19 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

سيدنا ابن          سابط رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بارگاہِ رسالت میں ایک شخص کا ذکر ہوا تو اس کی تعریف کی گئی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ موت کو کیسے یاد کرتا ہے؟ عرض کی گئی اس سے کبھی مو ت کا تذکرہ سنا نہیں گیا، ارشاد فرمایا ،پھر تو وہ ایسا نہیں جیسا تم کہہ رہے ہو۔(مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الزھد، حدیث ۲) یعنی قابل تعریف وہی ہے جو موت کو یاد کر ے۔

زیادہ عقلمند مومن کون ؟:

بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی کون ساے مؤمن زیادہ عقل مند ہیں؟ ارشاد فرمایا موت کو کثرت سے یاد کرنے اور موت کے بعد کے لیے اچھی تیاری کرنے والے یہی لوگ زیادہ سمجھ دار ہیں۔( ابن ماجہ ، کتاب الزھد باب ذکر الموت ، حدیث ۴۲۵۹)

پیارے اسلامی بھائیو! موت کو یاد کرنے کے بہت سی دینی اور دنیاوی فوائد ہیں چند ذکر کیے جاتےہیں۔

موت کو یاد کرنے کے دنیاوی فوائد:

۱۔ فراخی کو زندگی: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے بھی موت کو تنگی میں یاد کیا اس نے اس پر زندگی فراخ کردی۔( مسند بزاز ، مسند ابی حمزہ ، حدیث ۶۹۸۷)

(۲) لذت اور خواہشات کا خاتمہ :

انسان اپنی زندگی میں بہت سے کام محض اپنی لذت یا خواہش کو پورا کرنے کے لیے کرتا ہے، جس کی وجہ سے یا تو اس کا پیسہ برباد ہوتا ہے یا صحت برباد ہوتی ہے، موت کو یاد رکھنے والے کی خواہشات کم ہوتیں ہیں اسی کے بارے میں نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو کثرت سے یاد کرو۔(ترمذی کتاب الزھد، حدیث ۲۳۱۴۵)

اور حضرت سیدنا عبدالاعلی یتیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں دو چیزوں نے میرے لیے دنیا کی لذت ختم کردی ہے۔(۱) موت کی یاد ۔(۲) اللہ عزوجل کے حضور کھڑا ہونے نے۔(حلیۃ الاولیا ، عبدالاعلی نعیمی، حدیث :۶۵۸۵)

(۳) دنیا سے بے رغبتی :
نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ عیہ وسلم نے فرمایا:موت کو کثرت سے یاد کیا کرو کیونکہ وہ گناہوں کو زائل کرتی اور دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے۔(ذکر الموت لابن ابی الدنیا ، ص ۸۱،حدیث ۱۴۸)

ایک اور حدیث پاک میں فرمایا ۔ دنیا سے بے رغبتی کا افضل طریقہ موت کی یاد ہے۔( فردوس الاخبار ، حدیث ۱۴۴۵)

(۴) دل کی قناعت اور تونگری :

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اگر تنگدستی میں موت کو یاد کرو گے تو یہ تمہیں تمہاری زندگی پر راضی رکھے گی۔

بعض بزرگوں نے فرمایا جو موت کو کثرت سے یاد کرتا ہے وہ تین باتوں کے ذریعے عزت پاتا ہے۔

ان میں سے ایک دل کی قناعت ہے۔( التذکرہ اللقرطبی ص ۱۴) سیدنا مجمع تیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا موت کی یاد دل کی تونگری ہے۔( حلیۃ الاولیا ، مجمع بن صمغان ، رقم ۶۴۹۱)

(۵) دنیا کے غموں کو برداشت کرنے میں آسانی :

سیدنا کعب الاحبار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، جو موت کو پہچان لیتا ہے اس پر دنیا کے غم و مصائب آسان ہوجاتے ہیں۔( ایضا، تکملہ کعب الاحبار، حدیث ۷۷۲۷)

اور سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جس نے موت کی یاد دل میں بسالی تو دنیا کی سار ی مصیبتیں اس پر آسان ہوجائیں گی۔( موسوعہ ابن ابی الدنیا ، کتاب ذکر الموت حدیث ۱۲۹)

موت کویاد کرنے کے دینی فوائد :

۱۔ دل کی سختی دور :

ایک خاتون نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بارگاہ میں دل کی سختی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا موت کو کثرت سے یاد کرو تمہارا دل نرم ہوجائے گا۔(ایضا، حدیث ۱۵۶)

(۲ ، ۳)توبہ کی توفیق اور عبادت میں چستی :

بعض بزرگوں ے فرمایا : جو موت کو کثرت سے یاد کرتا ہے وہ تین باتوں کے ذریعے عزت پاتا ہے۔ ۱۔ توبہ کی جلد توفیق(۲) دل کی قناعت (۳) عبادت میں چشتی (التذکرللقرطبی ۔ باب ذکر الموت رفضلہ ، ص ۱۴)

(۴) شہدا کے ساتھ حشر:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا :یارسول اللہ ! کسی کا حشر شہیدوں کے ساتھ بھی ہوگا؟آپ نے فرمایا ، ہاں ، جو شخص دن رات میں بیس (۲۰) مرتبہ موت کو یاد کرتا ہے وہ شہید کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔( جمع الجوامع ج۲، ص ۱۴، حدیث ۳۵۶)

(۵) قبر جنت کا باغ :

فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، جسے موت کی یاد خوف زدہ کرتی ہے قبر اس کے لیے جنت کا باغ بن جائے گی۔

(۶) جنت میں جانے کا سبب :

حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے پوچھا کیا تم سب جنت میں داخل ہونا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں تو ارشاد فرمایا : اپنی امیدوں کو کوتاہ ( یعنی مختصر) کرو ، موت کو آنکھوں کے سامنے رکھو اور اللہ پاک سے حیا کا حق ادا کرو۔( احیا العلوم اردو ج ، ۵، ص ۴۴۷)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں موت کو یاد رکھنے اور اس کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں