حضرات انبیائے کرام وہ عظیم ہستیاں ہیں کہ جن کو اللہ پاک نے مخلوق کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا اور ان کو بہت ساری صفات سے نوازا ۔آج ہم جس عظیم ہستی کا ذکر کریں گے ان کا نام حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السّلام ہے۔ آپ بنی اسرائیل کی طرف نبی بنا کر بھیجے گے تھے۔ اللہ پاک نے آپ کو بہت ساری صفات سے نوازا آج ہم ان صفات کا ذکر کریں گے جن کا ذکر قراٰن مجید میں آیا ہے۔

پہلا وصف :کلمۃُ اللہ ہونا: سورہ اٰل عمران آیت نمبر42 میں اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے اس وصف کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ(۴۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا، اے مریم، بیشک اللہ نے تمہیں چن لیا ہے اور تمہیں خوب پاکیزہ کر دیا ہے اور تمہیں سارے جہان کی عورتوں پر منتخب کر لیا ہے۔

تفسیر صراط الجنان میں اس کے تحت لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو کلمۃُ اللہ اس لئے کہتے ہیں کہ آپ علیہ السّلام کے جسم شریف کی پیدائش کلمہ "کُن" سے ہوئی، باپ اور ماں کے نطفہ سے نہ ہوئی۔

دوسرا وصف: مسیح ہونا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا ایک اور وصف مسیح ہونا بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:ترجمۂ کنزالایمان: جس کا نام مسیح ،عیسیٰ بن مریم ہوگا ۔( پ۳،اٰل عمران: 45)تفسیر صراط الجنان میں اس کے تحت لکھا ہے کہ، حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو مسیح اس لئے کہتے ہیں کہ آپ چھو(touch) کر شفا دیتے تھے۔

تیسرا وصف: بغیر باپ کے پیدا ہونا: سورہ اٰل عمرٰن‏ آیت نمبر 59میں اللہ پاک ارشاد فرما تا ہے: ترجمۂ کنز الایمان: بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی ہے۔ اسے مٹی سے پیدا کیا اور اسے فرمایا "ہو جا" تو ہو گیا۔اس آیت کی تفسیر میں صراط الجنا ن میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی پیدائش نطفہ سے نہیں ہوئی ۔اللہ پاک نے آپ کو کلمہ 'کن' سے پیدا فرمایا۔

چوتھا وصف: تمام انسانوں کا آپ پر ایمان لے آنا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے اس وصف کا بیان سورۃ النسآء کی آیت نمبر 159 میں اس طرح ہے۔ ترجمہ کنز الایمان: کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے، اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہے۔ اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں تفسیر بغوی کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی وفات سے پہلے ہر یہودی اور عیسائی اور ہر وہ شخص جو غیرِ خدا کی عبادت کرتے ہوں گے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام پر ایمان لے آ ئیں گے۔

پانچواں وصف: بات کرنے کی عمر سے پہلے کلام کرنا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے اس وصف کا ذکر سورہ اٰل عمران آیت نمبر 46 میں یوں ہے ۔ ترجمہ کنز العرفان: اور وہ لوگوں سے جھولے میں اور بڑی عمر میں کلام کرے گا اور خاص بندوں میں سے ہو گا۔سورہ مریم آیت نمبر 30 میں آپ کا کلام موجود ہے ۔ترجمہ کنز الایمان: بچہ نے فرمایا میں ہوں اللہ کا بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا کیا۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم