19 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ : ترجمہ: ہرجان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔(آل عمران ، 185)

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسو ل صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :لذتوں کو ختم کرنے والی(یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو کیونکہ جس نے بھی اسے تنگدستی میں یاد کیا اِس نے اٌس پر زندگی فراخ کر دی اور فراخی میں یاد کیا تو اس پر زندگی تنگ کر دی(مسند بزار،مسند ابی حمزہ ١٣/٣٥٤ حدیث ٦٩٨٧)

جب ہمہ وقت موت انسان کا تعاقب کررہی ہے پھر انسان اس سے کیوں غافل ہے! اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان دنیاکی لذات وخوہشات میں ایسے مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ موت سے مکمل غافل ہو جاتا ہے. جیسے بعض بزرگان دین نے ایک مثال سے واضح کیا کہ انسان کیسے غافل رہتا ہے ایک انسان نے دیکھا کہ شیر منہ کھولے دھاڑتا ہوا میرا تعاقب کر رہا ہے,وہ خوف کے مارے اپنے آپ کوشیرسے بچانے کے لئے درخت پر چڑھ گیاجس شاخ پر بیٹھا اسے دو چوہےایک سیاہ اور ایک سفید کاٹ رہے ہیں اس شاخ کے نیچے ایک گڑھا موجود ہے اگر وہ شاخ کٹتی ہے تو وہ شیر کی گرفت میں بھی آتا ہے اور گڑھے میں بھی گرتا ہے لیکن اس کو شیر اور گڑھے کے خوف سے اس طرح غافل کردیا گیا کہ اس شاخ پر جس پر بیٹھا ہے ایک شہد کا چھتا لگا ہوا ہے اس نے شہد کھانا شروع کر دیا شہد کی شرینی نے اس کو ایسے مست کردیا کہ ایسے نہ یہ خوف رہاکہ جس شاخ پر بیٹھا ہوا ہوں وہ تو سفید اور سیاہ چوہے کاٹ رہے ہیں ، نہ اسے یہ یاد رہا کہ میں شیر سے ڈر کر بھاگاتھا ،اور نہ اسے نیچے گڑھےکا کوئی خوف ہے ۔

اسی طرح انسان کا شیر کی طرح موت تعاقب کر رہی ہے قبر ایک گڑھے کی طرح منتظر ہےاور انسان کی زندگی کی شاخ کو دن سفید چوہے کی طرح اور رات سیاہ چوہےکی طرح کاٹ رہے ہیں ،لیکن انسان ان تمام خطرات سے بے نیاز ہو کر دنیا کی لذات خواہشات میں شہد کی شیرینی کی طرح مست ہے ،اسے موت کا کوئی غم نہیں قبرکا کوئی ڈر نہیں زندگی کے اختتام کی کوئی فکر نہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی کا ہر دن گزرنے پر خوش ہوتا ہے کہ وہ بڑا ہو رہا ہے ہے لیکن یہ نہیں سوچتا کہ حقیقت میں چھوٹا ہو رہا ہے ہے ۔

کیونکہ اس کی زندگی کا ہر دن گزرنے پر کم ہو رہا ہے انسان کو چاہیےوہ دنیاوی لذات کی طرف توجہ کم کر دے اور مالک الملک کے دربار کی طرف متوجہ ہو !بس یہی ایک ذریعہ ہے کہ انسان کو موت بھی یاد ہوگی خوف خدا بھی حاصل ہوگا اور گناہوں سے دوری بھی اور نیکیوں کی رغبت بھی حاصل ہوگی۔

بعض بزرگان دین نے کہا جس نے موت کو بکثرت یاد کیا اسے تین انعامات ملیں گے

1)توبہ کی جلدی تو فیق ہو گی ۔2)دل میں قناعت نصیب ہو گی۔ 3)عبادت میں خوشی ہوگی۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں