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ“ کا مصداق ہو ، تو وہ مثال دل و دماغ میں اتر جاتی ہے ۔

نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی معلم کامل تھی۔ آپ نے انسانیت کو راہ ہدایت دکھانے کے لیے جتنے انداز اپنائے ، اُن میں تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانے کا انداز نہایت مؤثر ، دلنشین اور دل میں اتر نے والا اند از ہے ۔ آپ ﷺ نے ایمان، نفاق، حسن معاشرت، اخوت، قرآن، دعا اور دیگر بے شمار مضامین کو زندگی سے جڑی مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے سمجھایا بلکہ دلوں کو جیت لیا۔

حضور جان عالم ﷺ کی تشبیہات کی خوبی یہ تھی کہ وہ مختصر الفاظ میں وسیع معانی کی جامعیت رکھتی تھیں اور نصیحت ، اثر ، فہم و عمل ہر اعتبار سے قلوب پر گہرا نقش چھوڑ تیں، یہاں چند مثالیں درج ذیل ہیں:

حضور جانِ دو عالم ﷺ کی مؤمنین کی باہمی محبت کی تشبیہ : حضور جان عالم ﷺ نے مؤمنین کی باہمی محبت کیسی ہونی چاہیے ، اس کی تشبیہ سے وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى

ترجمہ: مومنوں کی آپس کی محبت ، رحم دلی اور ایک دوسرے پر شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے ، جب جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کے ساتھ اس کا ساتھ دیتا ہے۔ ( صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین، جلد 2، صفحہ نمبر 325)

اس حدیث مبارکہ میں حضور جانِ عالم ﷺ اس بات کو واضح فرما رہے ہیں کہ سچے مسلمان ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں ، اگر کسی ایک مسلمان کو تکلیف پہنچے (چاہے وہ کسی بھی ملک یا قوم کا ہو) تو باقی تمام مسلمانوں کو اس کی تکلیف محسوس ہونی چاہیے جس طرح جسم کے کسی ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو وہ تکلیف پورا جسم محسوس کرتا ہے۔

حضور جانِ دو عالم ﷺ کااچھے اور برے دوست کی مثال کے ذریعے تشبیہ دینا:

حضور جانِ عالم ﷺ نے اچھے اور بُرے دوست میں فرق کو مثال سے واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالْجَلِيسِ السَّوْء، كَحَامِلِ الْمِسْكِ، وَنَافِخِ الْكِيرِ ترجمہ: اچّھے بُرے ساتھی کی مثال مُشک کے اُٹھانے اور بھٹّی دَھونکنے والے کی طرح ہے۔( صحیح بخاری، کتاب الذبائح والصيد ، باب المسک ، جلد 2، صفحہ نمبر 345)

اس حدیث مبارکہ میں تشبیہ کے ذریعے سمجھا گیا ہے کہ نیک دوست خوشبو فروش کی طرح ہوتا ہے ، اُس سے بہر صورت فائدہ ہی ہوتا ہے۔ جیسے خوشبو فروش سے بہر صورت فائدہ ہی ہوتا ہے ، خواہ اُس سے خوشبو خرید و یا نہ خریدو، کیوں کہ اُس کے پاس بیٹھنے سے جسم خوشبو دار ہو جاتا ہے اور بُرے دوست کی مثال لوہار کی بھٹی میں کام کرنے والے شخص کی طرح ہے کہ وہ بہر صورت تمہیں نقصان ہی پہنچائے گا۔ جیسے لوہار کی بھٹی نقصان پہنچ آتی ہے ، یا تو کپڑے جلا دے گی یا جسم بد بو دار کر دے گی۔