حافظ محمد عمر نقشبندی ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
قرآن مجید ہمیں ایسے الفاظ عطا
کرتا ہے جو ہمیں حوصلہ، سکون، اور امن عطا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک
بندوں کو خوف و غم سے نجات دینے کی ضمانت دی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن قیامت کے
خوف و غم سے نجات کے بارے میں کیا بیان
کرتا ہے:
(1) وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا
وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹) ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ سستی
کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ4، آل عمران: 139)
یہ آیت مؤمنوں کو حوصلہ دیتی ہے
کہ ایمان کے ساتھ مشکلات میں بھی وہ سربلند رہیں گے۔ غم اور کمزوری وقتی ہیں، مگر
ایمان پائیدار قوت ہے۔
(2) اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک
ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ11، یونس:62)
جو لوگ اللہ سے دوستی رکھتے ہیں
(یعنی نیک عمل کرتے ہیں)، اللہ انہیں دنیا و آخرت میں خوف و غم سے محفوظ رکھتا ہے۔
(3) فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ
لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی
خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)
اللہ کی ہدایت پر چلنے والا شخص
اللہ کی خاص حفاظت میں ہوتا ہے، جسے خوف اور غم چھو بھی نہیں سکتا۔
ترجمہ کنزالایمان: وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان
اُتارا تاکہ انہیں یقین پر یقین بڑھے۔(پ26، الفتح:4)
اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو
سکون عطا کرتا ہے، جو خوف و غم کے خلاف ایک زبردست قوت ہے۔
جو اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے،
جو ایمان لاتا ہے، جو اللہ پر توکل کرتا ہے اور جو اللہ کا دوست بن جاتا ہے، اللہ
اسے خوف و غم سے نجات دے دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایمان، توکل، اور اللہ کی
اطاعت کے ذریعے اپنے قیامت کے خوف و غم سے سکون حاصل کریں۔
اللہ عزوجل ہمیں روز قیامت کے
خوف و غم سے نجات عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami