19 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

موت کو یاد کرنے کے فوائد

Tue, 7 Jul , 2020
33 days ago

اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاﭪ(۹) ترجمہ کنزالایمان، بے شک مراد کو پہنچا جس نے اسے ستھرا کیا۔(پ30،س الشمس،آیۃ9)

تفسیر جلالین و صاوی میں اس آیۃ کے تحت بیان کیا گیا ہے کہ نفس کو پاک کرنے سے مراد نفس کو برائیوں سے بچانا ہے اور نفس کو اسی وقت برائیوں سے بچایا جا سکتا ہے جب بندہِ مؤمن دنیا کی پرواہ کیے بغیر آخرت کی تیاری میں لگا رہے اور اپنی موت کو یاد کرتا رہے۔

پیارے اور میٹھے اسلامی بھائیو! موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا اس دنیا میں بہت سے فتنے اُٹھے، لوگوں نے انبیاء کا انکار کیا ،بلکہ اللہ تعالی کا انکار کردیا(العیاذ باللہ) لیکن جب سے یہ دنیا آباد ہے آج تک کسی نے موت کا انکار نہیں کیا ۔ لہذا موت کو یاد کرتے رہنا چاہیے۔

موت کی یاد : دل میں محبتِ الہی کا فائدہ دیتی ہے۔ چنانچہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مجھے ایسا عمل بتائیے جس کے کرنے پر اللہ عزّوجل مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی؟ فرمایا دنیا سے بے رغبت ہو جا ؤاللہ تعالی تم سے محبت کرے گا اور جو لوگوں کے پاس ہے(یعنی مال)اس سے بے رغبت ہو جا ؤ لوگ بھی تم سے محبت کریں گے۔(مشکؤۃ ج2کتاب الرقاق ح 4957)

مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ دنیا سے بے رغبت ہو جانے، آخرت کی تیاری کرنے اور موت کو یاد کرنے سے بندہ اللہ عزّوجل کا محبوب بن جاتا ہے ۔

موت کی یاد : خوف خدا کا فائدہ بھی دیتی ہے، چنانچہ حضرت یزید رقاشی علیہ رحمۃاللہ الشافی فرمایا کرتے تھے : موت جس کا مَوعِد(یعنی وعدے کا وقت)ہو، قبر جس کا گھر ہو، زمین کے نیچے جس کا ٹھکانا ہو، کیڑے جس کے ساتھی ہوں اوراس کے ساتھ ساتھ بڑی گھبراہٹ(یعنی قیامت)کا بھی انتظار ہو اس کا کیا حال ہوگا اسی دوران آپ پر رقت طاری ہو جاتی (المستطرف،الباب الحادی و الثمانون فی ذکر الموت)

موت کو مت بھولنا پچھتاؤ گے

قبر میں اے عاصیو جب جاؤ گے

سانپ بچھو دیکھ کر گھبراؤ گے

بھاگ نہ ہرگز وہاں سے پاؤ گے

ان کے علاوہ موت کو یاد کرنے سے مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:

موت کا احساس پیدا ہوتا ہے، نیکیاں کرنے کا ذہن بنتا ہے،گناہوں سے بچنے کا ذہن بنتا ہے، توبہ کرنے کی توفیق ملتی ہے،، دل نرم ہو جاتا ہے، عبادت میں لذّت محسوس ہوتی ہے، دنیا کی مشکلات کا خوف نہیں رہتا بلکہ آخرت کی فکر رہتی ہے، اللہ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے، بندہ فضول کاموں سے باز رہتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت میں لگا رہتا ہے۔ ہر وقت بندے کے ذہن میں رہتا ہے کہ یہ دنیا کی بظاہر رونقیں اور لذتیں ختم ہونے والی ہیں اور مجھے اپنے اللہ کی طرف کوچ کرنی ہے۔

سدا نہ باغیں بلبل بولے، سدا نہ باغ بہاراں

سدا نہ ماپے حسن جوانی، سدا نہ صحبت یاراں

یاد رکھیں ! موت کے بعد ہر ایک کو اپنی کرنی کا پھل ضرور بھگتنا ہے۔

اللہ تعالی مجھے اور سب مسلمانوں کو موت کی تیاری کرنے اور موت کو یاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں