پچھلے دنوں اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے دینی کاموں کے حوالے سے مدنی مرکز فیضان مدینہ آفندی ٹاؤن حیدر آباد میں مدنی
مشورہ ہوا جس میں سندھ ڈویژن ذمہ داراسلامی بھائیوں کی شرکت رہی۔
اس مدنی مشورے میں صوبائی ذمہ دار اسپیشل پرسنز
ڈیپارٹمنٹ (سندھ) عابد حسین عطاری نےذمہ داران سے ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا اور نگران
اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ (پاکستان ) محمد حنیف عطاری نے بذریعہ ٹیلی فون اسلامی بھائیوں کی تربیت کی۔
بعدازاں نگرانِ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے ڈویژن کی تقرریاں مکمل کرنے کے لئے
اہداف دیئے جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔اس موقع پر اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ دار قاری محمد خالد عطاری بھی
موجود تھے جنہوں نے ذمہ داران کی تربیت کی۔(رپورٹ:محمد سمیر ہاشمی عطاری اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ،
کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
پنجاب پاکستان کے شہر فیصل آباد سے ایک ماہ کا
مدنی قافلہ راہِ خدا کے سفر پر روانہ
پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام پنجاب پاکستان کے شہر فیصل آباد سے ایک ماہ کا مدنی قافلہ
راہِ خدا عزوجل کے
سفر پر روانہ ہوا جس میں
اسپیشل پرسنز سمیت ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے شرکت کی جن میں غلام مصطفٰی عطاری
اور ارسلان عطاری شامل تھے۔
دورانِ مدنی قافلہ مختلف ایکٹیویٹیز کا سلسلہ
رہا جس میں مبلغِ دعوتِ اسلامی نے شرکائے قافلہ کی تربیت کے لئے سیکھنے سکھانے کا
حلقہ بھی
لگایا اور اُن کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کی۔
اس کے علاوہ شرکائےقافلہ کی اپنے اپنے علاقو ں
میں دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں کے متعلق ذہن سازی کی جس پر انہوں نے اچھی اچھی
نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ:محمد سمیر ہاشمی عطاری
اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
دعوتِ اسلامی کے زیرِا ہتمام گزشتہ دنوں ملتان
ایئر پورٹ پر عازمینِ حج کو رخصت کرنے کے لئے ایک تقریب
کا انعقاد کیا گیا جس میں عازمینِ حج سمیت ایئر پورٹ کے کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
اس موقع پر مبلغ ِدعوت اسلامی و چیف حج ماسٹر ٹرینر
محمد سلیم بلالی عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے عازمینِ حج کی تربیت و
رہنمائی کی اور انہیں دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے ہر دم وابستہ رہنے کا ذہن
دیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر علی حیدر گیلانی، ڈائریکٹر حج، ایئر پورٹ مینجمنٹ، چیف سکیورٹی آفیسر،
ایئر بلیو اسٹیشن مینجر، ڈپٹی ایئر پورٹ مینجر، ڈپٹی چیف سیکورٹی آفیسر سمیت ایئر
پورٹ آفیسرز اور حج ڈائیریکٹوریٹ کے آفیسرز
موجود تھے۔(رپورٹ:شعبہ حج و عمرہ، کانٹینٹ:غیاث
الدین عطاری)
پنجاب پاکستان کے شہر بہاولپور میں دعوتِ اسلامی
کے زیرِ اہتمام 4 جون 2022ء بروز ہفتہ دینی کاموں کا سلسلہ ہوا جس میں بعد نمازِ
مغرب وہاں موجود اسٹوڈنٹس سمیت دیگر عاشقانِ رسول کے لئے سیکھنے سکھانے کا حلقہ
لگایا گیا۔
مبلغِ دعوتِ اسلامی و ڈسٹرکٹ ذمہ دار محمد شیراز
عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں حصہ لینے
کی ترغیب دلائی نیز 12 جون 2022ء اور 15 جولائی 2022ء کو راہِ خدا عزوجل میں سفر کرنے والے مدنی قافلہ میں شرکت کرنے کی
نیتیں کروائیں جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ:عباد الرحمٰن عطاری اسلامیہ یونیورسٹی قافلہ ذمہ دار،
کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
مرکزی ناظم اعلیٰ جماعت اہلسنت پاکستان صاحبزادہ
پیر خالد سلطان القادری سے ملاقات
گزشتہ دنوں صوبۂ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں
دعوتِ اسلامی کے تحت شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے مرکزی
ناظم اعلیٰ جماعت اہلسنت پاکستان صاحبزادہ پیر خالد سلطان القادری سے ملاقات کی۔
اس دوران ذمہ داران نے صاحبزادہ پیر خالد سلطان
القادری کو عمرے کی سعادت حاصل کرنے پر
مبارک باد پیش کرتے ہوئے انہیں بالخصوص بلوچستان میں دعوتِ اسلامی کی جانب سے ہونے والی دینی و فلاحی خدمات سے آگاہ کیا۔
صاحبزادہ پیر خالد سلطان القادری نے
دعوتِ اسلامی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا نیز ذمہ
داران کی حوصلہ افزائی کی اور دعاؤں سے نوازا۔
اس موقع پر ٹاؤن نگران کوئٹہ کنٹونمنٹ حاجی
نورالعینین عطاری، صوبائی ذمہ دار شعبہ تقسیم رسائل نور مصطفیٰ عطاری، شعبہ رابطہ برائے شخصیات ڈسٹرکٹ کوئٹہ ذمہ دار سجاد عطاری اور
ضلع جعفر آباد شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے
ڈسٹرکٹ ذمہ دار مجیب الرحمٰن عطاری موجود تھے۔(رپورٹ:شعبہ رابطہ برائے شخصیات بلوچستان، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
4 جون 2022ء بروز ہفتہ شعبہ رابطہ برائے شخصیات دعوتِ
اسلامی کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے دینی کاموں کے سلسلے میں فیصل آباد کے ایڈیشنل
ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹر کاشف رضا اعوان سے ملاقات کی۔
دورانِ ملاقات ذمہ دار
اسلامی بھائیوں نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سے
مختلف موضوعات پر کلام کرتے ہوئے انہیں دعوتِ اسلامی کی دینی و فلاحی خدمات کے
حوالے سے بریفنگ دی۔
اس کے علاوہ نیو سوسائٹی ذمہ دار، خدام المساجد ذمہ دار اور
اہل علاقہ کے ہمراہ مسجد کے متعلق ڈی سی آفس کا شیڈول رہا جہاں انہوں نے ایڈمن کیٹرنگ
آفیسر ریاض انجم اور ہیڈ کلرک جنرل برانچ محمد عابد سمیت اسٹاف
کے دیگر عملے سے ملاقات کی۔(رپورٹ:شعبہ رابطہ برائے شخصیات بلوچستان، کانٹینٹ:غیاث
الدین عطاری)
پچھلے دنوں شعبہ رابطہ برائے شخصیات دعوتِ
اسلامی کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے پنجاب پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں مختلف
شخصیات سے ملاقات کی جن میں DIG ڈاکٹر محمد عابد، SSP قیوم گوندل، SP محمد خان، DSP اسد، DSP شیخ الیاس، DSP میاں معظم اور اسسٹنٹ کمشنر کامران حسین شامل تھے۔
ذمہ داران نے شخصیات کو دعوتِ اسلامی کی عالمی
سطح پر ہونے والی دینی و فلاحی خدمات کے حوالے سے بریفنگ دی اور مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ کا وزٹ کرنے کی دعوت دی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کرتے ہوئے اپنی نیک
خواہشات کا اظہار کیا۔(رپورٹ:شعبہ رابطہ برائے شخصیات بلوچستان، کانٹینٹ:غیاث
الدین عطاری)
دعا
بہت اہم عبادت ہے۔ بندے کی عاجزی کا اظہار ہے اور دعا نہ کرنا غرور و تکبر کی
علامت ہے۔ دعا مانگنا بہت بڑی سعادت ہے۔دعا آقا کریم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنت بھی ہے۔قرآنِ مجید میں اللہ پاک کا فرمان
ہے : ترجمۂ كنزالایمان: مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔(پ24،
المؤمن60)آقا
کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے
فرمایا:دعا مومن کا ہتھیار،دین کا ستون
اور آسمان و زمین کا نور ہے۔ (مستدرک حاکم،کتاب الدعاء ،الدعا سلاح
المؤمن . . . . الخ، ج 2/ص162،حدیث1855) (آدابِ دُعا* ص 2)بہت سے ایسے
مقامات ہیں جہاں دعا قبول ہوتی ہے،یہاں صرف 15 مقامات کا ذکر کیا جاتا ہے۔قبولیتِ
دُعا کے 15 مقامات: ذیل میں ان مقامات کا ذکر کیا جاتا ہے جہاں دُعا قبول ہوتی
ہے۔یہ سب مقامات بہت اہمیت و فضیلت کے حامِل ہیں۔1:مَطَاف:مسجد الحَرام شریف میں کعبہ
شریف کے گرد جگہ جہاں طواف کیا جاتا ہے، یہاں جو دعا مانگی جائے قبول ہوتی ہے۔2:
ملتَزَم: یہ حجرِ اَسود اور بابِ کعبہ کے درمیان ہے۔ اس مقام کی خاص بات یہ ہے کہ
یہاں لوگ لپٹ کر دعائیں کرتے ہیں،اس مقام پر بھی دعا قبول ہوتی ہے۔ 3- داخلِ بیتُ
اللہ شریف: بیت اللہ شریف کی عمارت کے اندر بھی دعا قبول ہوتی ہے۔ 4- زیرِ میزابِ
رحمت: کعبہ شریف کی چھت پر نصب سونے کے پرنالے کے نیچے بھی دعا قبول ہوتی ہے۔ 5-
حَطِیم: کعبہ شریف کے پاس نصف دائرے کی صورت میں فصیل کا اندرونی حصہ،اِس میں داخل
ہونا کعبہ شریف میں داخل ہونا ہے۔ یہاں بھی دعا قبول ہوتی ہے۔ 6- حَجرِ اَسود:یہ
جنتی پتھر کَعبہ شریف کے جنوب مشرقی کونے میں رکنِ اَسود میں نصب ہے۔ مسلمان اس کو
چومتے ہیں۔ اس مقام پر بھی دعا قبول ہوتی ہے۔ 7- کوہِ صَفا: یہاں سے سَعی شروع
ہوتی ہے۔ یہ بھی قبولیت دُعا کا مقام ہے۔ 8- کوہِ مَروَہ:یہ کوہِ صفا کے سامنے
ہے۔اس مقام پر بھی دعا قبول ہوتی ہے۔ 9-
مِنٰی:مِنی میں دعا قبول ہوتی ہے۔ 10- مَسجد نَبوی شریف: مَسجد نَبوی شریف میں بھی
دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ 11- مَواجَہہ شریف: سنہری جالیوں کے سامنے دُعا قبول ہوتی
ہے۔ 12- قُربِ منبر شریف: منبر شریف کے پاس بھی دعا قبول ہوتی ہے۔ 13- مَزَارَاتِ
بَقِیع و اُحُد: جنت البقیع اور اُحُد شریف کے مَزَارَات کے قُرب میں بھی
دُعا قبول ہوتی ہے۔14- مَجَالسِ اَولیاء و
عُلَماء: اولیائے کرام اور علمائے کرام کی مجلسوں میں بھی دُعا قبول ہوتی ہے۔15-
مَزارَاتِ اَولیاء و صُلحَاء:تمام اولیائے کرام، صالحِین،اللہ پاک کے محبوب، مقرب
بندوں کی بارگاہ میں اور ان کے مَزارَات پر دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ (فضائلِ
دعا* ص 130-141)
امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ حضرت
نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ کی
کرامت ارشاد فرماتے ہیں: ایک دن حضرت احمد رضا خان رحمۃ
اللہ علیہ
حضرت نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ کے
مزار مبارک پر حاضری کے لیے تشریف لے گئے۔ وہاں آپ رحمۃ
اللہ علیہ
نے دیکھا کہ مزار شریف کے چاروں طرف لہو و لعب کی مجالس ہو رہی تھیں۔ اتنا شور تھا
کہ کوئی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اس شوروغل سے آپ رحمۃ
اللہ علیہ
کو پریشانی ہو رہی تھی۔ آپ رحمۃ اللہ
علیہ
نے اپنی پریشانی صاحب مزار کی بارگاہ میں عرض کی۔ (تو آپ رحمۃ
اللہ علیہ پر
کرم ہو گیا۔)
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے بسم الله
شریف پڑھ کر دایاں پاؤں مزار شریف کے
دروازے میں رکھا تو اچانک سب آوازیں بند ہو گئیں۔ آپ رحمۃ
اللہ علیہ
کو ظنِّ غالب ہوا کہ شاید سب چپ ہو گئے ہیں۔ آپ رحمۃ
اللہ علیہ
نے مڑ کر دیکھا تو شوروغل جوں کا توں جاری تھا۔ آپ رحمۃ
اللہ علیہ
نے اپنا مبارک پاؤں اٹھا کر باہر رکھا تو پھر آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ آپ رحمۃ
اللہ علیہ
نے دوبارہ اپنا مبارک پاؤں بسم الله شریف
پڑھ کر اندر رکھا،اب کوئی شور نہ تھا۔ آپ رحمۃ
اللہ علیہ
کو معلوم ہوا کہ یہ اللہ پاک کا کرم اور حضرت نظام الدین اولیا رحمۃ
اللہ علیہ
کی کرامت ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے
اللہ پاک کا شکر ادا کیا اور اطمینان سے حاضری دی۔ (فضائل دعا ،ص
141-140) اللہ
پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ان مقدس مقامات کی زیارت و حاضری نصیب فرمائے اور
ہمیں علما و مشائخ کی برکتوں سے دنیا و آخرت میں مالا مال فرمائے ۔آمین بجاہ خاتم
النبیین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم۔ فضائلِ
دعا ، مکتبۃ المدینہ کراچی۔ آدابِ دُعا ، مکتبۃالمدینہ کراچی
دعا کا معنیٰ
ہے:اپنی حاجت پیش کرنا۔دعا ایک عظیم عبادت،عمدہ وظیفہ اور اللہ پاک کی بارگاہ میں
پسندیدہ عمل ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہسے
روایت ہے ،اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا :اللہ پاک کے نزدیک دعا
سے زیادہ کوئی چیز بزرگ نہیں۔(سنن الترمذی حدیث 3292 باب الدعوات) دعا
در حقیقت بندے اور اس کے خالق کے درمیان کلام، راز و نیاز اور بندگی کے اظہار کا
ذریعہ ہے۔ بندہ دعا کے ذریعے اللہ پاک سے کلام کرتا ہے اور بندے کا دعا مانگنا
اللہ پاک کو اس قدر محبوب ہے کہ وہ خود اپنے پاکیزہ کلام قرآن ِکریم میں ارشاد
فرماتا ہے:ادعونی
استجب لکمترجمۂ
کنزالایمان: مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ (سورۂ مؤمن آیت
60)جس
طرح اللہ پاک دعا مانگنے والوں سے خوش ہوتا ہے اسی طرح دعا نہ مانگنے والوں پر غضب
بھی فرماتا ہے۔جیسا کہ حدیثِ قدسی میں ہے:حضرت ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہسے
روایت ہے:نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے
ارشاد فرمایا :اللہ پاک فرماتا ہے: جو مجھ سے دعا نہ مانگے میں اس پر غضب فرماؤں
گا۔(فیض
القدیر شرح جامع الصغیر حدیث 6069)اب قبولیتِ دعا کے کثیر مقامات میں سے
15 مقامات بیان کئے جاتے ہیں۔1۔ مواجہہ شریف (مزارِ سید
المرسلین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم )امام
ابن الجزری فرماتے ہیں:دعا یہاں قبول نہ ہوگی تو کہاں ہوگی!(فضائلِ دعا)2۔منبرِ
اطہر کے پاس۔3۔مسجدِ اقدس کے ستونوں کے پاس ۔4۔مسجدِ قباء شریف میں۔5۔ مسجدِ فتح میں
خصوصاً بدھ کے روز۔حدیثِ پاک میں ہے: حضرت جابر بن عبداللہ رضی
اللہ عنہماسے
روایت ہے: اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے تین دن مسجدِ فتح میں دعا کی پیر منگل
اور بدھ کے روز دو نمازوں (ظہر اور عصر کے درمیان) دعا
قبول ہوئی اور چہرۂ مبارک پر خوشی ظاہر ہوئی۔حضرت جابر رضی
اللہ عنہفرماتے
ہیں:مجھے جب بھی کوئی مشکل پیش آئی میں نے اس ساعت میں بدھ کے روز (ظہر
اور عصر کے درمیان) دعا کی اور
وہ قبول ہوئی۔(مسندِ
احمد حدیث 14562)6۔خانۂ
کعبہ پر نظر پڑنے کی جگہ خواہ وہ کہیں سے بھی ہو۔7۔مقامِ ملتزم۔8۔خانۂ کعبہ کے
اندر ۔9۔جہاں ایک بار دعا قبول ہو خواہ وہ کسی دوسرے کی ہو وہاں پھر دعا
کرے۔10۔مزاراتِ احد و بقیع۔11۔ عرفات خصوصاً نبی کریم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قیام
کرنے کی جگہ۔12۔ان کنوؤں کے پاس جنھیں نبی کریم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے نسبت
ہے۔13۔ جبلِ احد ۔14۔ ہر اس مسجد میں جو نبی کریم صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی طرف
منسوب ہے۔15۔امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ
اللہ علیہ
کے مزار کے پاس۔حضرت امام شافعی رحمۃ
اللہ علیہ
فرماتے ہیں: مجھے جب بھی کوئی حاجت پیش آتی ہے دو رکعت نماز پڑھتا اور قبرِامام
ابو حنیفہ یہ کے پاس جا کر دعا مانگتا ہوں اللہ پاک روا (قبول)
فرماتا ہے۔ (فضائلِ دعا)مزید تفصیلات
کے لئے مکتبۃ المدینہ کی کتاب فضائلِ دعا کا مطالعہ مفید رہے گا ۔اللہ پاک ہمیں
کثرت سے دعائیں مانگتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
درود شریف کی
فضیلت :سرورِ ذیشان ،مکی مدنی سلطان صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: الدعاء محجوب عن اللہ حتی یصلی
علی محمد و علی ال محمد یعنی دعا اللہ پاک سے حجاب میں ہے جب
تک محمد اور ان کی آل پر درود نہ بھیجا جائے۔صلو ا علی الحبیب !صلی اللہ علی محمد ۔دعا
کی اہمیت و فضیلت:دعا کی فضیلت ہر مسلمان جانتا ہے ہمیں اللہ پاک سے کیا کن الفاظ
سے کس طرح مانگنا چاہئے اس کی اہمیت کا اندازہ حدیثِ پاک سے لگایا جا سکتا ہے
،ہمارا خالق و مالک کیسا کریم ہے کہ مانگنے والوں سے خوش ہوتا اورنہ مانگنے والوں
پر غضب فرماتا ہے ،لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اللہ کریم سے اپنی حاجات اور خیر طلب کرتی رہیں۔اللہ
پاک سے خیر طلب کرنے کو دعاکہتے ہیں اور دعانہ صرف عبادت ہے بلکہ آقا صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : الدعا ء مخ العبادۃ یعنی
دعا عبادت کا مغز ہے۔الدعاء سلاح المومن و عماد الدین و نور السموت و الارض یعنی
دعا مومن کا ہتھیار ،دین کا ستون اور آسمان و زمین کا نور ہے ۔دعا ایسی عبادت ہے جو اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ
گویا بندہ اللہ پاک کی بارگاہ میں اپنی حاجات و ضروریات پیش کرتا ہے۔ دعا بندے کو
اپنے رب کریم کی جناب میں پہنچاتی ،اس کے حضور عاجزی کرواتی اور اس کی عظمتوں کا
کلمہ پڑھواتی ہے جسے دعا کی توفیق دی گئی اسے بہت بڑی خیر کی توفیق دی گئی اور اس
کیلئے بھلائی کے دروازے کھول دیے گئے اور جس کیلئے دعا کا دروازہ بند ہوگیا اس کیلئے
خیرو عافیت کا دروازہ بند ہوگیا ۔حدیثِ مبارکہ :حضرت ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہسے
روایت ہے ،حضرت محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک کے یہاں کوئی چیز
اور کوئی عمل دعا سے زیادہ عزیز نہیں۔(ترمذی سنن ابن ماجہ ) پھر
بطورِ دلیل آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے
قرآنِ پاک کی سورۃ المومن کی آیت نمبر 60 کی تلاوت فرمائی :وقال ربکم ادعونی استجب
لکمترجمہ:اور
تمہارے پروردگار نے فرما دیا ہے کہ مجھ سے دعا مانگا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں
گا ۔ایک اور مقام پر آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
کیا تمہیں میں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے دشمنوں سے تمہارا بچاؤکرے اور تمہیں بھر
پور روزی دلائے ،وہ یہ ہے کہ اپنے اللہ پاک سے دعا کیا کرو رات میں اور دن میں ،کیونکہ
دعا مومن کا خاص ہتھیار ہے۔دعا قبول ہونے کے بہت سارے مقامات ہیں جن میں سے 15
مقامات درج ذیل ہیں :1- مسجد نبوی شریف میں دعا قبول ہوتی ہے ۔2- میزابِ رحمت کے نیچے
دعا قبول ہوتی ہے ،3- معشر حرام مزدلفہ میں 4- صفاومروہ پر 5- منبر اطہر کے پاس 6-
مسجد قبا شریف 7- حجر اسود 8- رکنِ یمانی
خصوصا جب دورانِ طواف وہاں سے گزر ہو 9- مسعی حصوصا سبز میلوں کے درمیان 10- مقام ِابراہیم کے پیچھے 11- زم زم کے کنویں
کے قریب 12- عرفات خصوصا موقف نبی کے نزدیک 13- مواجھہ شریف ،امام ابن الجزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:دعا یہاں قبول نہ
ہوگی تو کہاں قبول ہوگی!14- مسجد نبوی شریف کے ستونوں کے قریب 15- جمرۂ صغری ٰاور
جمرہ ٔوسطی ٰکے پاس کنکریاں مارنے کے بعد ۔
جس جس مقام پر پیارے آقا ، مدینے والے مصطفی صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لے گئے وہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں اور خصوصاً
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بے شمار مقامات پر آپ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف فرما ہوئے مثلا حضرت سلمان فارسی رضی
اللہ عنہکا
مقدس باغ وغیرہ ۔دعوت اسلامی کے ہر ہفتہ وار ہونے والی مدنی مذاکرہ جس میں ولی
اللہ کی زیارت کا شرف بھی نصیب ہوتا ہے مدنی مذاکرہ کے اختتام پر مانگی جانی والی
دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔اللہ پاک ہم سب کی جائز دعاؤں پر نظر ِرحمت فرمائے۔ دعوتِ
اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رکھے۔ بانِی
دعوت ِاسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت
برکاتہمُ العالیہ
کی دعاؤں کی حصہ دار فرمائے۔ اللھم آمین
6 جون 2022ء بروزپیر دعوتِ اسلامی کے ذمہ دار
اسلامی بھائیوں کا سندھ سیکریٹریٹ کا شیڈول رہا جہاں
انہوں نے ڈپٹی سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ نوید
آرائیں، سیکشن آفیسر ہوم ڈیپارٹمنٹ اصغر
مہر، سیکشن آفیسرایس اینڈ جی اے ڈیپارٹمنٹ عباس ملک اور ہوم سیکرٹری آفیسر سے ملاقات کی۔
اس دوران ذمہ داران نے شخصیات کو دعوتِ اسلامی
کی عالمی سطح پر ہونے والی دینی و فلاحی خدمات کے بارے میں بریفنگ دی اور مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کا وزٹ کرنے کی دعوت دی
جس پر انہوں نے دعوتِ اسلامی کی کاوشوں کو خوب سراہا۔(رپورٹ:شعبہ رابطہ برائے شخصیات بلوچستان، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
دعا
مانگنا بہت بڑی سعادت ہے۔دعا ایک نعمت اور عمدہ دولت ہے جو اللہ پاک سے مناجات
کرنے، اس کی قربت حاصل کرنے اور بخشش و
مغفرت حاصل کرنے کا نہایت آسان اور مجرب طریقہ ہے۔ دعا مانگنا سنت بھی ہے کہ ہمارے
پیارے آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم اکثر
اوقات دعا مانگتے۔ اسی طرح دعا مانگنے میں آپ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت بھی ہے کہ آپ صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے غلاموں کو دعا کی تاکید فرماتے رہتے۔قرآنِ
پاک اور احادیثِ مبارکہ میں جگہ جگہ دعا مانگنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔قرآنِ پاک میں
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:ادعو نی استجب لکمترجمہ ٔکنزالایمان:مجھ سے دعا
کرو میں قبول کروں گا۔(پارہ 24، المومن، آیت 60)پیارے آقا صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: الدعاء مخ العبادةترجمہ:
دعاء عبادت کا مغز ہے۔( سنن الترمذی ج5، ص243، حدیث 3382)ایک
اور حدیثِ پاک میں ہے: بلا اترتی ہے پھر دعا اس سے جا ملتی ہے۔ پھر دونوں قیامت تک
جھگڑا کرتے رہتے ہیں۔( المستدرک ج2، ص162، حدیث 1856)بعض
لوگ دعا کی قبولیت کے لئے بہت جلدی مچاتے بلکہ معاذاللہ! باتیں بناتے ہیں کہ ہم تو
اتنے عرصے سے دعائیں مانگ رہے ہیں مگر اللہ پاک ہماری حاجت پوری نہیں کرتا۔ بسا
اوقات دعا کی قبولیت میں کافی مصلحتیں بھی
ہوتی ہیں جو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں لہٰذا ہمیں ایسی باتوں سے بچنا چاہیے اور
اللہ پاک کی رضا میں راضی رہنا چاہیے۔ہمارے پیارے آقا صلی
اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مسلمان ایسی دعا کرے جس میں
گناہ اور قطعِ رحمی کی کوئی بات شامل نہ ہو تو اللہ پاک اسے تین چیزوں میں سے کوئی
ایک ضرور عطا فرماتا ہے:1- یا اس کی دعا کا نتیجہ جلد ہی اس کی زندگی میں ظاہر ہو
جاتا ہے۔2- اللہ پاک کوئی مصیبت اس بندے سے دور فرما دیتا ہے یا3- اس کے لئے آخرت میں بھلائی جمع کی جاتی ہے۔
ایک اور روایت میں ہے: بندہ جب آخرت میں اپنی دعاؤں کا ثواب دیکھے گا جو دنیا میں
مستجاب(یعنی
قبول)
نہ ہوئی تھیں تو تمنا کرے گاکہ کاش!دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوتی۔(
المستدرک للحاکم ج2، ص163، 165 حدیث 1859، 1862) اس حدیثِ پاک
سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ دعا کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتی۔اگر دنیا میں دعا
قبول نہ بھی ہو تو آخرت میں اس کا اجر و ثواب مل جائے گا لہٰذا دعا کی قبولیت میں
جلدی مچانے سے بچنا چاہیے۔اللہ پاک اپنے بندوں کی دعائیں اپنی رحمت سے قبول فرماتا
ہے لیکن یاد رہے! دعا کی قبولیت کے لئے چند شرطیں ہیں اور وہ یہ ہیں:دعا میں اخلاص
کا ہونا ضروری ہے، دل کسی غیر کی طرف مشغول نہ ہو، دعا کسی امر ممنوع پر مشتمل نہ
ہو، اللہ پاک کی رحمت پر یقین رکھتا ہو، شکایت نہ کرے کہ میں نے دعا مانگی قبول نہ
ہوئی جب ان شرطوں سے دعا کی جائے، قبول ہوتی ہے۔دعا کی قبولیت کے بہت سے مقامات ہیں
جن میں سے چند بیان کئے جاتے ہیں۔1۔ صفا۔2۔ مروہ۔3۔ مسجد نبی۔4۔ مسعی:مقامِ سعی یعنی
صفا و مروہ کے درمیان کا راستہ، خصوصا جب دونوں سبز نشانوں کے درمیان پہنچے کہ وہ
بھی دعا کی قبولیت کا مقام ہے۔5۔ نظر گاہِ کعبہ یعنی جہاں کہیں سے کعبہ شریف نظر
آئے وہ جگہ بھی مقام قبولیت ہے۔6۔ داخل بیت (بیت اللہ شریف
کی عمارت کے اندر)۔7۔
مسجد قباء شریف میں۔8۔ مسجد الفتح میں خصوصا بدھ کے دن ظہر و عصر کے درمیان۔امام
احمد بسندِ جید اور بزار وغیرہما جابر بن عبداللہ رضی اللہ
عنہما
سے راوی: حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے
مسجد فتح میں تین دن دعا فرمائی، دو شنبہ، سہ شنبہ، چہار شنبہ (یعنی
پیر، منگل اور بدھ کے دن)۔ چہار شنبہ کے دن دونوں نمازوں کے بیچ
میں اجابت فرمائی گئی کہ خوشی کے آثار چہرہ انور پر نمودار ہوئے۔ جابر رضی
اللہ عنہفرماتے
ہیں: جب مجھے کوئی امر مہم (اہم کام) بشدت پیش آتا
ہے، میں اس ساعت میں دعا کرتا ہوں اجابت ظاہر ہوتی ہے۔(المسند،
للامام احمد بن حنبل، الحدیث: 14569، ج5، ص 87)9۔ مواجہہ شریفہ
حضور سیدالشافعین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم۔امام
ابن الجزری رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے
ہیں: دعا یہاں قبول نہ ہو گی تو کہاں ہو گی! (الحصن الحصین،
اماکن الاجابة، ص31)10۔ وہ کنویں
جنہیں حضور پرنور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی
طرف نسبت ہے۔11۔ جبلِ احد شریف (یعنی احد پہاڑ)۔12 ۔مزاراتِ
بقیع و احد۔13۔ منبر اطہر کے پاس۔14۔ مسجد اقدس کے ستونوں کے نزدیک۔15۔ اولیا و
علما کی مجالس۔اللہ پاک ہمیں دعا کی اہمیت و فضیلت کو سمجھتے ہوئے ایسے مقامات پر
ادب کے ساتھ دعا مانگنے کا سلیقہ عطا فرمائے اور دعا کے ذریعے سے اپنا قرب نصیب
فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ
علیہ واٰلہٖ وسلم
Dawateislami