دعا کی فضیلت و اہمیت: ہر انسان پہ کبھی نہ کبھی ایسا وقت آتا ہے کہ
اسے دوسروں سے مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ کچھ لوگ مدد کرنے پر قادر ہوتے ہیں اور کچھ
کر دیتے ہیں۔ کچھ مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن اسباب نہیں ہوتے تو پھر وہ لوگ یہ کہتے
ضرور سنائی دیتے ہیں کہ میں تمہارے لیے دعا ضرور کر دوں گا کیونکہ دعا کرنے پر تو
خرچہ نہیں آتا اس کا مطلب یہ ہوا کہ دعا کے بارے میں یہ پختہ تصور ہے کہ جب کوئی
بھی مدد نہ کر سکے تو دعا ضرور اثر دکھاتی ہے اور خاص طور پر اس وقت جب دل ٹوٹ چکا
ہو بے قراری بہت بڑھ گئی ہو دل کی کیفیت بہت اضطراری ہو جب بندہ ہر طرف سے مایوس
ہو جاتا ہے تو پھر ایک ہی در ایسا ہے جہاں سے کبھی کوئی خالی لوٹا ہی نہیں اور
اپنے ناتواں بندے کو وہ ذات خود پکارتی ہے:
ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْترجمہ :مجھ سے دعا مانگو میں قبول فرماؤں گا ۔(پارہ
24، المومن 60)اور آگے نبی محترم ،شافع ِامم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے رب کریم سے نقل فرماتے ہیں:اے فرزندِ آدم !تو
جب تک مجھ سے دعا کرتا اور میرا امیدوار رہے گا میں تیرے گناہ کیسے ہی ہو معاف
فرماتا رہوں گا اور مجھے کچھ پروا نہیں۔(اس حدیث کو امام
ترمذی نے حضرت انس رضی اللہ عنہسے روایت کیا )اب
ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دعا کہاں مانگی جائے قبولیت میں شک ہی نہ رہے ویسے تو بندہ
جہاں بھی ہو لب نہ بھی کھلے جب دل سے تڑپ کے دعا نکلتی ہے تو عرش ِاعظم کو ہلا دیتی
ہے مگر کچھ خاص مقامات بھی ہیں جہاں دعا ضرور ہوتی ہے: 1: ملتزم :یہ حجر ِاسود اور
بابِ کعبہ کے درمیان واقع ہے یہ وہ مقام ہے جہاں لوگ لپٹ لپٹ کر دعائیں مانگتے ہیں
ملتزم
سے تو گلے لگ کے نکالے ارماں ادب
و شوق کایاں باہم الجھنا دیکھو
2: حجر ِاسود یہ وہ خیر خواہ
مبارک پتھر ہے جو گناہ گار کے گناہ چوس کر اس کے گناہوں کی سیاہی اپنے اندر جذب کر
کے مسلمانوں کو گناہوں سے پاک کر دیتا ہے اور بروز ِقیامت مومن کے ایمان کی گواہی
بھی دے گا۔ 3:حطیم ِکعبہ: اس میں داخل ہونا عین کعبہ شریف کے اندر ہی داخل ہونا ہے
۔4:زم زم شریف کے کنویں کے پاس ۔5:نظر گاہ ِکعبہ یعنی جہاں کہیں سے کعبہ شریف نظر
آئے وہ جگہ بھی مقامِ قبولیت ہے ۔6:مسجد نبوی 7: مواجہہ شریف حضور رحمت اللعالمین یہ وہ مقام
مقدس ہے جہاں پہنچتے ہی پہلی خوشخبری یہ ملتی ہے کہ بندہ شفاعت کا حق دار ہو جاتا
ہے۔ ایک اعرابی حضور صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم کے وصال ِظاہری کے بعد تربتِ
اطہر پر حاضر ہوا ،سر پہ مٹی ڈال کر بخشش کا طلب گار ہوا تو منبر ِمبارک سے آواز
آئی: تحقیق تیرے گناہ بخش دئیے گئے۔ 8:منبرِ اطہرکے پاس 9:قباء شریف میں 10:جبل ِاحد شریف 11:اولیاء
و علماء کی مجلس :حدیث ِقدسی ہے: یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بدبخت نہیں
رہتا۔ 12:مزار ِاقدس امام ِاعظم ابو حنیفہ
کے پاس 13: تربت ِسراپا برکت حضور غوث ِاعظم کے پاس 14:مزار ِمقدس داتا علی ہجویری
یہاں سے اکثر عاشقوں کو مدینے کا ٹکٹ نصیب ہوتا ہے15: مرقدِ مبارک حضرت خواجہ غریب
نواز معین الدین چشتی اجمیری یہ وہ مقدس مزار ہے جہاں ہندو بھی دعائیں پوری کروا
کے جاتے ہیں۔ آخر میں ضرور کہوں گی کہ
اللہ پاک کو ہم سے کس قدر محبت ہو گی جس کا اظہار محبوب کی امت میں پیدا فرما کر
کر دیا اور پھر بہانے بنا دیے کہ دعا ایسے مانگو وسیلے سے مانگو بس مانگنا تمہارا
کام ہے عطا کرنا ہمارا کام ہے اللہ پاک اخلاص نصیب فرمائے۔ آمین
دعا کے بارے میں قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے متعدد جگہ ہدایت دی ہے چنانچہ سورۂ بقرہ آیت
نمبر 186میں ارشاد ِباری ہے :ترجمہ: اور اے پیغمبر جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں
دریافت کریں تو کہہ دو کہ میں تو تمہارے پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے
تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر
ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں۔اللہ پاک کے پیارے نبی حضرت محمد صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دعا کی عظمت اس کی برکتیں اور دعا
کرنے کے بارے میں واضح ہدایات دی ہیں چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہسے روایت ہے، نبی کریم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا :اللہ پاک کے ہاں کوئی چیز اور کوئی عمل دعا سے زیادہ
عزیز نہیں۔ دعا اللہ پاک اور بندے کے درمیان
ایک ایسا مخصوص تعلق اور مانگنے والے اور اس کے خالق کے درمیان براہِ راست رابطہ
ہے جس میں بندہ اپنے معبود سے اپنے دل کا حال سیدھے سادہ طریقے سے بیان کر دیتا ہے
بندہ اپنے پروردگار سے دن یارات کے کسی بھی حصے میں دعا مانگ سکتا ہے کوئی وقت اس
کے لیے مقرر نہیں تاہم احادیث ِمبارکہ سے دعا کے لیے درج ذیل خاص مقامات ثابت ہیں
ان وقتوں میں دعائیں بہت جلد قبول ہوتی ہیں۔ 15مقامات درج ذیل ہیں: 1۔مطاف 2۔ملتزم3۔مستجار
4۔حطیم 5۔ میزابِ رحمت کے نیچے6۔زم زم کے کنویں کے قریب 7۔ صفا 8۔مروہ 9۔ جبل ِاحد
شریف 10۔مشاہد مبارکہ 11۔مزاراتِ بقیع 12۔رکن ِیمانی اور حجرِ اسود کے درمیان13۔مسجد
ِنبوی میں 14۔اذان کے وقت 15۔سجدے کی حالت میں۔ اللہ پاک ہماری ہر جائز دعائیں کو
قبول فرمائے ۔آمین
دعا کی فضیلت و اہمیت:اللہ کریم نے ہمیں اپنی بخش کا سامان اور مواقع
عطا فرمائے ان میں ایک ذریعہ اللہ کریم سے دعا مانگنا بھی ہے۔ دعا اگرچہ ہم اپنے لیے
مانگتی ہیں لیکن رب کریم کا کرم دیکھیے کہ یہ طلب بھی نیکی عطا کرتی ہے اور مغفرت
کا سبب بنتی ہے اور دعا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ دعا عبادت کا
مغز ہےقبولیت دعا کا مقام : حضرت علامہ قطب الدین رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں:جس مبارک مقام پر رسولِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ولادت ِباسعادت ہوئی اس مقام پر دعا قبول ہوتی
ہے۔(بلد الامین صفحہ 21) ولادت گاہِ مصطفی پر دعا قبول ہوتی ہے۔ سوال :ولادت
گاہِ مصطفی پر آپ کی حاضری کا انداز کیا رہا؟جواب: پاؤں سے چل کر گیا تھا سر کے بل
جانا میرے بس میں ہوتا تو یہ بھی کر گزرتا۔ سرکار صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ولادت گاہ ادب کا مقام ہے اور زیارت گاہ ہے،اس
کا دیدار کرنا سعادت کی بات ہے،اس کے قریب دعا بھی قبول ہوتی ہے کیونکہ جس جگہ
سرکار صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم کا تشریف لانا ثابت ہو مشہد کہلاتی ہے اور مشہد (یعنی تشریف لانے کی جگہ )کے پاس دعا قبول
ہوتی ہے۔( فضائل دعا ص 136ماخوذ) ولادت گاہ تو وہ مقام ہے
جہاں آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم دنیا میں سب سے پہلے تشریف لائے یوں وہ قبولیت دعا کا مقام ہے۔اللہ
پاک ہمیں بار بار اس مقدس مقام کی زیارت نصیب فرمائے ۔(مدنی
مذاکرہ 4ربیع الاول 1441ہجری )پیاری اسلامی بہنو! حرمین
شریفین میں ہر جگہ انوار و تجلیات کی چھما چھم برسات برس رہی ہے تاہم احسن الوعاء
لآداب الدعا سے کچھ مقامات ذکر کرتی ہوں جہاں دعا قبول ہوتی ہے کہ جب بھی آپ کو ان
مقدس مقامات کی حاضری نصیب ہو تو ان مقامات پر دعا مانگنے کی سعادت نصیب ہو ۔آمین وہ
مقامات یہ ہیں :1۔مکہ مکرمہ کے مقامات یہ ہیں 1۔مطاف 2۔ملتزم 3۔میزابِ رحمت کے نیچے
4۔حجر ِاسود 5۔حطیم 6۔زم زم کے کنویں کے قریب 7۔صفا مروہ 8۔جب جب کعبہ پر نظر پڑے 9۔مسجدِ
نبوی شریف 10۔مواجہہ شریف،امام ابن الجزری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:دعا یہاں قبول نہ ہوگی تو کہاں قبول ہوگی 11۔منبرِ اطہر
کے پاس 12۔مسجد قباء شریف 13۔مسجدِ نبوی شریف کے ستونوں کے نزدیک 14۔وہ مبارک کنویں
جنہیں سرور ِکونین صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم سے نسبت ہے 15۔مساجدِ طیبہ جن کو سرکار ِمدینہ،سکونِ قلب و سینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے نسبت ہے مثلا مسجد ِغمامہ، مسجد ِقبلتین۔آخر
میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ان مقدس مقامات کی زیارتیں بھی نصیب فرمائے اور
وہاں دعائیں مانگنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر آن اپنی بارگاہ میں دعا مانگنے کی توفیق عطا فرما ۔آمین
الحمدللہ رمضان المبارک ہم پر اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے
ساتھ اور مغفرت کے پروانے لیے تشریف لاچکا ہے ۔اس مہینے کے ہر دن و لمحے کو مسلمان قیمتی بنانے کی کوشش
کرتے ہیں۔ عبادات میں اپنا وقت گزارتے ہیں ۔اس مہینے کی خاص عبادات میں دعا بھی ہے۔
عموماً افطاری کے وقت مسلمانوں کے گھروں میں دعا کا اہتمام کیا جاتا ہے۔حدیث ِمبارکہ
میں آتا ہے:افطار کا سامان سامنے رکھ کر دعا میں مشغول بندے کے حوالے سے اللہ پاک فرشتوں پر فخر فرماتا ہے لہٰذا ہمیں بھی چاہئے
کہ ہم رب ِّکریم سے دعا کریں ۔دعا اللہ پاک اور بندے کے درمیان ایک ایسا مخصوص
تعلق اور مانگنے والے اور اس کے خالق کے درمیان براہِ راست رابطہ ہے جس میں بندہ
اپنے معبود سے اپنے دل کا خیال سیدھے سادہ طریقے سے بیان کر دیتا ہے ۔اسی طرح دعا
کے لیے مخصوص مقامات کی بھی کوئی قید نہیں البتہ احادیث و آثار میں جن مقامات پر
دعائیں قبول ہونے کی صراحت موجود ہے ان میں سے چند مقامات مندرجہ ذیل ہیں:1. بیت
اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے 2۔مسجد نبوی میں 3۔ملتزم یعنی وہ جگہ جو حجر ِاسود
اور خانہ کعبہ کے دروازے کے درمیان ہے اس پر لپٹ کر دعا کرنا 4۔ میزابِ رحمت کے نیچے
5۔بیت المقدس میں 6صفا و مروہ کے مقام پر 8میدان ِعرفات میں 9زم زم شریف کا پانی پیتے
وقت 10مشعر ِحرام و مزدلفہ میں 10رکن ِیمانی و حجر ِاسود کے درمیان ۔اللہ پاک ہمیں
آداب کی رعایت کرتے ہوئے قبولیتِ دعا کے کامل یقین کے ساتھ خوب دعائیں مانگنے کی
توفیق عطا فرمائے آمین۔
دعا
دعو یا دعوۃ سے بنا ہے جس کا معنی بلا نا یا پکار نا ہے ۔ قرآن شریف میں لفظ دعا پانچ معانی
میں استعمال ہوا ہے :پکارنا، بلانا، مانگنا یا دعا کرنا،پوجنا یعنی معبود سمجھ کر
پکارنا ،تمنا آرزو کرنا۔اللہ پاک فرماتا ہے: وَّ الرَّسُوۡلُ یَدْعُوۡکُمْ فِیۡۤ اُخْرٰىکُمْ اور پیغمبر تم کو
تمہارے پیچھے پکارتے ہیں۔(پ4،اٰل
عمرٰن:153) دعا کے 15مقامات:حرمین شریفین میں ہرجگہ انوار و تجلیات کی چھماچھم
برسات برس رہی ہے۔ احسن الوعاء لآداب الدعاء سے دعا قبول ہونے کے پندرہ مقامات کا
ذکر کیا جاتا ہے: 1۔ حجر ِاسود 2۔بیت اللہ کے اندر 3۔جب دوران طواف وہاں سے گزر ہو۔4۔صفا۔
5۔ مروہ۔ 6 ۔مقامِ ابراہیم کے پیچھے۔7 ۔منی ۔ٰ8۔مزد لفہ خصوصا مشعر الحرام۔9۔مسجدِ
نبوی ۔10۔عرفات خصوصا موقفِ نبیِ پاک کے نزدیک۔ 11۔زم زم کے کنویں کے قریب۔12۔مقامِ
ابراہیم کے پیچھے۔ 13۔مطاف۔ 14۔ملتزم۔15 ۔مستجار ۔یا اللہ پاک! ہمیں بھی دعا کرنے
کی توفیق عطا فرما آمین
قرآن کریم کی روشنی میں دعا کی فضیلت:وَ اِذَاساَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ
الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ
یَرْشُدُوْنَترجمۂ کنزالایمان:اور
اے حبیب!جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو بیشک میں نزدیک ہوں ، میں
دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرے تو انہیں چاہئے کہ میرا
حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ہدایت پائیں حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں
دعا کی فضیلت: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہسے روایت ہے، حضور صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :اللہ پاک کے یہاں کوئی چیز اور کوئی عمل دعا سے زیادہ عزیز نہیں۔( ترمذی، سنن ابن ماجہ )حضور صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :دعا عبادت کا مغز ہے ۔دُعا ایک عظیم الشان عبادت ہے جس کی عظمت و فضیلت پر بکثرت آیاتِ کریمہ اور
احادیثِ طیبہ وارِد ہیں۔ دعا کی نہایت عظمت میں ایک حکمت یہ ہے کہ دُعا اللہ پاک سے
ہماری محبت کے اِظہار، اُس کی شانِ اُلوہیت کے حضور ہماری عبدیت کی علامت، اُس کے علم
و قدرت و عطا پر ہمارے توکل و اعتماد کا مظہر اور اُس کی ذاتِ پاک پر ہمارے ایمان کا
اقرار و ثبوت ہے۔ دعا کی قبولیت کے مخصوص اوقات :دعا اللہ پاک اور بندے کے درمیان ایک
ایسا مخصوص تعلق اور مانگنے والے اور اس کے خالق کے درمیان براہِ راست رابطہ ہے جس
میں بندہ اپنے محبوب سے اپنے دل کا حال سیدھے سادہ طریقے سے بیان کر دیتا ہے بندہ اپنے پروردگار سے دن یا
رات کے کسی بھی حصے میں دعا مانگ سکتا ہے کوئی خاص وقت اس مقصد کے لیے مقرر نہیں ۔
حدیث ِمبارکہ سے دعا کے لئے درج ذیل خاص اوقات ثابت ہیں: 1۔رات کے آخری حصے۔ 2۔جمعہ
کے دن میں بھی ایک قبولیت کی ساعت ہے اس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ 3۔ شب ِقدر میں
مانگی جانے والی دعا۔ 4۔اذان کے وقت کی دعا۔5۔فرض نمازوں کے بعد کی دعا۔ 6۔سجدے کی
حالت میں مانگے جانے والی دعا۔ 7۔قرآنِ مجید کی تلاوت اور ختم ِقرآن کے وقت مانگے
جانے والی دعا۔ 8۔ رمضان شریف کے مہینے میں افطار کے وقت کی دعا اسی طرح دعا کے لیے مخصوص مقامات کی بھی کوئی قید
نہیں۔ احسن الوعاء لآداب الدعا میں البتہ
دعا قبول ہونے کے مخصوص مقامات کا ذکر کیا جاتا ہے ان میں سے پندرہ 15مقامات یہ ہیں1۔ مطاف 2۔
ملتزم 3۔بیت اللہ کے اندر 4۔میزابِ رحمت کے نیچے 5۔حجر ِاسود 6۔مقام ِابراہیم کے پیچھے
7صفا و مروہ 8مزدلفہ خصوصا مشعر الحرام 9۔مسجد نبوی 10۔مسجد شریف کے ستونوں کے نزدیک
11۔منٰی 12۔مواجہہ شریف۔ امام ابن الجزری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں :دعا یہاں قبول نہ ہوگی تو کہاں ہوگی! 13۔مسجد قبا شریف 14۔مسجد الفتح میں
خصوصا بدھ کو ظہر و عصر کے درمیان15۔ مشاہد مبارکہ۔ کسی ایک کی خاص فضیلت :مشاہد جمع ہے مشہد کی اور
مشہد کا معنی ہے حاضر ہونے کی جگہ یہاں مراد یہ ہے کہ جس جس مقام پر سرکار مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لے گئے وہاں
دعا قبول ہوتی ہے اور خصوصا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بے شمار مقامات پر آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف فرما ہوئے
مثلا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہکا
مقدس باغ وغیرہ۔
اللہ پاک سے خیر طلب کرنے کو دعا کہتے ہیں یعنی اپنے لیے خیر و برکت
کی طلب گار ہونا ،اللہ پاک کے حضور اپنی
تمنا اور جذبات کا اظہار کرنا اور خود کو اللہ پاک کے قریب محسوس کرنا دعا میں ہی شامل ہے۔ دعا ایک
عمدہ عبادت کے ساتھ ایک نعمت بھی ہے جسے بندہ اپنا کر سرخرو ہوتا ہے بلکہ اللہ پاک
کے مقربوں میں شمار ہوجاتا ہے ۔دعا کی فضیلت و اہمیت: دعا ایک ایسا خزانہ ہے جس کی
اہمیت اور فضیلت کے بارے میں خود آپ علیہ الصلوۃوالسلام نے ارشاد فرمایا ہےچنانچہ آپ کا ارشادِ خاص ہے:الدعاءُ
مخُّ العبادۃیعنی دعا عبادت کا مغز ہے۔ (ترمذی، 5/243،
حدیث:3384)ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:الدعاء
سلاح المومن و عمادالدین و نورالسموت یعنی دعا مومن کا
ہتھیار، دین کا ستون اور آسمانوں کا نور ہے۔(
مستدرک حاکم، 2/162، حدیث: 1855) جیسے کہ حدیث سے معلوم ہواکہ دعا کتنی فضیلت کی
حامل ہے کہ خود حدیث میں ارشاد کیا گیا کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے جو ہر مسلمان مرد
اور عورت کی حفاظت اور اس کے قلب کے لئے فرحت بخش ہے لہٰذا مسلمانوں کی اس کی فضیلت کو سمجھتے ہوئے ہر گھڑی سے
فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اللہ پاک نےدعا کی
اہمیت اور اس سے حاصل ہونے والے فائدےسے مسلمانوں کو آگاہ کیا ہے چنانچہ ارشاد
فرماتا ہے:ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْترجمہ مجھ سے دعا مانگو میں قبول فرماؤں گا۔(پارہ
24، المومن 60) ایک اور مقام پردعا نہ
مانگنے والوں سے ارشاد فرمایا: فَلَوْلَا إِذْ
جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ ترجمہ:تو نہ ہوا جب آئی تھی ان پر ہماری طرف سے سختی تو گڑگڑائے ہوتے لیکن سخت ہو گئے ہیں دل ان کے۔(پ7، الانعام 43) اس آیت ِمبارکہ میں اور
اس سے پہلے والی آیت میں دعا کی اہمیت کا احساس دلایا جا رہا ہے کہ دعا مسلمانوں
کے لیے کس قدر ضروری ہے کہ اگر کوئی دل سے
اس عبادت کو اپنائے تو فلاح پا گیا اور جس نے اس عبادت کو چھوڑ دیا دل کی سختی اس پر
لاگو ہو گی۔ پیاری بہنو! جیسے دعا اہمیت و فضلیت کے بارے میں ہم نے پڑھا اسی طرح کچھ
اور بھی اس کے متعلق پڑھتی ہیں اور وہ یہ کہ کن مقامات پر ربِّ کریم ہماری دعا مستجاب
فرماتا ہے۔قبولیتِ دعا کے پندرہ مقامات:اول:مطاف :قال الرضاء: یہ وسط ِ مسجد ِحرام
میں ایک گول قطعہ ہے سنگ ِمرمر سے مفروش یعنی وہ ٹکڑا جس پر سنگِ مرمر بچھا ہوا ہے
اور اس کے بیچ میں کعبہ معظمہ ہے یہاں طواف
کرتے ہیں۔(جواہر البیان فصل چہارم ص 75) دوم:
داخلِ بیت اللہ: بیت اللہ شریف کی عمارت کے اندر ۔سوم: حجر ِاسود :یہ وہ جنتی پتھر
ہے جو کعبۃ اللہ شریف کے جنوب مشرقی کونے میں واقع رکنِ اسود میں نصب ہے ،مسلمان
اسے چومتے اور استلام کر کے اپنے گناہ دھلواتے ہیں ۔چہارم: حطیم: کعبہ معظمہ کی
شمالی دیوار کے پاس نصف دائرے کی شکل میں فصیل یعنی باؤنڈری کے اندر کا حصہ حطیم کعبہ
شریف ہی کا حصہ ہے داخل ہونا ہے۔(رفیق الحرمین ص 37)پنجم:خلفِ مقامِ ابراہیم:مقام ِابراہیم کے پیچھے۔ ششم:صفا ۔ہفتم:مروہ۔
ہشتم:عرفات خصوصا موقف ِنبی ۔ نہم:رکن ِیمانی۔قال الرضا :خصوصا جبکہ طواف کرتے
وہاں گزر ہو۔ حدیث شریف میں ہے: یہاں اے اللہ پاک!میں تجھ سے دنیا آخرت میں معافی اور ہر برائی
سے عافیت کا سوال کرتا ہوں اے رب عذاب سے بچا کہے ہزار فرشتے آمین کہیں گے ۔(مسندفردوس الحدیث 7336 ج 2 ص 397)
دہم:نظر گاہِ کعبہ :جہاں کہیں ہو اور ان اماکن سے بعض میں اجابت یا بعض کے
نزدیک بعض اوقات سے خاص ہے یعنی جہاں کہیں سے کعبہ شریف نظر آئے وہ جگہ بھی مقامِ
قبولیت ہے۔امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ نے اس بارے میں ارشاد فرمایا :میں کہتا ہوں :اگر
ان جگہوں میں دعا کی قبولیت کو عام کہا جائے یعنی کہ کسی خاص وقت میں مخصوص نہ کیا
جائے تو بھی بعید نہیں کیونکہ یہاں اللہ پاک کے فضل و کرم کےزیادہ موافق ہے۔ یازدہم:مسجد
ِنبوی۔ دوازدہم:اولیاء علماء کی مجالس۔اللہ پاک ہمیں تمام ہی اولیاء و علماء کی
برکتوں سے نفع پہنچائے ۔قال الرضا:رب کریم صحیح حدیث ِقدسی میں فرماتا ہے:یہ وہ لوگ
ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بدبخت نہیں رہتا۔ سیزدہم:مسجد قباء شریف ۔پانزدہم:مزار ِمطہر ابو
حنیفہ کے پاس :امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مجھے جب کوئی حاجت پیش آتی دو رکعت
نماز پڑھتا ہوں اور قبر ِامام ابو حنیفہ کے پاس جا کر دعا مانگتا ہوں اللہ پاک روا
فرماتا ہے۔ سیزدہم:مواجہہ شریف حضور سید الشافعین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم :امام ابن الجزری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں :دعا یہاں قبول نہ ہوگی تو کہاں ہوگی؟اقول:وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَآءُوكَ
فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ
تَوَّابًا رَحِيمًا اس پر دلیل کافی ہے۔اللہ پاک ہر طرح معاف کر سکتا ہے مگر ارشاد ہوتا
ہے کہ اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تیرے
حضور حاضر ہوں اللہ پاک سے اور رسول ان کی بخشش چاہیں تو ضرور اللہ کو توبہ قبول
کرنے والا مہربان پائیں۔ ترغیب :پیاری بہنو! ان سے کئی معلومات پڑھنے کے بعد پتہ
چلتا ہے کہ ہمیں دعا کثرت سے مانگنی چاہیے اور قرب و راحت کے اندر اللہ کریم ہمیں
دل کی سکونی کے ساتھ دعا مانگنے والی بنائے ۔آمین
دعا اللہ پاک کی ایسی عمدہ نعمت ہے کہ مصائب و مشکلات میں اس سے بہتر اور مؤثر کوئی
چیز نہیں ۔اللہ پاک خود اس کی تعلیم فرماتا ہے ،چنانچہ ارشاد ِباری ہے :مجھ سے دعا مانگو میں
قبول کروں گا ۔(پارہ 24المومن 60) دعا مانگنے کا کوئی خاص
وقت مقرر نہیں جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے :رات دن اللہ پاک سے دعا کرتے رہو کہ دعا
مومن کا ہتھیار ہے۔(مسند ابی یعلی الحدیث 1806)البتہ بہت سی بابرکت جگہیں ہیں جہاں اللہ پاک کے فضل سے دعائیں قبول ہوتی ہیں جو کہ احادیث
و بزرگان ِدین کے قول سے ثابت ہیں ،ان میں
سے 15 مقامات قابلِ ذکر ہیں: 1۔مطاف :یہ سنگِ مرمر کا بنا گول قطعہ ہے جس کے درمیان
میں کعبہ معظمہ ہے۔ 2۔ملتزم: باب ِکعبہ اور حجر ِ اسود کے درمیان کا حصہ ہے جہاں
لوگ لپٹ لپٹ کر دعا مانگتے ہیں ۔حدیث شریف میں ہے: ملتزم ایسی جگہ ہے جہاں دعا
قبول ہوتی ہے کسی بندے نے ایسی دعا نہیں کی جو یہاں قبول نہ ہوئی ہو۔(الحصن الحصین) 3۔مقامِ ابراہیم :کئی
علماء و فقہائے کرام نے یہاں دعاقبول ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔ 4۔صفا و مروہ: صفا و مروہ پر اور ان کے درمیان سعی کرتے ہوئے
خصوصا مسعی پر۔ 5۔جہاں کہیں سے کعبۃ اللہ نظر آ جائے وہ جگہ بھی مقامِ قبولیت ہے۔
6۔عرفات: خصوصا نزدیک موقفِ نبی ۔ 7۔ مسجد ِنبوی خصوصا مواجہہ شریف کہ امام جزری رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں:دعایہاں قبول نہیں ہوگی تو کہاں ہوگی!(الحصن الحصین)8۔جہاں ایک بار دعا قبول ہو جائے وہاں پھر دعا کرنا۔ 9۔مسجدِ فتح:
حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم نے تین دن پیر، منگل اور بدھ کے دن دو نمازوں کے درمیان دعا کی اور قبول
کی گئی۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہفرماتے ہیں:میں ان ساعتوں میں دعا کرتا ہوں تواجابت ضرور ہوتی ہے۔(المسنداحمد: الحدیث 14569) 10۔ایسی مساجد جن
کو سرکار علیہ السلام سے خاص نسبت ہو جیسے مسجد
غمامہ، مسجد قبلتین ،مسجد قباء وغیرہ۔ 11۔وہ تمام جگہیں جہاں نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی ظاہری حیات میں تشریف لے گئے جیسے حضرت
سلمان فارسی رضی اللہ عنہکا باغ 12۔مزارِ حضرت امام
موسی کاظم: امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں :وہ اجابتِ دعا کے لیے تریاق مجرب ہے۔(لمعات التنقیح،
باب زیارت القبور، ص137 فضائل دعا) 13۔ مزارِ امام ابو حنیفہ
کے پاس :امام شافعی رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں :جب مجھے کوئی
حاجت پیش آتی ہے توقبر ِامام ابو حنیفہ کے
پاس جا کر دعا مانگتا ہوں اللہ پاک روا
فرماتا ہے۔ 14۔تربتِ غوثِ اعظم۔ 15۔اسی طرح تمام اولیاء، صلحاءومحبوبانِ خدا کی
بارگاہ میں اس کے علاوہ اولیاء اللہ و علماء کی مجالس کہ حدیثِ قدسی ہے: یہ وہ لوگ
ہیں جن کے پاس بیٹھنے والا بدبخت نہیں رہتا ۔(صحیح
مسلم حدیث: 2689) امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آدمی اگر بلا سے پناہ
چاہتا ہے خدا پناہ دیتا ہے اور جو وہ کسی بات کی طلب کرتا ہے اپنی رحمت سے اس کو
عطا فرماتا ہے یا آخرت میں ثواب بخشتا ہے۔(فضائل دعا ص55) ترجمہ ٔکنزالایمان :دعا
قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب وہ مجھے پکارے (پ2 ، البقرۃ 186)اللہ پاک سے دعا ہے ہمیں بھی ہر ساعت دعا کرنے اور اس عظیم عبادت سے
حصہ پانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
مختصر تمہید:دعا ایک عظیم الشان عبادت ہے جس کی عظمت و فضیلت پر کثرت
سے آیاتِ کریمہ اور احادیثِ مبارکہ وارد ہیں۔دعا کی نہایت عظمت میں ایک حکمت یہ ہے
کہ دعا اللہ پاک سے ہماری محبت کے اظہار،اس کی شانِ الوہیت کے حضور ہماری عبدیت کی
علامت،اس کے علم وقدرت و عطا پر ہمارے توکل و اعتماد کا مظہر اوراس کی ذاتِ پاک پر
ہمارے ایمان کا اقرار و ثبوت ہے۔دعاکی عظمت پر آیاتِ کریمہ و احادیثِ مبارکہ:آیتِ مبارکہ:ارشادِ باری
ہے:وقال ربکم ادعونی استجب لکم ترجمہ:اور تمہارے رب نے فرمایا:مجھ سے دعا کرو میں
قبول کروں گا۔(المومن:60)تفسیر:اس آیت میں لفظ
ادعونی کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد دعا ہے معنی یہ ہوا کہ اے لوگو!
مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبو ل کروں گا۔ایک قول کے مطابق اس سے مراد عبادت
ہے معنی یہ ہوا کہ تم میری عبادت کرو میں
تمہیں ثواب دوں گا۔(تفسیر کبیر،13/350) احادیثِ مبارکہ:فرمانِ مصطفے ہے:1۔اللہ پاک کے نزدیک کوئی چیز دعا سے
بزرگ تر نہیں۔2۔حضور صلی اللہُ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:دعا عبادت کا مغز ہے۔3۔آقائے دو جہاں صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:دعا مومن کا ہتھیار ہے۔دعا قبول
ہوتی ہے:درج ذیل مقامات پر دعا قبول ہوتی ہے:1مطاف2ملتزم3داخل بیت(بیت اللہ کی عبارت کے اندر)4زیرِ
میزاب5حطیم6خلفِ مقامِ ابراہیم7حجرِ اسود8صفا9مروہ10منیٰ11جبلِ احد12مسجدِ
نبوی13مسجدِ نبوی14مشاہدِ مبارکہ15مزاراتِ بقیع و احد16مزاراتِ اولیا17مزارِ مطہر
ابوحنیفۃ کے پاس۔مختصر واقعہ:حضرت امام شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: مجھے جب بھی کوئی حاجت
پیش آتی ہے تو میں دو رکعت نماز نفل ادا کرتا ہوں اور قبرِ امام ابو حنیفہ کے پاس
جاکر دعا کرتا ہوں تو اللہ پاک میری حاجت پوری فرمادیتا ہے۔
دعا کی اہمیت و فضیلت: اللہ پاک فرماتا ہے:مجھ سے مانگو میں قبول
فرماؤں گا ۔سرکار ِمدینہ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :اللہ پاک کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بزرگ ترنہیں۔آقا صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :دعا مسلمانوں کا ہتھیار ،
دین کا ستون اور آسمان و زمین کا نور ہے۔ دعا کے بے شمار فضائل ہیں ۔اللہ پاک بندے
کی دعا سے بہت خوش ہوتا ہے اور اسے یہ پسند ہے کہ اس سے سوال کیا جائے۔ دعا سے مصیبتیں
اور بلائیں ٹل جاتی ہیں ،اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ خشوع و خضوع کے ساتھ اپنے رب سے دعا مانگیں۔ بے شک اللہ
پاک دعا مانگنے والے کی دعا قبول فرماتا
ہے۔ دعا کی قبولیت کے کئی مقامات بھی ہیں جن میں سے 15یہ ہیں: قبولیتِ دعا کے
پندرہ مقامات:1۔مطاف۔2۔ملتزم3۔مستجار4۔داخلِ بیت5۔زیر ِمیزاب6۔حطیم7۔حجرِ اسود۔8۔رکنِ
یمانی 9۔ مقامِ ابراہیم کے پیچھے۔ 10۔ چاہ ِزم زم کے پاس۔ 11۔صفا۔ 12۔ مروہ ۔ 13۔
عرفات۔ 14۔مزدلفہ۔ 15۔ منیٰ۔ ان پندرہ مقامات کے علاوہ اور بھی مقامات ہیں جہاں
دعا قبول ہوتی ہے جیسے حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار ِمبارک کہ وہاں دعا
قبول ہوتی ہے۔علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ شرح مواہب میں فرماتے ہیں: وہاں اجابت مجرب ہے ۔کہتے
ہیں: سو بار سورۂ اخلاص وہاں پڑھ کر جو چاہے اللہ پاک سے مانگے حاجت پوری ہو۔ آب ِزم
زم پی کر دعا مانگنا ،یوں ہی آب ِزم زم پی کر اگر دعا مانگی جائے تو قبول ہوتی ہے۔
صحیح حدیث میں ہے: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہنے
قبلِ ظہورِ اسلام مہینہ بھر صرف آب ِزم زم پیا ،مکہ میں پوشیدہ تھے، کچھ کھانے کو
نہ ملتا ،تنہا اس مبارک پانی نے کھانے پانی دونوں کا کام دیا اور بدن نہایت ترو
تازہ اور فربہ ہو گیا ۔مجمع ِمسلمانان میں قبولیت ِدعا: اسی طرح جہاں چالیس مسلمان
جمع ہوں وہاں دعا مانگی جائے یہ تو قبول ہوتی ہے کہ جہاں چالیس مسلمان جمع ہوں ان میں
ایک ولی اللہ ضرور ہوگا ۔ ذکر ِخدا اور رسول کی مجلس میں دعا مانگنا : ذکر ِخدا
اور رسول کی مجلس میں بھی دعا مانگنے سے قبول ہوتی ہے ۔صحیح حدیث شریف میں ہے :فرشتے
ان کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔ دعا اللہ پاک
سے دعا ہے۔ وہ ہمیں خوب خشوع و خضوع کے ساتھ دعا مانگنے کی توفیق عطا فرمائے اور
ہمیں اپنے پسندیدہ بندیوں میں شامل فرما لے۔آمین یا رب العالمین
چھوٹے کا اپنے بڑے سے اظہار عجز کے ساتھ مانگنا دعا کہلاتا ہے۔مشکلات
کو حل کرنے اور آفات و بلیات ٹالنے میں دعا سے زیادہ مؤثر اور بہترین کوئی چیز نہیں۔
خود اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: مجھ سے دعا مانگو میں قبول فرماؤں گا مفتی احمدیار
خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مراٰۃ المناجیح جلد 3صفحہ
314 پر حدیث ِمبارکہ دعا عبادت کا مغز ہے کےتحت فرماتے ہیں کہ دعا عبادت کا رکن ہے
جیسے مغز کے بغیر ہڈی ، گودے کے بغیر چھلکے کی کوئی قدر نہیں ایسے ہی دعا سے خالی
عبادت کی کوئی قدر نہیں ۔مزید فرماتے ہیں :عبادت نام ہے اپنی انتہائی عاجزی اور
اللہ پاک کی انتہائی عظمت کا دعا میں یہ دونوں چیزیں اعلیٰ طریقے سے موجود ہیں کہ
اس میں بندہ اقرار کرتا ہے کہ میں کچھ نہیں تو کریم ہے تو غنی ہے ۔اللہ پاک کو کچھ
مقامات زیادہ محبوب ہیں، اگر ان مقامات پر دعا مانگی جائے اور ساتھ ہی اللہ پاک پر
پختہ یقین بھی ہو تو وہ دعا ضرور مقبول ہوتی ہے جیسے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام صحابہ و اہلِ بیت علیہم
الرضوان اولیائے عظام اور سلفِ صالحین رحمۃ اللہ علیہ کے
مزارات یا وہ مکان جہاں وہ مقیم ہوں یا کوئی بھی ان سے نسبت رکھنے والی جگہ یہ سب
دعا کی مقبولیت کے مقامات ہیں۔مقبولیت ِدعا کے چند مقامات 1۔ پیارے آقا مکی مدنی
مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ
وسلم کی قبرِ انور:اس مقام پر دن رات رحمتوں ،برکتوں اور تجلیات کا نزول
ہوتا ہے اور غلاموں کی مرادیں بھر لائی جاتی ہیں۔2۔ حجر ِاسود :خانہ کعبہ کی دیوار
میں جو پتھر نصب ہے نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے اسے بوسہ دیا۔3۔کعبہ معظمہ۔ 4۔حدودِ حرم ِکعبہ:خانہ کعبہ کے چاروں
اطراف میں چند کلو میٹر علاقہ 5۔مقام ِابراہیم:پتھر جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم
علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی
6۔حطیم : جو کعبہ شریف کی شمالی دیوار کے پاس نصف دائرے کی شکل ہے اس باؤنڈری کے
اندر داخل ہونا عین کعبۃ اللہ میں داخل ہونا ہے۔ 7۔میزابِ رحمت کے نیچے۔ 8۔مسجد ِنبوی
شریف کے ستونوں کے نزدیک۔ 9۔ملتزم: رکنِ اسود اور بابِ کعبہ کی درمیانی دیوار۔ 10۔کوہِ
صفا ،کوہِ مروہ اور ان کے درمیان والی جگہ۔ 11۔بیرِ زم زم: مکہ معظمہ کا وہ مقدس کنواں جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بچپن شریف میں آپ کے ننھے ننھے مبارک قدموں کی
رگڑ سے جاری ہوا۔(رفیق الحرمین صفحہ 62) 12۔مستجاب: رکنِ یمانی
اور رکن ِاسود کے بیچ جنوبی دیوار یہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہنے کے لیے
مقرر ہیں۔(رفیق الحرمین، صفحہ 61) 13۔غار حرا :وہ غار جہاں
پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نبوت سے پہلے
کئی دن اور ہفتے قیام فرمایا ۔14۔ اولیاء و علماء کی مجالس: حدیثِ قدسی ہے: یہ وہ
لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بدبخت نہیں رہتا۔ 15۔محراب ِمریم :مکان ِاستجابت
ِدعا یعنی جہاں ایک مرتبہ دعا قبول ہو
وہاں پھر دعا کریں اس کے متعلق ایک خاص واقعہ یہ ہے کہ جس طرح حضرت زکریا علیہ السلام نے حضرت مریم رضی اللہُ عنہا پر فضلِ اعظم ربِّ اکرم
اور بے فصل کے میوے انہیں ملنا دیکھ کر وہی اپنے لیے فرزند عطا ہونے کی دعا فرمائی
اس کو اللہ کریم نے اپنے مبارک کلام قرآنِ مجید میں خوبصورت الفاظ میں بیان فرمایا:
ترجمۂ کنزالایمان :یہاں پکارا زکریا نے اپنے رب کو یعنی دعا مانگی(ال عمران آیت 38)ان کی دعا ایسی مقبول ہوئی
کہ ایسا عظیم بیٹا یحی عطا ہوا جو صالحین میں سے ہوا اور اس بیٹے کی تعریف قرآنِ
مجید میں اس طرح فرمائی: ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللہ آپ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا
ہے جو اللہ کی طرف کے ایک کلمے کی تصدیق کرے گا اور وہ سردار ہوگا اور ہمیشہ
عورتوں سے بچنے والا اور صالحین میں سے نبی ہوگا۔(
سورۃ آیت 39) (تفسیر صراط الجنان جلد 1
صفحہ 469 تا 472 پر بیان کی گئی تفسیرکا خلاصہ ) ان
کے علاوہ مسجد ِقباء شریف،مواجہہ شریف،مزارِ مبارک حضرت امام موسیٰ کاظم ،تربتِ
غوثِ اعظم قبولیت ِدعا کے مقامات ہیں اور کئی مقامات جن کا علمائے کرام نے تعین
فرمایاہے۔
سرکار
ِدو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا
فرمانِ عالیشان ہے :الدُّعَاءُ
مُخُّ الْعِبَادَیعنی
دعا عبادت کا مغز ہے۔(مشکوٰۃ شریف حدیث نمبر 2230)
اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت حضرتِ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دعا عبادت کا رکنِ
اعلیٰ ہے جیسے مغز کے بغیر ہڈی کی،گودے کے بغیر چھلکے کی کوئی قدر نہیں ایسے ہی
دعا سے خالی عبادت کی کوئی قدر نہیں۔ رب کریم مانگنے کو پسند فرماتا ہے جیسا کہ مشکوۃ شریف،حدیث نمبر 2232 میں
ہے:مَنْ فُتِحَ
لَهُ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَمَا سُئِلَ
اللَّهُ شَيْئًا يَعْنِی أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَیعنی تم
میں سے جس کے لیے دعا کا دروازہ کھولا
جائے تو اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ۔عافیت سے بڑھ کر کوئی کیسی
چیز اﷲ پاک سے نہ مانگی گئی ہو جو اسے زیادہ
پیاری ہو۔ اس حدیثِ پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے
ہیں:جسے ہر وقت ہر حال میں دعائیں مانگنے کی توفیق ملے تو یہ اس کی علامت ہے کہ اس
کے لیے رب کریم نے رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ دعا
کی طرف دل کا راغب ہونا پھر دعا کے لیے اچھے الفاظ مل جانا رب کریم ہی کے کرم سے
ہے۔ جب وہ کچھ دینا چاہتا ہے تو ہمیں مانگنے کی توفیق بخشتا ہے۔
مری
طلب بھی تمہارےکرم کاصدقہ ہے قدم
یہ اٹھتےنہیں ہیں اٹھائےجاتےہیں
امام
ِاہل ِسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ
اللہ علیہ کے نزدیک چوالیس (44) مقاماتِ
مقدسہ ایسے ہیں جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ ان میں سے15
مقامات درج ذیل ہیں: (1)مَطاف:یہ
وسط ِمسجد الحرام شریف میں ایک گول قطعہ ہے،سنگ ِمرمر سے مَفْرُوش(یعنی
زمین کا وہ ٹکڑا جس پر سنگِ مرمر بچھا ہوا ہے)اس کے بیچ میں کعبہ معظمہ ہے یہاں
طواف کرتے ہیں۔(2)مُلتزَم:یہ
کعبہ معظمہ کی دیوارِ شرقی کے پارہ جنوبی کا نام ہے، جو درمیان درِ کعبہ وسنگِ
اَسود واقع ہے، یہاں لپٹ کر دعا کرتے ہیں۔(3) صفا (4)مروہ(5)عرفات،
خصوصاً نزدِموقفِ نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم(6)مکانِ
استجابتِ دعا،جہاں ایک مرتبہ دعا قبول ہو وہاں پھر دعا کرے۔اللہ پاک ارشاد فرماتا
ہے: (ھُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا
رَبَّہ)
کہ جس طرح زکریا علیہ السلام نے حضرت مریم رضی
اللہُ عنہا
پر فضلِ اعظم ربِّ اکرم اور بے فصل کے میوے اُنہیں ملنا دیکھ کر وہیں اپنے لیے
فرزند عطا ہونے کی دعا کی۔(7)اولیاء
وعلماء کی مجالس: رب کریم صحیح حدیثِ قدسی
میں فرماتا ہے:ھُمُ
الْقَوْمُ لَا یَشْقٰی بِھِمْ جَلِیْسُھُمْ یعنی یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے پا س بیٹھنے والا
بدبخت نہیں رہتا۔ اللہ پاک ہمیں تمام ہی اولیاء وعلماء کی برکتوں سے نفع پہنچائے۔(8)مواجہہ
شریفہ حضورسَیِّدُ الشَّافِعِین صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم
کہ امام ابن الجزری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں: دعا یہاں قبول نہ ہوگی تو کہاں ہوگی!(9) مسجد
اقدس کے ستونوں کے نزدیک(10)مسجد
قبا شریف(11)جبل
اُحُد شریف (یعنی
اُحُد پہاڑ)(12) مزاراتِ
بقیع و اُحُد(13)مزارِ
مُطَہَّر ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس۔ حضرت امام شافعی رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے
ہیں:مجھے جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تو دو رکعت نماز پڑھتا ہوں اور قبرِ امام ابو حنیفہ کے پاس جا کر دعا
مانگتا ہوں، اللہ پاک رَوا(پوری)فرماتاہے۔(14)تربتِ
سراپا برکت حضور غوثِ اعظم (15) تمام
اولیاء وصلحاء ومحبوبانِ خدا کی بارگاہیں، خانقاہی آرامگاہیں۔(ماخوذ
از: احسن الوعاء لآداب الدعا،لامام احمد
رضا خان۔ ص 128-142)اللہ
پا ک ہمیں کثرت سے دعا مانگنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ۔ جب بندہ دعا کرتا ہے
تو اللہ پاکلَبَّیْکَ
عَبْدِیْ
فرماتا ہے۔(مسند
الفردوس، باب الالف، 1/286،
الحدیث: 1122)الٰہی!
صدقہ اپنے محبوبوں کا ہمیں دنیا وآخرت وقبر وحشر میں اپنے محبوبوں کے برکاتِ بے پایاں
سے بہر ہ مند فرما۔ آمین۔
لاج
رکھ میرے دستِ دعا کی مرے
مولا تو خیرات دے دے
اپنی
رحمت کی اپنی عطا کی مرے
مولا تو خیرات دے دے
Dawateislami