19 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

                                    خوف خدا پیدا کرنے، سچی توبہ کرنے، رب سے ملاقات کرنے، قرب الہٰی کے مراتب پانے، اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت حاصل کرنے کے لیے موت کو یاد کرنا تذکرہ موت کہلاتا ہے۔

موت کو یاد کرنے کی ترغیب ہمارے پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دلائی چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لذتوں کو ختم کرنے والی (موت) کو زیادہ یاد کیا کرو“۔

کسی بھی اچھے کام کی عادت ڈالنے اور اس پر استقامت حاصل کرنے کے طریقوں میں سے ایک اہم طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کام کی فضیلت کا مطالعہ کیا جائے اور اس کام کے فوائد کو ذہن میں رکھا جائے۔ لہذا مندرجہ ذیل فوائد کا مطالعہ اور ان کو ذہن میں رکھنے سے موت کو یاد کرنے کی ترغیب اور اس کی عادت بنانے میں مدد ملے گی۔ ان شاءاللّٰہ!

موت کو یاد کرنے کے فوائد پر احادیث مبارکہ:

حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنھا نے عرض کی؛”یا رسول اللّٰہ! کیا شہیدوں کے ساتھ کسی اور کو بھی اٹھایا جائے گا؟ “ ارشاد فرمایا؛ ”ہاں اسے جو دن رات میں 20 مرتبہ موت کو یاد کرے“۔

موت مومن کے لیے تحفہ ہے۔

موت ہر مسلمان کے لیے کفارہ ہے۔

موت کو زیادہ یاد کرو یہ گناہوں کو مٹاتی اور دنیا سے بے رغبت کرتی ہے۔

جدائی ڈالنے کے لئے موت ہی کافی ہے۔

نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے۔

حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں : میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہونے والا دسواں شخص تھا کہ کسی انصاری صحابی رضی اللّہ عنہ نے عرض کی:” یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لوگوں میں زیادہ عقلمند اور عزت والا کون ہے؟“ ارشاد فرمایا: ”موت کو زیادہ یاد کرنے اور اس کی زیادہ تیاری کرنے والا، یہی لوگ عقلمند ہیں کہ دنیاوی اور اخروی اعزاز کے ساتھ رخصت ہوتے ہیں“۔

موت کو یاد کرنے کے فوائد پر اقوال بزرگانِ دین:

حضرت سیدتنا صفیہ بنت شیبہ رحمۃ اللّٰہ علیھا فرماتی ہیں : کہ ایک عورت نے حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنھا سے اپنے دل کی سختی کے بارے میں شکایت کی تو انھوں نے فرمایا: ”موت کو زیادہ یاد کرو اس سے تمہارا دل نرم ہو جائے گا“ اس عورت نے ایسا ہی کیا تو دل کی سختی جاتی رہی پھر اس نے حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنھا کا شکریہ ادا کیا۔

حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللّٰہ قوی فرماتے ہیں:”میں نے ہر عقل مند کو موت سے خوف زدہ اور غمگین ہی دیکھا ہے“۔

حضرت عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃ اللّٰہ العزیز نے حضرت سیدنا عَنْبَسَہ سے فرمایا:”موت کو زیادہ یاد کرو کہ اگر تم مالدار ہوئے تو یہ تم پر تنگ دستی لے آئے گی اور اگر تنگ دست ہوئے تو خوشحالی لے آئے گی“۔ماخوذ از کتب "نجات دلانے والے اعمال کی معلومات“، ”احیاء العلوم جلد 5‘‘

اللّٰہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو موت کو یاد کرنے اور اس کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں