لوگوں کو سنت رسول کا پابند بنانے اور شریعت مطہرہ کی روشنی میں اُن کی رہنمائی کرنے والہ عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 24 جنوری 2026ء بمطابق 5 شعبانُ المعظم 1447ھ کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔

مدنی مذاکرے میں کراچی مختلف علاقوں سے جبکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک سے بذریعہ مدنی چینل کثیر عاشقانِ رسول شریک ہوئے اور دینی، اخلاقی، معاشرتی و شرعی مسائل کے حوالے سے سوالات کئے۔

اس دوران شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات دیئے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

سوال: اس طرح کا خوف کہ میری نیکیاں ناقص ہیں، اس لئے کرنے کا کیا فائدہ، اس کا کیا حل ہے ؟

جواب: بندہ شیطان کے وسوسوں پر توجہ نہ دے اور نیکیاں نہ چھوڑے ، وہ تو یہی چاہتا کہ نیکیاں نہ کی جائیں ۔اپنی عبادت کو ناقص ہی سمجھنا چاہیئے اور امید رکھنی چاہئے کہ اللہ پاک ان ناقص نیکیوں کو اپنے فضل سے قبول فرمائے گا ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی عبادت کی اصلاح نہ کی جائے بلکہ ان کی اصلاح جاری رکھی جائے ۔

سوال: ظلم کی کتنی قسمیں ہیں ؟

جواب: ظلم کی بہت قِسمیں ہیں ،کسی کو زخمی کردینا ہی ظلم نہیں ،مُکّا مار دیا وغیرہ بلکہ کسی کو اس طرح گھُور کر دیکھنا کہ اس کے دل میں خوف پیدا ہو ،یہ بھی ظلم ہے ۔جس پر ظلم کیا ہے اس سے معافی تلافی کر لی جائے ،وہ نہیں ملتا تو اللہ پاک سے توبہ کی جائے اور توبہ کے تقاضے پور ے کئے جائیں ۔

سوال:ہمارے معاشرے میں والدین کے ساتھ بدسلوکی اور اپنے سے جدا کرنے کی صورتیں بھی پائی جاتی ہیں،اولڈ ہاؤس (Old House) اور ریٹائرڈ ہاؤس (Retired House)قائم کئے جا رہے ہیں ،والدین کی اہمیت و خدمت کے بارے میں آپ بھی نصیحت فرما دیں ؟

جواب: والدین کو رلانا اور ستانا خطرناک عمل ہے ،نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کچھ لوگ آگ کی شاخوں سے لٹکے ہوئے دیکھائے گئے اور بتایا گیا یہ اپنے والدین کے نافرمان تھے۔ والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘ بھی کہنے کی اجازت نہیں ، ماں باپ کو کبھی بھی ناحق نہ ستائیں ورنہ آخرت میں پھنس جائیں گے ۔والدین کے ساتھ نیکی جہاد سے افضل ہے ۔ والدین کی خدمت کرنا اور تکلیف نہ دینا دونوں ضروری ہیں ۔اپنے والدین کو اولڈ ہاؤس اور ریٹائرڈ ہاؤس میں نہیں بلکہ اپنے گھر میں رکھ کر خدمت کریں۔رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے اس حال میں صبح کی کہ اپنے والدین کا فرمانبردار ہے اس کے لئے صبح ہی کو جنت کے 2 دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر والدین میں سے ایک ہی ہو تو ایک دروازہ کھلتا ہے اور جس نے اس حال میں صبح کی کہ والدین کے متعلق اللہ پاک کی نافرمانی کرتا ہے اس کے لئے صبح ہی کو جہنم کے 2 دروازے کھل جاتے ہیں اور ایک ہو تو ایک دروازہ کھلتا ہے۔ ایک شخص نے کہا: اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں؟ فر مایا: اگرچہ ظلم کریں، اگرچہ ظلم کریں، اگرچہ ظلم کریں۔(شعب الایمان،10/ 307،حدیث 7538)

سوال:ماہ ِشعبان کو آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مہینا اور ماہِ درود و سلام کیوں کہتے ہیں ؟

جواب: ماہ ِشعبان کے بارے میں آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : شَعْبَانُ شَہْرِیْ وَرَمَضَانُ شَہْرُ اللّٰہِ یعنی شعبان میرا مہینا ہے اور رَمَضان اللہ پاک کا مہینا ہے۔(جامع صغیر، ص 301،حدیث: 4889) یعنی شعبان میرا مہینا ہے اور آیت ِ درود (سورہ ٔاحزب،آیت : 59)اسی مہینے میں نازل ہوئی ،اس لئے اس ماہ میں درود و سلام کی کثرت کرنی چاہیئے ۔

سوال: کیا جہنم میں سردی کا عذاب ہوگا؟

جواب: جی ہاں جہنم میں سردی کا عذاب ہوگا، جہنم میں ایک طبقہ زمہریر ہے جس میں بہت ٹھنڈک ہے ، فرمانِ مصطَفےٰصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : جب سخت سردی ہوتی ہے تو بندہ کہتا ہے۔لَاۤاِلٰہَ اِلَّااللہُ آج کتنی سخت سردی ہے! اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنْ زَمْھَرِیْرِ جَھَنَّم یعنی اے اللہ پاک! مجھے جہنّم کی زمہریر سے بچا۔اللہ پاک جہنّم سے فرماتا ہے : میرا بندہ تیری زمہریر سے ميری پناہ میں آنا چاہتا ہے اور میں نے تیری زمہریر سے اسے پناہ دی۔ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : جہنّم کی زمہریر کیا ہے؟ ارشاد فرمایا : وہ ایک گڑھا ہے جس میں کافر کو پھینکا جائے گا تو سخت سردی سے اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔( معجمِ کبیر ، 18 / 366 ، حدیث : 935)

سوال: مطلقا ًکے کیا معنی ہیں ؟

جواب: مطلقاً کا معنی ہے، ہر طرح سے جیسے سانس لینے کی مطلقاً یعنی ہر جگہ اور ہر طرح سے سانس لینے کی اجازت ہے ۔

سوال: تقویٰ کا کیا معنی ہے اور اس کے کتنے درجات ہیں ؟

جواب:تقویٰ کا لغوی معنی کسی چیز سے رکاوٹ ہے ،جیسے تقویٰ بندے کے لئے جہنم کی رکاوٹ بن جائے گا، اس کے مختلف درجے ہیں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : تقویٰ 7 قسم کا ہے۔ کُفر سے بچنا یہ بفضلہٖ تعالیٰ ہر مسلمان کو حاصل ہے، بد مذہبی سے بچنا یہ ہر سُنّی کو نصیب ہے، ہر کبیرہ سے بچنا، صغائر سے بھی بچنا، شبہات سے احتراز (بچنا) ، شہوات سے بچنا، غیر کی طرف التفات سے بچنا ، یہ اَخَصُّ الْخَواص کا منصب ہے اور قراٰنِ عظیم ساتوں مرتبوں کا ہادی(رہنما)ہے۔(خزائن العرفان مع کنزالایمان ، ص4 ملخصاً)

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” جو آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسند وہ اپنی پسند “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ” جو آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسند وہ اپنی پسند “ پڑھے یا سُن لے، اُسے صحابہ و اہلِ بیت کے عشقِ رسول سے حصہ عطا کر اور اُس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب جنت الفردوس میں داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم